تبادلۂ خیال:فضل حق خیر آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اس ربط پر مواد موجود ہے کوئی بھی صاحب اپنے انداز میں لکھ سکتے ہیں۔

یہ کاپی پیسٹ ہے بہتری کی ضرورت ہے۔

قائد تحریک آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی

مجاہد اعظم۔بطل حریت علامہ فضل حق بن مولانا فضل امام خیر آبادی کی عبقری شخصیت جنگ آزادی 1857ءکے عظیم رھنمائوں اوراسکے نمایا ھیروؤںمیں شمارکی جاتی ھے۔جنگ آزادی میں جوش و خروش اوراشتعال انگیزی علامہ ھی کے دم قدم سے ھوئی۔علامہ کی شخصیت 1857ءکے مسلم رھنمائے جنگ علمائے اھل سنت میںسےھے۔مگرآج کچھ لوگوں نے تاریخی حقائق پر پردہ ڈالنے اور جنگ آزادی کے مسلم رھنماؤں کےخلاف فضا پیدا کرنے کی ناپاک کوشش کی ھے۔ تاریخ کا یھ المیہ ھر دورمیں رہا ھے کہ طاغوتی طاقتیں علماے ربا نیین کی واقعی کوششوں اور ان کے حقیقی کارناموں کو تاریخ کے صفحات سے یکسر ختم کرنے میں کوشاں رہیں۔ ان سے بغض وعناد رکھنے والے متعصب تاریخ سازوں نے جھوٹی روایتیں اورمن گڑھت واقعات سے ہمیشہ ان کے روشن وتاب ناک کردار کوآلودہ کیا ہے۔اور جولوگ دین وملت کے اہل نھیں تھے اسے اس کا سب سے بڑا رکن رکین بناکرپیش کیا جاتا ہے. ایجادو تحسین کا سھرا ان کےگلے کی زینت بنتاہے۔ مثال ایسی ہے اس دورخرد ھوش مندوں کی نھو دامن میں ذرہ اور صحرا نام ھوجائے پہلی جنگ آزادی میں بطل حریت علامھ فضل حق خیرآبادی کی خدمات عالیھ سنھرے حرفوں سے لکھے جانے کے قابل ھیں۔ علامھ ھی کی جدوجھد سے اس میں اشتعال انگیزی اسلامی جوش و خروش اور ملی جذبھ پیدا ھوا۔ آپ حکومت انگلشیھ کے ابتدائی ملازمت ھی سے اس کے متعصبانھ رویھ سے سخت متنفر ھوچکےتھے جھاں کہیں بھی وہ ملکی عھدے پر فائز المرام رھے ھمیشھ مسلمانوں میں ان کے دینی جذبے اور ملی درد اسلام کی روحانی طاقت وقوت اور قرون اولی کے مسلمانوں کی شان وشوکت کے ساتھ قومی عظمت باقی رکھنے کی کوشش کرتے رھے۔ اور دل ھی دل میں ھندوستانی قوم کے نوشتھ تقدیر غلامی پر خون کے آنسوں بہاتے رہے۔ ھمارے جس عظیم رھنماء نے سب سے پہلے ھماری آزادی کے لئے اپنا خون جگر صرف کیا۔ ترغیب جہاد اور فکر ی رہنماءی کے ذریعہ پوری قوم میں آزادی کی روح پھونکی اور قوم پر اپنی قایدانہ صلاحیتوں کو قربان کرتے ہوئے ملک بدر ہوکر دیار غیر میں شدید مصاءب وآلام اور لرزہ بر اندام تکلیفوں کو جھیلتاہوا شوق شہادت پورا کرگیا افسوس کہ اس قاید اعظم کی مجاہدانہ ریاضتوں اور مشقتوں کو بعض تاریخ کے صفحات پر قطع وبرید کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ چنانچہ مالک رام کا نظریہ گزر چکا کہ وہ علامہ کے فتویٰ جہاد اور مجاہدانہ سرگرمیوں کے منکر ہیں۔ غیر مقلد مورخ غلام رسول مہر اگر چہ کسی نہ کسی طرح فتوٰی کی تائید کرگئے مگر وہ بھی علامہ کے مجاہدانہ کارناموں کا انکار کرتے ہیں۔ غالباً یہی وہ فتوٰی تھا جو انجام کار مولانا فضل حق کے خلاف مقدمے کا باعث بناورنہ انہوں نے نہ کسی جنگ میں حصہ لیا اور نہ ان کے پاس کوئی عہدہ تھا نہ کسی کے قتل میں شرکت کی اور نہ انکے خلاف کوئی سنگین الزام تھا۔

عبدالرزاق قادری (تبادلۂ خیال) 22:59, 14 اکتوبر 2012 (UTC)