تبادلۂ خیال:حجر بن عدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یہ شخص تو صرف معاویہ کی حمایت کررہا ہے اور صحابی (حجر بن عدی) کو برا بھلا کہہ رہا ہے بلکہ بڑے بڑے الزامات بھی اپنی طرف سے عائد کررہا ہے وہ بھی بغیر کسی دلیل کے، اس پورے مضمون میں صرف اور صرف حجر بن عدی صحابی کی توہین کی گئی ہے۔

--39.42.186.34 12:11, 6 مئی 2013 (م ع و)* میں نے اس متن میں ترمیم کیا کیونکہ یہ صرف ایک طرفہ باتیں ہیں یعنی اس میں جو باتیں لکھا گیا ہے صرف اہل شیعہ کے علاوہ دوسرے مسلمانوں کی عقائد کے مطابق نسبتاً ٹھیک ہے بحر حال میں نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کیا لیکن اس متن کے شروع مین لیکھا تھا ایک مکتب فکر معاویہ کی توھین کر رہا ہے تو میں بحیثیت ایک شیعہ مسلم اس فرقہ وارانہ بات کی نہی کرتے ہوے اسے حضف کیا پرانی اور مستند کتب کے حوالے بھی ضرور دیں۔ لیکن یہ ذہن میں رکھیں کہ حضرت حجر بن عدی بھی صحابی تھے۔ منتظمین سے گذارش کروں گا کہ مضمون محفوظ نہ کیا جاوے۔--اردو دوست 15:32, 4 نومبر 2009 (UTC)

صحابی یا تابعی[ترمیم]

حجر بن عدی کے صحابی ہونے میں متضاد آرا ہیں۔ ابن سعد اور مصعب زبیری نے ان کو صحابی شمار کیا ہے لیکن امام بخاری، ابن ابی حاتم، خلیفہ بن حاتم اور ابن حبان نے ان کو تابعی شمار کرتے ہیں.[1]. علام ابن سعد نے بھی ان کو ایک مقام پر صحابی اور ایک مقام پر تابعی شمار کیا ہے [2]. ابو احمھ عسکری کے مطابق اکثر صحابہ ان کا صحابی ہونا صحیح قرار نہیں دیتے[3]. ان کی بزرگی وزہد پر سب کا اتفاق رہا ہے ہاں ان کے پیچھے کچھ فتنہ پرداز قسم کے لوگ لگ گئے تھے جو ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا کرنے پر ہمہ وقت کمر بستہ رہتے تھے. علامہ حافظ ابن کثیر کا بیان ہے۔ حضرت حجر کو شیعان علی کی کچھ جماعتیں لپٹ گئیں تھیں جو ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتی اور حضرت معاویہ کو برا بھلا کہتی تھیں.[4]

اسی قسم کا بیان ابن خلدون کا بھی ہے.[5] انہی اثرات کے باعث حضرت کا مزاج امیر معاویہ سے نہیں میل کھاتا تھا جب حضرت حسن نے حضرت معاویہ سے صلح فرمائی تو حضرت حجر اس پر راضی نہ تھے تیسری صدی کے مشہور مورخ ابو حنیفہ الدینوری اس واقعہ کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں. صلح کے بعد حضرت حجر کی ملاقات حضرت حسن سے ہوئی تو انہوں نے حضرت حسن کو اس پر شرم دلائی اور حضرت معاویہ سے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا۔ " اے سبط رسول ! کاش میں یہ صلح دیکھنے سے پہلے مرجاتا. تم نے ہمیں انصاف سے نکال کر ظلم میں مبتلا کردیا ہم جس حق پر قائم تھے ہم نے وہ چھوڑ دیا اور جس باطل سے بھاگ رہے تھے اسی میں جا گھسے ہم نے خود زلت اختیار کرلی اور اس پستی کو قبول کرلیا جو ہمارے لائق نہ تھی" [6]

حضرت حسن کو حضرت حجر کی یہ بات ناگوار گزری اور آپ نے ان کو صلح کے فوائد سے آگاہ کیا مگر حجر راضی نہ ہو‎ئے اور حضرت حسین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے کہا

" اے ابو عبداللہ ! تم نے عزت کے بدلے گمراہی خرید لی ، زیادہ کو چھوڑ کر کم کو قبول کرلیا، بس آج میری بات مان لو پھر عمر بھر نہ ماننا ، حسن کو ان کی صلح پر چھوڑ دو اور کوفہ میں اپنے حامیوں (شیعوں) کو جمع کرلو، ہند کے بیٹے (معاویہ) کو ہمارا پتا جب چلے گا جب ہم تلواروں سے اس کے خلاف جنگ کر رہے ہوں گے

[7]

لیکن حضرت حسین نے بھی انکار فرماتے ہوئے کہا

"ہم عہد کرچکے ، بیعت ہوچکی، اب اسے توڑنے کی کوئی سبیل نہیں".

کوفہ میں سرگرمیاں[ترمیم]

اسکے بعد سے حجر کوفہ میں مقیم ہوگئے تھے اس وفت کوفہ ان جماعتوں کا مرکز بنا ہوا تھا جو بظاہر تو حضرت علی کی محبت کا دعوی کرتی تھیں چمٹے ہوئے تھیں.لیکن ان کا مقصد حضرت معاویہ کی حکومت کو ناکام بنانا تھا جس کی حیثیت حضرات حسنین کی صلح سے مزید مستحکم ہوچکی تھی. حضرات حسنین کسی بھی قیمت پر اس صلح کو توڑنے پر تیار نہ تھے۔ ان ہی جماعتوں کی جانب سے حضرت حسن کی وفات کے بعد حضرت حسین کے پاس پیغام بھیجا گیا تھا کہ وہ کوفہ آکر دعوا‎ئے خلافت کریں (ان خطوط و پیغامات کاتسلسل سانحہ کربلا کا موجب ہوا ) یہ ہی جماعتیں حضرت حجر کو حضرت حجر اور ان کے حواریوں کا معمول بن گیا تھا کہ بقول ابن جریر اور ابن کثیر "یہ لوگ حضرت عثمان کی بدگوئی کرتے تھے ان کے بارے میں ظالمانہ باتیں کرتے تھے اور امراء پر نکتہ چینی کرتے تھے اور ان کی تردید کی تاک میں رہا کرتے تھے۔ شیعان علی کی حمایت اور دین میں تشدد کرتے تھے" .[8]

ابن جریر طبری لکھتے ہیں ایک مرتبہ گورنر کوفہ مغیرہ بن شعبہ نے اپنے خطبے میں حسب معمول حضرت عثمانکے لئے دعا فرمائی اور ان کے قاتلوں کے لئے بددعا فرمائی اس پر حجر کھڑے ہوگئے اور کہا " اے انسان تجھ کو سٹھیا جانے کی وجہ سے یہ معلوم نہیں رہا کہ تو کس سے عشق کا اظہار کر رہا ہے، ہماری تنخواہوں کا حکم جاری کر جو تو نے روک رکھی ہیں اور تجھ سے پہلے کے گورنروں نے کبھی ہماری تنخواہوں کی لالچ نہیں کی تھی تم امیر المومنین کی مذمت اور مجرموں کی مدح کرنے کے بڑے شوقین ہو"

لیکن حضرت مغیرہ نے انہیں کچھ نہ کہا اور گھر تشریف لے گئے کئی لوگوں نے رائے دی کہ ایسے شخص کو چھوڑنے سے خلافت کی کمزوری کا تاثر پیدا ہونے کا خدشہ ہے لیکن حضرت مغیرہ نے فرمایا " میں خطا کار سے درگزر کرنے والا ہوں"

مغیرہ بن شعبہ کے بعد گورنر کوفہ کی زمہ داری سنبھالنے والے زیاد پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ نعوزباللہ حضرت علی کی توہین کیا کرتا تھا طبری کے الفاظ میں "زیاد نے حضرت عثمان کا ذکر کرکے ان کی تعریف کی اور ان کے قاتلوں پر لعنت بھیجی تو حجر کھڑے ہوگئے" [9]

حافظ ابن اثیر کے مطابق " اس نے حضرت عثمان پر رحمت بھیجی ان کے اصحاب کی تعریف کی اور ان کے قاتلوں پر لعنت بھیجی"[10]

ایک اور مورخ حافظ ابن کثیر رقمطراز ہیں " خطبے کے آخر میں اس نے حضرت عثمان کی فضیلت بیان کی اور ان کے قاتلوں اور قتل میں اعانت کرنے والوں کی مذمت کی تو حجر کھڑے ہوگئے" [11]

ابن خلدون کے مطابق "اس نے حضرت عثمان پر رحمت بھیجی اور ان کے قاتلوں پر لعنت کی" [12]

ان مورخین میں سے کسی نے نہیں کہا کہ زیاد بن سمیہ نعوزباللہ حضرت علی کی توہین کیا کرتا تھا ہاں وہ قاتلان عثمان پر ضرور لعنت کرتا تھا .

ابن سعد فرماتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد زیاد بن سمیہ نے حضرت حجر کو تنہائی میں بلا کر کہا "اپنی زبان اپنے قابو میں رکھیے اور اپنے گھر کو اپنے لئے کافی سمجھیے. میرا تخت حاضر ہے یہ آپ کی نشست ہے آپ کی ہر ضرورت میں پوری کردوں گا لہذا اپنے معاملے میں مجھ کو مطمئن کر دیجئے اس لئے کہ آپ کی جلد بازی مجھ کو معلوم ہے، اے ابو عبدالرحمان !میں آپ کو اللہ اک قسم دیتا ہوں ان پست فطرت اور بے وقوف لوگوں سے بچیے یہ لوگ کہیں آپ کو آپ کی را‎ئے سے پھسلا نا دیں لہذا اب اگر آپ کی قدر میری نظروں میں کم ہوئی یا میں نے آپ کے حقوق میں کوتاہی کی تو یہ میری طرف سے ہرگز نہیں ہوگی" [13]

حجر نے یہ بات سن کر کہا " میں سمجھ گيا " پھر وہ اپنے گھر چلے گئے وہاں ان کے حواریوں نے ان سے دریافت کیا جوابا انہوں نے سارا واقعہ سنایا ان کے ساتھیوں نے کہا " اس نے آپ کی خیر خواہی کی بات نہیں کی" [14]

حافظ ابن کثیر کے مطابق زیاد عمرو بن حریث کو اپنا قائم مقام گورنر بنا کر بصرہ جانے لگا تو اس نے ‍قصد کیا کہ حجر کو بھی ساتھ لے جا‎ئے تاکہ پچھے کوئی شورش برپا نہ ہو مگر حجر نے بہانا بنا کر ٹال دیا جس پر زیاد نے برہم ہوکر کہا "تم دین عقل اور قلب ہر لحاظ سے بیمار ہو. خدا کی قسم اگر تم نے میرے پیچھے کوئی ہنگامہ کیا تو میں تمارے قتل کی کوشش کروں گا" [15]


ابن سعد لکھتے ہیں کہ جب زیاد بصرہ چلا گیا تو مخالف جماعتیں حجر کے پاس بکثرت آتی جاتی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ "آپ ہمارے شیخ ہیں اور تمام لوگوں ‎سے زیادہ اس بات کے حقدار ہیں کہ اس معاملے (خلافت معاویہ) کا انکار کردیں.

حجر مسجد جاتے تو یہ لوگ بھی جاتے . گورنر عمرو بن حریث نے یہ ماجرا دیکھا تو حجر کے پاس پیغام بھیجا " اے ابو عبدالرحمان ! آپ تو امیر سے اس بارے میں عہد کرچکے ہیں پھر آپ کےساتھ یہ جمیت کیسی ہے " حجر نے جواب میں کہلا بھیجا " جن چیزوں میں تم مبتلا ہو اس کا انکار کرتے ہو . پیچھے ہٹو ! تماری خیریت اسی میں ہے" [16] [17]

حجر کے یہ تیور دیکھ کر گورنر عمرو بن حریث نے زیاد کو فورا خط لکھا کہ " اگر کوفہ کو بچانا ہے تو جلدی واپس آجاؤ "

علام ابن جریر اور طبری کا بیان ہے کہ زیاد کو یہ اطلاع ملی کہ حجر کے پاس شیعان علی جمع ہوتے ہیں اور حضرت معاویہ پر علی الاعلان لعنت کرتے ہیں اور انہوں نے گورنر عمرو بن حریث پر پتھراؤ بھی کیا ہے.[18] [19] [20] [21]

عدی بن حاتم کی ثالثی[ترمیم]

امام ابن سعد فرماتے ہیں کہ زیاد اس اطلاع ملنے کے بعد برق رفتاری سے کوفہ پہنچا اور یہاں آکر اس نے مشہور صحابی عدی بن حاتم ، جریر بن عبداللہ ، خالد بن عرفطہ اور کوفہ کے دوسرے ممتاز شرفا کو بلایا اور ان سے کہا " آپ حضرات جاکر اتمام حجت حضرت حجر کو سمجھائیں کہ وہ اس جماعت سے باز آجائیں اور اپنی زبان اپنی قابو میں رکھیں" یہ اصحاب حجر کے پاس گئے لیکن حضرت حجر نے نہ کسی سے بات کی نہ کسی کی بات کا جواب دیا بلکہ ان کا ایک اونٹ گھر کے کونے میں کھڑا تھا اس کی طرف اشارہ کرکے اپنے غلام سے کہا " لڑکے اس اونٹ کو چارہ کھلاؤ" جب انہوں نے ان حضرات کی بات ان سنی کردی تو حضرت عدی بن حاتم نے فرمایا " کیا تم دیوانے ہو؟ میں تم سے مخاطب ہوں اور تم کہتے ہو کہ لڑکے اونٹ کو چارہ کھلاؤ" [22] اس کے بعد حضرت عدی بن حاتم نے اپنے ساتھیوں سے کہا " میرے گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ بےچارہ ضعف کے اس درجہ پر پہنچ گیا ہوگا جو میں دیکھ رہا ہوں"

اس کے بعد یہ حضرات واپس آگئے اور زیاد کے پاس آکر حجر کی کچھ باتیں بتائیں اور کچھ چھپالیں اور زیاد سے درخواست کی کہ ان سے نرمی کا برتاؤ کرے. زیاد نے کہا " اگر اب میں ان سے نرمی کروں تو میں ابو سفیان کا بیٹا نہیں. [23] [24]

ابن جریر اور طبری نے حضرت عدی بن حاتم کا یہ واقعہ بیان نہیں کہا اس کے بجا‎ئے انہوں نے لکھا ہے کہ زیاد نے کوفہ میں ایک خطبہ دیا ‏غالب گمان ہے کہ کہ عدی بن حاتم کی واپسی کے بعد دیا ہوگا زیاد جمعہ کا دن منبر پر پہنچا اس وقت عدی اور ان کے حواری حلقہ بنا‎ئے بیٹھے تھے زیاد نے کہا " حمد و صلوہ کے بعد یاد رکھو ! ظلم اور بغاوت کا انجام بہت برا ہے . یہ لوگ (جحر اور ان کے حواری) جتھہ بنا کر بہت اترا گئے ہیں انہوں نے مجھے اپنے حق میں بے ضرر پایا تو مجھ پر جری ہوگئے اور اللہ کی قسم ! اگر تم سیدھے نہ ہوئے تو میں تمہارا علاج اسی دوا سے کروں گا جو تمارے لائق ہے، اور اگر میں کوفہ کی زمین کو حجر سے پاک نہ کردوں اور اس کو آنے والے زمانے والوں کے لئے عبرت نہ بنادوں تو میں بھی کوئی چیز نہیں".[25] [26] [27] حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس کے بعد زیاد نے خطبہ میں یہ بھی کہا " تم پر امیر المومنین کے فلاں فلاں حقوق ہیں" اس پر جحر نے کنکروں کی ایک مٹھی بھر کر زیاد پر دے ماری اور کہا " تم پر خدا کی لعنت ! تم نے جھوٹ کہا " [28] [29] بعض راویوں نے اس خطبہ میں یہ قصہ بھی زکر کیا ہے کہ جب زیاد کا خطبہ طویل ہونے لگا اور نماز کو دیر ہونے لگی تو حجر نے مٹھی بھر کنکریاں زیاد پر دے ماریں تب زیاد منبر سے اترا اور نماز پڑھی. اس خطبے میں حجر کے کنکریاں مارنے کی وجہ کچھ بھی رہی ہو اس خطبہ کے بعد زیاد نے حجر کے حالات تفصیل کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کو لکھ بھیجے جس پر امیر معاویہ نے حکم دیا کہ حجر کو گرفتار کرکے میرے پاس بھیج دو.

گرفتاری کی کوشش[ترمیم]

امیر معاویہ کا حکم ملنے کے بعد زیاد کے پاس حجر کی گرفتاری سے کوئی امر معانع نہ رہا تھا لہذا اس نے اپنے امیر شرطہ (سپرنٹنڈنٹ پولیس) شداد بن الہیثم کو جحر کی گرفتاری کا حکم جاری کیا. حسین بن عبداللہ ہمدانی کا بیان ہے کہ جب شداد کے پاس زیاد کا یہ حکم پہنچا تو میں وہیں موجود تھا شداد نے مجھ سے کہا " تم جاکر حجر کو بلا لاؤ " میں حجر کے پاس جاکر کہا " امیر آپ کو بلاتے ہیں " حجر کے حواریوں نے کہا " یہ اس کے پاس نہیں جائیں گے " اس پر میں واپس آگيا اس پر شداد نے مزید کچھ آدمی میرے ساتھ کردی ہم نے جاکر دوبارہ حجر سے کہا " امیر کے پاس چلیے" مگر حجر کے حواریوں نے ہمیں گالیاں دیں اور برا بھلا کہا . [30] جب صورتحال اس درجہ سنگین ہوگئ تو زیاد نے کوفہ کے شرفا کو جمع کرکے ایک تقریر کی اور کہا کہ ہر شخص اپنے رشتہ داروں کو حجر کی جماعت سے الگ کرنے کی کوشش کرے اس کے بعد پھر شداد کو بھاری جمیعت دے کر بھیجا اور تاکید کی " اگر حجر تماری بات مان لیں تو ان کو لے آؤ اگر انکار کردیں تو ان سے لڑائی کرو" شداد نے جاکر ایسا ہی کہا مگر حجر کے حواریوں نے جواب دیا " ہم ایک پل کے لئے بھی امیر کا یہ حکم نہیں مانیں گے" اس پر حجر کی جماعت اور زیاد کی پولیس میں سخت معرکہ آرائی ہوئی مگر پولیس حجر کی گرفتاری میں ناکام رہی.حجر اس کے بعد فرار ہوکر کندہ کے محلے میں پہنچ گئے جہاں ان کی قوم کے لوگ آباد تھے۔ حجر کے ساتھیوں نے یہاں کے لوگوں کو جنگ پر آمادہ کیا اور رجزیہ شعر پڑھے گئے [31] جو کہ عموما جنگ کے موقع پر پڑھے جاتے ہیں. زیاد نے ایک دستہ کندہ پر چڑھائی کے لئے بھیجا مگر سخت جنگ کے بعد بھی حجر گرفتار نہ ہوسکے اور فرار ہوکر رپوش ہوگئے [32]۔ زیاد نے تنگ آکر اپنے سالار محمد بن الاشعث کو تین دن کے اندر اندر جحر کی گرفتاری کا فریضہ سونپا جس پر الاشعث سواروں کی ایک جماعت کے ساتھ حجر کی گرفتاری کے لئے بھاگ دوڑ کرتے رہے ۔ گھیرا تنگ ہونے کے بعد حجر نے اس شرط پر گرفتاری دینے کی پیشکش کی کہ مجھے امان دی جائے اور معاویہ کے پاس بھیج دیا جائے. زیاد نےیہ شرط منظور کرلی گرفتاری کے بعد حجر زیاد کے سامنے پہنچے تو زیاد اور حجر کی باہم گفتگو ہوئی زیاد . " مرحبا ابو عبدالرحمان ! تم جنگ کے زمانے میں تو جنگ کرتے ہی تھے اب اس وقت بھی جنگ کرتے ہو جب سب صلح کرچکے ہیں " حجر. " میں نے اطاعت نہیں چھوڑی اور نہ جماعت سے علیحدگی اختیار کی ہے میں اب بھی اپنی صلح پر قائم ہوں " زیاد. " افسوس ہے حجر ! تم ایک ہاتھ سے زخم لگاتے ہو اور دوسرے سے مرہم. تم یہ چاہتے ہو کہ جب اللہ نے تم پر ہم کو قابو دے دیا تو ہم تم سے خوش ہوجائیں ؟ " حجر. " کیا تم نے مجھ کو معاویہ کے پاس پہنچنے تک امن نہیں دیا ؟ " زیاد . " کیوں نہیں ! ہم اپنے عہد پر قائم ہیں " یہ کہہ کر زیاد نے ان کو قید خانہ بھیج دیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا " اگر مجھ کو اپنے عہد کا پاس نہ ہوتا تو یہ شخص یہاں سے زندہ بچ کر نہ جاسکتا " اس طرح حجر گرفتار تو ہوگئے مگر ان کے فتنہ پرور حواری بدستور رپوش رہے۔

گرفتاری کے بعد[ترمیم]

حضرت حجر کی گرفتاری کے بعد زیاد نے کوفہ کے چار سرداروں کو عمرو بن حریث، خالد بن عرفطہ، ابو بردہ بن ابی موسی، قیس بن ولید کو جمع کیا اور ان سے کہا " حجر کے بارے میں تم نے جو کچھ دیکھا ہے اس کی گواہی دو "

ان حضرات کی گواہی کے الفاظ طبری کے مطابق " حجر نے اپنے گرد بہت سے جتھے جمع کرلئے ہیں اور خلیفہ کو سرعام برا بھلا کہا ہے اور ان کے خلاف جنگ کی دعوت دی ہے. ان کے عقیدہ کے مطابق خلافت کا مستحق حضرت علی کے سوا کوئی نہیں. انہوں نے ہنگامہ برپا کرکے خلیفہ کے گورنر کو نکال باہر کیا . یہ ابوتراب (حضرت علی) کو معذور سمجھتے ہیں اور ان پر رحمت بھیجتے ہیں اور ان کے دشمنوں اور ان سے جنگ کرنے والوں سے برات کا اعلان کرتے ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ سب ان کے ہم خیال ہیں.[33]

ان کی گواہی کے بعد زیاد نے چاہا کہ اس گواہی میں مزید لوگوں کو بھی شامل کیا جائے اس لئے اس نے اس گواہی کو تحریر کرواکر لوگوں کو جمع کیا اور ان کو پڑھ کر سنایا گیا اور لوگوں کو دعوت دی گئ کہ جو اس گواہی میں شریک ہونا چاہیں اپنے نام لکھوادیں . اس پر 70 افراد نے اپنے نام لکھوا‎ئے مگر ذیاد نے حکم دیا کہ ان میں سے صرف وہ نام باقی رکھے جائیں جو اپنی دین داری کے لحاظ سے معروف ہوں . اس پر 44 کے سوا باقی تمام نام حذف کردیئے گئے.[34]

ابتدائی گواہان کا تعارف[ترمیم]

جن ابتدائی گواہوں نے ابتدا میں گواہی دی تھی ان کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے

عمرو بن حریث[ترمیم]

عمرو بن حریث صحابی ہیں ان کی ایک روائت ابو داؤد میں ملتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو ایک مکان کی جگہ عطا فرمائی تھی ان کے متعلق اختلاف ہے کہ وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وقت ان کی عمر کیا تھی۔ ان کو کبائر صحابہ میں شمار کیا جاتا ہے انہوں نے بعض احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے براہ راست روایت کی ہیں اور بعض خلفائے راشدین کے توسط سے۔

خالد بن عرفطہ اذدی[ترمیم]

خالد بن عرفطہ اذدی مشہور صحابی ہیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے براہ راست احادیث روایت کی ہیں۔ جنگ قادسیہ میں حضرت سعد نے ان کو نائب سپہ سالار بنایا تھا. اپنے دور گورنری میں حضرت سعد نے ان کو اپنا نائب بھی بنایا تھا. [35]

ابو بردہ[ترمیم]

حضرت ابو موسی اشعری کے صاحبزادے ابو بردہ جو کہ معروف تابعی ہیں. اعلی درجہ کے فقہا ہیں اور بے شمار احادیث کے راوی ہیں. حضرت علی کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں.کوفہ کے قاضی بھی رہ چکے ہیں، جلیل القدر صحابہ سے بھی احادیث روائت کرچکے ہیں.[36] [37]

بعد میں اس گواہی میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں حضرتوائل بن حجر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں. کثیر بن شہاب ہیں جو حضرت عمر کے زمانے میں امیر رہ چکے تھے [38]. موسی بن طلحہ ہیں جو حضرت طلحہ کے صاحبزادے ہیں . حضرت طلحہ کے ایک اور صاحبزادے اسحق بن طلحہ بھی اس گواہی میں شامل ہیں. یہاں واضح رہے کہ ان گواہان پر کسی قسم کا جبر نہیں کیا گیا کیونکہ زیاد نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کے صاحبزادے عروہ اور مختار بن ابی عبیدہ کو بھی گواہی دینے کے لئے بلایا تھا تاہم دونوں صاحبان نے انکار کردیا تھا اس لئے ان کا نام گواہوں کی فہرست میں نہ لکھا گیا. [39]

ان گواہان کی گواہی قلمبند کی گئ اور گواہیوں کا یہ صحیفہ حضرت وائل بن حجر اور حضرت کثیر بن شہاب کے حوالے کیا گیاکہ وہ خود جاکر حضرت معاویہ کے حوالے کریں۔ حجر اور ان کے 12 ساتھی بھی ان کی تحویل میں دیئے گئے. زیاد نے ایک خط حضرت معاویہ کی خدمت میں تحریر کیاجس کامضمون یہ تھا

" اللہ نے امیر المومنین سے بڑی بلا دور کرکے احسان فرمایا ہے کہ آپ کے دشمنوں کو زیر کردیا ہے. ان ترابی اور سبائی سرکشوں نے جن کے سردار حجر بن عدی ہیں امیر المومنین کے خلاف بغاوت کی تھی اور جماعت میں تفرقہ ڈالا تھا اور ہمارے خلاف جنگ ٹھان لی تھی. اللہ نے ہم کو ان پر قابو دے دیا . میں نے شہر کے چیدہ چیدہ صلحاء ، علماء ، اشراف، معمر اور بزرگ افراد کو بلایا تھا. انہوں نے جو کچھ دیکھا اس کی گواہی دی اب میں نے ان لوگوں کو آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں اور اہل شہر کی گواہی بھی اس کے ہمراہ ہے"[40]

اس طرح یہ مقدمہ حضرت وائل بن حجر اور حضرت کثیر بن شہاب نے حضرت معاویہ کے سامنے پیش کیا. حضرت معاویہ حجر بی عدی اور ان کی جماعت کی شورشوں کا پہلے ہی علم تھا اب بن کے پاس 44 گواہان کی گواہیاں بھی ان کی باغیانہ سرگرمیوں سے متعلق پہنچ گئیں. ان گواہان کی تفصیل اوپر بیان ہوچکی ہے . کیا اس کے بعد بھی حجر اور ان کے حواریوں کا جرم بغاوت ثابت نہیں ہوجاتا جس کی سزا عموما موت ہوا کرتی ہے. لیکن معاویہ نے اپنے فطری حلم اور بردباری کی بنا پر قتل کے فیصلے میں جلدی نہ کی اور زیاد اے نام ایک خط لکھا. " حجر اور ان کے حواریوں کے بارے میں تم نے جو واقعات لکھے اور تم نے جو گواہیاں ارسال کیں ان سب کو مدنظر رکھ کر غور کر رہا ہوں کہ ان لوگوں کو قتل کروادینا ہی بہتر ہے پھر یہ سوچ کر رک جاتا ہوں کہ قتل کی بہ نسبت معاف کردینا زیادہ بہتر ہے"

زیاد کو جب یہ خط ملا تو اس نے جواب میں لکھا

" حجر اور ان کے حواریوں کے متعلق آپ کی را‎ئے سے میں آگاہ ہوگیا ہوں. مجھے تعجب ہے کہ آپ کو ان لوگوں کے بارے میں تردد کیوں ہے حالانکہ ان لوگوں کے خلاف ان حضرات نے گواہی دی ہے جو ان کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں. لہزا اگر آپ کو اس شہر (کوفہ) کی ضرورت ہو تو حجر اور ان کے ساتھیوں کو یہاں نہ بھیجیں.[41]"

اس کے باوجود حضرت معاویہ نے بعض اصحاب کے کہنے پر جحر بن عدی کے 6 ساتھیوں کو چھوڑ دیا اور 7 افراد کو سزا‎ئے موت کے حکم دیا ۔ ایک صاحب نے حجر کے بارے میں سفارش کی تو حضرت معاویہ نے فرمایا " یہ تو ان سب کے سردار ہیں اگر ان کو چھوڑ دیا تو اندیشہ ہے پھر شہر میں فساد کریں گے "[42]

حضرت عائشہ کی مداخلت[ترمیم]

جحر بن عدی کے عبادت و زہد کی بہت شہرت تھی اس لئے جب حضرت عائشہ کو معلوم ہوا کہ حجر کو سزا‎ئے موت کا حکم سنایا گیا ہے تو آپ نے حضرت معاویہ کو پیغام بھیجا کہ وہ حجر کو رہا کردیں. پیغام حضرت معاویہ کو اس وقت ملا جب ان کو مقتل بھیجا جا چکا تھا. حضرت معاویہ نے فورا ایک قاصد جلادوں کی طرف دوڑایا کہ حجر کو قتل نا کریں مگر جب قاصد مقتل پہنچا تو حجر اور ان کے ساتھی قتل کئے جاچکے تھے.[43] [44] [45]

اس واقعہ کو عموما کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے جیسے حجر اور زیاد کا حضرت علی کو برابھلا کہنے پر جھگڑا ہوا اور ‏معاویہ نے حجر کو قتل کروادیا یہ بیان نہیں کیا جاتا کہ حجر اور ان کے ساتھی نا صرف حضرت عثمان کی بدگوئی کرتے تھے بلکہ خلافت کے خلاف بغاوت کے راستے پر بھی چل پڑے تھے . اس واقعہ کی کچھ مخفی تفصیلات اوپر بیان کی گئیں کیا اس سے واضح نہیں ہوجاتا حجر نے اسلامی حکومت (جس کو حضرات حسنین بھی قبول کرچکے تھے) کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کی تھی اور ان کو مزید ڈھیل دی جاتی تو کوفہ میں ناجانے کتنے مسلمانوں کا خون بہہ جاتا.حضرت معاویہ نے ایک صاحب کے سوال کے جواب میں بالکل درست فرمایا " حجر کا قتل مجھ کو اس بات سے زیادہ پسند تھا کہ میں ان کے ساتھ ایک لاکھ افراد کو قتل کردوں".[46]

کیا حضرت حجر کے بارے میں ثابت نہیں ہوتا[ترمیم]

(1) حضرت حجر اور ان کے حواری شروع ہی سے حضرت معاویہ کی حکومت کے مخالف تھے۔

(2) حضرات حسنین کی صلح کے بھی یہ ان کو بغاوت پر اکساتے رہے اور جب وہ بغاوت پر راضی نہ ہوئے تو ان سے بھی ناراضگی کا اظہار کیا.

(3) ان کے ساتھی حضرت معاویہ اور حضرت عثمان پر کھلے عام دشنام طرازی کیا کرتے تھے.

(4) امرا کے خلاف بات بات پر شورش برپا کرنا ان کی عادت بن گئ تھی.

(5)حضرت مغیرہ بن شعبہ اور زیاد نے ابتدا میں ان کو نہایت معقولیت اور شرافت سے سمجھایا کہ ان سرگرمیوں سے باز آجائیں.

(6) گورنر (زیاد) کی عدم موجودگی میں نائب گورنر (عمرو بن حریث) پر پتھر برسائے اور نہ صرف خلافت معاویہ کا انکار کیا بلکہ ان پر لعنت ملامت بھی کی.

(7) زیاد نے اس موقع پر بھی کوئی سخت کاروائی کرنے کے بجائے حضرت عدی بن حاتم اور اکابر صحابہ کو ان کو سمجھانے کے لئے بھیجا مگر انہوں سے کسی سے بھی سیدھے منہ بات نہ کی.

(8) پھرزیاد نے ان کو انتباہ کیا کہ اگر تم ان حرکتوں سے باز نہ آئے تو تمارا علاج اس دوا سے کروں گا جو تمارے لائق ہے اور پھر سمجھایا کہ خلیفہ کے تم پر کیا حقوق ہیں مگر حجر نے زیاد پر کنکر برسائے اور کہا" تجھ پر اللہ کی لعنت ! تو نے جھوٹ کہا "

(9) انہیں زیاد نے بجیثیت گورنر طلب کیا مگر انہوں نے آنے سے انکار کردیا دوبارہ آدمی بھیجے گئے مگر ان کو گالیاں دے کر دھتکار دیا گیا

(10) تیسری بار کوفہ کے شرفاء اور پولیس کو بھیجا گیا کہ ان کو بلاکرلائیں. انہوں نے بھی شروع میں سوائے اس کے کچھ نہ کہا کہ "امیر کے پاس چلو " لیکن انہوں نے حکم ماننے سے انکار کردیا. جب پولیس نے زبردستی کی تو ان لوگوں نے پولیس پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کردیا اور قابو میں نہ آ‌ئے.

(11) پھر اپنے علاقے میں پہنچ کر اس کو میدان جنگ بنادیا ، رزمیہ اشعار پڑھے گئے. ان کی اور فوج کی باقاعدہ جنگ ہو‎ئی جس کے بعد یہ فرار ہوگئے.

(12) گرفتاری کے بعد کہنے لگے ہم اپنی بیعت پر قائم ہیں.

(13) 44 مقتدر ہستیوں نے ان کے خلاف شہادت دی جن میں جلیل القدر صحابہ، فقہا، اور محدثین شامل تھے.

(14) ان واقعات سے باخبر ہوکر اور مذکورہ شہادتیں دیکھ کر حضرت معاویہ نے ان کے قتل کا حکم جاری کیا.

(15) حضرت عائشہ کی سفارش پر ان کی جان بخشی کردی مگربدقسمتی آڑے آئی اور قاصد بروقت مقتل نہ پہنچ سکا.


جو شورش حجر بن عدی اور ان کے حواریوں نے کھڑی کی تھی اگر اس کا نام " حق گوئی" اور " اظہار رائے ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بغاوت ، فتنہ فساد ، شورش کے الفاظ لغت سے خارج کردینے چاہیں. یہ درست ہے کہ ان کے عابد و زاہد ہونے کی دور دور تک شہرت تھی قدرتی بات ہے کہ تمام حالات سے ناواقف شخص جب صرف اتنا سنے گا کہ ان کو حکومت نے قتل کرادیا ہے تو وہ اس پر رنج و افسوس کا ہی اظہار کرے گا مگر یہ افسوس ایسے خلیفہ کے خلاف کیسے جحت بن سکتا ہے جس کے سامنے 44 معتبر گواہیاں گزر چکی ہوں اور وہ سب اس بات پر متفق ہوں کہ حجر نے بغاوت کا ارتکاب کیا ہے. جہاں تک عبادت و زہد کا تعلق ہے تو وہ اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کا ارتکاب کیا جائے ورنہ کل یہ بھی کہا جانے لگے گا کہ خارجی بھی بہت عابد و زاہد تھے اس لئے حضرت علی کا ان کو قتل کرنا جائز نہ تھا۔

حضرت عائشہ کی نظر میں[ترمیم]

اس واقعہ میں حضرت عائشہ کی جانب سے منسوب الفاظ میں مورخین کے درمیان اختلاف ہے طبری میں ایک جگہ تو یہ ہی الفاظ ملتے ہیں.

" اے معاویہ ! تم کو حجر کے قتل کا حکم دیتے ہو‎ئے اللہ کا زرا سا بھی خوف نہ ہوا "

لیکن طبری نے ہی دوسرے مقامات پر نیز دوسرے مورخین نے اس واقعہ کو کچھ اس طری بیان کیا ہے. حضرت معاویہ اس سال جب حج کے لئے تشریف لے گئے اور آپ کی حضرت عائشہ سے ملاقات ہوئی تو حضرت عائشہ نے فرمایا. " حجر کے معاملے میں تماری بردباری کہاں چلی گئ تھی؟ " [47] [48] [49]

حافظ ابن کثیر کے الفاظ میں " جب تم نے حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کروایا تو تمہاری بردباری کہاں چلی گئ تھی؟[50]

ابن سعد اور ابن عبدالبر کے مطابق " حجر اور ان کے اصحاب کے معاملے میں تم سے ابو سفیان کی بردباری کہاں چلی گئ تھی "[51]

حضرت عائشہ نے بمطابق مورخین کثرت سے جو الفاظ استعمال کئے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک حجر اور ان کے حواریوں کا قتل شریعت یا انصاف کے خلاف نہ تھا ۔ حد سے حد وہ اس کو بردباری کے خلاف سمجھتی تھیں۔ حضرت عائشہ نے مندرجہ بالا جملے کے ساتھ یہ بھی فرمایہ تھا کہ " تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ ان کو قید خانوں میں رکھتے اور ان کو طاعون کا نشانہ بننے دیتے"[52]

یہ تھا حضرت عائشہ کے نزدیک بردباری کا زیادہ سے زیادہ تقاضا جو جحر اور ان کے حواریوں کے ساتھ روا رکھا جاسکتا تھا۔ اگر حجر "حق گوئی " کے مجرم تھے تو حضرت عائشہ کے نزدیک اس کی جگہ کم از کم قید خانہ ہی تھی۔ حضرت معاویہ نے جوابا عرض کیا تھا کہ " ام المومنین ! آپ جیسی ہستیاں مجھ سے دور ہیں اور میرے پاس ایسا کوئی بردبار آدمی نہیں رہا جو مجھ کو ایسے مشورے دے سکے " [53]

حضرت معاویہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ " حجر کو قتل تو انہوں نے کیا جنہوں نے ان کے خلاف گواہی دی [54]

مزید فرمایا " میں کیا کرتا ؟ زیاد نے مجھ کو لکھا تھا کہ اگر میں نے ان (حجر) کو چھوڑ دیا تو یہ میری حکومت کے خلاف ایسی رخنہ اندازی کریں گے کہ اس کو بھرا نہ جاسکے گا " [55]

آخر میں حضرت معاویہ نے یہاں تک فرمادیا کہ " کل ( بروز ‍‌قیامت ) مجھے اور حجر دونوں کو اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے [56] لہذا میرے اور حجر کے معاملے کو اس وقت تک کے لئے موخر کردیجئے کہ ہم دونوں اللہ کے حضور حاضر ہوں "

صحابہ کرام کی باہمی جنگووں کے بارے میں حضرت حسن بصری کیا خوب فرماتے ہیں . وہ ایسی جنگیں تھیں جن میں صحابہ کرام موجود تھے اور ہم غائب. وہ تمام حالات سے واقف تھے ہم ناواقف .جس چیز پر ان کا اتفاق تھا ہم اس کی اتباع کرتے ہیں اور جن پر ان کا اختلاف تھا اس پر ہم توقف اور سکوت اختیار کرتے ہیں"[57]

وماعلینا الالبلاغ

  • یہ جو آپ نے لکھا کہ بظاہر تو حضرت علی کی محبت کا دعوی کرتی تھیں لیکن ان کا مقصد حضرت معاویہ کی حکومت کو ناکام بنانا تھا یہ آپ نے اپنا خیال لکھا ہے یا کسی کتاب سے۔ اگر کتاب سے ہے تو حوالہ دیں کہ ان کا ایسا مقصد تھا۔ دوسری بات یہ کہ اختلاف کے باوجود حجر بن عدی کے صحابی ہونے کے کئی لوگ قائل ہیں۔ تو کیا ان کی غلطی اجتہادی غلطی کہلائے گی٫ تیسرے یہ کہ اگر وہ معاویہ بن ابی سفیان کو برا کہتے تھے تو کیا برا کہنےکی سزا قتل ہے؟ جس طریقہ سے ان کو سزر دی گئی کیا یہ سزا اسلامی ہے؟ کو ان کو قتل کرنے کا اختیار کس نے دیا اور کسی جرم کی سزا میں حجر قتل ہوئے۔ ذرا ان باتوں پر بھی روشنی ڈالیے۔--اردو دوست 14:36, 7 نومبر 2009 (UTC)
  • آپ میری بات مکمل ہونے دو پھر اعتراض کرنا۔ ابھی میری بات مکمل شاید نہیں ہوئی. * یہ تو تبادلہ خیال ہے۔ بہرحال میں بات مکمل ہونے کا انتظار کروں گا مگر آپ کو سچ لکھنا چاہئیے۔ البدایہ والنہایہ میں واضح لکھا ہوا ہے کہ زیاد نے حضرت علی کا نام لے کر جو باتیں کیں اس پر حجر کھڑے ہو گئے(دیکھین البدایہ جلد 6 صفحہ 306)۔ یعنی یہ درست نہین کہ اس نے حضرت علی کے بارے مین کچھ نہین کہا اور صرف حضرت عثمان کی تعریف کی۔ بہرحال جب بات مکمل ہو جائے تو بتائیے۔--اردو دوست 14:51, 7 نومبر 2009 (UTC)
  • بہت شکریہ ! کہ آپ نے اتنی اجازت مرحمت فرمائی.
  • یہ جو آپ نے حضرت عائشہ کی مداخلت کے ذیل میں لکھا کہ ان کے اصرار پر معاویہ بن ابی سفیان نے حجر بن عدی کو قتل سے بچانے کے لیے قاصد دوڑا دیے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حجر بن عدی مجرم تھے تو حضرت عائشہ کو انہیں معاف کروانے کا اختیار نہیں اور انہیں بچانے کی کوشش کا معاویہ کا فعل غلط ہے۔ اور اگر مجرم نہیں تھے تو معاویہ بن ابی سفیان کو انہیں قتل کروانے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ بتائیے کون صحیح ہے یہاں۔ آپ نے تو مجھے مخمصہ میں ڈال دیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ صحابہ کے معاملات پر ہم توقف اور سکوت اختیار کرتے ہیں (حسن بصری) دوسری طرف آپ نے ایک جید صحابی حجر بن عدی کے خلاف ایک کتابچہ لکھ دیا ہے۔ بہرحال میں اردو دوست صاحب کا انتظار کروں گا کہ وہ اپنی بات کریں تو اس کے بعد میں اس بحث میں کچھ اضافہ کروں۔--حقیقت پسند سالار 16:25, 16 نومبر 2009 (UTC)
  • مندرجہ بالا تحریر میں کہیں اصرار کا لفظ استعمال نہیں ہوا. حضرت عائشہ کا معاملہ تو بہت بلند و بالا ہے کیا آج کے دور میں کسی بھی ملک کا صدر ایسے کسی بھی مجرم کی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں رکھتا ؟ حضرت عائشہ نے ان کی معافی کا تو کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا بلکہ ان کے نزدیک مناسب یہ تھا کہ ان کو قید میں رکھا جائے.[58]. جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ " وہ ایسی جنگیں تھیں جن میں صحابہ کرام موجود تھے اور ہم غائب. وہ تمام حالات سے واقف تھے ہم ناواقف .جس چیز پر ان کا اتفاق تھا ہم اس کی اتباع کرتے ہیں اور جن پر ان کا اختلاف تھا اس پر ہم توقف اور سکوت اختیار کرتے ہیں" یہ میں نہیں کہتا بلکہ حضرت حسن بصری کا ارشاد ہے جو میں نے بیان کیا . ناچیز کے خیال میں اگر خود کو "مومن" مسلمان گرداننے والے بھی حضرت حسن بصری کے اس موقف کو اصول بنالیں تو فرقہ ورانہ جنگ کا خاتمہ عین ممکن ہے. میرا یہ " کتابچہ " صرف حضرت معاویہ کی مدافعت میں ہے نا کہ حضرت حجر کے خلاف . یہاں تو اصحاب کی اہانت میں جو کچھ تصنیف کیا جاتا رہا ہے اس کی ضخامت تو کسی دائرہ المارف کو چیلنج کرتی نظر آتی ہے . میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ اس واقعہ کو کچھ اس رنگ میں بیان کیا جاتا رہا ہے جس سے یہ سارا واقعہ یکطرفہ معلوم ہوتا ہے. میں نے صرف یہ واضح کرنے کی سعی کی ہے کہ وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے معاویہ جیسے خلیفہ[اللہ کی شان ہے،خلیفوں کے باغی بھی خلیفے بن گئے] کو حجر کے قتل کا حکم جاری کرنے پر محبور کردیا.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاصابہ ص313 ج اول، المکتبہ التجاریتہ الکبری، القاہرہ1358 ھ
  2. طبقات ابن سعد ص 217 ج 6 جز 22
  3. البدایہ والنہایہ ص 50 ج 8
  4. البدایہ و النہایہ ص50 جلد 8
  5. ابن خلدون ص23 ج 3 الکتاب البنانی بیروت 1957
  6. ابو حنیفہ دینوری، الاخبار الطوال ص220، ادارہ العامتہ الثفافتہ القاہرہ
  7. ابو حنیفہ دینوری، الاخبار الطوال ص220، ادارہ العامتہ الثفافتہ القاہرہ
  8. البدایہ والنہایہ ص54 ج8
  9. طبری ص190 ،ج 4
  10. ابن اثیر ص 187 ج3 طبع قدیم
  11. البدایہ والنہایہ ص50 ج8
  12. ابن خلدون ص23 ج3
  13. طبقات ابن سعد ص218 ج8 جز22 دار صادر بیروت
  14. البدایہ والنہایہ ص53 ج8 مطبع اسعادہ مصر
  15. البدایہ والنہایہ ص51 ج8
  16. طبقات ابن سعد ص 218، ج8، جز22
  17. البدایہ والنہایہ ص53 ج8
  18. الطبری ص190 جلد 8
  19. ابن اثیر ص187 جلد3
  20. ابن خلدون ص23 ج3
  21. البدایہ والنہایہ ص51 ج8
  22. البدایہ والنہایہ ص51 ج8
  23. طبقات ابن سعد ص218-219، ج8، جز22
  24. البدایہ والنہایہ ص53 ج8
  25. الطبری ص190 ج4
  26. ابن اثیر ص 187 ج3
  27. البدایہ والنہایہ ص51 ج8
  28. ایضا
  29. الاستیعاب الاصابہ ص255 ج1
  30. طبری ص191 ج4
  31. طبری ص193 ج4
  32. طبری ص194 - 196 ج4
  33. طبری ص193 تا 201 ، ج4
  34. ایضا
  35. ابن سعد ص21 ج6 جز21
  36. تہذیب التہذیب ص 18 ج 12
  37. طبقات ابن سعد ص268 ج6 جز 23
  38. الاصابہ ص271 ج3
  39. طبری ص201، ج4
  40. طبری ص202، ج4
  41. الطبری ص 203 ج4
  42. طبری ص 204 ج4
  43. البدایہ والنہایہ ص 54 ج8
  44. طبقات ابن سعد ص219،220 ج6 جز 22
  45. ابن خلدون ص29 ج3
  46. البدایہ والنہایہ ص 54 ج8
  47. طبری ص191 ج4
  48. ابن اثیر ص194 ج3
  49. ابن خلدون ص29 ج3
  50. البدایہ النہایہ ص53 ج8
  51. الاستيعاب تحت الاصابہ ص355، ج1
  52. ایضا
  53. ایضا
  54. البدایہ النہایہ ص53 ج8
  55. الاستيعاب ص356 ج1
  56. البدایہ النہایہ ص53 ج8
  57. القرطبی : الجامع الاحکام القرآن، ص 322 ج16
  58. الاستيعاب تحت الاصابہ ص355، ج1