تبادلۂ خیال:فقہ جعفری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Information icon4.svgیادہانی:اردو ویکیپیڈیا یا ویکیمیڈیا فاؤنڈیشن کا، صارفین کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

براہ مہربانی متنازع موضوعات پر تبادلۂ خیال کرتے وقت تہذیب و شائستگی کا مظاہرہ کریں، فرقہ وارنہ گفتگو سے گریز کریں اور اپنی رائے کو شستہ الفاظ میں پیش کریں، نیز تاریخی واقعات کو فیصلہ کن انداز میں غلط یا درست قرار دینے کے بجائے غیر جانبداری کے ساتھ بیانیہ انداز میں تحریر کریں۔ خیال رہے کہ یہاں مذہبی، سیاسی اور تاریخی موضوعات میں فریقین اور بنیادی/ثانوی/ثلثی مآخذ سے استفادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، چناں چہ اگر اس مضمون میں محض ایک نقطہ نظر بیان کیا گیا ہے تو اسے جانبدار باور کرنے کے بجائے آپ دوسرا نقطہ نظر با حوالہ شامل کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ویکیپیڈیا پر کسی بھی طرح کی جانبداری کو تخریب کاری سمجھا جاتا ہے۔

Untitled[ترمیم]

جناب Syedalinaqinaqvi صاحب ایک بات میں نے باحوالہ لکھی کتاب کا صفحہ نمبر تک لکھا آپ اس میں ترمیم کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس کتاب نے غلط لکھا یا میں نے ؟ جناب کا مؤقف مختلف ہے تو اس حوالہ کے آخر پر اپنا مؤقف لکھ دیں بالکل صحیح ہے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ میری باحوالہ بات کو بغیر حوالہ کے ترمیم کیوں کر رہے ہیں؟ براہ مہربانی اگر کچھ تبدیلی ہی کرنی ہےتو اسے مستند طریقے سے لکھیں لیکن کتاب کے حوالہ جات میں تخریب کاری نہ کریں۔--ابو السرمدمحمد یوسف (تبادلۂ خیالشراکتیں) 11:54, 24 ستمبر 2015 (م ع و)

سمجھ نہیں آیا، میرے حیال میں صرف الفاظ کا فرق ہے، بات تو ایک ہی کی جا رہی ہے، اگر کتاب کے مرتب کرنے کی تاریخ متنازع ہے تو اسے واضع کریں کسی ایک کو حرف آخر کے طور پر شامل نا کریں، یہ آسان راہ ہے۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:22, 24 ستمبر 2015 (م ع و)

اس حوالہ میں امام حسن عسکری نام شامل نہیں جنکی وفات 80 سال پہلے ہےگویا اس کے مطابق 180 نہیں صرف 80 سال کا فرق ہے اسی وجہ سے 180 کا لفظ مٹایا گیا جب اتنافرق ہو تو حوالہ معتبر نہ رہا کیا خیال ہے--ابو السرمدمحمد یوسف (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:39, 24 ستمبر 2015 (م ع و)

جناب Abualsarmad صاحب آپ نے جس بات کے آگے حوالہ دیا ہے اس کو میں نے نہیں چھیڑا (گرچہ وہ مستند حوالہ نہیں ہے۔) بلکہ آپ کے حوالے والے عنوان سے بہت پہلے والے عناوین میں ابھی کچھ اضافہ کیا ہے جو بغیر حوالے کے تھے۔ اور اس میں ابھی بہت ترمیم درکار ہے۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:31, 24 ستمبر 2015 (م ع و)
اور جو آپ نے امام جعفر صادق (وفات 148 ھ) اور کتب کے مصنفین کے درمیان زمانی فاصلے کا تذکرہ فرمایا ہے وہ غیر صحیح ہونے کے ساتھ ساتھ موضوع سے ہرگز مناسبت نہیں رکھتا۔ اگر آپ ثبت و ضبط احادیث کے طریقہ کار سے واقفیت رکھتے ہیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ تمام احادیث اور روایات تنہا ایک واسطے سے یا پھر کہیں دو واسطے یا کہیں کہیں تین واسطوں سے نقل ہوئی ہیں۔ پہلی دوکتب تو عصر آئمہ سے متصل تالیف ہوئی ہیں اور امام زمانہ کو پیش بھی کی گئی ہیں اور آخری دو کتب جن میں شیخ طوسی نے احادیث و روایات کی جمع آوری کی ہے وہ 385 ھ کے تولد یافتہ تھے انہوں نے ان احادیث و روایات کو دست اول یا دست دوم افراد سے نقل کیا ہے۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہو گا صحیح بخاری کے مصنف کی وفات 256 ھ ہے اور انہوں نے اپنی زندگی اس کتاب پر صرف کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور سے لگ بھگ 245 سال بعد تحریر ہوئی ہے۔ اور صحاح ستہ میں سے سب سے آخری کتاب کے مصنف 303 ھ کے متوفی ہیں--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:50, 24 ستمبر 2015 (م ع و)

جناب جو آپ فرما رہے ہیں کہ میں نےنہیں چھیڑا یہ بھی غلط بیانی ہےفقہ جعفریہ کے بنیادی ماخذ سے آخر تک وہی ایک حوالہ ہے جس میں اب پھر دوبارہ آپ نے چھیڑ خوانی کی ہے جناب کو یہ تک معلوم نہیں کہ کتاب سے کتنا حصہ لیا گیا اسے تو آپ غیر مستند کہہ رہے ہیں (اس کی جلد نمبر،صفحہ نمبرناشر مصنف سب تحریر ہیں )جبکہ اسی مضمون میں جو دوسرے حوالہ جات شامل ہیں سارے من گھڑت ہیں ان میں جناب کوترمیم کی ضرورت نہیں محسوس ہوئی کوئی شخص ان حوالہ جات تک رسائی نہیں کر سکتا مثلاً

  • جامع مسانید ابى حنیفہ، ج 1، ص 222.(غلط)
  • اسنى المطالب، ص 55.(غلط)
  • اسنى المطالب، ص 55.(غلط)
  • تہذیب التہذیب، ج 2، ص 104.(غلط)
  • تاریخ یعقوبى، ج 3، ص 177.(غلط)

باقی کتابوں پر انہی سے قیاس کیا جا سکتا ہے--ابو السرمدمحمد یوسف (تبادلۂ خیالشراکتیں) 01:16, 25 ستمبر 2015 (م ع و)

آپ چھ مختلف عناوین کو ایک غیر مستند حوالے (جو حوالہ آپ نے دیا ہے یہ فقہ جعفریہ کی کتاب نہیں ہے) میں نہیں باندھ سکتےمجھے ہر عنوان میں ترمیم کرنا ہے اور مواد کا اضافہ کرنا ہے تو فرمائیے کہاں کروں؟ تجدید ںظر فرمائیں۔ نیز یہ تمام کتب میرے سامنے موجود ہیں اور یہ کتب نیٹ پر بھی میسر ہیں آپ دوبارہ چیک کرلیں۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 01:38, 25 ستمبر 2015 (م ع و)
جناب Abualsarmad صاحب آپ سے عرض کیا تھا کہ چیک کر لیں شاید آپ کو طریقہ نا آتا ہو تو آسان تر کر کے عرض کرتا ہوں کہ جس عربی عبارت پر آپ کو شک ہے اس کو کاپی کر کے گوگل پر ہی تلاش کر لیں آپ کو بہت سے حوالے مل جائیں گے۔ جہاں جہاں آپ نے حوالہ طلب کیا ہے ان کے دسیوں حوالے موجود ہیں اور میں نے اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے جو کتابیں میرے پاس سر دست موجود تھیں انہی پر اکتفا کر لیا ہے کہیں تو حوالوں کی لائین لگا دوں۔

اور آپ کا جو حوالہ ( فقہ جعفریہ جلد اول،محمد علی،صفحہ 58 مکتبہ نوریہ حسنیہ لاہور) ہے وہ قابل قبول نہیں ہے چونکہ اہل تشیع کی ایسی کوئی کتاب نہیں ہے لہذا اس والے مواد کو کسی شیعہ مستند کتاب سے نقل فرما دیں نہیں تو چند دن انتظار کرنے کے بعد میں اپنی ترتیب میں آپ کا مواد حذف یا یکسر ترمیم کر دوں گا پھر گلہ مت فرمائیے گا۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 15:37, 8 اکتوبر 2015 (م ع و)

حوالہ درکار کا مطلب؟[ترمیم]

(صارف عبید رضا کے تبادلہ خیال سے کاپی پیسٹ)--امین اکبر (تبادلۂ خیالشراکتیں) 21:46, 10 اکتوبر 2015 (م ع و) جناب فقہ جعفری کے اندر میں نے 25 ستمبر کو نشاندہی کی کہ یہ حوالہ جات غلط ہیں میں نے اس معاملہ میں ایک منتظم صاحب سے مشورہ کیا تو ان کے مشورہ اوراتنے دن انتظار کے بعد ان غلط حوالہ جات کا حوالہ طلب کیا تو ایک محترم نے ان کا حوالہ دینے کی بجائے استرجع فرما دیا میں نے پہلےلکھا تھا کوئی شخص ان حوالہ جات تک رسائی نہیں کر سکتا مثلاً "جامع مسانید ابى حنیفہ، ج 1، ص 222.(غلط) اسنى المطالب، ص 55.(غلط) اسنى المطالب، ص 55.(غلط) تہذیب التہذیب، ج 2، ص 104.(غلط) تاریخ یعقوبى، ج 3، ص 177.(غلط) " یہ حوالہ جات اگر صحیح ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں بہتر تو یہ ہوتا کہ میری اس نشاندہی پر محترم (کتاب کا پورا نام۔ مصنف یا مؤلف کا نام۔ناشر)لکھ دیتے جو کہ انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ میرے سامنے موجود ہیں اور مجھے مشورہ دیا کہ گوگل پر سرچ کریں اگر گوگل سے سرچ کرناہے۔تو ان کتابوں کا نام کیوں یہاں لکھا گیا یہاں صرف ایک کتاب کا ذکر کرونگا کہ "اسنى المطالب"کئی کتابوں کا نام ہے یہاں کس کا ذکر ہے کوئی پتہ نہیں صفحہ نمبر لکھ دیا مصنف اور ناشرکا کوئی ذکر نہیں جبکہ محترم مجھے لکھتے ہیں "آپ کا جو حوالہ ( فقہ جعفریہ جلد اول،محمد علی،صفحہ 58 مکتبہ نوریہ حسنیہ لاہور) ہے وہ قابل قبول نہیں ہے چونکہ اہل تشیع کی ایسی کوئی کتاب نہیں ہے لہذا اس والے مواد کو کسی شیعہ مستند کتاب سے نقل فرما دیں نہیں تو چند دن انتظار کرنے کے بعد میں اپنی ترتیب میں آپ کا مواد حذف یا یکسر ترمیم کر دوں گا پھر گلہ مت فرمائیے گا" حوالہ درکار کا مطلب استرجع ہے یا حوالہ تک رسائی ذرا وضاحت فرما دیں دوسرا مواد حذف یا یکسر ترمیم کرنے کا اختیارکس کس کو حاصل ہے؟--ابو السرمدمحمد یوسف (تبادلۂ خیالشراکتیں) 02:24, 9 اکتوبر 2015 (م ع و)

جن حوالہ جات کے بارے میں ابہام پیدا ہو گیا ہے، اس کے سکین، یا سکین کے آن لائن لنکس فراہم کیے جائیں ورنہ ان کے ساتھھ مبہم حوالہ جات کا سانچہ لگایا جائے۔ اور برائے مہربانی اس مضمون میں اب منتظمین کو شامل کیے بغیر کسی دوسرے کی ترمیم حذف نہ کی جائے، ورنہ مبم حوالہ جات ہٹا کر مضمون کو محفوظ کر دیا جائے۔۔--امین اکبر (تبادلۂ خیالشراکتیں) 21:46, 10 اکتوبر 2015 (م ع و)
جناب والا! آپ منتظم ہیں آپ کو طرفین کی بات سن کر اور توجہ و غور و فکر کر کے حکم صادر کرنا چاہیئے۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 21:47, 11 اکتوبر 2015 (م ع و)

بحث برائےبحث نہیں ہونا چاہئے اسی لئے میں نے اس تبادلہ خیال سے ہٹکر منتظم سے سوال کیا جس کا جواب نہ ملنے پردوبارہ بحث اسی صفحہ پر منتقل ہو گئی جہاں تک حوالہ کی بات ہے"جامع مسانید ابى حنیفہ، ج 1، ص 222"کی جو عبارت(جعفر بن محمد افقہ من رایت) پہلے سے موجود ہے اس کا حوالہ ابھی تک نہیں دیا جو دو تین حوالے اب آئے ہیں وہ بھی اس عبارت کے نہیں اگرچہ مفہوم ملتا جلتا ہے پہلی بات تو یہ ہے جس عبارت کو تبدیل کر کے اب حوالہ دیا جارہا اگر اس سے پہلے ہی یہ عبارت اور حوالہ دے دیا جاتا تو کوئی حوالہ نہ طلب کرتا اب اگر تھذیب الکمال لکھ رہے ہیں توجامع مسانید ابى حنیفہ نہ لکھیں(اگرچہ یہ دونوں ہی اہل تشیع نہیں اور موصوف کسی شیعہ مستند کتاب سے نقل کرنے پر بضد ہیں) باقی چار حوالہ جات کو میں نے طلب کیا اس کا جواب ابھی تک نہیں آیا اور نہ ہی انتظامیہ کی جانب سے میرے سوال کا جواب آیا کہ استرجع ترمیم اور حذف کی پالیسی کیا ہے میں اس بحث کو بڑھانا نہیں چاہتا ہو سکے تو حوالہ جات اور ویکیپیڈیا کی پالیسی واضح فرما دیں--ابو السرمدمحمد یوسف (تبادلۂ خیالشراکتیں) 05:52, 12 اکتوبر 2015 (م ع و)

میں انتہائی شرمندہ ہوں کہ وقت پر آپ لوگوں کے متوجہ کرنے پر بھی ادھر اپنی رائے نہیں دے پایا۔ اصل میں مجھے ذاتی طور پر ان حوالہ جات کی تحقیق نہیں، اور نا ہی مجھے فقہ جعفری کے متعلق کچھ تفصیل معلوم ہے۔ اس لیے میں کوئی بات نہیں کر پا رہا تھا۔ میرے خیال میں شیعہ نظریہ کو شیعہ کی کتب سے (اگر کوئی شیعہ خود، اپنی کتب سے لکھ رہا ہے تو اسے مان لینا اس وقت تک مناسب ہے جب تک آپ اس حوالے کو غلط ثابت نا کر دیں۔ ہاں، یہ مطالبہ حق بجانب ہے کہ ساتھ میں ناشر، سن اشاعت، مصنف وغیرہ کی حتی الامکان معلومات دی جانی ضروری ہیں۔ اگر کوئی ایسا موضوع ہو جو سنی و شیعہ کے درمیان متنازع ہے پھر تو حوالہ جات پر اتنی نظر رکھی جا سکتی ہے، مگر فقہ جعفری ایک خالص شیعہ موضوع ہے۔ اس لیے جب تک کوئی دوسرا معتبر حوالہ نا مل جائے، معلومات کو جیسے بھی حوالہ جات ہیں ان سے قبول کیا جائے۔ اگر یقین ہے کہ حوالہ جات خود ساختہ ہیں تو وضاحت کی جائے۔ اگر حوالہ اپنوں کی جگہ دوسروں کی کتب سے لیے جا رہے ہیں تب بھی ان کو وقتی طور پر قبول کیا جائے، اور اوپر {{اطلاع}}، یا سانچہ نامکمل حوالہ حدیث یا نامکمل حوالہ قرآن، یا حوالہ درکار، یا غیر متوازن جیسا سانچہ لگایا جائے، اگر کوئی متحرک شخص کسی ایک صفحہ میں ترمیم کر رہا ہے اسے ہی کرنے دیں، جب وہ اس صفحہ سے ہٹ جائے تو دوسرا صارف تب جا کر بہتری کی مزید کوشش کرے۔ہم نے دیوان عام میں اسی لیے فرقہ وارنہ موضوعات پر ہونے والے بار بار تنازعات پر بحث شروع کی ہے، اور حساس صفحات پر سانچہ بھی الگ سے لگایا جا رہا ہے، تا کہ اختلافی موضوعات پر اعتدال کی راہ اختیار کی جائے۔میرے ذئین میں ایک تجویز ہے جو جلد ہی میں پیش کرنے والا ہوں، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسے متنازع موضوعات پر خود منتظمین ایک بار 1، 2 ماہ لگا کر مکمل کر دیں، جن میں بہتری کے لیے صرف تبادلۂ خیال سے صارفین مواد شامل کر سکیں گے، بعد میں۔ اور پھر ان مضامین کو مکمل (ان میں اصلاح کی گنجائش ہر وقت موجود مانی جائے گی) کرنے کے محفوظ کر دیا جائے۔ کیوں کہ ایسے مضامین میں مواد نا ہونے کی وجہ سے لوگ ان میں لکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بحث شروع ہوتی ہے۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:28, 12 اکتوبر 2015 (م ع و)
عنایت کا شکریہ مگر کیا یہ درست ہے کہ کوئی موجودہ حوالہ جات کو صرف اس بنیاد پر کہ اس کی رسائی ان کتب تک نہیں ہے غلط قرار دے کر حذف کر دے اور حوالہ درکار کا سانچہ لگا دے حالانکہ اس کی متعدد سہل تر طریقوں سے موجودہ حوالوں تک رسائی کے لئے رہنمائی بھی کر دی گئی ہو۔

اور خود بضد ہو کہ جو میں نے چار یا پانچ عناوین میں ایک من گھڑت حوالے سے لکھ دیا ہے اب اس کو کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ (من گھڑت اس لئے کہا ہے کہ ایسی کوئی کتاب ہے ہی نہیں) حالانکہ ان پانچ عناوین میں بہت کچھ لکھنا باقی ہے۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:24, 12 اکتوبر 2015 (م ع و)

بحث ختم کریں[ترمیم]

بہت افسوس کی بات ہے کہ بھائی صاحب جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنا چاہتے ہیں میں نے کل بھی ذکر کیا کہ بحث برائے بحث نہیں ہونا چاہئے ہم سب نے ویکی پیڈیا کا انتخاب عام آدمی تک مصدقہ ذرائع سے بات پہنچانے کیلئے کیا ہے اوٹ پٹانگ کیلئے نیٹ پر بڑا وسیع میدان ہے۔
جس میرے حوالے کو آپ من گھڑت کہہ رہے ہیں اس کی کاپی منتظم صاحب تک پہنچا چکا ہوں مزید جسے ضرورت ہومیں دے سکتا ہوں اور یہ ویکی پیڈیا کی بنیادی پالیسی ہےانتظامیہ نے میرے سوال (حوالہ درکار کا مطلب؟)کاجواب نہیں دیا لیکن قابل تصدیق کیا ہوتا ہے ویکیپیڈیا کےاپنے الفاظ میں
ویکیپیڈیا:قابل تثبیت "ویکیپیڈیا میں مضامین کے لیئے داخلے کا راستہ انکے قابل تصدیق ہونے کی حیثیت (Verifiability) سے مشروط ہے نہ کہ انکے سچا مگر ناقابل تصدیق ہونے سے۔ یہاں پر قابل تصدیق سے مراد یہ ہے کہ جو بھی اندراجات ویکیپیڈیا میں کئے جائیں انکے بارے میں یہ بات اشد ضروری ہے کہ کوئی بھی قاری انکی تصدیق کرسکے، یعنی ان کے بارے میں یہ معلوم کیا جاسکتا ہو کہ وہ معلومات کسی مستند ذرائع کی جانب سے شائع ہو چکی ہیں۔ لہذا مصنف یا مؤلف کے لئے لازمی ہے کہ اگر وہ ایسی معلومات درج کرے کہ جن کا حوالہ درکار ہو یا مانگا جائے تو ان کا حوالہ فراہم کرے۔"

اگر میں نے غلط حوالہ حذف کرکےحوالہ طلب کیا ہےتو آپ کواسترجع کا حق کس نے دیا؟قابل تصدیق حوالہ دیں جو طلب کیا ہے۔اس میں آسانی ہے کہ جہاں سے مل سکے لکھ دیں اور تیسری مرتبہ کہہ رہا ہوں جو حوالے پہلے سے موجود ہیں جنہیں آپ نے استرجع کیا وہ غلط ہیں قابل تصدیق نہیں ہیں مجھے متعدد سہل طریقے نہ بتائیں یا مان لیں کہ وہ حوالے غلط ہیں درست حوالےمیں لکھ دونگا--ابو السرمدمحمد یوسف (تبادلۂ خیالشراکتیں) 07:39, 13 اکتوبر 2015 (م ع و)

علی نقی صاحب۔ ایک صارف نے آپ کے پیش کیے ہوئے حوالہ پر اعتراض کیا۔آپ کے پاس حوالہ جات کی کتاب موجود ہے یا نہیں ہے اپنے حواالوں کی تصدیق کرانا آپ کا کام ہے۔ دوسری بات یہ کہ ویکیپیڈیا پر فقہ جعفریہ کا ایک ہی مضمون ہو گا نہ کہ دو تین مضمون، فقہ جعفریہ اہل سنت کی نطر میں یا اہل تشیع کی نظر میں۔ اس ایک مضمون میں سنی بھی تبدیلی کر سکتے ہیں، شعیہ بھی، ہندو بھی اور عیسائی بھی۔ شرائط وہی ہے کہ کسی بھی ذریعے سے حوالہ شامل کریں۔ اب ایک بات کے مختلف پہلو مخلف حوالہ جات سے سامنے آ رہے ہوں تو وہ سب لکھیں جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو ویکیپیڈیا ایک معلوماتی پلیٹ فارم ہے۔ یہاں سے معلومات حاصل کرنے والے کو مضمون کے تمام پہلوؤں کا پتہ چلنا چاہے۔اگر ابو سرمد صاحب کوئی بات کسی حوالے سے کر رہے ہیں تو آپ اس سے مخلتف بات بھی اپنے حوالے سے کر سکتےہیں۔ چاہے تو سب ہیڈنگ بنا لیں چاہیے تو پیرے میں ہی ساتھ اپنا موقف لکھ دیں مگر بغیر ڈسکشن کے استرجع مت کریں۔۔انگریزی ویکیپیڈیا کے مضمون ذولقرنین میں 10 بندوں کے نام بظور ذوالقرنین لکھے ہوئے ہیں، ہر کسی نے مختلف حوالوں سے اپنی بات شامل کر دی، کسی دوسرے کا موقف کوئی حذف نہیں کرتا۔--امین اکبر (تبادلۂ خیالشراکتیں) 15:59, 13 اکتوبر 2015 (م ع و)

میرا سوال[ترمیم]

جب اس صارف نے بلا وجہ بتائے حوالوں کو غلط قرار دیا تو میں نے اسی وقت ان کو بتایا کہ یہ کتب نیٹ پر مہیا ہیں چیک کر لیں۔ (اور یہ حوالے نیٹ پر سینکڑوں نہیں تو دسیوں جگہ موجود ہیں) مگر موصوف توجہ کئے بنا حوالوں کو حذف کر دیتے ہیں اور سانچہ لگا دیتے ہیں کیا یہ صحیح ہے۔ (فیصلہ کنندگان کم از کم تاریخچہ تو دیکھ لیا کریں)۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 21:44, 13 اکتوبر 2015 (م ع و)

محفوظ شدگی کے بعد[ترمیم]

جناب منتظم صاحب شکریہ لیکں میری درخواست ہےکہ یہ تنازع صرف میری 8 اکتوبر کی اس ترمیم پہ شروع ہوا جہاں میں نے حوالہ جات طلب کیئے تھے جسے استرجع کر دیا گیااورآج تک حوالہ جات بھی صحیح نہیں کئے گئے 10 اکتوبر کو آپ نے اسکین شدہ حوالہ جات مہیا کرنے کا کہا جو میں دے چکا جبکہ دوسرے حضرت اگر اسکین شدہ حوالہ جات نہیں دے سکےتو میری حوالہ درکار 14:08, 8 اکتوبر 2015 (ترمیم)‏ کی ترمیم کو واپس لایا جائے کیونکہ استرجع کرنے کے بعد بھی انکی چار ترمیمات ابھی بھی موجود ہیں جبکہ اس کے بعد میں نے کوئی نئی ترمیم اس میں شامل نہیں کی --ابو السرمدمحمد یوسف (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:09, 29 اکتوبر 2015 (م ع و)

حوالہ درکار کے ٹیگ واپس شامل کر دئیے گئے یں۔کسی کو بھی مضمون کی کسی بھی لائن سے اختلاف ہے، وہ پیراگراف نمبر اور لائن نمبر تبادلہ خیال میں لکھ دے۔ حوالے چیک کرنے کے بعد مواد کو شامل کر دیا جائے گا یا ہٹا دیا جائے گا۔--امین اکبر (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:34, 29 اکتوبر 2015 (م ع و)

تنازع کی حقیقت[ترمیم]

میں نے 24 اکتوبر کو ایک عبارت بطور حوالہ شامل کی جو یہ تھی
الکافی "جس کے مرتب ابو جعفر کلینی ہیں یہ کتاب امام جعفر کے 180 سال بعد مرتب کی گئی۔"
اس میں تخریب کاری یہ کی گئی کہ عبارت کو یہ بنا دیا گیا
الکافی"جس کے مرتب ابو جعفر کلینی ہیں یہ کتاب امام جعفرصادق اور بقیہ آئمہ اثنا عشریہ کے فرامین پر مشتمل ہے اور گیارہویں امام حسن عسکری کے دور میں ہی مرتب کی گئی۔"
اب یہاں دھوکہ یہ کیا گیاکہ میں نے 180 سال بعد کا ذکر کیا اسے ختم کر کے تقریباسو سال کا فرق ڈال دیا گیا جس سے یہ حوالہ غلط اور اور ناقابل تثبیت ہو گیا اور یہ بات ویکیپیڈیا:قابل تثبیتکی پالیسی کے برعکس ہے۔
اور یہی دھوکہ اگلے پانچ حوالوں میں بھی ہےجسے میں باربارلکھ چکا ہوں کہ کوئی قاریویکیپیڈیا:قابل تثبیتکے مطابق ان حوالوں تک رسائی نہیں کر سکتا اوراکثر یہی دھوکہ دیا جاتا ہے کہ میں نے فلاں کتاب سے نقل کیا ہے جبکہ لکھنے والا خود بھی اس کتاب تک رسائی نہیں رکھتامثلاً
"جامع مسانید ابى حنیفہ، ج 1، ص 222.(حوالہ جات نمبر 2،3،4)(اس میں جو حوالے دئیے جا رہے ہیں وہ نہ تواصل کتاب کےہیں اورنہ اصل عبارت ہے جو پہلے موجود تھی)
اسنى المطالب، ص 55. (حوالہ جات نمبر6،7)(کئی کتابوں کا نام اسنی المطالب ہے یہ کون سی ہے کوئی پتہ نہیں صفحہ نمبر لکھ دیا مصنف اور ناشرکون ہیں ذکر نہیں)
تہذیب التہذیب، ج 2، ص 104.(حوالہ جات نمبر8)(یہ عبارت تہذیب التہذیب کی نہیں)
تاریخ یعقوبى، ج 3، ص 177."(حوالہ جات نمبر9)(یہ عبارت تاریخ یعقوبی کی نہیں)
انہی پر میں نے حوالہ درکار کا سانچہ لگایا جس پر تنازع چل پڑاجبکہ حوالہ ایک بھی صحیح نہیں کیا اورسانچہ جات کو حذف کر دیا گیا اب ان حضرت سے جنہوں نے میرے حوالہ درکار کو حذف کیا حوالہ جات بھی تو طلب کئےجائیں ورنہ حوالہ درکار کا سانچہ لگا دیں
انتظامیہ سے گذارش ہے کہ اس معاملہ کوایک تنازع نہیں ویکیپیڈیا کی بہتری کیلئے میرا احتجاج ریکارڈ کرانا شمار کریں --ابو السرمدمحمد یوسف (تبادلۂ خیالشراکتیں) 05:35, 30 اکتوبر 2015 (م ع و)

میں صرف افسوس اور تعجب کر سکتا ہوں کہ ایک طرفہ فیصلے صادر فرما رہے ہیں کم از کم لہجوں کو ہی پرکھ لیں،
منتظمین سے پھر درخواست ہے کہ میرے سوال کا جواب عنایت فرمائیں کہ کوئی حوالے کو غلط قرار دے کر حذف کر کے سانچہ لگا سکتا ہے؟ ایسا ہے تو کوئی بھی کسی بھی نیت سے کسی بھی صفحے پر ایسی خرابکاری کرتا جائے گا؟!!--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:47, 30 اکتوبر 2015 (م ع و)

درخواست ترمیم روانہ کریں --علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:05، 21 اکتوبر 2018ء (م ع و)

21 اکتوبر 2018 پر محفوظ میں درخواست ترمیم[ترمیم]

علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 00:23، 22 اکتوبر 2018ء (م ع و)

@Hindustanilanguage:بخاری سعید تبادلہ خیال 02:57، 22 اکتوبر 2018ء (م ع و)