تبادلۂ خیال:قادیانیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ربوہ میں احمدیہ مسلم کمینٹی ایک noun ھے you know what is noun and you were talking about feeling in realty you dont know what is knowlege

  • I am sorry Mr Nav sonu, but if you are familiar with the logic on Urdu Wikipedia then I am sure you should have a good idea that here we are breaking many rules, even the major and well settled rules!! You are right that the presence of the noun of "ahmadiya muslim community" is a fact in Rabwah but it can not be a bigger FACT in any sence than the FACT of the the presences of sunni and shiya, and you can find that we have broken the rule of putting them in relation with Islam. Not only religious, we are also breaking many other rules, including the well established rules of language. You know why ? because if we follow the rules that are not logical and blocking our way of creating something as reference for the pregress of changing the static system into a dynamic one, then the result of our work and time should be zero. Now, as for your objection on the noun (that, in yuor words, we are anawar of), I think that we can ask the opinon of others in adding a sentence in the article like below

منتقل شدہ مضمون[ترمیم]

محفوظ شدگی کے بعد یہ مضمون براہ راست ترمیمات کے لیۓ مقفل ہوگیا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں جو ترمیم یا اضافہ کرنا ہو براہ کرم اسکے تبادلہ خیال کے صفحہ پر کر لیجیۓ۔ اگر تبادلہ خیال کے صفحہ پر عبارت غیرجانبداری کے معیار پر کامیاب اتری تو اسے اس مضمون میں شامل کردیا جاۓ گا۔ اس مضمون کی انتہائی متنازع کیفیت کے بعد وہ تمام مواد حذف کردیا گیا ہے کہ جسکا کوئی حوالہ یا تاریخی ثبوت نا تھا۔ مستقبل میں اس مضمون میں صرف وہ بیانات شامل کیۓ جائیں گے جنکے درست ہونے کا حوالہ ، بیان کے ساتھ درج کیا جاۓ گا۔ (انتظامیہ ویکیپیڈیا اردو)


تاریخی پس منظر[ترمیم]

احمدیہ یا عرف عام میں قادیانیت ایک مسیحی تحریک ہے جو کہ 1899 میں مرزا غلام احمد (1839 تا 1908) نے قادیان (پنجاب) میں قائم کی۔ مرزا کی اشاعت براہیم احمدیہ (1880) کافی مقبول اشاعت ہے ۔ 1889 میں مرزا نے اعلان کیا کہ مرزا کو الہام کے زریعے اپنے پیروکاروں سے بیت لینے کی اجازت دی گئی ہے ؛ اسکے بعد مرزا نے (1891) میں اپنے آپ کے مـہـدی ہونے کا دعوی کیا۔ مرزا کے عقائد میں اسلام کے ساتھ ہندوستانی ، صوفی اور مغربی عناصر کی آمیزش بھی نمایاں ہے جنکے زریعے مرزا نے اپنا درجہ خود بلند کرتے ہوۓ برطانوی راج، عسائیت اور ہندومت کے روبرو گویا اسلام کی تجدید ( بہ الفاظ دیگر، نا‏اعوذباللہ اسلام کو درست کرنے ) کی کوشش کی۔

احمدی ( جماعت احمدیہ -- نیچیے دیکھیۓ) مرزا کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں یہ پیروکار، محمد ص کو خاتم النبیین مانتے ہوۓ ختم نبوت پر یقین رکھنے کا بھی دعوی کرتے ہیں مگر لفظ ختم کے معنی کچھ اور بیان کرتے ہوۓ مرزا کو بھی نبوت کے درجہ تک پہنچا دیتے ہیں۔ یعنی ان احمدى پیروکاروں كا يقين ہے كہ مرزا صاحب تصوف ميں سلوك كى منزليں طے كرتے ہوئے ولى ، قطب ، غوث اور ابدال كى بلنديوں سے بھى اوپر نبيوں كى منزل تكـ پہنچے ۔ اسکے علاوہ مرزا نے خود مـہـدی اور مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا۔

مرزا کی فوت کے بعد مولانا نورالدین کو جانشین مقرر کیا گیا ، 1914 میں نورالدین کا انتقال ہوا اور پیروکاروں کا اجتماع دو گروہوں میں بٹ گیا۔

  • بڑے حصے نے قادیان میں سکونت کی اور غلام احمد کو پیغمبر (نبی) تسلیم کیا۔ مرزا کے اس گروہ کے پیروکاروں کے بنیادی عقائد میں قادیانیت کو اسلام کی اصل شکل تسلیم کیا جانا شامل ہے۔ اس قادیانی شاخ نے مرزا کے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود احمد (1889 تا 1965) کو خلیفہ المسیح ( caliph of the Messiah ) تسلمم کیا ، اس شاخ کو آج جماعت احمدیہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی نصف صدی کی راہنمائی نے احمدیہ تحریک کی شکل بندی کی ۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے بعد جانشین مرزا غلام احمد کی نسل سے منتخب ہوتے رہے ہیں اور مرزا مسرور احمد (1950) کا بتاریخ 2003۔ سے انتخاب ہوا۔
  • دوسرا گروہ اپنے آپکو اسلام اور عام مسلمانوں سے الگ کرنے کے بارے میں سخت گیر نہیں اور وہ غلام احمد کو مجدد ( reformer ) کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے اور اسکو احمدیہ انجمن اشاعت اسلام تحریک کے نام سے لاہور پاکستان میں جانا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے اسکو لاہوری احمدیہ تحریک بھی کہا جاتا ہے ۔

دونوں شاخیں انتہائی انہماک سے تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف ہیں خاص طور پر نائجیریا، کینیا، انڈونیشیا اور ہندوستانی علاقہ جات میں۔

اجتماعی مسلمانوں نے کبھی غلام احمد کے نظریات کو تسلیم نہیں کیا، یہاں تک کہ پاکستان میں احمدیہ پیروکاروں کو غیر مسلم ، کافر اور ملحد قرار دے دیا گیا اسطرح چوتھے خلیفہ المسیح (2003) کو ملک بدر ہو کر لندن میں سکونت اختیار کرنا پڑی۔ 1980 کے اعداد وشمار کے مطابق احمدیہ پروکاروں کی تعداد 10 لاکھـ بیان کی جاتی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی بنیادی تعلیمات[ترمیم]

مرزا صاحب كى سارى تعليمات اہلسنت مسلمانوں والى باتوں كو مانتے ہوۓ کچھ یوں ہیں کہ عام لوگوں کیلیۓ انکو کسی بھی طرح اسلام سے الگ شناخت کرنا مشکل ہوجاتا ہے

  • جہاد کی تنسیخ
  • جہاد كے غير ضرورى ہونے كا فرمان
  • صرف حكومتوں كى لڑائى كو جہاد كے طور پر بيان کرنا
  • حكومت كى اجازت كے بغير ظـلـم كے خلاف جدوجہد مرزا كى شريعت ميں حرام (گویا دہشت گردى) ہے