تبادلۂ خیال:تصوف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فہرست

وجہ تسمیہ[ترمیم]

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ کے دور میں صوفیت نام کی کوئ چيز نہیں پائ جاتی تھی ، حتی کہ زاھد لوگوں کا ایک گروہ پیدا ہوا جو کہ اون کے موٹے کپڑے پہنا کرتے تھے تو انہیں صوفی کے نام سے پکارا جانے لگا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ (صوفی ) صوفیا سے ماخوذ ہے اور یونانی زبان میں اس کا معنی " حکمت " ہے نہ کہ جیسا کہ بعض یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ الصفاء سے ماخوذ ہے ، کیونکہ اگر الصفاء کی طرف نسبت کی جاۓ تو صفائ کہا جاۓ گا نہ کہ صوفی ۔

خدا لگتی بات[ترمیم]

میں وکی کا گو قدیم صارف ہوں پر ترمیم میں نیا ہوں۔

کسی بھی فن یا میدان میں بولنے سے پہلے ضروری ہے کہ مبصر یا ناظر کو اس فن میں معتد بہ نہ سہی بقدر واقفیت علم تو ہو تاکہ اس کی بات وزنی قرار دی جا سکے ۔ یہاں تصوف کے با ب میں ایسے لوگوں کو بولتے دیکھا گیا ہے جنھیں اس کی ابجد بھی نہیں آتی تو ایسے لوگوں کی بات سوائے صدا بصحرا کے اور کیا ہوسکتی ہے؟ میری بات اگر تلخ لگے تو کوئی منکر تصوف ہی بتادے کہ لطیفہ قلب کس بلا کا نام ہے اور اس پر وارد ہونے والی کیفیات کیا ہیں ؟

  • تصوف کی لغوی تعریف کے لیے تو لغات ودانش نامہ (دائرہ المعارف )حوالہ دیا جاسکتا ہے ۔ تصوف کی اصطلاحی تعریف کرنی ہو تو صوفیہ کی کتابیں ناگزیر ہیں جیسے کشف المحجوب ،عوارف المعارف،رسالہ قشیرہ وغیرہ نہ کہ عام لغات یا دائرۃ المعارف ،کیونکہ تصوف بیٹھ کر باتیں کرنے یا حکم لگانےکا نام نہیں ،اگر کوئی منکر تصوف بھی ہو تو اس کے ذمے لازم ہے کہ صوفیہ (اس سے میری مرادوہ افراد ہیں جواھل سنت والجماعت کے مسلک پر ہوں اور بنیاد ی عقائد میں تحریف کے قائل نہ ہوں،جیسے سلسلہ قادریہ ،نقشبندیہ ،وغیرہ)کی مجلسوں میں ناقدانہ ہی سہی جاکر معاینہ کریں اس کے بعد ہی کفر و شرک جیسے ارزاں فتاوی صادر کریں

اگر کسی حکم کی دلیل سمجھ میں نہ آئے تو بندہ حاضر ہے۔ اسی طرح تصوف کی درجہ بندی کائناتی تصوف وغیرہ اگر کسی صوفی کی کتاب میں یا قرآن و حدیث وآثار صحابہ میں ہو تو دلیل پیش کی جائے۔صرف ڈاکٹر وغیرہ جیسے الفاظ سے مزین ہوکر آدمی دگر میدان کا محقق تو ہوسکتا ہے مگر تصوف کا قطعا نہیں ،وجہ یہ ہے کہ تصوف عملی چیز ہے ذھنی ورزشوں سے حل ہونے والی نہیں ہے۔ Arifzafar 16:58, 14 ستمبر 2011 (UTC)

فائدہ اور نقصان[ترمیم]

اس نۓ نام اور اس فرقہ نے مسلمانوں میں تفرقہ اور زیاد ہ کردیا ہے ، اور اس فرقہ کے پہلے صوفی حضرات بعد میں آنے والوں سے مختلف ہیں بعد میں آنےوالوں کے اندر بدعات کا بہت زیادہ عمل دخل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شرک اصغر اور شرک اکبر بھی پیدا ہو چکا ہے ، ان کی بدعات ایسی ہیں جن سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بچنے کا حکم دیتے ہوۓ فرمایا :

( تم نۓ نۓ کا موں سے بچو کیونکہ ہر نیا کام بدعت اور ہر بدعت گمراہی ہے ) [1]

  • اگر تصوف نے مسلمانوں میں فرقہ بندی کی ہے تو کیا خیال ہے آپ کا اس فرقے کے بارے میں جسے پیدا ہوئے 200سال بھی نہیں ہوئے اور وہ اپنے اسلاف کو غلط ٹھیراتا ہے ۔کیا یہ ملت کی شیرازہ بندی ہے ؟49.200.96.29 18:51, 15 ستمبر 2011 (UTC)

حق پر ہونے کا دعوی[ترمیم]

صوفی حضرات : کے مختلف طریقے اور سلسلے ہیں ، مثلا تیجانیہ ، نقشبندیہ ، شاذلیہ ، قادریہ ، رفاعیہ ،اور اس کے علاوہ دوسرے سلسلے جن پر چلنے والے یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ ہی حق پر ہیں ان کے علاوہ کو‎ئ اور حق پر نہیں ، حالانکہ اسلام تفرقہ بازی سے منع کرتا ہے ، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

اور تم مشرکوں میں سے نہ بنو ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروہ گروہ ہو گۓ ، ہر گروہ اس چيز پر جو اس کے پاس ہے وہ اس میں مگن اور اس پر خوش ہے [2]


نبی اکرم کی خاص نصیحت[ترمیم]

عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے : نبی اکرم نے فرمایا جس نے حسن و حسین سے دشمنی رکھی اُس نے مجھ سے دشمنی رکھی ۔

(ابن عدی ، الکامل)

صوفیوں میں شرک[ترمیم]

صوفی حضرات : نے اللہ تعالی کے علاوہ انبیاء اور اولیاء زندہ اور مردہ کی عبادت کرنی شروع کردی ، اور وہ انہیں پکارتے ہوۓ اس طرح کہتے ہیں ( یا جیلانی ، یا رفاعی ، یا رسول اللہ مدد ، اور یہ بھی کہتے ہیں ، یا رسول اللہ آپ پر ہی بھروسہ ہے ) ۔

اور اللہ تبارک وتعالی اس سے منع فرماتا ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور کو ایسی چیز میں پکارا جاۓ جس پر وہ قادر نہیں بلکہ یہ اسے شرک شمار کیا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

اور اللہ تعالی کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرو جو آپ کو کوئی نفع نہ دے سکے اور نہ ہی کوئی نقصان اور ضرر پہنچا سکے ، پھر اگر آپ نے ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظلم کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گے [3]

باطل اعتقادات[ترمیم]

اور صوفی حضرات : کا یہ اعتقاد ہے کہ کچھ قطب اور ابدال اور اولیاء ہیں جنہیں اللہ تعالی نے معاملات اور کچھ امور سپرد کۓ ہیں جن میں وہ تصرف کر تے ہيں ۔

اوراللہ تعالی نےتو مشرکوں کے جواب کوبیان کرتے ہوۓ یہ فرمایاہے : اور معاملات کی تدبیر کون کرتا ہے ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ اللہ تعالی ہی کرتا ہے [4]

تو مشرکین عرب کو ان صوفیوں سے اللہ تعالی کی زیادہ معرفت تھی ۔ اورصوفی حضرات مصائب میں غیراللہ کی طرف جاتے اور ان سے مدد طلب کرتے ہیں ۔

لیکن اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے : اوراگر اللہ تعالی تجھے کوئ تکلیف پہنچاۓ تو اللہ تعالی کے علاوہ کوئ بھی اسےدور کرنے والا نہیں ، اور اگرتجھے اللہ تعالی کوئ نفع دینا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے [5] بعض صوفی حضرات وحدۃ الوجود کا عقیدہ رکھتے ہیں ، تو ان کے ہان خالق اور مخلوق نہیں بلکہ سب مخلوق اور سب الہ ہیں ۔ صوفی حضرات : زندگی میں زھد اور اسباب کو حاصل نہ کرنے اور جھاد کو ترک کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔

لیکن اللہ تبارک وتعالی کافرمان ہے : اور جوکچھ اللہ تعالی نے آپ کودے رکھاہے اس میں آخرت کے گھر کی بھی تلاش رکھ ، اور اپنے دنیوی حصے کو نہ بھول [6] ) اور اللہ رب العزت کا فرمان ہے : اور تم ان کے مقابلے کے لۓ اپنی طاقت کے مطابق قوت تیار کرو [7]

صوفی حضرات : اپنے مشائخ کو احسان کے درجہ پر فائز کرتے ہیں اور اپنے مریدوں سے ان کا مطالبہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کا ذکر کرتے وقت اپنے شیخ کا تصور کریں حتی کہ نماز میں بھی شیخ کا تصور ہونا چاہۓ ، حتی کہ ان میں سے بعض تونما ز پڑہتے وقت شیخ تصویر اپنے آگے رکھتے تھے ۔

حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( احسان یہ ہے کہ عبادت ایسے کرو گویا کہ اللہ تعالی کو دیکھ رہے ہو، اگر آپ اللہ تعالی کونہیں دیکھ رہے تو اللہ تعالی تمہیں دیکھ رہا ہے ) [8] صوفی حضرات : رقص وسرور اور گانے بجانے اور موسیقی اور اونچی آواز سے ذکرکو جائز قرار دیتے ہیں ۔ اور اللہ تعالی کا فرمان تو یہ ہے کہ : ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالی کا ذکر کیا آتا ہے تو ان کے دل دھل جاتے ہیں [9]

پھر آپ ان کو دیکھیں گے وہ صرف لفظ جلالہ ( اللہ اللہ اللہ ) کا ذکر کرتے ہیں جو کہ بدعت اور ایسی کلام ہے جو کہ شرعی معنی کے لحاظ سے غیر مفید ہے ، بلکہ وہ تو اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ صرف ( اھ ، اھ ) اور یا پھر ( ہو ، ہو ، ہو ) کرنا شروع کردیتے ہیں ۔

اور اسلامی مصادر: کتاب وسنت میں تو یہ ہے کہ بندہ رب کا ایسے کلام سے یاد اور اس کا ذکر کرے جو کہ صحیح اور مفید ہو جس پر اسے اجروثواب سے نوازا جاۓ ، مثلا سبحان اللہ ، الحمد للہ ، لاالہ الا اللہ ، اللہ اکبر ، اوراس طرح کے دوسرے اذکار ۔

صوفی حضرات : مجالس ذکر میں عورتوں اور بچوں کے نام سے غزلیں اور اشعار گاتے اور پڑھتے ہیں اور اس میں باربار عشق و محبت اور خواہشات کی باتیں ایسے دہراتے ہیں گویا کہ وہ رقص وسرور کی مجلس میں ہوں ، اور پھر وہ مجلس کے اندر تالیوں اور چیخوں کی گونج میں شراب کا ذکر کرتے ہیں اور یہ سب کچھ مشرکین کی عادات وعبادات میں سے ہے ۔

اللہ تعالی کا اس کے متعلق فرمان ہے : اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف یہ تھی کہ سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا [10] مکاء سیٹی بجانا اور تصدیۃ تالی بجانے کو کہتے ہیں ۔ اور بعض صوفی اپنے آپ کو لوہے کی سیخ مارتے اور یہ پکارتے ہيں (یاجداہ) تو اس طرح شیطان آکر اس کی مدد کرتا ہے کیونکہ اس نے غیراللہ کو پکارا ، اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے : { اور جو شخص رحمن کی یاد سے غافل ہو جاۓ ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے [11] صوفی حضرات : کشف اور علم غیب کا دعوی کرتے ہیں اور قرآن کریم ان کے اس دعوی کی تکذیب کرتا ہے ۔ اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے : کہہ دیجۓ کہ آسمان وزمین والوں میں سے اللہ تعالی کے علاوہ کوئ بھی غیب کا علم نہیں جانتا [12] صوفی حضرات : کا گمان ہے کہ اللہ تعالی نے دنیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لۓ پیدا کی ہے ، اور قرآن کریم ان کی تکذیب کرتے ہوۓ کہتا ہے : میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لۓ پیدا کیا ہے [13]

اور اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کرتے ہوۓ فرمایا : آپ اس وقت تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہيں یہاں تک کہ آپ کو موت آجاۓ [14] صوفی حضرات : اللہ تعالی کو دنیا میں دیکھنے کا گمان کرتے ہیں اور قرآن مجید ان کی تکذیب کرتا ہے جیسا کہ موسی علیہ السلام کی زبان سے کہا گیا { اےمیرے رب ! مجھے اپنا دیدار کردیجۓ کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا تم مجھ کو ہر گز نہیں دیکھ سکتے } [15]

صوفی حضرات : کا گمان یہ ہے کہ وہ بیداری کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ کے بغیر علم ڈاریکٹ اللہ تعالی سے حاصل کرتے ہیں ، تو کیا وہ صحابہ کرام سے بھی افضل ہیں ؟۔ صوفی حضرات : اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ کے بغیرڈاریکٹ اللہ تعالی سے علم حاصل کرتے ہیں اور کہتے ہیں : میرے دل نے میرے رب سے بیان کیا ۔ صوفی حضرات : میلاد مناتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کے نام سے مجلسیں قائم کرتے ہیں ، اور ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی مخالفت کرتے ہوۓ شرکیہ ذکر اور قصیدے اور اشعار پڑھتے ہیں جن میں صریح شرک ہوتا ہے ۔ تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر ، عمر اور عثمان اور علی رضي اللہ تعالی عنہم اور آئمہ اربعہ وغیرہ نے میلاد منایا تو ان کیا ان کی عبادت اور علم زیادہ صحیح ہے یا کہ صوفیوں کا ؟ صوفی حضرات : قبروں کا طواف یا ان کا تبرک حاصل کرنے کے لۓ سفر کرتے اور ان پر جانور ذبح کرتے ہیں جوکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی صریحا مخالفت ہے ۔ فرمان نبوی ہے :

( صرف تین مسجدوں کی طرف سفر کیا جاۓ مسجد حرام ، اور میری یہ مسجد ، اور مسجد اقصی ) [16] ۔

صوفی حضرات : اپنے مشائخ کے بارہ میں بہت ہی متعصب ہیں اگرچہ وہ اللہ تعالی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہی کیوں نہ کریں ، اور اللہ تعالی کا تو فرمان یہ ہے : اے ایمان والو ! اللہ تعالی اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو [17] صوفی حضرات : استخارہ کے لۓ طلسم اور حروف استعمال کرتے اور تعویذ گنڈا وغیرہ کرتے ہیں ۔ صوفی حضرات : وہ درود جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں نہیں پڑھتے بلکہ ایسے بناوٹی درود پڑھتے ہیں جس میں صریح تبرک اور شرک پایا جاتا ہے جس پر اللہ تعالی کی رضا حاصل نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں بدعات اور گمراہیوں سے بچائے اور صراط مستقیم پر چلائے آمین،،

ایک اقتباس[ترمیم]

[اسلام میں بدعت وضلالت کے محرکات] کتاب میں ڈاکٹر ابو عدنان سہیل لکہتے ہیں کہ:-صفات باری تعالی جب فلسفہ وتصوف کی بھول بھولیوں میں گم ہوگئیں اور توحید الہی وحدت فکر سے محروم کردی گئی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہواکہ وہ مخصوص صفات جو بلا شرکت غیرے اللہ تعالی سے ہی منسوب تھیں، اہل تصوف نے غیر اللہ کو بھی ان سے متصف کرنے میں کوئی قباحت یا عیب محسوس نہیں کیا۔ مثال کے طور علم غیب کو لیجیے ،قرآن وحدیث کی نصوص کے مطابق یہ صفت صرف اللہ کے لیے مخصوص تھی ،تصوف نے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس سے متصف کیا اور پھر کشف کے بہانے اولیائے تصوف کو بھی غیب دانی کی صفات تفویض کردی گئیں، اسی طرح ارادہ واستعانت کا وصف بھی اللہ کے لیے مخصوص نہ رہ کر شیخ عبد القادر جیلانی اور دیگر اولیائے تصوف کے درمیان بانٹ دیا گیا۔ جب یہ روش چل نکلی تو رفتہ رفتہ یہ حال ہوگیا کہ یاران تصوف نے چن چن کر اللہ تعالی کی تمام مخصوص صفات کو اس سے بہ جبر چھین لیا اور اپنے ممدوح اولیائے تصوف میں کھلے عام تقسیم کردیا،پہلے صرف اللہ تعالی کی ذاتِ اقدس حي وقیوم تھی۔ اب تمام اولیاء بھی زندۂجاوید تصور کیے جانے لگے۔دور صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین اورتابعین عظام میں صرف اللہ کو علیم وخبیر جانا جاتا تھا، اب نہ صرف یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی حاضروناظر کی صفت سے متصف ہوے، بلکہ تمام اولیائے تصوف بھی حاضروناظر، سمیع مبصیر اور علیم وخبیر سمجھے جانے لگے۔ رزق کی کنجیاں صرف اللہ کے پاس ہیں ،تصوف کے طفیل اب نہ صرف رزق وروزی بلکہ ملک وسلطنت ،عزت وذلت اور ہر قسم کی خیر وبھلائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دربار سے تقسیم ہونے لگی۔ ان کے بعد ان کاموں کے مہتمم اور ذمہ دار اولیائے کبار ٹھرائے گئے،[18]

عقیدۂ باطنیت[ترمیم]

اہل تصوف نے جن اعتقادی مسائل میں غلو کی راہ اپنائی ان میں عقیدۂ باطنیت بھی ہے،کہاجاتا ہے کہ قرآن وحدیث کے الفاظ کے دو معانی ہیں،ایک ظاہری اور دوسرا باطنی(یا حقیقی) یہ عقیدہ باطنیت کہلاتا ہے۔ اہل تصوف کے نزدیک دونوں معانی کو آپس میں وہی نسبت ہے جو چھلکے کو مغز سے ہوتی ہے،یعنی باطنی معنی ظاہری معنی سے افضل اور مقدم ہے، ظاہری معانی سے تو علماء واقف ہیں لیکن باطنی معانی صرف اہل اسرار ورموز ہی جانتے ہیں، ان اسرار ورموز کا منبع اولیائے کرام کے مکاشفے، مشاہدے اور الہام یا پھر بزرگوں کا فیض اور توجہ قرار دیا گیا جس کے ذریعے شریعت مطہرہ کی من مانی تاویلیں کی گئیں۔ اس کے علاوہ اہل تصوف نے کیف،جذب،مستی، استغراق، سکر (بے ہوشی) اور صحو (ہوش) جیسی اصطلاحات وضع کرکے جسے چاہا حلال قرار دیا اور جسے چاہا حرام ٹھرایا۔ ایمان کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ در اصل عشق حقیقی (عشق الہی) کا دوسرا نام ہے، اس کے ساتھ ہی یہ فلسفہ تر اشا گیا کہ عشق حقیقی کا حصول عشق مجازی کے بغیر ممکن نہیں چنانچہ عشق مجازی کے سارے لوازمات،غنا، موسیقی، رقص وسرور، سماع،وجد،حال وغیرہ اور حسن وعشق کی داستانوں اور جام وسبو کی باتوں سے لبریز شاعری مباح ٹھری۔ یہ ہے وہ باطنیت جس کے خوشنما پردے میں اہل ہوس دین اسلام کے عقائد ہی نہیں اخلاق اور شرم وحیا کا دامن تار تار کرتے رہے۔[19]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سنن ترمذی ، امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہاہے۔
  2. الروم ( 31- 32 )
  3. یونس ( 106 )
  4. یونس ( 31 )
  5. الانعام ( 17 )
  6. القصص (77
  7. الانفال ( 60 )
  8. صحیح مسلم
  9. الانفال ( 3 )
  10. الانفال ( 35 )
  11. الزخرف ( 36 )
  12. النمل ( 65 )
  13. الذاریات ( 56 )
  14. الحجر ( 99 )
  15. الاعراف ( 143 )
  16. صحیح بخاری و صحیح مسلم
  17. الحجرات ( 2 )
  18. [اسلام میں بدعت وضلالت کے محرکات:ص180-181]
  19. [توحید کے مسائل:71-72]

بیرونی روابط[ترمیم]

  1. الاسلام سوال وجوابصوفیوں کے ہاں ضعیف وموضوع احادیث
  2. اسلام گھر

Think good do good 05:15, 15 جون 2009 (UTC)


تبادلۂ خیال[ترمیم]

یہ مضمون یوں لگتا ہے کہ جیسے ایک مخصوص ذہن کی عکاسی کر رہا ہو جوکہ صوفی ازم یا تصوف کو محض ایک دیوانے کی بڑ سے زیادہ نہیں سمجھتا۔ میرے خیال میں یہ ناانصافی ہے نہ صرف اس مضمون کے ساتھ بلکہ اُن قارئین کے ساتھ جو کہ یہ اردو وکی پیڈیا پر ہر مضمون کی غیر جانبدارانہ معلومات کے حصول کے لئے آتے ہیں۔--اسپریچولسٹ (گفتگو) 10:55, 11 اگست 2008 (UTC)

  • بحث بہت طویل ہوجاۓ گی صاحب؛ فی الحقیقت تصوف کا لفظ و ذکر قرآن میں کہیں آیا ہی نہیں ہے۔ لیکن اسکے باوجود بعض باعث عزت و احترام شخصیات کے پیش نظر اس پر زیادہ سخت زبان بھی استعمال نہیں کی جاسکتی۔ اور میرے خیال میں تو مضمون میں کوئی غیر جانبداری ہے ہی نہیں۔ ذرا کسی جملے کی جانب اشارہ کیجیۓ کہ جانب دار ہے؟ آپ نے جو حوالہ جات کا سانچہ لگایا ہے اول تو وہ ویکیپیڈیا سے طلب کرنا ہی زیادتی و نا انصافی ہے کہ فتوی ویکیپیڈیا کا جاری کردہ نہیں۔ خیر حوالہ جات بھی آپ کو مہیا کردیۓ جائیں گے۔ --سمرقندی 11:03, 11 اگست 2008 (UTC)
  • مقصد بحث برائے بحت نہیں ہے، یہی ایک نقطہ ہے جہاں میرا اور آپ کا نظریاتی اختلاف ہے اور میری یہ شدید خواہش ہے کہ یہ اختلاف ختم ہوجائے۔ وکی پیڈیا اپنی سوچ اور عقائد کے مطابق مضامین کو لکھنے کا نام نہیں بلکہ اس پر درج مضامین کا اُس کی اصل روح کی مطابق لکھا جائے تو ہی اُس کا اصل لطف ہے۔ اگر آپ نے اردو وکی پیڈیا کو ایک ایسا دائرۃ المعارف بنانا ہے جوکہ دیگر تمام زبانوں سے بہتر بلکہ انگریزی وکیپیڈیا کے ہم پلہ یا اُس سے بھی بہتر ہو تو اس کے لئے آپ کو اپنی یہ روش ترک کرنا پڑے گی۔ --اسپریچولسٹ (گفتگو) 11:16, 11 اگست 2008 (UTC)

  • انگریزی ویکی سے تو انشااللہ ہم لوگ ضرور ٹکر لیں گے اور لے رہے ہیں مگر اسکا یہ مطلب نہیں اسلامی مقالات کا مقابلہ بھی انگریزی ویکی سے کیا جاۓ کیونکہ وہاں موجود زیادہ تر لکھنے والے (مسلم و غیر مسلم دونوں) کا تعرض (exposure) ، افکارِ مشرقی سے کم اور روشِ مغربی سے زیادہ ہوتا ہے۔ میں یہاں مشرق کو مغرب سے الگ کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ صرف تہذیب کے لحاظ سے انکا تذکرہ کر رہا ہوں، امید ہے آپ جیسے دقیق الذہن اس بات کا با آسانی ادراک کر سکتے ہیں۔ --سمرقندی 11:28, 11 اگست 2008 (UTC)
  • صاحب، یہ معاملہ ایسا ہے کہ جس پر میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ جذباتیت اچھی نہیں، اسلام ایک دنیا کا سب سے بہترین مذہب ہے جوکہ رواداری اور برداشت کا درس دیتاہے لیکن اس کا عملی مظاہرہ کہیں بھی آپ کی طرف سے دیکھنے میں نہیں آیا۔ سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنا نہ تو انصاف ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات میں ایسا کہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام کی سب سے بڑی خدمت اور تبلیغ انہیں صوفیاء کی بدولت ہوئی جوکبھی داتا کے روپ میں آئے تو کبھی خواجہ کے روپ میں۔ ارتدادِ زمانہ بھی ان کی شان و شوکت اور عظمت و مقام کو نہیں جھٹلاسکی اور پھر آج مسلمان ہو کر بھی آپ اس سے کیوں منکر ہورہے ہیں۔ کیونکہ بلاوجہ اس کے مخالفت و عناد کا شکار ہورہے ہیں؟ آپ کیوں اس وکی پیڈیا کو اپنی سوچ و فکر، عقائد و ذہنی حدود کا پابند بناکر رکھنے پر بضد ہیں؟ وکی پیڈیا کسی مذہب کے پرچار یا کسی ایک طبقاتی سوچ کوفروغ دینے کے لئے نہیں ہے۔ میں آپ جیسے الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا، بس یہی درخواست کرونگا کہ برائے کرم اس پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں بلکہ وکی پیڈیا کی پالیسی اور گائیڈ لائن پر عمل پیرا ہوں۔ اسی میں اس وکی پیڈیا کی بہتری ہے۔--اسپریچولسٹ (گفتگو) 11:52, 11 اگست 2008 (UTC)

  • میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ آپ میری مخالفت پر کیوں اترے ہیں ، میں نے تو اس مضمون کی نا تو ابتداء کی اور نا ہی اسکا بڑا حصہ میں نے لکھا ہے۔ میں نے تو اس میں صرف حوالے کے ساتھ اضافہ کیا جو میرا بھی حق ہے، جیسے آپ نے اپنا حق ، بیجا استعمال کرتے ہوۓ سانچہ حوالہ جات لگا دیا۔ میں ہر بات حوالہ سے لکھ رہا ہوں ؛ آپ بھی جو بات چاہیں حوالہ کے ساتھ لکھ سکتے ہیں۔ --سمرقندی 12:07, 11 اگست 2008 (UTC)
  • میں نے آپ کی مخالفت کہاں کی؟ اُلٹا آپ نے مجھے دقیق الذہن جیسے القابات سے نوازا۔ مضمون کی اصل صورت یہ ہے جوکہ آپ کی طرف سے کی گئی ترامیم کے بعد بدل کر رہ گئی۔ جس مضمون سے آپ انصاف نہیں کر سکتے، اُس پر تجرباتی تیر چلانے سے فائدہ؟ اب اگر میں اس مضمون میں کوئی تبدیلی کرتا یا آپ کی ترامیم میں ردوبدل کرتا تو آپ پھر سے اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے، اس مضمون کی طرح، جوکہ اب تک آپ کی انانیت کا ایک نشان بن کر رہ گیا ہے اور جس پر آپ نے باوجود متعدد یاددہونیوں کے اب تک کوئی قابلِ ستائش اقدام نہیں اُٹھایا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے براہِ راست کوئی قدم اُٹھانے کی بجائے، تبادلہء خیال بہتر سمجھا۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ --اسپریچولسٹ (گفتگو) 12:26, 11 اگست 2008 (UTC)

  • آپ کے اشارہ کردہ مضمون کی جانب بھی انشااللہ آؤں گا ، ذرا وقت تو ملے۔ آپ یا تو خود ہی تھوڑا وقت لگا کر اس میں جو ترامیم درکار ہوں اسکی توجہ کسی منتظم کی جانب دلا دیجیۓ تاکہ وہ آپکی مجوزہ ترامیم مضمون میں کردے۔ یہاں تو وہ حساب ہو رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔ جس جگہ بیٹھ کہ پی لیں ، وہی میخانہ بنے۔ --سمرقندی 12:54, 11 اگست 2008 (UTC)

مضمون تصوف[ترمیم]

ہمارے ہاں سب سے بڑی خامی یہ رہی ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے کاموں میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کرتے ہیں ایسی ہی ایک کوشش ان صاحب نے کی ہے جنہوں نے یہ مضمون لکھا ہے۔ حالانکہ وہ خود تصوف کی الف ب سے بھی واقف نہیں اور میرے خیال میں تصوف کے شدید مخالف ہیں۔ اور اپنے دل کی بھڑاس انہوں نے اس مضمون سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔ میں ان سے چند سوال کرنا چاہوں گا

  • کیا ۱۴ سو سال سے مسلمانوں میں سب سے عظیم بزرگ تصوف سے وابسطہ رہے یا نہیں ؟
  • اور کیا ان بزرگوں کی کچھ تعلیمات ہیں یا نہیں ؟
  • کیا وہ کتابوں کی شکل میں محفوظ اور تصوف کے سلاسل میں عملی طور پر قابل عمل ہے کہ نہیں ؟
  • آپ ان بزرگوں میں سے کن کو غلط سمجھتے ہیں ؟
    • امام علی
    • امام حسین
    • حسن بصری
    • جنید بغدادی
    • امام شبلی
    • عبد القادر گیلانی
    • حضرت علی الہجویری
    • شیخ ابو مدین المغربی
    • شیخ اکبر محی الدین ابن عربی
    • عبد الکریم الجیلی
    • معین الدین چشتی
    • نظام الدین اولیاء
    • عبد الغنی النابلسی
    • مولانا جامی
    • شیخ احمد سرہندی
    • جلال الدین رومی
    • جلال الدین سیوطی
    • شاہ ولی اللہ
    • امیر عبد القادر الجزائری
    • سلطان باہو

اور اس طرح کی دیگر لاتعداد ہستیاں جنہوں نے ساری زندگی نہ صرف اپنے آپ کو اس نام تصوف سے وابسطہ رکھا بلکہ وہ وہ کام کئے کہ مجدد کہلائے ۔ لہذا اگر تو یہ سب لوگ کسی غلط کام میں ساری امت کو گمراہ کر گئے ہیں تو پھر تو اس امت کا اللہ ہی حافظ ہے جس نے اپنے گمراہ لوگوں کا طریقہ تو اپنا لیا مگر صحیح لوگوں کو نہ پہچان سکی اور اگر یہ لوگ درست تھے اور آح کل کا تصوف غلط ہے پھر برائے مہربانی تصوف کو غلط مت کہیے ہاں آپ اس کے کسی مظہر سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ --Abrar47 14:40, 19 فروری 2009 (UTC)

  • آپ کی نیت پر شک نہیں کہ وہ مندرجہ بالا عبارت درج فرماتے وقت نیک ہی ہوگی۔ لیکن اپنی عبارت میں آپ نے بلا کسی دلیل کے ؛ بھڑاس نکالنے اور الف ب سے نا واقف ہونے کے الزامات عائد کیۓ ہیں جو کہ خود آپ کی تصوف کے تمام پہلوؤں (بالخصوص اس کے نفسیاتی پہلو) سے ناواقفیت کی دلیل بن رہے ہیں۔ نا صرف یہ کہ تصوف میں آج بھی ایک کاذب تصوف موجود ہے بلکہ یہ ہمیشہ سے رہا ہے خواہ وہ حضرت محمد کے نہایت قریب کا زمانہ ہی کیوں نا رہا ہو۔ اس وقت بھی مضمون میں کوئی بات تذلیل کی نیت سے نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ موضوع ابھی اپنے مختلف پہلوؤں سے مکمل نہیں ہے۔ زیادہ تر جھوٹے نبی ، تصوف ہی کی گود سے برآمد ہوۓ ہیں خواہ وہ اسلام میں ہوں یا اسلام سے باہر اور یہ ایک بہت طویل طبی اور نفسیاتی موضوع ہے جس پر بے شمار ماہرین اعصابیات اور ماہرین نفسیات تحقیقاتی جرائد میں اپنی تحقیق ثابت کر چکے ہیں۔ وقت ملا تو اس پہلو کا بھی مضمون میں اضافہ کر دیا جاۓ گا۔ آپ چاہیں تو آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ --سمرقندی 08:43, 20 فروری 2009 (UTC)

کاذب تصوف[ترمیم]

سلام علی من اتبع الھدی جناب پہلے تو آپ ہی اپنی اس اصطلاح جو کہ میں نے آپ سے پہلے کسی سے نہیں سنی "کاذب تصوف" کی وضاحت کر دیں۔ یہ تو ویسا ہی ہے کہ ایک "سچا اسلام" ہو اور ایک "کاذب اسلام" ہو۔ آج تک لوگوں کو تصوف کے خلاف بھی سنا تھا یا ان کے حق میں سنا تھا مگر یہ کاذب تصوف نہیں سنا تھا۔ اور میں نے الزمات نہیں لگائے جس نے بھی یہ مضمون لکھا اور یہی اس کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ شخص نہ صرف تصوف سے نابلد ہے بلکہ اس کا شدید مخالف ہے اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ آپ کا دعوی کے مضمون میں کوئی بات تذلیل کی نیت سے نہیں ذرا ان پر غور کریں۔

  • ابتداء میں صوفیا کا خطاب ان لوگوں کو دیا جاتا تھا کہ جو خود کو اللہ کی عبادت میں مصروف رکھتے تھے اور زاہدوں کی سی زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ صوفیا نے کبھی عام انسانوں کی زندگی نہیں گزاری اور وہ تو صرف زاہد تھے جن کا زندگی کے عام معاملات سے کوئی حصہ نہ تھا۔ اس بات کی دلیل آپ لائیں اور کیتھولک انسائکلو پیڈیا سے آپ تصوف کی دلیلیں لے رہے ہیں کیا صوفیا نے خود کچھ نہیں لکھا اس بارے میں کہ اب تصوف ہم کیتھو لک انسائکلو پیڈیا سے سیکھیں۔
  • وحدت الوجود ، کو آپ نے لادینیت کے زمرے میں رکھا ہے واہ جی واہ ؟ آپ کو پتہ بھی ہے کہ صوفیا کا وحدت الوجود کیا ہے ؟ کہ بس اپنی عقل سے جو سمجھا وہی ان پر تھوپ دیا اور فتوی دے دیا۔ کبھی کسی صوفی اور امام وحدت الوجود شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی کوئی تحریر نظر سے بھی گزری ہے سمچھ تو دور کی بات ہے۔
  • بلاشبہ عہدِ حاضر کے تصوف (یا صوفیت) میں تمام اقسام کے انحراف پاۓ جاتے ہیں کتنی آسانی سے آپ نے یہ جملہ لکھ دیا بس کولمبیا انسائکلو پیڈیا کہہ رہا ہے تو تصوف لازما انحراف ہی ہو گا۔ کسی صوفی کی کتاب سے ہمیں کیا۔ آپ کی مثال ایسی ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں حکم کافروں سے لیتا ہے۔ کم از کم اتنی سمجھ تو ہر کسی میں ہوتی ہے کہ جو جس نطریے کا بانی ہو اس نظریے کو اسی سے سمجھا جائے نہ کہ دوسروں سے۔ اگر آپ تصوف کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں تو ان صوفیا کے اقوال لائیں جن کی کتب تصوف کی تعریفات سے بھری پڑی ہیں نہ کہ کافروں کی اور فہرست اوپر درج ہے ہم کافروں کے تصوف کے بارے میں بات نہیں کر رہے کہ اس کے حوالے ڈھونڈیں۔
  • بلا شبہ جو ان (موجودہ پیروں اور صوفیوں) کے ساتھ وقت گذارے گا وہ شرک اور بدعت سے اجتناب نہیں کر پاۓ گا۔ کیوں آپ کو اللہ نے کون سا ایسا علم دے رکھا ہے جس کی وجہ سے آپ کو پہلے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ شخص ایسا نہیں کر سکے گا۔ شرک کا لفظ ویسے کتنا اچھا ہے بس سیدھا الزام لگاو اور خود جنت پاو۔
  • یہ آخری پیراگراف حقیقت پر مبنی ہے کہ تصوف اسلام سے ہٹ کر کچھ نہیں مگر اس میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ ویسا ہی زوال ہوا جیسا کہ مسلمانوں کی عقل اور ان کی تہذیب کو ہوا۔ مگر یہ زوال تو اسلام کو بھی ہوا جھوٹے نبی تو اسلام میں آئے تصوف میں نہیں۔ اور ان نبیوں نے نبوت کا دعوی کیا صوفی ہونے کا نہیں اور اگر اسلام میں جھوٹے نبی آنے سے اسلام کو کچھ نہیں ہوا تو تصوف میں جھوٹے لوگوں سے بھی تصوف کو کچھ نہیں ہوا وہ تو ویسا ہی ہے ہاں یہ شخص برا ہے اس جھوٹے سے لوگوں کو ڈرائے نہ کہ تصوف سے۔ آج بھی اچھے لوگ موجود ہیں اور تلاش کرنے والوں کو ملتے ہیں۔ میرے اوپر والے سوال کا جواب نہیں دیا شاید آپ کے پأس کوئی جواب نہیں ہے ۔

والسلام--Abrar47 18:08, 21 فروری 2009 (UTC)

  • آپ صرف وہ باتیں کر رہے ہیں جو کہ صوفیت کی کتب میں صوفیا کی جانب سے درج کی جاتی ہیں۔ کیا اس انداز کو غیرجانبدار تسلیم کیا جاسکتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی وحدت الوجود کے بارے میں کسی صوفی کے دل کی باتیں سنی ہیں؟ چند وہ ہوتے ہیں کہ جو انفصام اور خطاۓ حس کے مریض ہونے کے باوجود معاشرے سے تعلق قائم رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں اور چند وہ ہوتے ہیں کہ جو اپنی امراضی کیفیات پر معاشرے کی پابندیوں کے باوجود قابو نہیں رکھ پاتے۔ اول الذکر کبھی بھی اپنے پوشیدہ خیالات عام انسانوں پر ظاہر نہیں کرتے جبکہ بعد الذکر اپنی ذھنی کیفیات پر قابو نا رکھ سکنے کی وجہ سے سب کچھ کہہ جاتے ہیں؛ پہلی صورت میں نتیجہ وہ سامنے آتا ہے جو کہ آپ اس مضمون میں جانبداری سے بیان کرنا چا رہے ہیں جبکہ دوسری صورت میں نتیجہ ، جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، غلط تو نہیں کہہ رہا میں؟ تاریخ تو آپ نے بھی مطالعہ کی ہوگی، اگر آپ چاہیں تو دونوں نتائج تاریخی حوالہ جات کے ساتھ بیان کردوں؟ براہ کرم ، مضمون میں اندراجات فرماتے وقت خیال رکھیۓ گا کہ جو اندراجات اس میں ابھی حوالہ جات کے ساتھ درج ہیں وہ جانبداری کا نشانہ بنا کر حذف نا کیۓ جائیں۔ --سمرقندی 01:27, 22 فروری 2009 (UTC)


حيرت هے[ترمیم]

آپ صرف وہ باتیں کر رہے ہیں جو کہ صوفیت کی کتب میں صوفیا کی جانب سے درج کی جاتی ہیں۔ کیا اس انداز کو غیرجانبدار تسلیم کیا جاسکتا ہے؟
یہ سوال تو کوئی مفقود العقل ہی کر سکتا ہے یا وہ جو محض تعصب کی وجہ سے دوسرے کی بات نہ ماننے پر مصر ہو۔ اب اس سوال کا جواب سنیے:

  • سوال اسلام کیا ہے؟ کیا اسلام وہ ہے جو کہ قرآن و حدیث اور فقہ کی کتابوں میں ہے یا پھر وہ ہے جو اسلام کے دشمنوں کی کتابوں میں ہے اور یا وہ ہے جو آج کل کے نام نہاد مسلمان کرتے ہیں ؟
  • عیسائیت کیا ہے ؟ کیا وہ نہیں جو ان کی مقدس کتابوں میں ہے یا وہ ہے جو ان کے دشمنوں کی زبانوں پر ہے۔ آپ کو اتنا بنیادی سوال تو پتہ نہیں اور چلیں ہیں دنیا کی رہنمائی کرنے وہ بھی آزاد دائرہ معارف کے ذریعے یعنی اپنی تعصب کو لوگوں پر مسلط کرنے کے لئے آفرین ہے آپ پر۔

اور برائے مہربانی اس مضمون میں سے جو مواد تصوف کے حق میں ہے اس کو بلا وجہ حذف مت کیجیے کیونکہ آپ اپنی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا نہیں سکتے۔ اور یہ آپ کا گھر نہیں ہے آزاد دائرہ معارف ہے جس پر سب کا حق ہے ۔ آپ نے اس کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا کہ جو آپ لکہیں گے وہی چھاپا جائے گا۔ اور رہا وحدت الوجود کا معاملہ تو آپ کو اس سے کیا غرض نہ آپ اس کو جانتے ہیں اور نہ ہی اس کے اہل ہیں کہ بتایا جائے۔ والسلام --Abrar47 19:24, 22 فروری 2009 (UTC)

حذف[ترمیم]

میں نے تمام وہ مواد جو تصوف سے محض عناد کی بنا پر بغیر حوالوں کے درج کیا گیا تھا حذف کیا ہے اگر کوئی حضرت مجھ پر اعتبار نہیں کرتے تو دوبارہ غور کر لیں کیونکہ ان باتوں کے حوالے موجود نہیں بس دھوکا دیا جا رہا تھا عوام کو۔ سمرقندی صاحب خود ملاحظہ فرمائیں اور پھر میرا جواب دیں کہ حوالوں میں کہاں وہ لکھأ ہے جو آپ نے مضمون میں لکھا ہے۔

--Abrar47 11:30, 23 فروری 2009 (UTC)

  • آپ نے بغیر تبادلہ خیال پر کچھ کہے وہ استرجع کیا ہے جس حوالے سے وہ ثابت نہیں ہو رہا جو آپ نے لکھا ہے برائے مہربانی اگر آپ پوارا مضمون کولبمبا انسائکلو پیڈیا میں پڑھ پھی لیں ۔
  • یہاں میں آپ کے اعتراض کا مطلب و مقصد نہیں سمجھ پا رہا۔ میں نے تو آپ کے نقطۂ نظر میں کوئی تحریف نہیں کی ، مضمون میں تصوف پر مخالف نقطۂ نظر کو درج کیا اور ابتدائیہ کی چند اغلاط کو درست کیا ہے۔ آپ کو میرے بیانات میں سے جو بیان بھی بلا حوالہ محسوس ہوتا ہو اس پر سانچہ { { حوالہ } } لگا دیجیۓ اور اگر ایک ماہ تک حوالہ جات نہیں فراھم کیۓ گۓ تو آپ ان بیانات کو حذف کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں۔ ایک ماہ کی مدت اس لیۓ ہے کہ لوگوں کے پاس صرف اس ویکیپیڈیا کے علاوہ بھی اپنی روٹی روزی کی تگ و دو کے بے شمار کام ہوتے ہیں جس کی وجہ سے حوالہ درج کرنے کے لیۓ کم از کم ایک ماہ کی مدت منطقی سی محسوس ہوتی ہے۔ --سمرقندی 01:43, 25 فروری 2009 (UTC)

بریلوی - دیوبندی - سلفی - وقت کی پکار![ترمیم]

یہ مضمون بھی افراط و تفریط کا شکار ہے۔ ہر کوئی اپنے مسلک کی چھاپ رکھنا چاہتا ہے۔ اس فرقہ واریت کے دور میں اس کا حل یہی ہے کہ ہر فریق کا نقطہ نظر الگ الگ اسکے حوالے سے بیان کردیا جائے۔ جیسے بدعت کے موضوع پر کیا گیا ہے۔ --جلال 15:39, 19 مارچ 2009 (UTC)

یہ بعض کون ہیں[ترمیم]

"بعض کے مطابق عباسی دور میں اسلامی تصوف یونانی رہبانیت اور ہندو یوگ سے بھی متاثر ہوا۔"

اگر یہ بعض وھابی و دیوبند نقطہ نظر کے افراد ہیں تو انکا قول انکے حوالے سے لکھا جائے تاکہ واضح ہو۔ اہلسنت والجماعت کے ہاں ایسا کوِئی قول نھیں

سمرقندی بھائی سے ایک گزارش[ترمیم]

السلام علیکم، وکی پیڈیا میں ایک قدیم صارف ہونے کے باوجود عرصہ دراز سے اسے بہت کم وقت دینے کی وجہ سے اس ماحول میں ابھی نیا ہوں، اس لئے عرض کر رہا ہوں۔

مجھے یہ جاننا ہے کہ تصوف نامی مضمون میں 22:15, 20 مارچ 2009 کو میری طرف سے کیا گیا اضافہ حذف کرنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں تاکہ میں آئندہ ایسے اضافوں سے باز رہوں۔ شکریہ

--منہاجین 11:26, 21 مارچ 2009 (UTC) تبادلۂ خیال | شراکت اردو | شراکت انگریزی

جناب یہ بھی بتائیں کہ یہ مضمون تصوف کے بارے میں ہے یا خلاف[ترمیم]

سمرقندی صاحب جس طرح تصوف کے مضمون کو رکھنے پر مصر ہیں۔ یہ ایک تحقیقی انداز کے بجائے تماشا لگ رہا ہے۔ ایک سطر پر موصوف تعریف کر رہے ہیں اور اگلی پر تنقید ۔ یعنی پہلے ایک ٹوکرا بھر کر پھولوں کا ڈالدو اور پھر ساتھ ہی اوپر سے دوسرا ٹوکرا کچرے کا بھرا ڈالدو ۔ کیسا

تصوف جو کہ ایک سنجیدہ اور روحانی اور بہت وسیع موضوع ہے، اور اس پر تو کئی ایک ذیلی مضمون لکھے جاسکتے ہیں، بڑے بڑے اسلامی اسکالرز اس موضوع پرسیر حاصل کتب لکھ چکے ہیں اور دنیا بھر میں آج بھی لاکھوں کروڑہا افراد تصوف کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ آپ اسے کیوں ایک ڈراما بنا کر پیش کرنے پر مصر ہیں؟

میں سلفی( وہابی ) اور دیوبندی حضرات سے حق اظہار مخالفت سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ اور یہ حضرات اگر تصوف کو نھیں مانتے تو یہ انکا حق ہے لیکن ان سے مودبانہ عرض ہے کہ اپنا موقف اپنے مسلک کے ذیل میں ریکارڈ کروائیں نہ کہ پورے مضمون کو اکھاڑا بنائیں۔

کل میں نے صوفیا کرام کے ناموں کی فھرست مرتب کرنا شروع کی تھی اور آج اسمیں مزید اضافہ کا ارادہ تھا لیکن موصوف نے چپکے سے اسے صاف کردیا؟

اسی طرح برصغیر پاک و ہند میں اشاعت اسلام میں صوفیا اکرام کے کردار پر اندراج کیا تھا وہ مواد بھی غائب ہے؟؟

اسی طرح حضور علیہ صلاۃ و سلام کی ذات مبارکہ اور صحابہ اکرام علیہ الرضوان کی سیرت مبارکہ سے تصوف کے حوالے دیئے تھے وہ بھی غائب؟؟؟

بھائی اس طرح سے حقائق کی پردہ پوشی کرکے بیچاری لنڈوری وکیپیڈیا کہاں لیکر جائیں گے؟؟؟؟

بھائی اگر آپ کو حوالے درکار تھے تو مجھے بتادیتے میں آپ کو دو منٹ میں سارے حوالے دے دیتا، لیکن آپ نے تو نہ کوئی "تبادلہ خیال" کے ضمن میں کچھ درج کرنے کی زحمت کی اور اپنے تئین فیصلہ کرکے سب حذف کردیا۔ اب کیا ارادہ ہے موصوف کا؟؟؟؟؟

برائے کرم تنقید کرنے والے حضرات سے عرض ہے کہ وہ تنقید کے ذیل میں درج کریں اور اس طرح پورے مضمون کو اکھاڑہ نہ بنائیں۔ --جلال 15:14, 21 مارچ 2009 (UTC)

اندھے کے آگے روۓ[ترمیم]

  • کیا آپ کا اشارہ اس جملے کی جانب ہے؟
تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔

اگر آپ کا اشارہ اسی جملے کی جانب ہے تو آپ خود غور فرمایۓ کہ تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس کس نے کہا؟ قرآن نے؟ کون سی قرآنی اصطلاح کی بات کر رہے ہیں آپ؟ آیت کا حوالہ مرحمت فرما سکتے ہیں؟ یہی سوالات حدیث کی اصطلاح پر بھی صادق آتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کا اشارہ اس جملے کے بجاۓ کسی اور عبارت کی جانب ہے تو پھر میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں ، براۓ کرم وہ عبارت دوبارہ لکھ دیجیۓ جس کی جانب آپ کا اشارہ ہے؟ آپ حضرات میری جانب سے کسی بھی قسم کی ترمیم کو شکوک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ میں تمام بیانات حوالہ جات کے ساتھ درج کرتا ہوں۔ ایک محترم صارف نے اس بات کا حوالہ مانگا کہ تصوف میں یونانی اور ہندوانی فلسفے کے افکار شامل ہیں۔ اب اس پر تو میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ ------ اندھے کے آگے روۓ ، اپنے نین کھوۓ! ------ تصوف سے اسلام کی اشاعت کے بہت دعوے کیۓ جاتے ہیں اور ایک محترم نے یہ قطع بھی مضمون میں شامل فرما دیا ہے۔ ذرا عقل و شعور کو ، تفرقاتی اور شخصیاتی لگاوٹ سے پاک کر کے تو سوچیۓ کہ تصوف سے کون سا اسلام پھیلا؟ اور اس سے بڑھ کر سوال یہ ہے کہ تصوف سے اسلام کیوں پھیلا؟ یہاں بات آتی ہے تقابلی مطالعۂ ادیان کی! کبھی آپ نے غور فرمایا کہ کس قدر مسیحی ، بدھ متی اور ہندو افراد تصوف کو پسند کرتے ہیں اور اسلام سے نفرت کرتے ہیں؟ کیوں ؟ اگر تصوف ، اسلام ہی کا نام ہے تو پھر غیرمسلم اسلام کی طرح تصوف سے نفرت کیوں نہیں کرتے؟ ذرا غور تو فرمایۓ حضرات کہ میں متعصب بیانات لکھ رہا ہوں یا آپ حضرات شخصیاتی پوجا اور اپنی آزادانہ نفسیات سے مجبور ہو کر اسلام سے بھاگ کر تصوف میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ ویکیپیڈیا پر سب کو لکھنے کا حق ہے ، مگر جانبداری خود کر کہ دوسرے پر جانبداری کا الزام لگانے کا حق کسی کو نہیں۔ اللہ معاف کرے صاحب ! ہر کسی نے خود کو ویکیپیڈیا پر عالم اور مجتہد جان رکھا ہے۔ بہرحال ایسے کسی موقع پر کچھ لکھنا کہ جہاں افکار کی کدورتیں اور تخیلات کی آزادی اسلام کا نقشہ بگاڑ رہی ہو ، میں اپنا وقت برباد کرنے کے سوا کچھ نہیں سمجھ سکتا۔ ٹھیلوں پر کوڑیوں کے مول بکنے والی تفرقاتی کتابیں خرید خرید کر وکیپیڈیا پر نقل فرماتے رہیں اور اردو دنیا کے اس واحد قیمتی ہیرے کو کوئلہ بناتے رہیں۔ --سمرقندی 14:30, 21 مارچ 2009 (UTC)

سادہ جواب[ترمیم]

بھائی میں آپ کے خیالات سے اختلاف کے باوجود ان کا بہت احترام کرتا ہوں۔ کیونکہ آپ کو اپنی بات کہنے کا پوار حق ہے۔ جو آپ نے سمجھا بجھا کر تصوف مخلف نظریئے پر فائل کرنے کی کوشش کی یہ بھی آپ سمیت تمام مخلف مسالک کا حق ہے۔ لیکن خدارا فیصلہ قاری کو خود کرنے دیں یہی آپکی طرف سے وکیپیڈیا کی خدمت ہوگی۔ چونکہ مضمون تصوف کے موضوع پر ہے اس لئے پہلا حق تصوف کو احسن طریقے پر بیان کئے جانے کا ہے۔ آپ تنقید کے ضمن میں دل کھول کر تنقید کریں۔ اور خدارا وکیپیڈیا کو اسلامی ویب سائٹ نہ کہا کریں۔ اس پر غیر مسلم اردو دانوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ کسی مسلمان کا۔ بہتر ہوگا کہ آپ اسے ایک ادبی انداز میں لیں اور دین کا ٹھکیدار بننے سے بچائیں - شکریہ --جلال 15:13, 21 مارچ 2009 (UTC)

گمشدھ[ترمیم]

میں نے ایک تحقیق پڑھی تھی جی سالوں پہلے جو که اب مل نهیں رهی ہے جس مین یه ثابت کیا گیا تھا که کیسے تصوف نام کی یه چيز قدیم هیونانیوں سے یہودیوں سے هوتی هوئی ایرانیوں کے راستے اسلام ميں ائی اور هندو اس کو کیسے لیتے هیں چوھدری غلام احمد پرویز صاحب کی اس تحقیق کو پاکستان کے سارے مسالک سوائے اهلسنت بریلویوں اور اهلسنت قادیانیوں اور صوفیوں کے صائیب جانتے هیں ـ میرے خیال مين ان صوفی لوگوں کی مخلافت کی بجائے ان کو تصوف کی تاریخ پڑھاکر اگر ان کا تعلق ان کی اصل سے ثابت کر دیا جائے تو یه کافی ہے باقی جی اکز آپ ھندو سنتوں اور سادھوں کا بغور مطالعه کریں تو ان ميں اور اسلام کے درویشوں میں آپ کو کوئی فرق نهیں ملے گا بھنگ ، سوٹا ، گدڑی ، گیان ، دھیان ، ترک دنیا، دھونی خانقاھ ، لنگر عرس ، جھنڈے ، غرض که کیا کیا بتاؤں 02:01, 22 مارچ 2009 (UTC)خاورkhawar

بھائی کیا آپ سمجھتے ہیں ذیل کی ہستیاں بھگ پینے والی ہیں یا ہندوں سے متاثر ہیں۔ کم سے کم بات کرنے سے پھلے انسان تھوڑا سوچے کہ کیا کرنے جا رہا ہے۔

امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ خواجہ اویس قرنی رحمۃ اللہ تعالی علیہ امام قشیری رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ تعالی علیہ غوث اعظم شیخ عبدالقدر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ تعالی علیہ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ داتا گنج بضش علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالی علیہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ شیخ سنائی رحمۃ اللہ تعالی علیہ مولانا جامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ مولانا رومی رحمۃ اللہ تعالی علیہ شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ھضرت امیر خسرو رحمۃ اللہ تعالی علیہ شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمۃ اللہ تعالی علیہ رحمان بابا رحمۃ اللہ تعالی علیہ لال شھباز قلندر رحمۃ اللہ تعالی علیہ بابا بلے شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ

اگر سلفی (وھابی) حضرات کا تصوف سے اختلاف ہے تو یہ ان کا حق ہے نہ مانیں انھیں کوئی زبردستی نھیں، لیکن دوسرے کو دھونس سے مجبور کرنا کہ وہ بس وہی مانے جو وھابیت کہتی ہے، میرا خیال ہے کہ آپ الٹا وھابیت کا نقصان ہی کر رہے ہیں ۔ مانیں یا نہ مانیں، آپ تصوف کو بیشک بالکل نہ مانیں لیکن جو مانتا ہے اور جس طرح مانتا ہے وہ اس کا حق ہے اسے اپنے عقیدے کا اظہار کرنے دیں - اللہ تعالی آپ کو ھدایت دے


جناب بے شناخت صاحب آپ نے تو مجھے صرف سلفی کہا هے اس تصوف نام گے بد کام کی مخالفت پر انبیاءءکا کیا حال کیا گیا ؟؟ آپ کی کیا بات ہے که ٹٹی اوجھل بیٹھ کر لکھ دیا اگر آپ هی اس مضمون کے لکھنے والے هیں تو جی اس کو معلوماتی بنائیں آپ کے علم میں اضافے کے لیے لکھ دون که انسائکلوپیڈا نام هوتا ہے معلومات کا ناں که ایسی جذباتی باتوں کا ـ 05:18, 22 مارچ 2009 (UTC)خاورkhawar

وکیپیڈیا کو بدقسمتی سے وھابیت کا گڑھ بنایا جا رہا ہے[ترمیم]

میں سمرقندی صاحب کے بصد احترام کے باوجود اس قول سے حیران ہوں کہ جناب تصوف کو اس واسطے غیر صحیح کہ رہے ہیں کہ غیر مسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔

وھابی ازم جو دنیا بھر میں اسلام پر دہشت گردی کی چھاپ کا باعث ہے وہیں تصوف اسلام کا محبت کا پہلو اجاگر کرتا ہے اور اسے پر امن مذہب کے طور پر پیش کرتا ہے۔ آپ بدقسمتی سے وکیپیڈیا پر وھابیت کو تو چمکا کر پیش کر رہے ہیں لیکن تصوف کو جو اسلام کو ایک برداشت و تحمل کے مذپب کے طور پر اجاگر کرتا ہے اسے تروڑ مروڑ کر دکھا رہے ہیں۔

تصوف تو آپ کے پاس بہتریں ذریعہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ غیر مسلموں کو اسلام کے قریب لائیں، اور جو ہمارے چند جاہل مسلمانوں نے دہشت گرد اسلام کا تاثر دنیا کو دیا ہے اسے ختم کیا جاسکے۔

وھابیت ازم کے مذموم مقاصد کا سب سے زیادہ شکار ہمارے مسلمان بھائی ہیں اور ہر مسلم ملک اس سے تنگ نظر آتا ہے۔ ذیل میں ایک مضمون کا اقتباس ملاحضہ کیجئے جو انڈونیشیا میں وھابیت ازم کے پیدا کردہ مسائل کو واضح کرتا ہے۔

In a discussion held in Paramadina Jakarta, K.H. Abdurrahman Wahid (Gus Dur) said that Wahhabi Muslims have a serious inferiority complex. They conceal and trade their inferior feeling with temperamental mentality, violent acts, and condemning others as kafir (infidel). They claimed as the owner of the ultimate truth, and that other groups who differed from them as infidels, dwellers of hell, and therefore must be fought and even annihilated. Recently, the indicator of such inferiority complex laid in the practice of issuing fatwa that certain group is deviant, which leads to the practice of eviction, terror, and burning houses of the so-called deviant religious sect adherents. Of course, this militant group does not represent the majority of Indonesian Muslim, although they constantly declare to be representing them.
http://islamlib.com/en/article/the-wahhabis-inferiority/

بھائیو میں صرف اتنا عرض کرنا چاہو گا کہ وکیپیڈیا کو بدقسمتی سے وھابیت کا گڑھ بنایا جا رہا ہے۔

بالکل جیسے ہمارے وھابی بھائی عام زندگی میں اپنے من پسند نظریات کو حرف آخر سمجھتے ہوئے دوسروں پر زبردستی تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں، بالکل وہی طرز عمل وہ یہاں بھی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ جو وھابی نظریات سے میل نہ کھائے وہ ان کے نزدیک صحیح ہونے کے باوجود غیر صحیح ہے۔

صوفیا اکرام کا برصغیر پاک و ہند میں اشاعت اسلام میں کردار جو اظھر من الشمس ہے اور پہلی سے گریجویشن تک نصابی کتب میں پڑھایا جاتا ہے اور بچہ بچہ اس سے بخوبی واقف ہے، چونکہ یہ وھابی مذہب سے ٹکراتا ہے اس لئے اس کو چھپایا جا رہا ہے۔ ہماری بدقسمتی کہ جو حقیقت ہمارے لئے باعث فخر و افتخار ہے اسے بھی ہم اپنے مسلکی انا کی بھینٹ چڑھانے سے نھیں چوکتے۔

اسطرح خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا روحانی طرز عمل چونکہ وھابی مذھب کے لئے باعث چوٹ ہے اسلئے ان حقائق سے بھی پردہ پوشی کی جا رہی ہے۔

اس مضمون میں تصوف کو گنجلک بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نہ صرف حقائق سے پردہ پوشی کی جارہی ہے بلکہ ایک قسم کی بے ربطی اور ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اسی طرح علامہ اقبال کا خط جس میں انھوں نے تصوف کی آڑ میں چند مفاد پرست عناصر کا ذکر کیا ہے وہ تو آپ بڑھا چڑھا کر پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن جو رائے اقبال نے تصوف کے حق میں دی اسے چھپانا چاہتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے حقیقی تصوف کی وضاحت کرتے ہوئے 9 مارچ 1916ء کو شاہ سلیمان پھلواری کو خط لکھا کہ

"حقیقی اسلامی تصوف کا میں کیونکر مخالف ہو سکتا ہوں کہ خود سلسلہ قادریہ سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے تصوف کو کرامت سے دیکھا ہے۔ بعض لوگوں نے غیر اسلامی عناصر اس میں داخل کر دیئے ہیں، جو شخص غیر اسلامی عناصر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے، وہ تصوف کا خیر خواہ ہے نہ کہ مخالف"

جس شخص کی ساری زندگی تصوف سے عبارت ہو اور جسکا سارا علمی مجموعہ تصوف پر مبنی ہو آپ اس سب کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایک نقطہ پکڑ کر جو صرف اصلاح کے تناظر میں لکھا گیا اسے اچھال کر کون سی غیر جانبداری کا ثبوت دے رہے ہیں؟

موضوع مضمون تصوف ہونے کی وجہ سے فطری جھکاو موضوع کی طرف ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہ مضمون کثرت تنقید کیوجہ سے مخالف مضمون ہونے کا احساس دے رہا ہے۔

تصوف جو کہ ایک نہایت وسیع موضوع ہے، اور اسکے ذیلی سینکڑوں دیگر موضوعات بنائے جاسکتے ہیں اور بنانے چاہیں، اس پر بزرگان دین نے ہزارہا کتب لکھی ہیں۔ دنیا بھر میں اس پر سائنسی بنیادوں پر تحقیق ہو رہی ہے۔

ہم رحمن بابا جیسی عظیم ہستیوں کے مزار پر دہشت گردانہ حملے کرنے والوں کی پشت پناہی کرکے وکیپیڈیا کی کون سی خدمت کر رہے ہیں
کیا معصوم بچیوں کے اسکولوں پر حملے کرنے والوں کی پشت پناہی وکیپیڈیا کی خدمت ہے؟
کیا ملکی افواج پر حملہ آوروں کی پشت پناہی وکیپیڈیا کا نصب العین رہ کیا ہے؟

کیا آپ دیوبند، وھابی, قادیانی حضرات کے ضمن میں علامہ اقبال کا درج ذیل فرمان ان حضرات کے مضمون میں لکھنا پسند کریں گے؟

اقبال کے حضور از سید نزیر نیازی،اقبال اکادمی پاکستان

حضرت علامہ نے فرمایا " قادیان اور دیوبند اگرچہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، لیکن دونوں کا سرچشمہ ایک ہے اور دونوں اس تحریک کی پیداوار جسے عرف عام میں وھابیت کہا جاتا ہے" حوالہ " اقبال کے حضور از سید نزیر نیازی، اقبال اکیدمی پاکستان"


خدارا وکیپیڈیا کو ان دہشت گردانہ عناصر کا آلہ کار بننے سے بچائیں اور ایک مثبت اور غیرجانبدارانہ انداز اپنائیں تاکہ وکیپیڈیا کسی خاص فریق کا گڑھ نہ معلوم ہو

یہی آپ کی اردو اور وکیپیڈیا کی خدمت ہو گی--جلال 09:01, 31 مارچ 2009 (UTC)


یہ وکی پیڈیا ہے یا صوفیوں کا مجلہ[ترمیم]

جلال بھائی آپ لگتا ہے جذبات کی رو میں کچھ زیادہ ہی بہہ گئے ہیں، بلکہ معلوم ہوتا ہے یہ لکھتے وقت آپ بھنگ "شریف" کے زیر اثر تھے جسے آپ لوگ قلندری بوٹی کا نام دیتے ہیں۔ بھائی یہ وکی پیڈیا ہے، میدان جنگ نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ وہی حربے استعمال کررہے ہیں جو ماضی میں خوشامدیوں نے انگریز کے سامنے استعمال کئے تھے۔

پہلے تو یہ فرمائییے کہ وہائی کیا ہوتا ہے۔ کسی بات کے لئے علمی دلیل طلب کرنا، قرآن و سنت سے رجوع کرنا اور سند مانگنا وہابیت ہے؟ اگر ایسا ہے تو بہت اچھی بات ہے۔ پھر یہ آپ جو دہشت گردی اور جنگوں کو بیچ میں لے آئے ہیں اس سے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا دلیل کا جواب توپ سے دیا جاتا ہے۔

جہاں تک دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ کا تعلق ہے تو آپ ذرا کسی لائبریری میں جانے کی زحمت کریں اور انگریز خاتون کی لکھی ہوئی کتاب "مسلمانوں کا سیاسی عروج و زوال" یا Islam shor history پڑھ لیں جو کہ کیرن آرم اسٹرانگ نے لکھی ہے۔ کیرن نہ تو وہابی ہے اور نہ ہی مسلمان مگر وہ آپ کی طرح اسلام کے بارے میں معذرت خواہانہ نقطہ نظر کی حامل نہیں ہے۔

برطانوی خاتون صحافی کو کس چیز نے افغانستان میں متاثر کیا تھا؟ آج کیوں وہ ان لوگوں کی حمایت میں کمربستہ ہے جسے آپ دہشت گردوں کا ٹولہ قرار دیتے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ لڑکیوں کے (خالی ) اسکولوں کو تباہ کرنا اچھی بات ہے۔ مگر آپ جیسے عقل کے اندھوں کو لال مسجد کی درسگاہ نظر نہیں آتی جہاں خالی عمارت کو نہیں بلکہ زندہ سلامت اور قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول پندرہ سو بچیوں کو زندہ جلا کر بھسم کردیا گیا۔ جن پر فاسفورس کے بم پھینکے گئے۔ لال مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ مگر اس وقت آپ کے صوفی ازم کو لب کشائی کی توفیق نہ ہوسکی۔ آپ لوگوں سے تو بھارت کی ہندو ریاست اچھی ہے جس نے پاکستانی دہشت گرد مست گل کی موجود گی پر محاصرہ کیا مگر مسلمانوں کی جانوں کے ضیاع کے خدشے کے باعث آپریش نہیں کیا اور انہیں محفوظ راستہ دے دیا۔

آج آپ لوگ خالی عمارتوں کی تباہی پر مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہو، لاہور میں ہونے والے دہشت گردی پر ایک ایک فرد بیس بیس لاکھ روپے ادا کرتے ہو کیا وہ لوگ انسان نہ تھے جو مدرسہ میں سحری کے وقت شہید کردئے گئے۔ کل مسجد میں ایک خودکش یا ڈرون حملہ سے اسی سے زائد لوگ شہید ہوگئے مگر آپ کی حکومت نے کتنے لوگوں کے لئے امدادی رقم کا اعلان کیا۔ کیا صرف لاہور کے لوگ ہی انسان ہیں، باقی لوگوں کی رگوں میں خون کے بجائے کیا پانی دوڑتا ہے؟

انگریز کی وفاداری آپ لوگوں نے تحریک آزادی ہند کے وقت بھ کی تھی اور آج بھی وہی وفاداری نبھارہے ہیں مگر یاد رکھیں انگریز صرف گورا ہی اچھا ہوتا ہے۔ پاک فوج پر حملے کرنے والے پاک فوج کے اپنے بوئے ہوئے بیج ہیں جو امریکہ سے معاوٍضہ لے کر افغانستان پر مسلط کئے گئے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے یو2 طیارہ کرائے کو فوجی اڈے پشاور سے اڑے اور روس کی جاسوسی کرتے ہوئے دیکھ لئے گئے۔ جواب میں روس نے افغانستان کو تباہ کرڈالا۔ جن کو آپ وہابی کی گالی دے رہے ہو ان ہی لوگوں نے اپنی جانیں قربان کرکے روس کا راستہ روکا تھا۔

چلئے آپ کی بات مان لیتے ہیں کہ پاکستان و افغانستان میں وہانی حملہ آوروں کے خلاف برسرپیکار ہیں اور انگریز کے خلاف "دہشت گردی" کی کاروائیاں کررہے ہیں مگر جناب کا کیا خیال ہے سعودی عرب، عرب امارات، کویت، ابوظہبی، اردن اور دیگر عرب ممالک کے بارے میں جو اس جنگ میں امریکہ کے صف اول کے ساتھی ہیں؟ کیا یہ سب صوفی حکومتیں ہیں؟ کیا یہ ممالک ابن عربی کے پیروکار ہیں؟ اگر یہ سب امریکہ کے ساتھی ہیں تو پھر آپ یہ الزام لگا کر اور کیا کرہے ہیں کہ اپنی کم علمی کا ثبوت دے رہے ہیں۔

اگر آپ کے پاس دلائل نہیں ہیں تو نہ سہی مگر اس علمی بحث کو سیاسی نہ بنائیں۔ یہ وکی پیڈیا ہے صوفیوں کا مجلہ نہیں ہے۔

آئے روز ہم سنتے ہیں ک فلاں پیر لڑکی لے کر بھا گ گیا۔ بقول ملتانی شاعر خالد مسعود

  • ماں پیو لے آئے تھے جن کڈن کے واسطے----------- کڑی کڈ کے لے گیا پیر کمینہ سا


ابھی ایک 24 سالہ صوفی ایک 65 سالہ عورت کو پھنسا کر برطانیہ گیا ہے۔ اس بوڑھی عورت کو شوھر سے علیحدہ کیا، اس کے بچوں کو گھر سے نکلوایا اور نواسے نواسیوں کو بے گھر کیا اور اب وہاں تعویذ گنڈے کا کاروبار شروع کررکھا ہے۔ عورتیں ہیں کہ لائن لگی ہوتی ہے اس کے گھر پر۔

یہ ہیں آپ کے صوفی........ بیٹا پیدا کرکے دینے کے پانچ ہزار پائونڈ ۔ جی ہاں یہ تعویذ کی قیمت ہے۔ نہ جانے کون سے دنیا میں آپ رہتے ہیں۔ ایک ایک صوفی نے دس دس ناموں سےکاروبار کھول رکھا ہے۔ ہر مذہب کے پیروگاروں کے لئے علیحدہ نام۔

آپ سے گزارش ہے کہ دلیل سے بات کریں جو لب و لہجہ آپ نے اختیار کیا ہے اگر ہم بھی وہ اختیار کرلیں تو پھر آپ کو تکلیف ہوگی۔

آپ نقطہ نظر کے اختلاف کو اگر وہابیت اور انگریز دشمنی یا دہشت گردی سے تعبیر کروگے تو ہم آپ کو ننگ ملت ننگ وطن اور غداروں کی فہرست میں ڈالیں گے۔ جیسا کہ میر جعفر اور میر صادق اور آپ کے وہ اہل تشیع بھائی جنہوں نے بغداد کے دروازے چنگیز خان کے لئے کھول دئے تھے۔ اور نظام الملک کے قاتل اور شہاب الدین غوری کے قاتل یہ سب صوفیوں کے قریبی بھائی تھے نہ کہ وہابی۔............................. Kashf


کاشف اور سمرقندی انکل، آپ کے غلط ہونے کیلئے یہی ثبوت کافی ہے کہ اوپر آپ نے جو جو مثالیں دیں ان میں سے ایک کا بھی بحثیت مجموعی گروہ صوفیا اکرام پر اطلاق نھیں، بلکہ کسی فرد واحد کے انفرادی عمل پر مبنی ہیں۔ برے لوگ ہر گروہ اور قوم میں پائے جاتے ہیں لیکن ان کا اطلاق پوری قوم پر کبھی نھیں کیا جاتا اور یہی غیر جانب داری ہے۔ لیکن دوسری طرف علامہ اقبال نے کسی انفرادی وھابی کی طرف اشارہ نھیں کیا بلکہ اقبال نے پورے جتھے کی بات کی ہے اسی طرح انڈونیشیا کی حکومت نے کسی فرد واحد کے عمل کا رونا نھیں رویا بلکہ پورے کے پورے جتھے کے اعمال کا چٹھا کھٹا بیان کیا ہے۔ اور یہی غلطی آپ لوگ تصوف کے اس مضمون کے ذیل میں کر رہے ہیں کہ چند ایک برے لوگوں کے اعمال کو تمام عظیم بزرگوں پر بطور تھمت لگانا چاہتے ہیں اور یہی آپکا جانبدارانہ فعل ہے جسکا رونا اوپر ہر کوئی رو رہا ہے۔ جہاں تک لال مسجد کا مسئلہ ہے تو بھائیو میں اس میں عبد الرشید اور عبد العزیز کے علاوہ باقی سب کو بے قصور کہتا ہوں کہ وہ بیچارے ان کے بہکاوے میں آگئے۔ یہاں ایک شعر آپ حضرات کے ذوق کی نظر کرتا چلوں

عبد العزیز برقع اور عبد الرشید غازی
دونوں ہی ننگ ملت دونوں ہی وطن کے باغی

اور جناب کاشف صاحب: میں تو آپ کے نزدیک غلط ہونگا لیکن مولانا فضل الرحمن صاحب کا یہ بیان پڑھ لیں اور اس پر اپنی رائے ضرور بہ ضرور دیجئے گا۔ خصوصاَ آخری جملے پر
http://www.mehrnews.com/ur/NewsDetail.aspx?NewsID=513041

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/07/070705_fazal_veil_as.shtml

سمرقندی صاحب کی خدمت میں مزید یہ عرض کرنا چاہوں گا جناب والا میرا تعلق الحمد اللہ بریلوی مسلک سے ہے لیکن وکیپیڈیا پر آپ سب حضرات گواہ ہیں کہ میں نے کبھی کسی بھی دیوبندی، قدیانی، وھابی یا شیعہ مکتبہ فکر کے متعلقہ کسی مضمون سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی۔ اسکی وجہ یہی خوف ہے کہ شائد اپنے مسلکی رجحان کیوجہ سے میں جانبداری کا شکار ہو جاوں اور انصاف پر نہ رہ سکوں۔ میرا مقصد اور منشا صرف اور صرف بریلوی مسلک سے متعلق مضامین کو مزید بہتر اور معلوماتی انداز میں پیش کرنا ہے۔ میں پوری طرح کوشش کرتا ہوں کہ تمام معلومات مستند ہو۔ علاوہ ازیں میں نے اپنے مضمون میں کبھی کوئی حوالہ بریلوی مسلک کے علما یا آئمہ کا نھیں دیا بلکہ ہمیشہ کوشش کی کہ حوالہ ہمیشہ قرآن و حدیث یا دور اول کے محدثیں و مستند آئمہ سے ہو اور قبول عام ہو۔ میں وکیپیڈیا کو ایک معلوماتی فورم سمجھتا ہوں اور اسی طرح اسکا تہ دل سے پورا احترام کرتا ہوں اور اس فعل کیخلاف ہوں کہ اسے مسلکی جنگ کا اکھاڑہ بنایا جائے۔ میں آپ سے بھی یہی درخواست کروں گا آپ تصوف پر تنقید ضرور لکھیں اور دل کھول کر لکھیں لیکن برائے کرم اس طرح نہ لکھیں کہ پورے کا پورا مضمون ہی مشتبہ محسوس ہو۔ اور ایسا لگے کہ مضمون لکھنے والے نے اپنی بھڑاس نکالی ہے۔ میں آپکی وکیپیڈیا کیلئے خدمات کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنی سخت بیانی پر معذرت چاہتا ہوں اسے میری مجبوری سمجھ کر معاف کردیں۔--جلال 21:28, 1 اپريل 2009 (UTC)

آپ ایمان کے کون سے درجے میں ہیں؟[ترمیم]

اس وقت آپ کا صوفیانہ اسلام اور بقول آپ کے اصلی اسلام، اور آپ کا عشق رسول کا دعویٰ کہاں تھا جب اسلام آباد کے نالےمیں لال مسجد اور مدرسہ حفصہ کے ہزاروں قرآن پاک پھینکےگئے تھے۔ جب اسلام آباد کی 67 مساجد شہید کی گئیں اس وقت آپ کی غیرت (اگر تھی) تو کیوں نہیں جاگی۔ ایک سو سال پرا نی مسجد حمزہ کو اسلام آباد میں کس کو خوش کرنے کے لئے شہید کیا تھا؟ کبھی وہ حدیث پاک پڑھی ہے آپ نے برائی کو دیکھ کر روکنے، برا کہنے والی؟ ذرا سوچ لیں آپ کون سے درجے پر ہیں؟

اگر حنبلی وہابی تو پھر شیخ عبدالقادر جیلانی بھی وہابی[ترمیم]

سب سے پہلے تو یہ کہوں گا کہ آپ اگر وہابیت سے اتنی نفرت کرتے ہیں تو پھر شیخ عبدالقادر جیلانی رحتمہ اللہ علیہ کا نام لینا اور ان کے نام پر گیارھویں کی بدعت بند کردیں چونکہ شیخ جیلانی بھی وہابی یعنی حنبلی تھے۔ وہ امام ابو حنفیہ رحمتہ اللہ علیہ کے پیروکا نہیں تھے بلکہ وہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کے پیروکار تھے۔ اب جب آپ اپنے استادوں سے میری بات کی تصدیق کروائیں تو معلوم ہے وہ کیا جواب دیں گے؟؟؟ وہ کہیں کہ چاروں اماموں کے پیروکار سنی ہوتے ہیں سوائے اہل تشیعہ کے۔ اور جناب جلال صاحب۔ آپ ابھی بچے معلوم ہوتے ہیں اسی لئے آپ کی معلومات بھی سنی سنائی باتوں پر مبنی معلوم ہوتی ہے۔ آپ کا کہنا ہے کہ وہابی اسلام پر دہشت گردی کی چھاپ کا باعث بن رہے ہیں۔

  • آپ سے سوال یہ ہے کہ یہ لیبل کس نے لگایا ہے؟ کیا امام کعبہ نے یہ لیبل لگایا ہے؟ یا مرحوم پیر نصیرالدین نصیر رحمتہ اللہ علیہ نے یہ لیبل لگایا تھا؟؟؟؟۔ ------ یا یہ لیبل عراق، فلسطین، غزہ، افغانستان اور قبائیلی علاقوں کو مسلمانوں کا سلاٹر ہائوس بنانے والے استعمار اور اس کے ایجنٹوں نے۔۔۔ دشمنوں کی اصلاح مسلمانوں پر استعمال کرکے آپ کس کا حق نمک ادا کررہے ہیں اور کس کی خدمت فرمارہے ہیں؟
  • اگر آپ کے مطابق جنگ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر آپ جنگ جمل کے بارے میں کیا کہیں گے جس میں ستر ہزار صحابہ شہید ہوگئے تھے۔
  • ان غزوات کے بارے میں آپ کیا تبصرہ فرمائیں گے جن میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے خود شرکت فرمائی اور حضور کے جہاد کے عمل پر آپ کا کیا تبصرہ ہوگا؟
  • انگریز کہتے ہیں کہ قرآن سے جہاد کی تمام تر آیات کو ختم کردیں۔ پھر آپ اس کی حمایت کریں گے؟
  • امریکہ اور یورپ کے کروڑوں انسانوں کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے نام پر جنگ کے معاشی مقاصد ہیں اسی مقصد کے لئے امریکہ، برطانیہ اور یورپ بھر کی سڑکوں پر کروڑوں انسانوں نے مارچ کیا۔ آپ اسے بین السطور درست قرار دے رہے ہیں۔ کو ن بہتر انسان ہوا، حق و انصاف کی بات کرنے والے وہ غیر مسلم یا آپ کی طرح نام نہاد صوفی؟
  • قادیانیوں کو آپ نے سلفیوں یا دیوبندیوں سے ملانے کی ناپاک کوشش کی ہے تو جناب قادیانی حضرات بھی تو انگریز سرکار کی وہی خدمت کررپے ہیں جو آپ یعنی مسلمانوں کے ایک گروہ دہشت گرد کہہ کر۔ وہ بھی اسی تنخواہ پر کام کرتے ہیں جس پر آپ کو رکھا گیا ہے۔
  • جن لوگوں کو آپ وہابی کہتے ہیں وہ امام احمد بن حنبل کے پیروکار ہیں اور ہمارے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے شیخ الشیوخ بھی امام احمد بن حنبل تھے۔ میں اسے آپ کی کم علمی کہوں یا کہ آپ کے گروہ کا جھوٹا پراپیگندہ کہ ایک طرف آپ شیخ عبدالقادر کا نام لیتے ہیں جو کہ حنفی نہیں تھے بلکہ حنبلی تھے اور دوسرے جانب حبنلیوں کو وہابی کہتے پھرتے ہیں۔
  • آپ نہ جانے اقبال کا کون سا حوالہ لے کر آئیں ہیں آئیے میں آپ کو بتلاتا ہوں کہ اقبال کا نقطہ نظر کاذب تصوف اور جعلی پیروں کے بارے میں کیا ہے۔

اقبال اور کاذب تصوف[ترمیم]

خانقاہ[ترمیم]

رمزوایما اس زمانے کے لئے موزوں نہیں

اور آتا بھی نہیں مجھ کو سخن سازی کافن

"قم بااذن اللہ" کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے

خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن!


شکست[ترمیم]

مجاہدانہ حرارت نہ رہی صوفی میں

بہانہ بے عملی کا بنی شراب ِ الست!

فقیہہ شہر بھی رہبانیت پہ ہے مجبور

کہ معرکے ہیں شریعت کے جنگِ دست بدست!

گریزِ کشمکشِ زندگی سے مَردوں کی

اگر شکست نہیں ہے تو اور کیا ہے شکست!


مستی کردار[ترمیم]

صُوفی کی طریقت میں فقط مستی ِ احوال

مُلا کی شریعت میں فقط مستی ِ گفتار

شاعر کی نوا مردہ و افسردہ و بے ذوق

افکار میں سرمست! نہ خوابیدہ نہ بیدار!

وہ مرد ِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو

ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی ِ کردار!


ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی

گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن!

شہری ہو دیہاتی ہو مسلماں ہے سادہ

مانند ِ بتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن!

نذرانہ نہیں! سود ہے پیران حرم کا

ہر خرقہ ءِ سالوس کے اندر ہے مہاجن

میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن!


سکھا دیئے ہیں اسے شیوہ ہائے خانقہی

فقیہہ شہر کو صوفی نے کردیا ہے خراب!

وہ سجدہ، روح زمیں جس سے کانپ جاتی تھی

اسی کو آج ترستے ہیں منبر و محراب!


حلقہ ءِ صوفی میں ذکر، بے نم و بے سوز و بے ساز

میں بھی رہا تشنہ کام، تو بھی رہا تشنہ کام


مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے؟

خانقاہوں میں کہیں لذت ِ اسرار بھی ہے؟


یہ پیران کلیسا و حرم! اے وائے مجبوری!

صلہ ان کی کدو کاوش کا ہے سینوں کی بے نوری


پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے

کردار بے سوز، گفتار واہی!


اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک

نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ!


کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے؟

فقیہہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشی


کرے گی داور محشر کو شرمسار اک روز

کتاب صوفی و مُلا کی سادہ اوراقی

چمن میں تلخ نوائی میری گوارا کر

کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کار ِ تریاقی


مسکینی و محکومی و نومیدی ِ جاوید

جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد


اقبال اور جذبہ حریت[ترمیم]

فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ ہے قلم کا

دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر

لیکن جناب ِ شیخ کو معلوم کیا نہیں؟

مسجد میں اب یہ واعظ ہے بے سُود بے اثر

تیغ و ُتفنگ اب دست ِ مسلماں میں ہے کہاں

ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر!

کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل

کہتا ہے کون اُسے کہ مسلماں کی موت مر!

تعلیم اس کو چاہئیے ترکِ جہاد کی

دنیا کو جس کے پنجہءِ خونی سے ہو خطر

باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے

یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر!

ہم پوچھتے ہیں شیخ ِ کلیسا نواز سے

مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر

حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات

اسلام کا محاسبہ ، یورپ سے درگزر؟




اے پیر حرم رسم و رہ ِ خانقہی چھوڑ

مقصود سمجھ میری نوائے سحری کا

اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت

دے ان کو سبق خود شکنی ، خود نگری کا

دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی

دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا


کہا مجاہد ِ تُرکی نے مجھ کو بعد نماز

طویل سجدہ ہیں کیوں اس قدر تہمارے امام؟

وہ سادہ مرد ِ مجاہد، وہ مومن ِ آزاد

خبر نہ تھی کیا چیز ہے نماز ِ غلام!

ہزار کام ہیں مردان ِ حر کو دنیا میں

ان ہی کے ذوق ِ عمل سے ہین امتوں کے نظام


ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن

گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان!

قہاری و غفاری و ُقدسی و جبروت

یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان!

ہمسایہ ءِ جبریل ِ امیں بندہ ِ خاکی

ہے اس کا نشیمن ، نہ بخارا ، نہ بدخشان

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے ، حقیقت میں ہے قرآن!

قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے

دنیا میں بھی میزان ، قیامت میں بھی میزان

جس سے جگر ِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم!

دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان!


" وہ نبوت ہے مسلماں کے لئے برگ ِ حشیش

جس نبوت میں نہیں ُقوت و شوکت کا پیام! "


وہی ہے تیرے زمانے کا امام ِ برحق

جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے

موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رُخ ِ دوست

زندگی تیرے لئے اور بھی دشوار کرے

دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرما دے

فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

فتنہ ءِ ملت ِ بیضا ہے امامت اس کی

جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے


غازی یہ تیرے پراسرا بندے

جنہیں تونے بخشا ہے ذوقِ خدائی

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا

سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

عجب چیز ہے لذت ِ آشنائی !

شہادت ہے مطلوب و مقصود ِ مومن

نہ مال ِ غنمیت نہ کشور کشائی !


نہ فقر کے لئے موزوں نہ سلطنت کے لئے

وہ قوم جس نے گنوایا متاع ِ تیموری

برا نہ مان ، ذرا آزما کے دیکھ

فرنگ ِ دل کی خرابی ، خرد کی معموری!


کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی !

کافر ہے تو تابع ِ تقدیر مسلماں

مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر ِ الٰہی!


شکایت ہے مجھے یارب ! خداوندان ِ مکتب سے

سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا


میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے

شمشیر و سنان اول ، طائوس و رباب آخر

--کشف 12:02, 2 اپريل 2009 (UTC)

ٰعلامہ اقبال اور تصوف[ترمیم]

کشف صاحب نے اوپر اپنے مکشوفات میں ایک دفعہ پھر از خود اپنے غلط ہونے کے ثبوت مہیا کردیئے۔ اچھا ہوا یہ سب آپ نے خود مہیا کردیا اگر میں لکھتا تو آپ کے پاس بہانہ ہوتا کہ شائد میں نے اپنے مطلب کے اشعار چن چن کر رکھ دیئے ہیں۔ جناب اب تمام اصحاب ان اشعار میں سے ایک ایک کو دس دفعہ بغور پڑھ کر دیکھ لیں کہ کیا کوئی ایک ایسا شعر ہے جس میں علامہ نے تصوف کو اصلاَ مشتبہ، غلط یا غیر شرعی کہا ہو۔ یا علامہ نے تصوف کی حقیقت کو جٹھلایا ہو اور اسے غیر حقیقی قرار دیا ہو۔ کوئی ایک شعر یا مصرہ ایسا نہیں جس سے ظاہر ہو کہ شائد علامہ حقیقی تصوف کیخلاف تھے۔ صرف علامہ نے تصوف کو مفاد پرست عناصر کیطرف سے اسے اپنے مکروہ مقاصد کیلئے استعمال کرنے پر آواز بلند کی اور حقیقی تصوف کی ضرورت پر انتھائی اصرار کیا۔ اور علامہ کا ایک ایک شعر تصوف کی اصلاح کی نیت سے لکھا گیا نہ کہ اسکو ختم کرنے کے ارادہ سے۔ اب اگر تصوف مخالف حضرات علامہ کے اس موقف کو غلط معنی دیتے ہوئے اسے تصوف کی ابتداء میں شکوک و شبھات پر مبنی اور غیر حقیقی قرار دینے پر مصر ہیں تو وہ صرف اور صرف علامہ کے نیک و اصلاحی مقصد کی آڑ لیکر اپنے مضموم عقائد کو دوسروں پر ٹھوسنا چاہتے ہیں۔ یہ بلکل اسیطرح ہے کہ کوئی اسلام اور مسلمانوں میں موجود معاشرتی برائیوں کو آڑ بناکر اسلام کی بنیاد کو غلط کہے۔ یا کوئی دوران حج جیب کتروں کیطرف سے لوٹے جانے کے واقعات کا جواز بنا کر حج کو بند کرنے کا کہے۔ یا مساجد میں جوتوں کی چوری کو بڑھتے ہوئے جرائم کا بہانہ بناتے ہوئے مسجد کو بند کرنے کا فتوی جاری کرے۔ ایسا شخص اصلاح کیببجائے صرف فساد کا ہی محرک ہے۔ اس مضمون میں بھی بدقسمتی سے یہی محرک کار فرما نظر آرہا ہے۔ کچھ حضرات جان بوجھ کر اس مضمون کو مشتبہ انداز میں رکھنے پر مصر ہیں کہ جس سے تصوف واقعی ایک دیوانے کی بڑ سے زیادہ اور کچھ نہ لگے۔ ایک سطر میں اسکے بارے مہں معلومات دی جارہی ہے اور اگلی سطر میں اسے مشکوک کہا جا رہا ہے۔ بھائی صحت مند تنقید سے کسی کو انکار نھیں وہ بر حق ہے لیکن اتنے اھم مضمون کو بےربط بنانا اور تنقید کی آڑ میں اول تا آخر مشکوک انداز میں رکھنے پر مصر رہنا یہ کیا معلوماتی اور غیرجانبدار انداز ہے۔ میں منتظمیں سے مودبانہ درخواست کرونگا کہ برائے کرم تصوف کو معلوماتی انداز میں پیش کرنے دیا جائے جو کہ قاری کیلئے حقیقی معلومات کا باعث ہو نہ کہ بے ھنگم اور پر شکوک انداز میں جو خود وکیپیڈیا کے میعار پر اعتراض کا باعث بنے۔--جلال 15:11, 2 اپريل 2009 (UTC)

عبدالقادر جیلانی وہابی کا جواب کہاں۔[ترمیم]

خود ہی مدعی اور خود ہی جج مت بنیں بلکہ یہ فیصلہ قارئین کو کردینے دیں۔ یہ فرمائیں کہ شیخ عبدالقادر (رح) جیلانی وہابی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ آپ لوگ ان کے اصل پیروکاروں یعنی حنبلییوں اور سلفیوں کو وہابی کیو کہتے ہیں؟ دوسری بات یہ ہے کہ ہماری نظر کمزور نہیں (الحمد للہ ) سیاہ عبارت لکھنے سے آپ کی بات میں سیاہی تو آسکتی ہے وزن نہیں۔ اسی تصوف کو سمرقندی صاحب نے کاذب لکھا ہے جس پر آپ سیخ پا ہیں. --کشف 16:08, 2 اپريل 2009 (UTC)

جاہلوں سے بحث فضول ہے[ترمیم]

اقبال کے ان شعروں کو سمجھنے کے لئے جس عقل و فہم و فراست کی ضرورت ہے وہ بد قسمتی سے آپ کے پاس نہیں۔ یہ میں نے آپ کے لئے نہیں بلکہ قارئین کے لکھے ہیں۔ آپ تو اپنی بات سے مکرنے والے ہیں جن کے بارے قرآن کا فرمان ہے "جب جاہل تمہارے منہ کو لگیں تو انہیں کہو تمہیں سلام" قالو سلاما۔ یہ بحث یہاں ختم چونکہ آپ کے پاس رٹی رٹائی باتوں کے سوا اور الزامات کے علاوہ کچھ نہیں۔ سمرقندی صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں۔ آپ جیسے بے دلیل لوگوں کی پرواہ کئے بغیر۔۔۔۔۔۔ --کشف 16:14, 2 اپريل 2009 (UTC)

غوث اعظم دستگیر عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ تعالی علیہ[ترمیم]

غوث اعظم دستگیر عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ تعالی علیہ جیسی مقدس ہستی کہاں اور کہاں ایسا گروہ جس کے فساد سے آج نہ صرف پورا پاکستان جل رہا ہے بلکہ ساری اسلامی دنیا اسکے شر سے پریشان
کسی نے صحیح کہا کہ: کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔ اس جاہلانہ سوال کا تصوف کے مضمون سے کوئی تعلق نھیں ۔ اور جواب دینا ایسا ہی ہے کہ بھینس کے آگے بین بجانا
مجھے جہلاء سے الجھنے کا کوئی شوق نھیں انھیں امریکہ جیسا شیطان ہی درست کرتا رہے۔ اور نہ ہے میرا وھابی اور قدیانی و شیعہ حضرات کے مضامین سے الجھنے کا کوئی ارادہ ہے۔ میری صرف یہ درخواست ہے کہ اس تصوف کے مضمون کو معلوماتی انداز میں میرٹ کیمطابق تشکیل دیا جائے

سمرقندی صاحب اگر اگر آپ کاذب تصوف کو برقرار رکھنا ضروری سمجھتے ہیں تو براہ کرم اس حصہ کو تنقید کیلئے مخصوص کردیں، جس کسی کو تنقید کرنی ہے اس کے ذیل میں لکھے نہ کہ پورے مضمون کو اکھاڑہ بنایا جائے اور باقی مضمون کو معلوماتی انداز میں تشکیل دیا جائے

--جلال 08:11, 3 اپريل 2009 (UTC)

لگتا ہے شائد ساری فہم و فراست انتہا پسندوں میں جمع ہوگئی ہے[ترمیم]

یہی وہ وھابی خبط ہے جس کا شکار آج ہر اسلامی ملک ہے۔ یہ انتہا پسند خود کو ہی ہر شے کا ٹھیکیدار سمجھ بیٹھے ہیں۔ اسلام و توحید کا ٹھیکہ ان کے پاس ہے جو یہ کہیں وہی سب مانیں، بدعت کا ٹھیکہ ان کے پاس ہے۔ قرآن فہمی کا ٹھیکہ انکو ملا ہوا ہے اور اقبال فہمی بھی انکو ہی آتی ہے۔ یہی وہ (serious inferiority complex) جس کی وجہ سے یہ اپنے علاوہ باقی سب کو غلط کہتے ہیں. جس کا ذکر اوپر حوالے میں بھی کیا

کیا شمشیر و سناں اول کا مطلب یہ ہے کہ
مساجد کو بم مارکر اڑادو
ملکی افواج پر حملہ آور ہو جاو
دہشت گردوں کے آلہ کار بنو
اپنی عورتوں کو چوک پر رکھکر کوڑے مارو
اور یہ "شمشیر و سناں اول" ہے نہ کہ "شمشیر و ثنا اول" پہلے اقبال کو صحیح طرح لکھنا سیکھ لو پھر اقبال فہمی کی طرف آنا

--جلال 13:30, 3 اپريل 2009 (UTC)

کہتے ہیں ہیں مکھی پورے بدن پر اس جگہ بیٹھتی ہے جہاں پر گندگی یعنی زخم ہوتا ہے۔ آپ نے بھی پانچ ہزار الفاظ میں سے ایک لفط کی کمپوزنگ غلطی پکڑی ہے ہم غلطی تسلیم کرے ہیں اور تصحیح کردی ہے۔ مگر معاملہ پھر وہی ہے کہ آپ کے سوالات کا حرف بہ حرف جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے جواب میں آپ ایک سٹیائے ہوئے خبطی کی طرح بغیر کسی دلیل کے ایک ہی رٹ لگادیتے ہیں کہ جی خود ہی ثابت ہوگیا۔

آپ کے سوالات کے جوابات[ترمیم]

پہلی بات یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں حنفی دہشت گرد آپ کی ملکی افواج سے نبرد آزما ہیں۔ اور سوات میں عورتوں کو بھی آپ ہی کے حنفی مسلک کے دہشت گرد مار پیٹ رہے ہیں اسی نسبت سے دہشت گرد آپ خود ہوئے اور دہشت گردوں کے ہم مسلک و مذہب بھی۔ ہم تو ہیں شیخ عبدالقادر جیلانی رح کے مسلک کے پیروکار۔ یعنی حنبلی۔ آپ اگر شیخ عبدالقادر جیلانی کے سچے پیروکار ہو تو آج سے شرعی طریقے سے نماز پڑھنا شروع کردو۔ اگر نہین معلوم تو جا کر کسی سلفی مسجد میں سیکھ لو یا کم سے کم بخاری شریف میں نماز کے چار طریقے یعنی چار احادیث پڑھ لو۔ حنفی مسلک کو ترک کرو چونکہ شیخ عبدالقادر جیلانی حنفی نہیں تھے۔

مجھے شیخ عبدالقادر جیلانی کے حوالے سے جواب کا انتظار ہے[ترمیم]

مجھے بار بار آپ سے شیخ عبدالقادر جیلانی رح یعنی بقول آپ کے وہابی کے بارے میں آپ کے جواب کا انتظار ہیے۔ کہ آپ لوگ جب حنبلیوں کو وہابی سمجھتے ہو اور ان کے عقیدے کو غلط کہتے ہو تو پھر ان کا نام کیوں لیتے ہو۔ ان کے مام کے مالا کیو جھپتے ہو؟؟؟

یہی تو آپ لوگوں کا کذب ہے کہ سچ دنیا کو بتاتے نہیں ہو کتمان دین کرتے ہو۔ اسی کذب کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ ہم اس تصوف کو مانیں گے جو ہمارے مرشد شیخ عبدالقادر جیلانی کہیں گے۔ ہم گمراہوں، بدکاروں اور بڑے بڑے جبوں میں لپٹے ہوئے گندے اخلاق باختہ لوگوں کو نہیں مانتے۔ نہ ہی دین میں ان کی ایجاد کی ہوئی بدعتوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان بدبو دار لوگوں کو دین میں نت نئی ایجادات کا کوئی حق نہیں۔ ہمارے آقا و مولا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جو دین دے کر گئے ہیں وہ مکمل ہے۔ یہ کون ہوتے ہیں نت نئی ایجادات کرنے والے۔ رسول پاک نے ہمیں مکمل دین دے دیا ہے اس میں اضافہ کرنے کا ان ملائوں کواور نام نہاد پیروں کو حق حاصل نہیں ہے۔ --کشف 23:07, 3 اپريل 2009 (UTC)

کشف صاحب میرا آپ سے مناظرہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں[ترمیم]

جناب والا میرا آپ سے مناظرہ کرنے کا نہ تو کوئی ارادہ نہ وقت، اور نہ ہی وکیپیڈیا کو مناظرے کا اکھاڑہ بنانے کا کوئی ارادہ ہے۔ اوپر بھی میں نے کوئی ایسا الزام نہیں لگایا جو میرا اپنا ہو بلکہ علامہ اقبال کا ارشاد آپ کے سامنے رکھا جس میں علامہ نے ساری کڑیاں کھول کر اپنی زبانی بیان کردیں کہ کس کا تعلق کس سے ہے۔ میرا مقصد صرف وکیپیڈیا کو انتہا پسندوں کے منفی پروپیگنڈہ سے پاک کرنے کی سعی کرنا ہے۔ جن کیوجہ سے آج مسلمان ساری دنیا میں رسوا ہے۔ غیر ممالک میں ہمارے بھائی ان انتہا پسندوں کے کرتوتوں کے سبب شرم سے منہ چھپانے پر مجبور ہیں۔ ان کٹر اور شرپسند عناصر کیوجہ سے اسلام جو کہ محبت و آشتی کا دین ہے لوگوں کو اس سے متنفر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ تصوف جو کہ سراسر باہمی محبت، بھائی چارے اور برداشت کا درس دیتا ہے اس کو کوئی نئ اختراع قرار دینے کی سازش کی جارہی ہے اور اسے ہر طرح سے مشکوک قرار دینے کی سعی ہو رہی ہے۔ وہ صوفیا اکرام جنھوں نے اپنے اخلاق سے لوگوں کو اپنا گرویدہ کرلیا اور لاکھوں کروڑوں افراد کو اسلام سے مشرف کیا انھیں اور انکی انتھک محنت کو چند مٹھی بھر عناصر کے ناپاک عظائم کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار اپنے من پسند اور من گھڑت نظریات مسلمانوں پر ٹھونسنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تصوف کو منفی انداز میں پیش کرنے کیبجائے اس کے حقائق کو سامنے لایا جائے۔ ایکدفعہ پھر مناظرے کے شوقیں بھائی سے معذرت۔ آپ شوق کہیں اور جاکر پورا کرلیں۔

--جلال 13:56, 4 اپريل 2009 (UTC)

  • کیا مسلمانوں کے تفرقوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں اس حد پر پہنچ چکی ہیں کہ ان کی گردنوں کو دشمنوں کے سامنے کٹوانے کے لیۓ پیش کرنے سے بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی؟ کیا سلفی تفرقے والے مسلمان نہیں ہیں؟ اگر سلفی انتہاء پسندوں نے مسلمانوں کو دنیا میں رسوا کیا ہے تو مسلمانوں کے ان تفرقوں نے جن کو انتہاء پسندی سے مستشنیٰ کیا جارہا ہے انہوں نے کیا کارنامے انجام دیۓ ہیں؟ کیا مسلمانوں کی تمام تر پستہ حالی کا سبب سلفی ہیں؟ دوسرے فرقوں نے کون سی دنیاوی ترقی کر لی ہے؟ برا نہیں مانیۓ گا میرا ارادہ قطعاً بحث کا نہیں لیکن صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ خود جب سے آۓ ہیں ویکیپیڈیا پر اس وقت سے اپنے نظریات ٹھونسنے کی کوشش کر رہے ہیں ، آپ خود اپنے تفرقے کا پروپیگنڈہ فرما رہے ہیں اور لطف یہ کے الزامات ان پر لگا رہے ہیں جن بیچاروں کا ویکیپیڈیا پر کوئی وجود ہی نہیں ہے؛ کہاں ہیں بھائی سلفی یہاں؟ اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح شور مچا کر آپ ویکیپیڈیا پر اپنے من پسند مضامین لکھتے رہیں گے تو معاف کیجیۓ گا یہ آپ کی بھول ہے۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ بریلوی فرقے کے مضمون میں صرف بریلوی مٹھاس ہو اور دیوبندی کے فرقے میں صرف دیوبندی مٹھاس ہو اور سلفی کے مضمون میں صرف سلفی مٹھاس ہو؟ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا ؛ یہ دائرۃ المعارف ہے اور یہاں ہر مضمون میں مخالف نقطۂ نظر بھی لکھا جاۓ گا۔ تصوف میں اچھائی ہے تو وہ بھی لکھی جاۓ گی اور جو برائی ہے وہ بھی لکھی جاۓ گی۔ آج جب 10000 مضامین کا سہرا ویکیپیڈیا کے سر بندھ چکا ہے تو اس پر مکھیوں کی طرح منڈلانے لگے ہیں اس وقت آپ کہاں تھے جب یہاں چار آدمی اپنے روز گار حیات کی جد و جہد کے باوجود مشکل سے وقت نکال کر رات کے تین تین بجے تک ویکیپیڈیا پر اپنا خون پسینا ایک کر رہے تھے۔ یہ میری درخواست ہے کہ اب اس طرح لمبی لمبی تحریروں کی بحثیں اس ویکیپیڈیا پر بند کیجیۓ۔ آزاد دائرۃ المعارف ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپ بلا وجہ ، مفت میں سمجھ کر internet کی اس قیمتی فضاء (SPACE) کو برباد کرتے رہیں۔ --سمرقندی 15:15, 4 اپريل 2009 (UTC)

جناب سمرقندی صاحب، میں پہلے بھی بارہا آپ کی خدمات کا اعتراف کرچکا ہوں اور اب بھی پھر دوبارہ آپ کی خدمات کو سراہتا ہوں۔ اور ۱۰۰۰۰ کا عدد مکمل کرنے پر آپ سمیت تمام احباب کو تہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اور آپ نے بالاخر تصوف کے ضمن میں اولیا اکرام کی فھرست کا اندراج کرکے جو احسن قدم اٹھایا ہے اسکو سراہتا ہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ آپ اسے مزید مثبت اور غیر جانبدار بنانے کیلئے اقدام کریں گے۔ جناب والا، آپ نے بجا فرمایا کہ وکیپیڈیا دائرۃ المعارف ہے اور اس پر مضامین کا انداز غیر جانبدارانہ رہنا چاہیے نہ کہ اسے یکسر مشکوک بنایا جائے۔ اس مضمون کے ابتدائی چند جملوں پر آپ ٹھڈے دل اور غیر جانبداری سے غور فرمائیں کہ کیا یہ انداز اسے مشکوک بنانے والا نہیں، مثلاَ آغاز کے پہلے تین جملے:
"مسلم علماء میں اس سے معترض اور متفق ، دونوں اقسام کے طبقات پاۓ جاتے ہیں"
"کچھ کے خیال میں تصوف شریعت اور قرآن سے انحراف کا نام ہے اور کچھ اسے شریعت کے مطابق قرار دیتے ہیں۔"
"اس لفظ تصوف کو متنازع کہا بھی جاسکتا ہے اور نہیں بھی؛"
پہلے تین جملے جو اس مضمون (تصوف) کے ذیل میں لکھے گئے ہیں اور انکا انداز بھی ایسا کہ تصوف سے اختلاف و انکار پہلے کیا اور پھر دوسرے درجے میں اقرار۔ گویا یہ مخالف موضوع پہلے اور مترادف مضمون بعد میں۔ تو پھر اس مضمون کا نام بدل کر "مخالف تصوف" کردیں۔

اگر وکیپیڈیا پر کوئی قاری یا کوئی طالبعلم تصوف کے بارے میں معلومات کیلئے آئے تو وہ یہاں کوئی معلومات لے یا یہ ملاکھڑا دیکھے؟

"محققین (مسلم اور غیرمسلم) کہ جو مسلمانوں میں موجود تمام فرقہ جات کا تقابلی جائزہ لیتے ہوۓ تصوف کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے نزدیک تصوف کا شعبہ مسلمانوں کے مابین ایک متنازع حیثیت رکھتا ہے"
بھائی کیا یہ تمام مسلمانوں کے ہاں متنازع ہے یا صرف چند مٹھی بھر عناصر کے ہاں؟ بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ صرف سلفی(وھابی) حضرات کے ہاں معترض ہے۔ جو کہ بمشکل ایک دو فیصد سے زیادہ نہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اسے بھی تحریر کر دیا جائے تاکہ قاری کے سامنے کلی طور پر حقیقت سامنے آئے کہ یہ اختلاف کا معاملہ برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف ایک مٹھی بھر اقلیتی سلفی گروہ ہی اسکا معترض و منکر ہے۔ معذت کیساتھ، یہاں بھائی لوگوں کو اسلامی اتحاد اور یگانگت یاد آتی ہے۔ تو یہ یگانگت اس وقت یاد کیوں نہیں آتی جب ہم اس امر سے بے پروا ہو کر کہ تصوف کو مشکوک بنانے سے بیش بہا عظیم بزرگان دین اور اولیاء اکرام کی ہستیوں پر حرف آتا ہے جن کو ہم سب اسلام کا درخشان باب کہتے ہیں۔ کیا حسن بصری، اویس قرنی، امام جعفر الصادق، حضرت بایزید بسطامی، جنید بغدادی، رابعہ بصری، غوث اعظم شیخ عبدالقدر جیلانی، شیخ بہاؤالدین نقشبند، خواجہ معین الدین چشتی، داتا گنج بضش علی ہجویری، شیخ فرید الدین عطار، شیخ عبد الحق محدث دہلوی، حضرت مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شمس تبریز، شیخ سعدی، مولانا رومی، مولانا جامی، علامہ اقبال اور ایے عظیم بے شمار افراد سب غیر اسلامی حرکات میں مصروف رہے۔

تصوف کو غیر قرآنی تو بڑھا چڑھا کر انتہائی اثبات و شدومد سے لکھا جا رہا ہے۔ لیکن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اکرام کے تصوف سے متعلق احوال ہیں انکو گول کیا جارہا ہے۔ کیا یہ غیر جانبداری ہے۔

میں آپ سے گزارش و عرض کروں گا کہ یہ جو مضمون میں تصوف کے آغاز کو ساتویں صدی میں لکھا، صحیح یہ ہے کہ تصوف پر کتب کا باقاعدہ آغاز دوسری صدی ھجری جو کہ قبل از کتب صحاح ستہ بخاری و مسلم کا دور ہے لکھا جائے۔ اور اگر عیسوی سن ہے تو اسے واضع کیا جائے کیونکہ اسلامی مضمون میں اسے اسلامی پر محمول کرنا زیادہ قرین قیاس ہے۔

بھئی اگر آپ حقیقت اور غیر جانبداری پر یقین رکھتے ہیں تو اس فریق کا نام اس مضمون میں ظاہر کریں جو تصوف کے انکار کا حامل ہے۔ جو حضرات چاہتے ہیں کہ انکا اختلافی موقف سامنے آئے وہ اپنا نام دینے سے کیوں گھبراتے ہیں؟

سمرقندی صاحب، کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اب تبادلہ خیال نہ کیا جائے؟ بھائی اگر آپ کی پاس وقت نھیں تو آپ زائد کام کسی اور کو تفویض کریں۔ خدارا تنقید سننے کا حوصلہ رکھیں۔ نہ کہ تبادلہ خیال سے بھی روکنا شروع کردیں یا کہ پھر تبادلہ خیال بھی مقفل کردیں نہ کوئی مضمون میں اندراج کرے اور نہ تبادلہ خیال کرے۔ آپ کو تنگ کرنے پر دوبارہ معذرت، کیا کریں یہ سلسلہ تو اب چلنا ہی ہے اسی میں بہتری ہے وکیپیڈیا کی اور اسلام کی بھی۔

--جلال 10:30, 5 اپريل 2009 (UTC)

قلندر[ترمیم]

اسلام علیم، مجھے اس مضمون مین لکھنے والے اصحاب سے تصوف کے مراحل کا پوچھنا تھا، کہ کون کون سے مراحل ہیں اورفقیری اور قلندری کا کون سا نمبر ہے تصوف میں۔ 39.47.0.178 19:06, 8 فروری 2013 (م ع و)

39.47.0.178 19:06, 8 فروری 2013 (م ع و)امجد میانداد

تبصرہ 18 فروری 2013[ترمیم]

کیا اسلام پھیلانے میں صوفیاء کرام کی مشقت کسی سے ڈھکی چھپی ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ الکاتب (تبادلۂ خیال) 21:23, 18 فروری 2013 (م ع و)

مصنف کی یکطرفہ سوچ پورے مضمون پر چھایئ ہوئی ہے۔ الکاتب (تبادلۂ خیال) 21:18, 18 فروری 2013 (م ع و)

نوربخشی تصوف[ترمیم]

ہر چیز کی اچاھئی یا برائی ہوتی ہے لیکن اس مضمون میں کیا اچھا بتائی گئی ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟تصوف یا عرفان ایک ایسا راستہ ہے جس کے ذریعے ایک مومن خدا کے ساتھ قریبی تعلقات میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت محمدؐ کی زندگی میں، کئ صحابہ کرامؒ جو کہ اکثر اصحاب صفہ میں سے تھے تصوف کی بنیاد رکھی . حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بری نفس کو پاک کرنے کا طریقہ سکھایا. اس طرح متقی خود امتحان اور مذہبی نفسیات کی سائنس، اسلامی کلام کا مطالعہ کی طرف سے مدد ہے، وجود میں آیا. اس تحریک کے پیروکاروں کے اسلام کے پھیلنے کے ساتھ تعداد میں اضافہ ہوا. وقت کی ساتھ ساتھ کافی صوفی سلسلے وجود میں آۓ. لیکن اس پورے مضمون میں کروڑوں مسلمانوں کے جزبات ٹھیس پہنچائی گئی اور مضمون پر کوئی نوٹس بھی نہی لگی ہے