تبادلۂ خیال:شگر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تبصرہ 19 ڈسمبر 2012[ترمیم]

--78.38.166.199 13:01, 19 دسمبر 2012 (م ع و)س اج د وادی شگرقدرتی حسین مناظر کا مجموعہ ضلعی صدر مقام سکردو سے ۳۲ کلو میٹر مزیدشمال کی جانب ایک انتھایی خوبصورت وادی شگر کے نام سے جانی جاتی ہے ۔اس وادی کے خوبصورت اور دلکش قدرتی مناظر ،بلندپھاڑی چوٹیاں ،لہلہا تے کھیت ،ٹھنڈی چشمے اور آبشاریں ،ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے اپنے اندر ایک منفرد کشش رکھتی ہے ۔ اس وادی کی سرحدیں مشرق میں خپلو ، مغرب میں نگر گلگت اور جنوب کی وادی سکردو سے ملتی ہیں ۔شمالی طرف دنیا کی دوسری بلندترین چوٹی «کے ٹو»اور کوہ قراقرم کی دیگر پہاڑی چوٹیاں اور گلشرزہیں۔جن کو مرکونے کی کوشش میں لاتعداد کوہ پیما اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ وادی شگر کے مہمان نواز،بہادر اور جفا کش لوگوںکا پیشہ کھیتی باڑی،اور مویشی پالنا ہے بہت کم لوگ ملازمت پیشہ ہیں۔یہ وادی پھلوں اور میووں کے لحاظ سے بہت مشہور ہیں۔ان میں خوبا نی ،بادام ،سیب،ناشپاتی،انگور،الوبخارا،گلاس ،شہتوت ،اخروٹ اور دوسری پھلیں شامل ہیں۔وادی کے پہاڑوں میں قدرت کا پیش بہا اور قیمتی خزا نہ پوشیدہ ہیں۔ان پہاڑوں میں چھپی معدنیات کےعلاوہ بہت ہی دوسری قیمتی اشیاء ہیں جن میں سے چند مشہور معدنیات کا ذکر پیش خدمت ہے۔ «ابرق» یہاں خاص مقدار میں ابرق پایا جاتا ہے جو شیشہ سازی کے کام آتا ہے۔ «کچا چونا»شگر میں کئی جگھوںپر چومے کا پتھر دستیاب ہے جن کو کار خانوں میں پکا کر عمدہ قسم کا چونا تیار کیا جاتا ہے۔ «نیلم »اس وادی کے پہاڑو ں سے نیلم بھی ملتے ہیں یہ پتھر جواہرات کی دنیا میں بڑی قیمت پاتے ہیں۔ «زہرمہرہ»شگر سے تقریبا «۳۰»میل مشرق کی سمت پہاڑی نالوں کو عبور کرنے کے بعد ایک تیز سبز رنگ کا پہاڑ ہے جسے مقامی زبان میں «پزول»کہتے ہیں۔یہ سبزرنگ کا پتھر عام پتھروں کی نسبت نرم ہے جس سے ہر قسم کے برتن اور دوسری نمایشی چیزیں بنایی جاسکتی ہیں۔اس پتھر سے بنے ہوے برتنوں کی یہ خوبی بیان کی جاتی ہے کہ اگر ان میں زہر ملاکر کھانا ڈالا جاے تو کھانا خود بہ خود ابلنے لگتا ہے۔اور زہر کا اثر زائل ہوجا تا ہے اگر کوئی آدمی زہر کھالے یا اسے سانپ کاٹ جائے تو زہر جسم میں پھیلنے سے پہلے زہرہ مہرہ کا ایک ٹکڑا پیس کر پانی میں حل کر کے مریض کو پلا یا جائے تو مریض صحت یاب ہوجاتا ہے۔ «جڑی بوٹیاں»پہاڑوں اور ندی نالوں کے کنارے بہت سی قیمتی جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں جن سے طبی ادویات تیار کی جاتی ہیں۔ موسم بہار میں یہ وادی بہت خوبصورت نظر آتی ہے چاروں طرف ہرے بھرے درخت نظر آتے ہیں لیکن درج ذیل مقامات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

78.38.166.199 13:01, 19 دسمبر 2012 (م ع و)

شگر تھورگو کا وجہ تسميہ[ترمیم]

(مصطفی علی روحانی)۔۔ سکردو شھر سے 89 کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع شگر تھورگو ”جوکہ پھل فروٹ ” شھتوت ، خوبانی ، آخروٹ، سیپ،وغیرہ خصوصاً ناشپاتی کے لحاظ سے بہت مشھور ہے“ کو قدرت نے پانی جیسی عظیم نعمت سے مال و مال کیا ہوا ہے ایک ریسرچ کےمطابق وہاں ایک سو بیس سے زائد چشمے موجود ہیں۔ اس لحاظ سے تو اس کا نام چھومک یا چشمہ آباد ہونا چاہئے تھا۔ لیکن آخر تھورگو ہی نام کیوں رکھا گیا؟؟؟ آئیں ہم دیکھتےہیں: اردو رسم الخط میں اس گاوں کا نام تھورگو ہی لکھاجاتاہے جبکہ انگلش رسم الخط میں تین طریقوں سے لکھا گیاہے : عام لوگ Thorgo لکھتےہیں جبکہ گورمنٹ کے کاغذات اور بورڈ وغیرہ پر Thorgu لکھ کر نظر آتاہے اور گلوبل کی دنیا Thurgu لکھتی ہے ان الفاظ کے معانی بھی الگ الگ بنتےہیں۔ ۱: Thorgo ہم نے اپنے ماسلف سے سناہے کہ تھورگو کی تاریخ یوں ہے: سب سے پہلے جن لوگوں نے یہاں آکر آباد کیا وہ لوگ سکردو تھورگو سے آئیں تھے اس وجہ سے اس مقام کو تھورگو کہلاتاہے اگر اس بات کےقائل ہوجاۓ (میرے نزدیک یہی مستند ہے) تو اس صورت میں تھورگو سے کیا مطلب ہے جاننے کیلۓ سکردو تھورگو کی تاریخ دیکھنا پڑیگا۔ جہاں تک ہم نے بزگوں سے سناہے وہ یہ کہ سکردو تھورگو انتہائی چڑھائی ہے اس وجہ سے تھورگو سے پکارتےہیں۔ یعنی لفظ استعارہ ہے تَھوری گو سے۔ تھور بلتی میں چَھری کو کہتےہیں گو کا معنی ہے : سر (چَھری آخیری حصہ) پس تھورگو مرکب اضافی ہے جس کا معنی تَھورِ(چَھری کا) مضاف الیہ گو (سر/آخری حصہ) مضاف ہے اگر یہی وجہ تسميہ صحیح ہے تو یہ ابھی بھی موجودہ گاوں پر بلاشبہ صدق آتاہے کیونکہ تھورگو انتہائی چڑھائی ہے۔ لیکن بات وہی صحیح ہے جوکہ ہمارے آباء و اجداد نے بتائی۔ کیونکہ ہمیں ہی یاد ہے کہ”پہلے اسطرح چھڑائی نہیں تھی“ دریا کی کٹاؤ کی وجہ سے تقریباً 50% آبادی تلف ہوچکی ہے ۔ لوگ کہتےہیں کہ پورانے زمانےمیں اسطرح کی کوئی چڑھائی نہیں تھی بلکہ بعد میں دریا بڑھنے کےساتھ ساتھ گورمنٹ کی طرف سے کوئی توجہ نہ ہونے کےسبب اس حد تک پہنچ گیاہے کہتےہیں سابقہ تھورگو کا آخر موجودہ روڈ تک تھا پھر اس حوالےسے ایک مقولہ بھی مشھور ہےکہ گویکھی رستم ستا گوا سونگ ستیکھی رستم گوا ، گوا سونگ(یعنی اوپر والہ رستم کو نیچے جانا پڑا نیچے والہ رستم کو اوپر جانا پڑا) اب آپ اندازہ لگائیں کہ تھورگو کا کتنا بڑا حصہ ضایع ہوچکاہے؟ اور یہ بھی حقیقت ہے تاریخ میں ہم سے زیادہ کسی پر ظلم نہیں ہوا ، ہم سے زیادہ کسی کا حق غصب نہیں کیا گیا اور ہم سے زیادہ کسی کا حق ضایع بھی نہیں ہوا۔ اس دور جدید میں بھی بنیادی حقوق سے محروم ہونا خدمت کےنام پر عوام کو بیقوف بنانے والے نمائیندوں کے چہروں پر ایک لازوال داغ ہے۔ ٢: Thorgu یہ لفظ مرکب اسنادی ہے Tho/تَھو(بالشت) تمیز rgu/رگو (نو) اسم عدد ممیز سے، جس کا معنی ہے نو بالشت۔ کے ہیں۔ بہرکیف اسطرح نام گزاری کرنے کی کوئی وجہ ہی نہیں بنتی ہے۔ ٣: Thurgu یہ لفظ مرکب اسنادی ہے یعنی Thur/تُھور (کوڑا) تمیز rgu/رگو (نو) اسم عدد ممیز سے جسکا معنی ہوگا نو کوڑے۔ پس اس کی بھی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے۔ ۴: اور ایک طریقہ باقی ہے وہ ہے: Thurgo اگر اس طرح لکھے تو بھی گاؤں کا وجہ تسمیہ بن سکتاہے کیونکہ بلتی میں چڑھائی کو کھہ یار جبکہ اترائی کو کھہ تھورگو کہلاتےہیں اس صورت میں ہوسکتاہے اصل میں نام کھہ تھورگو ہو بعد میں کثرت استعمال کی وجہ سے تھورگو لکھا گیاہو۔ آخر میں گلوبل دنیا اور گورمنٹ آف پاکستان سے اپیل کرتاہوں کہ گاوں کا اصل نام Thorgo ہے کاغذات وغیرہ پر Thorgo ہی لکھیں شکریہ۔ Mustafa Ali Rohani Shigar (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:27، 19 مئی 2020ء (م ع و)

جی Mustafa Ali Rohani Shigar (تبادلۂ خیالشراکتیں) 03:04، 20 مئی 2020ء (م ع و)