تبادلۂ خیال:قومی تعلیمی پالیسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تعلیمی پالیسی۔[ترمیم]

قومی تعلیمی پالیسی بھارتی آئین کے چوتھے حصے میں ذکر کردہ پالیسی ڈائریکٹر عناصر میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی سطح تک کے سبھی بچوں کو لازمی اور مفت تعلیم کا انتظام کیا جائے، سنہ 1948 میں ڈاکٹر رادھا کرشنن کی صدارت میں یونیورسٹی تعلیمی کمیشن کے قیام کے ساتھ ہی بھارت میں تعلیمی کمیشن کو منظم کرنے کا کام شروع ہو گیا تھا، سنہ 1964 میں دولت سنگھ کوٹھاری کی صدارت میں قائم تعلیمی کمیشن کی سفارشوں کی بنیاد پر سنہ1968 میں تعلیمی کمیشن کا ایک تجویز شائع کیا گیا،جس میں قومی تعلیمی ترقی کے فروغ کے لیے اعزم وکرداراورموثرکام نوجوان مردوں اور عورتوں کو لیے تیار کرنے کا حدف لیا گیا، میء1986میں نئی قومی تعلیمی پالیسی قابل اطلاق کی گئی جو ابھی تک چل رہی ہے،اس درمیان قومی تعلیمی پالیسی کی سفارش کے لیے1990 میں آچاریہ رام مورتی کی صدارت میں ایک جائزہ کمیٹی کی اور سن 1993میں پروفیسر کمیٹی کا قیام کیا گیا۔ محمد مسعود عالم (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:52, 30 جنوری 2018 (م ع و)

کوٹھاری کمیشن۔[ترمیم]

مختلف کمیٹیوں اور کمیشنوں کی شفارشوں اور تعلیم میں بدلاؤ لانے کے لیے کیے گئے مسلسل کوششوں کے باوجود بھارت سرکار ملک میں تعلیمی ترقی سے بہت خوش نہیں تھی۔ ایسا تجزیہ کیا جا رہا تھا کہ ایسی جامع تعلیم پالیسی کا قیام کیا جائے جس میں تعلیم سبھی جماعتوں اور علاقوں شامل ہوجائے۔ 1964میں بھارت کی حکومت نے ڈاکٹر ڈی ایس کوٹھاری کی صدارت میں تعلیمی کمیشن کا قیام کیا جس کا مقصد تعلیمی ترقی میں سبھی جماعتوں اور علاقوں کے لیے یکساں اصول وقوانین اور تعلیم کی قومی ڈھانچہ پر حکمرانوں کو صلاح دینا تھا۔ مختلف تعلیمی علاقوں کے لیے۔ جیسے اسکولی تعلیم ،اعلی تعلیم، تکنیکی تعلیم، کاستکاری تعلیم وغیرہ 7 فارسیے( کام پر زور) کا قیام کیا گیا اور مختلف مخصوص مسلہ جامع مطالعہ کے لیے،اوررپورٹ تیار کرنے کے لیے سات اجتماعی کام تعمیر کیا گیا،ساتھ ہی کام پر زور اور اجتماعی کام کو ریپورٹ کی بنیاد پر کمیشن نے کچھ اہم مدوں کی توسیع سے شدید شکل میں جا نچ کی۔ کمیشن کے نظر میں تعلیم، سماجی تعمیر نو کا، قومی تعمیر کا اور ترقی میں حکمرانوں کے ساتھ لوگوں کی شراکت داری کے موضوع میں احتیاط کرانے کا اہم الہ ہوتی ہے۔ کمیشن کی یہ خواہش تھی کہ لوگوں کو قومی ترقی شراکت داری بننا چاہیے۔ اس کمیشن کی رپورٹ کا یہی بنیادی رہا ہے۔ کمیشن کے خیال میں تعلیم کا مقصد اور انہیں حقیقت کرنے کے لیے اطمینان کی گئی ہے۔ محمد مسعود عالم (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:11, 30 جنوری 2018 (م ع و)

مندرجہ ذیل تعلیمی مقصد کو حقیقت کرنے کے لیے۔[ترمیم]

1/بڑھتی ہوئی پیداوار کے لیے تعلیم۔ ١/. سائنس کو تعلیم اور ثقافت کا اہم عنصر بنانا۔ ٢/. سماجی طور پر عام تعلیم کو مختلف حصہ کے شکل میں رکھنا۔ ٣/صنعت اور زراعت ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تعلیم کا تجارتکاری۔ ٤/. یونیورسٹی میں سائنس اور تکنیکی تحقیق اور تعلیم میں بہتری لانا 2/۔ جدید کاری عمل کو تیز کرنے کے لیے تعلیم۔ ١/. تعلیم کے نئے طریقوں کو اپنانا۔ ٢/. مطلوبہ خواہشات کے ویلو اور خود کفالت جیسے لازم مہارت کی ترقی کو فروغ دینا۔ ٣/. سماج کے سبھی جماعت کے لوگوں کو تعلیم دینا۔ ٤/. ملک میں بہترین یونیورسٹیوں کا قیام۔ 3/۔ سماجی قومی انضمام کے فروغ کے لیے تعلیم۔ ١/. عوامی تعلیم کے اجتماعی اسکول کے نظام پر عملدرآمد۔ ٢/. تمام جدید بھارتی زبانوں کی ترقی۔ ٣/. ہندی کو تیزی سے حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش۔ ٥/۔ طالب علموں کو کمیٹی کی زندگی میں شرکت کے لیے حوصلہ افزائی اور متوازی کرنا۔ 4/۔ قومی قیمت میں شامل ہونے کے لیے تعلیم۔ ١/. اخلاقی، سماجی، روحانی، قیمت جمع کرنا۔ ٢/. ایسی نصاب کی تعمیر کرنا جس میں دنیا کے مذہبوں کے بارے میں جانکاری ہو۔ ٣/. قاموس توجہ کے لیے شاگردوں کو جماعت میں بیٹھنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا۔ ٤/. طالب علموں کو سماجی انصاف اور سماجی خدمات کے اعلی معیار کو پیش کرنا۔ محمد مسعود عالم (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:31, 30 جنوری 2018 (م ع و)