تبادلۂ خیال:فاطمہ زہرا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Information icon4.svgیادہانی:اردو ویکیپیڈیا یا ویکیمیڈیا فاؤنڈیشن کا، صارفین کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

براہ مہربانی متنازع موضوعات پر تبادلۂ خیال کرتے وقت تہذیب و شائستگی کا مظاہرہ کریں، فرقہ وارنہ گفتگو سے گریز کریں اور اپنی رائے کو شستہ الفاظ میں پیش کریں، نیز تاریخی واقعات کو فیصلہ کن انداز میں غلط یا درست قرار دینے کے بجائے غیر جانبداری کے ساتھ بیانیہ انداز میں تحریر کریں۔ خیال رہے کہ یہاں مذہبی، سیاسی اور تاریخی موضوعات میں فریقین اور بنیادی/ثانوی/ثلثی مآخذ سے استفادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، چناں چہ اگر اس مضمون میں محض ایک نقطہ نظر بیان کیا گیا ہے تو اسے جانبدار باور کرنے کے بجائے آپ دوسرا نقطہ نظر با حوالہ شامل کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ویکیپیڈیا پر کسی بھی طرح کی جانبداری کو تخریب کاری سمجھا جاتا ہے۔


Untitled[ترمیم]

سارا مضمون ہی نظر ثانی محتاج ہے۔ صحابہ کرام پر ایک خاص گروہ کے الزامات اور بے اصل روایتوں کی بھرمار ہے۔ حتی کہ ان کی زبان درازی سے ایمان والوں کی ماں عائشہ رضی اللہ عنہا بھی محفوظ نہیں رہیں۔ ذمے داران توجہ کریں۔


یه مضمون جانبدانه اور مذھبی رنگ لیے هے ـ اس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ـ 20:31, 13 ستمبر 2009 (UTC)خاورkhawar

  • اس مضمون کو آج شام سے شروع کر کے نئے سرے سے لکھوں گا۔ اس کے لکھنے والے تو اب اردو وکی پر نہیں آتے۔ مگر اوپر جس صاحب نے اپنا نام ظاہر کرنے کی زحمت کیے بغیر یہ کہا ہے کہ ایمان والوں کی ماں عائشہ رضی اللہ عنہا بھی محفوظ نہیں رہیں، اس کی اس مضمون میں نشاندہی کریں تاکہ اسے پہلے درست کیا جائے مجھے تو ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔--سید سلمان رضوی 06:58, 14 ستمبر 2009 (UTC)
  • میں نے مضمون کو نئے سرے سے ایک دائرۃ المعارف کے طریقے سے لکھنا شروع کیا ہے۔ حتی الامکان کوشش ہوگی کہ تمام حوالے دیے جائیں۔ یہ توقع بالکل نہ کی جائے کہ اسے میں وہابی، سنی یا شیعہ کے مطابق لکھوں گا۔ اس میں تمام معلومات دوں گا چاہے اس سے شیعہ ، سنی یا وہابی ناراض ہی کیوں نہ ہوں۔ دائرۃ المعارف تمام معلومات دیتا ہے اور ہر نقطہ نظر کو پیش کرتا ہے۔ یہ قاری کا کام ہوگا کہ وہ حوالے دیکھنے کے بعد فیصلہ کرے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔براہ کرم مضمون مکمل ہونے کے بعد تبادلہ خیال میں اس میں کمی یا زیادتی کی نشادہی کریں۔--سید سلمان رضوی 15:02, 14 ستمبر 2009 (UTC)
  • Symbol support vote.svg تائید ۔ اگر مستند حوالہ جات کے ساتھ کی گئی بات سے کوئی تفرقہ ناراض ہوتا ہے تو سمجھیں ہم نے اپنی تحریر کا حق ادا کر دیا کہ ناراض ہوں گے تو کچھ سوچیں گے بھی؛ اور بس اتنا ہی ہے ویکیپیڈیا کا کام کہ قاری کے ذہن کو سوچنے پر راغب کیا جائے نا یہ کہ کسی فیصلہ نما بات پر عمل کرنے پر راغب کیا جائے۔ --سمرقندی 00:10, 15 ستمبر 2009 (UTC)
  • چند روز قبل مجھے بھی ایک ای میل بسلسلۂ مقالۂ ھذا موصول ہوا تھا، دیکھنے کا موقع آج ملا۔ واقعی یہ مضمون کافی حد تک جانبدار تھا بلکہ اس میں توہین کا پہلو بھی نکلتا تھا۔ مجھے امید ہے کہ سلمان صاحب کا دست ہنر مند پھر جانے کے بعد ہم اسے ایک بہتر مضمون کی صورت میں پائیں گے۔ ایک اور جانب توجہ دلانا چاہوں گا کہ ناموں کے ساتھ القابات لگانے کا سلسلہ ترک کیا جائے جیسا کہ اس مضمون میں حضرت اور سلام اللہ علیہا کے القابات استعمال ہوئے ہیں۔ سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی کے نام کے ساتھ القاب نہ رکھنا اردو وکیپیڈیا کی مشترکہ پالیسی رہی ہے۔ احباب سے اس سلسلے میں رائے درکار ہے۔ فہد احمد 04:47, 15 ستمبر 2009 (UTC)
  • ناموں کے ساتھ لگانے کا سلسلہ یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سوا سب کے لۓ بند کیا جاۓ یا پھر سب کے نام کے ساتھ القاب استعمال کیۓ جائیں یہ جانبدارانہ پالیسی کسی طور قابل قبول نہیں کہ ایک مضمون تو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے عنوان سے ہو اور ایک عائشہ بنت ابی بکر کی سرخی سے۔
  • احباب سے کچھ رائے درکار ہے۔ پہلے تو مضمون کے نام پر اعتراض آیا ہے تو کیا 'حضرت فاطمہ بنت محمد' قابلِ قبول عنوان ہے؟ اگر ہاں تو اس میں محمد کے ساتھ درود لگایا جائے یا نہیں (میرے خیال میں نام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہاں بھی آئے درود آنا چاہئیے) دوم یہ کہ اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام کے علاوہ کسی کے ساتھ کچھ لگانا نہیں چاہئیے تو یہ اصول تو ہر جگہ لاگو نہیں ہورہا مثلاً بے شمار جگہ ع رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ لگا ہوا ہے۔ بتائیے کیا کیا جائے میں حاضر ہوں۔ تیسری بات فھد بھائی سے عرض ہے کہ آپ کا شکریہ کہ آپ کسی قابل سمجھتے ہیں۔ مگر توہین کا خیال رکھنا وکیپیڈیا کے لیے ٹھیک نہیں۔ میرے خیال سے تو اہل بیت اور اصحاب کے القاب نہ لگانا بھی توہین ہے۔ اگر یہاں وکیپیڈیا کی پالیسی چلے گی تو ہر جگہ چلنا چائیے۔ مثلاً اس مضمون کے لیے میں نے تحقیق شروع کی ہے اب جہاں سے کوئی حوالہ کے ساتھ کسی کے نظریات یا تاریخ کی کتاب سے کوئی بات ملے گی وہ لکھنا پڑے گی چاہے توہین کا پہلو نکلتا ہو۔ امید ہے کہ آپ میری بات کو سمجھیں گے۔ البتہ میری پوری کوشش ہوگی کہ کہ مسئلہ کم سے کم ہوجیسا آپ نے میرے دیگر مضامین میں دیکھا ہے۔ آخری بات یہ کہ چونکہ میں تحقیق کر کے اور مختلف کتابوں کو دیکھ کر لکھوں گا اس لیے کچھ آہستہ کام ہو سکتا ہے۔ یہ کتابیں تمام مسلمان مکاتبِ فکر اور غیر مسلمین کی ہونگی۔--سید سلمان رضوی 08:18, 15 ستمبر 2009 (UTC)
  • سلمان صاحب! مجھے ہمیشہ یہ اعتماد ہی رہتا ہے کہ آپ جس موضوع کو ہاتھ لگائیں گے چاہے وہ کتنا ہی متنازع کیوں نہ ہو، قابل قبول صورت ضرور اختیار کرے گا۔ اس لیے مجھے تو فی الحال اس مضمون کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں کہ یہ مستقبل میں کیا صورت اختیار کرنے جا رہا ہے۔ ہاں البتہ میں گزشتہ کئی روز سے اس موضوع پر سوچ رہا تھا کہ ہم مضمون کے عنوان میں القابات کا خاتمہ کریں۔ ویسے یقین جانیں اگر وکیپیڈیا کی پالیسی کے تحت ہی چلنا چاہتے ہیں تو تمام تر احترام و محبت کے باوجود حضور نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام کے ساتھ بھی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں آنا چاہیے۔ ہمارے لیے یہ بہت مشکل کام ہے لیکن ہم جس پالیسی پر کام کو چلانا چاہتے ہیں، وہ تو ہمیں اسی پر مجبور کرتی ہے۔ بہرحال میں منتظر ہوں کہ آپ مضمون کو مکمل کریں، اور ساتھ میں یہ امید بھی کہ مضمون پہلے کے مضامین کی طرح شاندار ہوگا۔ والسلام فہد احمد 08:40, 15 ستمبر 2009 (UTC)
  • القابات اردو کے مذہبی اور غیر مذہبی تمام مواد میں مستعمل ہیں۔ اس لیے کسی "وکیپیڈیا پالیسی" کی اندھا دھند تقلید کی ضرورت نہیں۔ اگر قارئین کی اکثریت کو ہی بلاوجہ متنفر کر دیا گیا تو وکیپیڈیا کے مضامین کس کام کے رہیں گے؟ --Urdutext 23:07, 15 ستمبر 2009 (UTC)
  • محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیۓ درود اور تمام انبیاء اکرام کے لیۓ ALAYHE.PNG جبکہ صحابہ (بشمول مرد و خواتین) کے لیۓ کے القابات استعمال کیے جاتے ہیں؛ ان کو مکمل لکھا جائے یا مختصر ، اس بات کا فیصلہ مضمون میں اس نام کی تکرار سے کیا جانا چاہیۓ اور پہلی بار آنے پر مکمل جبکہ اس کے بعد وہی نام آنے پر مختصر لقب استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دیگر ساتھی ان القابات میں تبدیلی یا بہتر متبادل جانتے ہوں تو ان پر بھی مشورہ کیا جانا چاہیۓ اور اتفاق رائے کے بعد منصوبہ:ہدایات برائے تحریر کے قطعے ---- ج : اسلامی مضامین کی ہدایات ---- میں متفقہ حکمت عملی کو درج کر دیا جائے تو نئے آنے والوں کو بھی سہولت ہوگی۔ --سمرقندی 00:09, 16 ستمبر 2009 (UTC)

تبدیلئ عنوان[ترمیم]

  • یہ بات گفت و شنید سے طے کی جاچکی تھی کہ اس جیسے تمام مضامین کا عنوان ایسا ہونا چاہئے جس پہ کسی بھی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کا اعتراض نہ ہو. لہٰذا، خاکسار نے مقالہ ہٰذا کا عنوان ‘‘حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیہا’’ سے تبدیل کرکے ‘‘فاطمہ بنت محمد’’ کردیا ہے. --محبوب عالم 17:26, 16 ستمبر 2009 (UTC)
  • عربی وکیپیڈیا پر 'فاطمہ الزھرہ" لکھا ہے۔ یہی یہاں بھی استعمال ہونا چاہیے۔--Urdutext 00:27, 17 ستمبر 2009 (UTC)
  • چار پانچ دن کی غیر حاضری کے بعد انشاءاللہ اس مضمون کا باقی ماندہ حصہ مکمل کروں گا۔ اس وقت تک التماس ہے کہ اس میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ کی جائے۔--سید سلمان رضوی 07:14, 22 ستمبر 2009 (UTC)

  • حضرت فاطمہ نے تا زندگی حضرت ابوبکر و حضرت عمر سے کلام نہ کیا۔ جبکہ ابن ابی قیتبہ کے مطابق صلح کی کوششوں کے دوران حضرت فاطمہ نے ان دونوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں تازندگی نماز کے بعد تم دونوں پر بددعا کرتی رہوں گی۔ حضرت فاطمہ کا وصال حضرت ابوبکر کی خلافت سنبھالنے کے 6 ماہ بعد ہوگیا تھا۔ حضرت عمر نے خلافت ابوبکر کے بعد سنبھالی۔ جب حضرت ابوبکن کے دور خلافت میں ہی حضرت فاطمہ کا وصال ہوگیا تھا تو وہ حضرت عمر سے کیوں ناراض تھیں ابھی تو حضرت عمر خلیفہ بھی نہیں بنے تھے ؟ حضرت فاطمہ جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد پاک کے " فاطمہ جنّتی عورتوں کی سردار ہے " وہ خاتون جنت ایک باغ کی وجہ سے اپنی نماز کے بعد دعا کرنےکے بجاۓ بد دعا کرتی ہوں گی ؟ استغفار
  • اس بارے میں آپ اور میں اندازے قائم نہیں کر سکتے۔ یہ تو صحیح بخاری، سیرت ابن ھشام اور دیگر کتابوں میں لکھا ہے۔ امام بخاری آپ سے کم مسلمان تو نہ تھے پھر بھی انہوں نے چھان بین کے بعد روایات درج کیں ہیں۔ دوسری بات یہ کہ حضرت عمر سے ناراضگی بھی انہی کتابوں میں لکھی ہے کیونکہ وہ فدک کے معاملے میں حضرت ابوبکر سے بھی زیادہ حضرت فاطمہ کے مخالف تھے۔ (یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ بخاری و دیگر کتب میں ہے)۔ حضرت عمر سے ناراضگی کی دوسری وجوہات بھی ہیں۔۔ میں آپ کے جذبات سمجھتا ہوں۔ مگر دائرۃ المعارف میں تمام باتیں حوالوں کے ساتھ جذپات سے مبرا ہو کر لکھی جاتی ہیں۔ خود میرے جذبات پر بھی اس وقت بڑی اوس پڑتی ہے جب میں بغیر القاب کے (کیونکہ اس پر آپ کو اعتراض تھا) کے حضرت فاطمہ علیہا السلام کا نام لکھتا ہوں۔ آپ کے پاس ان باتوں کی رد میں پرانی مستند کتب سے حوالے ہوں تو ضرور دیں میں ان کی تلاش میں ہوں۔ ابھی تک میں نے کوشش کی ہے کہ متنازعہ باتوں پر تمام حوالے اہل سنت کی کتب سے ہی درج کروں۔ ان باتوں کی مخالفت میں جو کتب ہیں میں نے ان کے حوالے بھی دیے ہیں مثلاً ابن تیمیہ۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ جو کچھ لکھا ہے وہ میرے عقائد سے سو فی صد مماثلت نہیں رکھتا لیکن جو تاریخ کی مستند کتب میں ہے وہ لکھا ہے--سید سلمان رضوی 08:20, 3 اکتوبر 2009 (UTC)
  • میرے خیال یہ نکتہ ایسا ہے کہ ہر سرسری تاریخ پڑھنے والے کے ذہن میں سوالات اٹھا سکتا ہے؛ سلمان بھائی نے اس اندراج کی وجہ بیان کردی ہے اور اب اگر ہو سکے تو انتہا پسند بھائی کو چاہیۓ کہ اس نکتے پر کسی کتاب میں کوئی اندراج ان کے اٹھائے گئے سوال پر آتا ہے تو اس کا نام درج کر دیں۔ اگر انتہا پسند بھائی حوالہ نہیں دے سکیں تو پھر بھی میرے خیال سے اس نکتے کو مضمون میں سلمان بھائی کی وضاحت کے ساتھ درج کر دیا جانا چاہیۓ۔ عبارت کی ابتداء یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ؛ تاریخی اعتبار سے شخصیاتی و واقعاتی تقدمِ زمانی پر بادی النظر میں یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ ---------- انتہاپسند بھائی کا نکتہ ------------ اور پھر اس کے بعد سلمان بھائی والا تجاوب حوالہ جات کے ساتھ درج کر کے معاملہ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ --سمرقندی 08:35, 3 اکتوبر 2009 (UTC)
  • جی درست ہے سمرقندی بھائی۔ اگر کچھ دن تک کوئی حوالہ نہیں آتا تو بھی اس بات کو آپ کے تجویز کردہ انداز میں مضمون میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کی اختلافی باتوں پر مضمون لکھنا بہت مشکل ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ اختلافی مسائل میں صرف بہت پرانی مستند کتابوں کے حوالے استعمال ہوئے ہیں مثلاً صحیح البخاری۔ ایسے حوالوں کے ساتھ کسی بات کو اس وجہ سے نہیں ہٹایا جاسکتا کہ یہ مذہبی عقائد کے خلاف ہے مگر انتہاپسند بھائی اور سمرقندی بھائی کے خیالات کو ایک منطقی بحث کے طور پر ڈالا جاسکتا ہے چاہے حوالہ نہ ہو۔ باقی احباب سے بھی التماس ہے کہ تبادلہ خیال میں مضمون کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کیونکہ یہ اب تقریباً مکمل ہے۔--سید سلمان رضوی 18:56, 4 اکتوبر 2009 (UTC)

عنوان[ترمیم]

اس مضمون کا عنوان کیا ہونا چاہیے، اور زھرا، زھراء یا زہرا، زہراء کیا درست ہو گا۔مضمون کا عنوان تاريخچہ کے مطابق کم از کم 6 بار منتقل کیا جا چکا ہے۔

فاطمہ زہراء اردو نام ہے اور الفاطمۃ الزھراء عربی اردو نام کی کوشش کی مگر نہیں ہو سکا وہ پہلے سے موجود تھا۔
اگر ممکن ہو فاطمہ زہراء کر دیا جائے اور یا کم از کم فاطمہ زہرا ہو جائے تب بھی خوب ہے۔ --علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:15, 21 اکتوبر 2015 (م ع و)