تبادلۂ خیال:سید محمد یار نقوی نجفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حذف کا سانچہ ہٹا دیں۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 22:45، 5 مارچ 2019ء (م ع و)

استاذ العلماء سید محمد یار نقوی ذاتی کوائف نام سید محمد یارنقوی آبائی شہر علی پور اولاد علامہ حافظ سید محمد سبطین نقویؒ علامہ حافظ سید محمد حسینن نقویؒ علامہ حافظ سید محمد ثقلین نقوی شہیدؒ علامہ حافظ سید محمد سیدین نقویؒ مذہب شیعہ اثنا عشری پیشرو محمد یار علمی و دینی معلومات اساتذہ علامہ سید محمدباقرنقوی ھندیؒ مولانا شیخ محمد یارؒ مولانا طالب حسینؒ حضرت مولانا حافظ مہر محمد اچھروی حجۃ الاسلام آغاسید حسین حجۃ الاسلام آغا شیخ محمد ظہرانی آیت اللہ العظمیٰ سید محمد جواد تبریزی ؒ آیت اللہ العظمیٰ سید عبدالحسین رشتیؒ آیت اللہ العظمیٰ مرزا باقر زنجانی ؒ مدارس باب العلوم ملتان ،ٹھٹھہ سیال سیت پور ضلع مظفر گڑھ جامعہ علمیہ محمدیہ اثناءعشریہ علی پور ضلع مظفر گڑھ ولادت 12مئی 1913ء وفات 8دسمبر1990 ء


استاذ العلماء سید محمدیار شاہ نقوی النجفیؒ فاضل نجف اشراف ولدیت:سّید اللہ وسایا ولادت:12مئی 1913ء وفات:8 دسمبر1990 ء سکونت:مدرس اعلیٰ جامعہ دار الہدی محمدیہ اثناء عشریہ علی پور ضلع مظفر گڑھ اْستاذالعلماء لہ سید محمد یار نقوی النجفی ؒ 12مئی1913 ء کو بمقام چاہ وزیر والا مضافات علی پور میں پیدا ھوئے آپ نے 1933 ء میں میٹرک پاس کیا اس کے بعد آپ باب العلوم ملتان داخل ہو گئے حضرت مولانا شیخ محمد یارؒ سے اخذ فیض کیا اس کے بعد آپ مربی العلماء علامہ سید محمد باقر ھندی ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے جہاں درس نظامی کی بقایا کتابوں کے علاوہ طب کی بھی بعض کتب پڑھیں کچھ عرصہ آپ مولانا طالب حسینؒ کی خدمت میں بھی رہے چند دن مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ میں بھی گزارے اس کے بعد آپ حنفیوں کے مشہور مدرسے جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور تشریف لے گئے جہاں حضرت مولانا حافظ مہر محمد اچھروی (م1374ھ)سے معقولات کتابیں پڑھیں اس کے بعد آپ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے نجف اشراف تشریف لے گئے وہاںآپکے حسب ذیل اساتذی تھے 1۔علامہ آغاسید حسین 2۔علامہ آغا شیخ محمد ظہرانی 3۔علامہ العظمیٰ سید محمد جواد تبریزی ؒ 4۔علامہ العظمیٰ سید عبدالحسین رشتیؒ 5۔علامہ مرزا باقر زنجانی ؒ آپ 1942 ء میں وطن واپس آئے ابتدا میں اپنے استاذی المکرم علامہ سید محمدباقرنقوی ھندیؒ کی سرپرستی میں چک38 ء تحصیل خانیوال میں تدریس فرماتے رہے اس کے بعد باب العلوم ملتان ،ٹھٹھہ سیال سیت پور ضلع مظفر گڑھ جلالپور نگیانہ اور خوشاب کے مدارس میں علوم اھلبیت علیہم السلام کو عام کیا 1961ء میں آپ اپنے آبائی شہر علی پور تشریف لائے اور دار الہدیٰ محمدیہ کی بنیاد رکھی اور تا دم تحریر یہیں پر درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے تحریر کے ساتھ ساتھ تحریر کی طرف متوجہ تھے اصول فقہ اور تفسیر قرآن کے مسودے موجود ہیں یوں تو پاکستان میں آپکے کافی شاگرد ہیں مگر ان میں سے بعض یہ ہیں ۔ 1۔شیخ الجامعہ علامہ اختر عباس نجفیؒ 2۔علامہ حسین بخش جاڑا ؒ 3۔علامہ محمد حسین نجفی (ڈھکو)حفظہ اللہ 4۔علامہ ملک اعجاز حسین نجفی 5۔علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی مد ظلہ العالی 6۔محسن ملت ابوذر زمان علامہ سید صفدر حسین نجفی 7۔علامہ سید گلاب علی شاہ نقوی مدس اعلیٰ مدرسہ مخذن العلوم ملتان ؒ قبلہ استاذ العلماء انتہائی سادگی کے مالک تھے کہ کلمہ حق کہنے میں اپنی مثال آپ تھے محراب منبر بڑی سے بڑی شخصیت کو بھی ٹوک دیتے تھے وہ سامنے ہی کیوں نہ بیٹھا ہو ۔ اپکے تمام فرزندان کا اسماء گرامی درج ذیل ہیں 1۔علامہ حافظ سید محمد سبطین نقوی ؒ پرنسپل جامعہ عربیہ ممتاذ المدارس وزیرآباد (25جولائی 1947تا15اپریل 1954) 47 برس 2۔علامہ حافظ سید محمد حسنین نقوی (پرنسپل جامعہ علمیہ دارالہدیٰ محمدیہ علی پور ضلع مظفر گڑھ) (28اگست1950تا23جون2003) 53 برس 3۔علامہ حافظ سید محمد ثقلین نقوی شہیدؒ (پرنسپل جامعہ دارالہدیٰ محمدیہ علی پور ضلع مظفر گڑھ ) (28نومبر 1952تا27فروری2012)60 برس 4۔مولانا حافظ سید محمد سیدین نقویؒ پیش امام مسجد محمد یار شاہ موزہ مکول ھڈیر بکھن شاہ (1955تا 2013) 55 برس Naqvi syed512 (تبادلۂ خیالشراکتیں) 11:38، 6 فروری 2019ء (م ع و)حوالہ جاتNaqvi syed512 (تبادلۂ خیالشراکتیں) 11:38، 6 فروری 2019ء (م ع و) کتابیں تذکرۃ العلماء امامیہ علمی انقلاب کا بانی