تبادلۂ خیال:محمد علی جناح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


سانچہ:ویکی منصوبہ بنگلہ دیش سانچہ:ویکی منصوبہ جنوبی ایشیا سانچہ:V0.5 }}

Untitled[ترمیم]

یہاں پر محمد علی جناح کے بارے میں ھونا چاہۓ۔ نہ کے ایک قرارداد کی تاریخ اور اس پر تبصرہ۔ قرارداد پاکستان کے لۓ علیحدہ آرٹیکل ھونا چاہۓ۔ جو کے اب آپ پڑھ سکتے ہیں۔--پاکستان 21:05, 10 ستمبر 2005 (UTC)

جناح کی جگہ پیدائش[ترمیم]

سندھ کے لو گون کے مظابق جناح ٹھٹہ ضلع میں جھرک میں پیدا ہوئے۔ 1960 کی دہائی کے آواخر میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے شایع ہونی والی کتابوں میں بھی آپ کی پیدائش کی جگہ جھرک ہے۔ تو پھر جھرک کو کراچی سے 1970 میں کیسے بدلا گیا۔ مہران منگریو تبادلہ خیال | میرا حصہ


اگر آپ کے پاس اس کا مستند حوالہ ہے، تو اس حوالے کے ساتھ اختلافی جملہ مضمون میں لکھ دیں۔--Urdutext 08:51, 28 ستمبر 2007 (UTC)
محترم مہران منگریو، جھرک 1875 - 1876 میں انتظامی طور پر کراچی کا حصہ تھا۔ اگر قائد اعظم جھرک میں بھی پیدا ہوئے تو وہ کراچی ہی تھا۔ قائد اعظم نے بذاتِ خود کراچی میں تقریر کے دوران کہا کہ میں اس شہر میں پیدا ہوا ہوں۔ محترم فاطمہ جناح نے اپنی کتاب میرا بھائی میں بھی کراچی کو قائد اعظم کا مولد لکھا ہے۔ اس کے علاوہ جی الانا، پروفیسر کرم حیدری، شریف المجاہد، رضون احمد وغیرہ نے بھی قائد اعظم کی جائے پیدائش کراچی ہی لکھا ہے۔ کچھ سندھی دانشور حضرات جھرک کا کہتے تو ہیں لیکن دستاویزی ثبوت کوئی نہیں دیتا۔ یہ بحث بہت پرانی ہے۔ آپ کے پاس اگر کوئی دستاویزی ثبوت ہے تو بتائیے۔ نیازمند--محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:51, 23 نومبر 2015 (م ع و)

تبصرہ 2 ڈسمبر 2012[ترمیم]

b 110.36.31.61 15:54, 2 دسمبر 2012 (م ع و) i love pakistan

تحفظ[ترمیم]

اس مضمون کو مقفل کیا جائے-- جواب 16:16, 19 مئی 2016 (م ع و)

خاندانی پس منظر[ترمیم]

قائد اعظم محمد علی جناح کے والدین کا لکھنؤ سے کوئی دور کا واسطہ نہیں تھا. ان کے دادا پریم جی بھائی ٹھکر کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات (کاٹھیاوار) سے تھا اور یہ ہندو تھے. ٹھکر ، کاٹھیاوار کے "لوہانا" ہندؤں کی ذیلی ذات (sub caste) ہے. پریم جی بھائی نے مچھلی کا کاربارشروع کیا، جیسا کہ عموما سمندری علاقوں کے لوگ کرتے ہیں، تو ہندو ہونے کے سبب ان کے خاندان نے ان کا بائیکاٹ کر دیا. پریم جی بھائی نے اس کاروبار سے خوب پیسہ کمایا اور امیر ہو جانے کے بعد انہوں نے اپنے خاندان سے صلح کی بہت کوشش کی مگر خاندان والے نہ مانے. اس پر ان کے بیٹے پونجا لال بھائی نے اپنے باپ کی وفات کے بعد، خاندان والوں کے برتاؤ سے دل برداشتہ ہو کر پہلے پارسی مذھب قبول کیا اور پھر اسلام قبول کر لیا. پونجا لال بھائی کا گھر میں پیار کا نام (nick name) "جینو" تھا جس کا گجراتی میں مطلب ہوتا ہے، "دبلا پتلا" (Skinny). قائد اعظم کو دیکھ کر تصور کیا جا سکتا ہے کہ ان کے والد کیسے ہونگے :) بعد میں وہ گجرات چھوڑ کر سندھ چلے آئے ، پیسہ ان کے پاس بہت تھا ، انہوں نے سندھ میں آ کر چمڑا رنگنے کا کام شروع کر لیا. یہاں اس گجراتی لفظ "جینو" کو جب سندھی ادا کرتے تو اسے بگاڑ کر "جنوہ" کہہ کر ادا کرتے. یہ خاندان بعد میں اسی نام سے مشہور ہوا اور پھر یہ لفظ "جنوہ" سے "جناح" بن گیا. اس کے پیچھے فقط یہ کہانی ہے کہ اپنے خاندان والوں کی نفرت کے باعث پونجا لال بھائی (قائد اعظم کے والد) کو اپنی ہندو ذات "ٹھکر یا لوہانا" اپنے نام کے ساتھ گوارا نہیں تھی، چنانچہ، ان کے بیٹے محمد علی نے اپنے باپ کے "nick name" ہی کو اپنا family name بنا لیا اور اسے مزید "Islamize" کرنے کی خاطر اس میں عربی والا "ح" لگا دیا. یہاں ایک بات اور یاد رکھنے کی ہے کہ جناح کے والد نے جو اسلام قبول کیا تو وہ کوئی شیعہ مسلک ہی تھا، ان علاقوں میں ان دنوں اسماعیلی، آغا خانی اور بوہرے مسلک والوں کی بہتات تھی، مگر یہ کوئی ایسے "دیندار" لوگ نہیں تھے (جیسا کہ مسلمانوں کی اکثریت ہوتی ہے). محمد علی جناح تو بالکل ہی دین سے نا بلد........ اسے ہم جناح کی خوش قسمتی کہیں یا ہم سب پاکستانیوں کی خوش بختی کہ جناح کو اسلام ، کسی ملا یا مدرسے کے توسط سے نہیں ملا، انہوں نے اسلام ، علامہ اقبال سے سیکھا، جب وہ ہندوستان کی سیاست سے بیزار بلکہ دلبرداشتہ ہو کر انگلینڈ میں جا بسے تھے، تب اقبال نے ان کا پیچھا کیا ، انہیں مذھب و مسلک کی خرافات سے بلند، دین خالص "اسلام" سے روشناس کروایا، انہیں قران پڑھایا اور یوں انہیں ایک سچا مسلمان بنا کر مسلم لیگ کی قیادت کے لیے واپس ہندوستان آ کر قیام پاکستان کے لیے آمادہ کیا. ہمیں کبھی کسی نے نہیں بتایا کہ اقبال کی یہ محنت ١٠ سال پر محیط ہے! .......... خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را ! از خاور محمود معروف بہ بھولا بھائ --امین اکبر (تبادلۂ خیالشراکتیں) 07:52, 26 جون 2017 (م ع و)

قائد اعظم کی نماز جنازہ[ترمیم]

قائد اعظم نے اپنی نماز جنازہ کیلئے کوئی وصیت نہیں کی تھی، آخری وقت جو لوگ انکے ساتھ تھے انہوں نے ایسی کسی وصیت کا ذکر نہیں کیا۔ انکی پہلی نماز جنازہ انکے مسلک کے مطابق گورنر ہاوس میں ہوئی اور عوام میں شبیر احمد عثمانی صاحب سے ہڑھوانے کا فیصلہ لیاقت علی خان صاحب نے کیا تاکہ بعد میں انکا جنازہ پڑھنے والے اہلسنت کے لیے تجدید نکاح کا فتوی نہ دے سکیں۔ مفتی محمود کے فتاوی محمودیہ کے باب جنائز میں شیعوں کا جنازہ حرام ہونے کے فتووں میں قائد اعظم کا جنازہ پڑھنے کو شبیر احمد عثمانی صاحب کا گناہ کہا گیا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح کا جنازہ بھی پہلے اپنے مسلک کے مطابق ہوا اور عوام میں جنازہ پڑھنے کی باری آئی تو بڑی مشکل سے ایک سنی عالم مولانا بدایونی راضی ہوئے۔ اسکے باوجود انکے جنازے پر ایک مذہبی تنظیم نے پتھراو کیا۔ اس واقعے کی تفصیل جنرل ایوب خان کی ڈائری میں چھپ چکی ہے۔ دونوں بہن بھائی کی تدفین بھی انکے اپنے مسلک کے مطابق ہوئی، انکی میت پر تلقین پڑھی گئی۔ البتہ جنرل ضیاءالحق کے دور میں انکو دیوبندی کہا جانے لگا کیونکہ باقی فرقوں کیلئے معاشرے میں جگہ کم کرنا مقصود تھا۔ ایسی باتیں جنرل ضیاء کے دور سے پہلے کی کتب میں نہیں ملتیں۔ قائد اعظم کے مسلک کے بارے میں جھوٹ بولنے کا مطلب ہے کہ آپ یا تو ناواقف ہیں یا تنگ نظر ہیں۔ اگر قائد اعظم کو بھی شیعہ ہونے کی آزادی نہیں تو باقی شیعہ شہریوں کو آپ کیسے برابر کے حقوق دے سکتے ہیں۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 09:17، 7 نومبر 2018ء (م ع و)

قائد اعظم کا مسلک شیعہ اثنا عشری تھا، اس حقیقت کا کتمان تنگ نظری ہے۔[ترمیم]

قائد اعظم کا مسلک شیعہ اثنا عشریہ تھا، اس سچ کو قبول کرنے میں کیا حرج ہے؟ کیا اس تعصب کی وجہ سے ہمارے معاشرے نے پہلے کم نقصان اٹھایا ہے؟قائد اعظم کے مسلک کے حوالے سے چند تاریخی مدارک یہ ہیں:-

1.Abul Hassan Isphani, "Quaid-e-Azam Jinnah, as I Knew Him "، Forward Publications Trust Karachi (1967)۔ 

2. آپ کا نکاح ایک شیعہ عالم نے پڑھایا اور آپ کے نکاح نامے پر آپ کا مسلک اثنا عشری شیعہ لکھا ہوا ہے- اس نکاح نامے کا ایک عکس اس قدیم کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے: کتاب "محمد بن قاسم سے محمد علی جناح تک" صفحہ 501، نفیس اکیڈمی، کراچی۔ 3. آپ کا پہلا جنازہ گورنر ہاؤس میں شیعہ طریقے پر ہوا، آپ کی جائداد بھی محترمہ فاطمہ جناح کو شیعہ طریقے پر منتقل کی گئی، تفصیل اس کتاب میں: Khalid Ahmed, "Sectarian War: Pakistan's Sunni-Shia Violence and its links to the Middle East", Oxford University Press, 2011

4."فتاویٰ مفتی محمود" میں شیعہ حضرات کا جنازہ نہ پڑھنے کے فتووں کے ذیل میں قائد اعظم کے شیعہ ہونے کی وجہ سے علامہ شبیر احمد عثمانی کی طرف سے ان کا جنازہ پڑھنے کو غلطی قرار دیا گیا ہے-

5. مسلک دیوبند کے اکابر میں سے مفتی کفایت ﷲ دہلوی صاحب کے مطابق قائد شیعہ ہونے کی وجہ سے رسمی مسلمان ہیں، حقیقی نہیں، حوالہ: کتاب " کفایت المفتی"، جلد نہم، کتاب السیاسیات، فتاویٰ نمبر: ٥٣٩، ٥٣٨، ٥٥٤، ٥٥٥. جناح کو سنی کہنا ایسا ہی ہے جیسے اقبال اور لیاقت کو شیعہ کہنا، انکے سنی ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ انکے نکاح نامے میں انکا مسلک شیعہ اثنا عشریہ لکھا ہے، عدالت میں وزیراعظم لیاقت علی خان اور دیگر ساتھیوں نے بھی انکے شیعہ ہونے اور شیعہ طریقے پر انکی تدفین کی گواہی دی۔ انکے خلاف شیعہ ہونے کی بنیاد پر فتوے دیئے گئے تو بھی انہوں نے کبھی اپنے شیعہ ہونے سے انکار نہ کیا۔ جناح کو شیعہ نہ کہنا تعصب و تنگ نظری ہے، اعتدال نہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ آپکو صرف وہ جناح قبول ہے جو آپکے مسلک کا ہو، شیعہ چاہے جناح جیسا کیوں نہ ہو آپ کو ہضم نہیں ہو سکتا! ہمارے معاشرے میں شیعہ مخالف تعصب کا ایک پہلو مثبت کردار والے شیعوں سے انکی مسلکی شناخت سلب کرنا ہے تاکہ شیعوں کو صرف بری شہرت والے ماضی کے کرداروں تک محدود کیا جائے۔ مثلا میر جعفر کو تو شیعہ مانا جاتا ہے مگر یہ ذکر نہیں ہوتا کہ سراج الدولہ بھی شیعہ تھے۔ قائد اعظم نے برطانوی ہند کے قانون مین اپنے لیے فقہ جعفریہ کا انتخاب کیا، انکا نہ صرف نکاح شیعہ اثنا عشری مسلک پر ہوا بلکہ انکی محبوب اہلیہ نے وفات پائی تو آپ نے انکو بمبئی کے شیعہ خوجہ اثنا عشری قبرستان میں شیعہ طریقے پر دفن کیا۔ آج بھی انکی قبر وہیں ہے۔ آپ خواجگان ٹرسٹ کے رکن بھی تھے اور آخر عمر تک انکو رکنیت فیس بھجواتے رہے۔ قائد اعظم کا مسلک شیعہ اثنا عشری ہونا ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:40، 31 دسمبر 2018ء (م ع و)

قائد اعظم کے نکاح نامے کا عکس اس لنک پر دیکھا جا سکتا ہے:- https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/6/6b/Nikahnama-jinah.png Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:04، 31 دسمبر 2018ء (م ع و)

میں نے سرے سے فرقہ والا پیرامیٹر ہی نکال دیا ہے۔ اس میں تعصب کی بات نہیں، آپ کی معلومات یک طرفہ ہیں۔ ان کو اثنا عشری آپ قرار دے رہے ہیں۔ اور ان کتابوں میں ہو سکتا ہے، ایسا ہی ہو۔ لیکن وہ پیدا اسماعیلی شیعہ گھرانے میں ہوئے۔ انھوں نے کتنے نکاح کیے، کیا سب نکاح ناموں میں فرقہ لکھا ہوا ہے؟ ایسا نہیں ہے، ان کی وفات کے بعد وہ شیعہ تھے، اس کے لیے فاطمہ جناح کو عدالت سے رجوع کرنا پڑا تھا۔ کیا فیصلہ آیا تھا، وہ آپ دیکھ لیں، اور اقبال سنی تھے لیکن لیاقت علی خان کو آپ شیعہ کیوں نہیں مان رہے؟ قائد اعظم کا مسلک کتاب میں بھی بہت سے تاریخی حوالے ہیں، اور قائد اعظم ریسرچ لائبریری کے خواجہ رضی حیدر کی بھی اس پر تحقیق موجود ہے۔ شاہ احمد نورانی کے تایا کے ہاتھ پر انھوں نے اسماعلی شیعہ سے اہلسنت مسلک قبول کیا تھا۔ ان کے دو جنازے ہوئے تو، آپ ان کو صرف لوگوں کے جنازے پڑھنے کے طریقے سے کیسے شیعہ قرار دے سکتے ہیں؟ انھوں نے عید کی نماز سنی امام کے پیچھے پڑھی، اب یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا، کیا اس کو دلیل مان لیا جائے، حقیقت تو یہ ہے کہ وہ عملی مسلمان نہ تھے، اس لیے امام بارگاہ یا محرم کی رسومات یا ان کی تقاریر میں کثرت سے اہلبیت کا ذکر کہیں نہیں ملتا، نہ ہی کبھی انھوں نے کھل کر کسی فرقہ کا ہونے کا دعوا کیا۔ اس لیے ان کو صرف مسلمان رہنے دیں۔ باقی دونوں طرف دلائل ہیں۔ وہ بہرحال مضمون کا حصہ بنیں گے۔ کسی کو فرقہ پرستی یاتعصب نظر آتا ہے تو آۃا رہے۔ جب دونوں طرف دلائل موجود ہیں تو، دونوں کا حوالہ دیا جائے گا۔ کسی کو درست یا غلط کہنا ویکیپیڈیا کا کام نہیں۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 05:30، 1 جنوری 2019ء (م ع و)

محترم انہوں نے دو شادیاں کیں، پہلی اسماعیلی مسلک کے مطابق اور دوسری شیعہ اثنا عشری مسلک کے مطابق، دوسرے نکاح نامے کا عکس پہلے اس مضمون کا حصہ تھا لیکن تعصب کی وجہ سے اس اہم تاریخی دستاویز کا کتمان کرتے ہوئے اسکو ہٹا دیا گیا۔ قائد اعظم نے اپنے لیے برطانوی قانون کے شیعہ پرسنل لا کو چنا تھا۔ چونکہ انکی زندگی میں انکی جائیداد انکے نام تھی اس لیے انکی وصیت کے مطابق جائیداد کے حصول کیلئے محترمہ فاطمہ جناح کو عدالت جانا پڑا۔ اس زمانے میں مرحوم کے ورثا کو وصیت نامہ عدالت میں پیش کر کے ہی جائیداد ملتی تھی۔ پھر گواہ کے طور پر قائداعظم کے ساتھی اور پاکستان کے قائد ملت لیاقت علی خان پیش ہوئے۔ شاہ احمد نورانی صاحب کے تایا والی بات من گھڑت ہے، کیونکہ قائد نے سرکاری ریکارڈ میں اسماعیلی مسلک سے ہٹا کر اپنا مسلک شیعہ اثنا عشری لکھوایا تھا۔ شاہ احمد نورانی صاحب کے تایا والی بات ڈاکٹر صفدر محمود نے روایت کی ہے، جو کہ علمی حلقوں میں جھوٹے راوی مشہور ہیں۔ لکھی ہوئی قدیم دستاویزات کے مقابلے میں سو سال بعد کی سنی سنائی بات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ قائد اعظم کے اہلبیت سے لگاو کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے تاریخی اہمیت رکھنے والے "گاندھی جناح مذاکرات" کو 21 رمضان کے دن ملتوی کر دیا تھا۔ ان کو شیعہ کہا گیا تو انہوں نے کبھی اس کی تردید نہ کی حالانکہ وہ سچ بولنے پر یقین رکھتے تھے اور اگر وہ سنی ہو چکے ہوتے تو اسکا اظہار کر کے اپنے خلاف مجلس احرار اور جمعیت علمائے ہند کے شیعہ دشمن پروپیگنڈے کا رد کر سکتے تھے۔ آپ اور دیگر بریلوی انکو شاہ احمد نورانی صاحب کے چچا کے ہاتھوں بریلوی حنفی سنی بنانے پر تلے ہیں تو دیوبندی حضرات انکو اشرف علی تھانوی صاحب کا مرید بتا کر دیوبندی قرار دیتے ہیں۔ قائد اعظم نے اپنی زندگی میں اپنی سرکاری دستاویزات میں اپنا مسلک کھلم کھلا شیعہ اثنا عشری لکھا، اور یہ تاریخ کے صفحات پر ناقابل تردید سچ کے طور پر درج ہے جس کو سنی سنائی من گھڑت باتیں تبدیل نہیں کر سکتیں۔ اگر وہ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے لڑ رہے تھے تو اس لیے وہ سب سنی رہنماوں سے بھی رابطے میں تھے۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ انکو شیعہ ہونے کے حق سے محروم کیا جائے۔ وہ قانون دان تھے اور حنفی اور جعفری فقہ کا فرق جانتے تھے، اسکے باوجود انکا خود کو شیعہ اثنا عشری لکھوانے سے بات واضح ہو جاتی ہے۔ شیعہ مسلک میں سنی پیش نماز کے پیچھے نماز پڑھنا عام سی بات ہے۔ شیعہ مسلک میں سنی کا جنازہ پڑھنے سے بھی نکاح نہیں ٹوٹتا۔ چونکہ بعض سنی علما یہ سمجھتے ہیں کہ شیعہ کا جنازہ پڑھنے سے سنیوں کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اسلئے لیاقت علی خان صاحب نے قائداعظم کا دوسرا جنازہ مفتی شبیر احمد عثمانی سے پڑھوایا۔ انہوں نے خود عدالت میں اپنے بیان میں بتایا کہ قائد کا پہلا جنازہ شیعہ مسلک کے مطابق ہوا، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دوسرے جنازے کے بعد قائد اعظم کو دفن بھی شیعہ مسلک کے مطابق تلقین پڑھ کر کیا گیا۔ صرف جناح نہیں، بہت سے شیعہ مشاہیر اہلسنت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے تھے۔ سید امیر علی معروف لکھاری ہیں، جو شیعہ تھے مگر انکی تحریروں میں سنیوں کا ذکر اچھے انداز میں ملتا ہے۔ سر سید احمد خان کے ساتھی مولوی چراغ علی ایک ایسی ہی مثال ہیں۔ اور تو اور امام خمینی جب فرانس سے واپس ایران آ رہے تھے تو ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آپ کس طرح کا نظام لانا چاہتے ہیں تو انہوں نے حضرت عمر کے اس واقعے کی مثال دی جس میں ایک عورت ریاست کے سربراہ سے حساب طلب کرتی ہے۔ اہلسنت کے مسلک کی اچھائیوں کو قبول کرنے سے فقہ جعفریہ کے پیروکار سنی نہیں ہو جاتے۔ اگرچہ مثبت کردار والے شیعوں کو سنی قرار دینے کا مقصد تو یہ ہے کہ کسی شیعہ کا ذکر اچھا نہ ہو سکے، لیکن اسکا نقصان یہ ہے کہ شیعوں کیلئے صرف منفی کردار باقی رہ جاتے ہیں۔ یعنی اگر کسی شیعہ نے پاکستانی معاشرے میں کردار ادا کرنا ہے تو وکی پیڈیا کے منتظمین اسکو جناح اور سراج الدولہ کے بجائے صرف سپاہ محمد جیسے لوگ دکھانا چاہتے ہیں۔ قائد نے شیعہ کانفرنس کے اجلاسوں میں بھی ایک شیعہ شخصیت کے طور پر اپنے پیغامات بھیجے۔ وہ مرتے دم تک خوجہ اثنا عشری تنظیم کے رکن کی حیثیت سے اپنے واجبات بھجواتے رہے۔ انکی محبوبہ زوجہ کی وفات ہوئی تو انہوں نے انکو بمبئی کے خوجہ شیعہ اثنا عشری قبرستان میں دفن کیا اور آج بھی انکی قبر وہیں ہے۔ انکی زوجہ نے انکے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا، وہ اگر شاہ احمد نورانی صاحب کے تایا کے ہاتھ پر سنی ہوئے ہوتے تو زوجہ کو بھی حنفی سنی ہونے کی دعوت دیتے۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:39، 1 جنوری 2019ء (م ع و)

اگر آپ ان سب باتوں کے حوالے لکھ دیں تو میں جانچ سکتا ہوں، اگر ایسا ہے تو کم از کم ان حوالوں کے ساتھ ہی ہم یہ بات شامل کر سکتے ہیں۔ لیکن پھر وہی بات جب تنازع موجود ہے جو آپ مان رہے ہیں، تو ہر صورت لکھنا ہو گا کہ یہ یہ مصنفین یہ موقف رکھتے ہیں اور یہ یہ مصنفین یہ دوسرا موقف رکھتے ہیں۔ ویکیپیڈیا کا کام فیصلہ سنانا ہرگز، آپ ہماری مجبوری سمجھیے! اگر قائد کے ذاتی طور پر خود کو شیعہ اثنا عشری لکھنے کا ثبوت ہے تو دے دیں۔ باقی کسی کانفرنس میں پیغام پڑھ کر سنایا جانا، کسی کا بعد مرنے کے کسی عقیدے کے مطابق مرنے والے کا جنازہ یا وراثت تقسیم کرنا، مرنے والے کے عقیدے پر دلیل نہیں، یہ آپ بھی مان رہے ہیں کہ وہ نماز سنیوں والی پڑھتے تھے، (اس کے راوی شیعہ راجا صاحب محمود آباد ہیں) اور عید کی نماز ذاتی طور پر سنی کے پیچھے پڑھی، عمر بن خطاب اور ابوبکر صدیق کا ذکر بھی ملتا ہے ان کے بیانات میں، لیکن کیا کبھی خاص ایسے اعمال کیے جن سے ان کا شیعہ مسلمان ہونا ثابت ہو؟ جیسے محرم کی رسومات! گھر پر مجلس یا علم لگانا ۔ ۔۔ ۔ ان کی وفات کے بعد پاکستانی عدالت نے لیاقت علی خان اور فاطمہ جناج کے ان ثبوتوں کو نہیں مانا تھا کہ جناح صاحب شیعہ تھے۔ فاطمہ جناح کی کتاب میں قائد کی ماں کا حوالہ موجود ہے کہ وہ سنی پیر کی درگاہ پر منت پوری کرتی تھیں، اسی درگاہ پر جناح صاحب کا ختنہ ہوا۔ اب ظاہر ہے ماں کا یا بہن کا کسی عقیدے پر ہونا الگ بات ہے، لیکن خود جناح صاحب خود کو کسی عقیدے سے منسلک نہیں مانتے تھے۔ اب تک یہی سمجھ آئی ہے، مجھے تو جو جو کتابیں یا حوالے میں نے دیکھے۔ آپ سراج الدولہ یا میر جعفر کے لیے الگ سے بحث کریں، یہاں نہیں، سپاہ محمد کے لیے اس کے تبادلۂ خیال پر اس کے متن کے مطابق بات کریں۔ کیا طالبان مصد کئی دیگر جہادی جو خود کو سنی، وہابی تحریک، سلفی تحریک سے منسوب کرتے ہیں، دہشت گرد نہیں لکھا گیا ویکیپیڈیا پر؟ کیا سپاہ صحابہ اور لشکر چھنگوی کے مضمون پر آپ زمرہ جات نہیں دیکھتے کہ ان مضامین کو کس زمرے میں رکھا گیا ہے؟ بے شک کئی مضامین میں ایسا متن ہو سکتا ہے جو بلا دلیل بے حوالہ یا تعصب پر مبنی ہو۔ تو اس کی نشاہدہی وہاں کریں ہم نکالیں گے۔ ہمارا کام ویکی اصولوں کو ویکیپیڈیا پر نافذ کرنا ہے۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:32، 1 جنوری 2019ء (م ع و)
ہمارے پاکستانی معاشرے پر ہنسی آتی ہے۔ جو صحابہ کا احترام کرے اسے دیوبندی مان لیتے ہیں، جو اہل بیت علیہم السلام کی بات کرے اسے شیعہ، جو آپ ص سے محبت کی بات کرے اسے بریلوی۔ ناجانے کتنے نام رکھے ہوئے ہیں۔ جسے ڈاکٹر صاحب نے دلیل بنا کر پیش کیا مثلاً قائد اعظم کے اہلبیت سے لگاو کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے تاریخی اہمیت رکھنے والے "گاندھی جناح مذاکرات" کو 21 رمضان کے دن ملتوی کر دیا تھا۔۔— بخاری سعید تبادلہ خیال 17:47، 1 جنوری 2019ء (م ع و)

بھائی بخاری سعید صاحب یہ بات تو میں نے عبید رضا صاحب کی اس بات کے جواب میں کہی کہ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قائد اعظم نے اہلبیت سے محبت کا اظہار یا انکا ذکر نہیں کیا۔ میں نے اس دعوے کی رد کے لیے ایک تاریخی حقیقیت پیش کی۔ قائد کے شیعہ اثنا عشری کہنے کی وجہ انکا سرکاری دستاویزات میں خود کو شیعہ اثنا عشری لکھوانا ہے، نہ کہ محض اہلبیت سے محبت کا اظہار کرنا! عبید رضا صاحب نے وہی حوالےدوبارہ طلب کئے ہیں جو میں نے اوپر لکھ دیئے تھے۔ سرکاری دستاویزات میں سے ایک نکاح نامے کا عکس بھی اوپر دیا ہے۔ قدیم مصادر میں انکا مسلک شیعہ ہی لکھا ہے اور ضیا دور تک عدالت میں بھی انکو شیعہ ہی قرار دیا گیا۔ بعد میں جب شیعوں کیلئے معاشرے میں جگہ تنگ کیا جانا مقصود ہوا تو قائد صرف مسلمان وغیرہ قرار دیئے جانے لگے۔ شیعہ کانفرنس میں ہندوستان بھر کے سرکردہ شیعہ حضرات کو دعوت دی جاتی تھی، مثلا کبھی علامہ اقبال یا لیاقت علی خان نے اس میں اپنا پیغام نہیں بھیجا، جبکہ قائد نے کئی مرتبہ بھیجا۔ 1930 کی دہائی میں مولانا حسین احمد مدنی اور جماعت احرار کی شیعہ مخالف مہم عروج پر تھی جس میں قائد کو بھی نشانہ بنایا جاتا تھا مگر انہوں نے کبھی اپنے شیعہ ہونے سے انکار نہیں کیا۔ محض محبت اہلبیت سے کوئی شیعہ نہیں قرار دیا جا سکتا لیکن اپنی ذاتی قانونی حیثیت کو فقہ جعفریہ کے قوانین کے مطابق قرار دینے سے شیعہ قرار پاتے ہیں۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:29، 1 جنوری 2019ء (م ع و)

سنی پیر یا سنی ڈاکٹر سے ختنے کروا کر اسماعیلی بچہ حنفی نہیں ہو جاتا بھائی، نہ ہی سنی پیر (مثلا داتا صاحب) کا احترام کرنے سے حنفی ہوتا ہے۔ اس طرح تو بہت سے سنی شیعہ ڈاکٹروں سے علاج کرواتے اور شیعہ پیروں، جیسے بری امام یا عبد اللہ شاہ غازی، کے مزار پر منٹ پوری کرتے ہیں۔ ان چیزوں سے قیاس کرنے کے بجائے جلی حروف میں لکھے نکاح نامے کو پرھئے یا انکی تدفین کے طریقے کو دیکھئے۔ انکا شیعہ ہونا اتنا واضح تھا کہ انکا دوسرا جنازہ پڑھانے پر دیوبندیوں نے شبیراحمد عثمانی صاحب پر اعتراض کیا تو انہوں نے خواب سنایا کہ رسول اللہ نے کہا ہے کہ جناح میرا مجاھد تھا۔ عثمانی صاحب نے بھی انکو سنی کہنے کے بجائے خواب کا سہارا لیکر جان چھرائی۔ مفتی محمود نے شیعہ قائد کا جنازہ پڑھنے کو عثمانی صاحب کی غلطی کہا ہے۔ قائد کی زندگی اور انکی موت کے بعد جنرل ضیا کے دور تک انکو شیعہ ہی سمجھا گیا ہے۔

Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:53، 1 جنوری 2019ء (م ع و)
میرا تبصرہ دوبارہ پڑھ لیں، میں تو ختنہ کرانے، جنازہ پڑھنے، نماز عید پڑھنے کسی کے پیچھے نماز پڑھنے، ماں یا بہن کا سنی درگاہ پر جانے یا دوسرے فرقے کے علماء سے تعلق رکھنے یا کسی کانفرنس میں پیغام بھیجنے کو دلیل ہی نہیں مان رہا، ضیا دور سے پہلے ہی عدالت میں دو بار شیعہ ہونے کی بعث ہوئی، عدالت نے کبھی جناح کو شیعہ نہیں مانا، عدالت کا فیصلہ آپ نے دیکھا ہے؟ کسی نے جناح کو شیعہ کہا اور انھوں نے کبھی اپنے شیعہ ہونے کا انکار نہیں کیا، یہ خوب دلیل ہے، ان کو کافر کہا جاتا رہا، اس کی بھی انھوں نے نے تردید نہیں کی، یہی تو ہم کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی فرقے سے خود کو منسوب نہیں کرتے تھے، 1937ء کے شریعت بل کی کارروائی پڑھیں، اس میں بھی بار بار سنی شیعہ کا ذکر آتا ہے، لیکن وہاں تو جناح نے یہ نہیں کہ کہ میں خود شیعہ ہوں۔ بل کہ انھوں نے شیعہ مخالفین و سنی مخالفین ج واس بل کی مخالفت کر رہے تھے دونوں کو دوسری دلیلوں سے قائل کیا۔ اصفہانی، فاطمہ جناح خود شیعہ تھیں، ان کی دلیل مان لیں، اور صفدر یا کسی دوسرے کی اس لیے نہ مانیں کہ وہ سنی تھے، یہ تو نہیں ہو سکتا۔ مخالفت پاکستان میں ان کو مخالفین مسلمانوں نے شیعہ قرار دے کر مخالفت کی، سپاہ صحابہ اور دیگر کئی دیوبندی آج بھی شیعہ ہی قرار دیتے ہیں (کیوں کہ اس طرح وہ اپنے مخالفین پاکستان اکابرین) کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔ تاریخ شیعیت جو سپاہ صحابہ نے شائع کی، اس میں کئی صفحات سیاہ کیے ہیں، جناح کو اسماعیلی ثابت کرنے میں اور دیگر کئی اولیا کو، فرقہ وارانہ ماحول میں آپ کیسے اس چیز کو بے غبار ثابت کر سکتے ہیں، ہر صورت دونوں طرف دلائل موجود ہیں، اس کا میں نے انکار کیا ہی نہیں، اور ان دونوں کے حوالے سے دونوں موقف ہی شامل کیے جا سکتے ہیں۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:21، 1 جنوری 2019ء (م ع و)

صفدر محمود صاحب کی دلیل کہ انہوں نے شاہ احمد نورانی صاحب سے سنا کہ جناح انکے مسلک پر تھے اس نکاح نامے کے ہم پلہ کیسے ہو سکتی ہے جو بر صغیر میں ہزاروں حنفی علما ہوتے ہوئے ایک شیعہ عالم سے پڑھوایا گیا اور اس میں اپنا اور اپنی نو مسلم زوجہ کا مسلک اثنا عشری لکھوایا گیا؟ مسلمانوں کے مشترکہ مسائل پر کام کرنے کو کیسے سنی ہونے کی دلیل سمجھا جا سکتا ہے؟ اس منطق کے مطابق تو سید امیر علی، سر آغا خان، راجہ صاحب محمود آباد وغیرہ سب سنی بنتے ہیں۔ میں نے صفدر محمود صاحب کی روایت کو انکے سنی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ دستاویزی ثبوت کے خلاف ہونے اور انکے جانے مانے "تاریخ ساز" لکھاری ہونے کی وجہ سے رد کیا ہے۔ آپ اے ایچ اصفہانی کی بات کو محض اس وجہ سے کہ وہ شیعہ ہیں رد نہیں کر سکتے جبکہ یہی بات عدالت میں سنی وزیراعظم لیاقت علی خان نے بھی کی اور عدالت نے بھی قائد کے شیعہ ہونے کا فیصلہ دیا۔ نیز یہ بات انکی دستاویزات سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ باقی اگر آپ اڑے رہنا چاہیں تو یہ آپکے ضمیر کا معاملہ ہے۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:48، 1 جنوری 2019ء (م ع و)

عدالت نے کئی مرتبہ جناح کو شیعہ مانا، صرف محترمہ فاطمہ جناح کی وفات کے بعد محترمہ شیریں جناح کے دائر کردہ دعوے کے دوران عدالت نے ان کے مسلک پر بات گول کر دی۔ ضیا دور سے پہلے ہائی کورٹ تک نے قائد کے شیعہ ہونے کا فیصلہ دیا ہے۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:51، 1 جنوری 2019ء (م ع و)

اس میں کوئی شک نہیں کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اثناء عشری شیعہ بن چکے تھے۔ انہوں نے اپنے عقیدے میں یہ تبدیلی اپنے آباء کے اسماعیلیہ فرقہ کو چھوڑ کرکی تھی۔ تاہم وہ پبلک میں اس کا اعلان نہیں کرتے تھے کہ وہ سنی ہیں یا شیعہ ہیں اور جو کوئی اُن سے پوچھتا ، تو ان پر الٹایہ سوال کرتے تھے کہ تم بتاؤ رسول کریم صلعم شیعہ تھے یا سنی؟

1948ء میں جب ان کا انتقال ہوا تو ان کی ہمشیرہ مس فاطمہ جناح کو اپنے آپ کو شیعہ ظاہر کرنا پڑا تاکہ اپنے بھائی کی وصیت کے مطابق اُن کی جائیداد حاصل کرسکیں۔ یادرہے کہ سنی فقہ کے مطابق کلی طور پر اس قسم کی وصیت کی اجازت نہیں۔ جبکہ شیعہ فقہ میں ایسا ہوسکتا ہے۔ مس فاطمہ جناح نے ایک اقرار نامہ سندھ ہائی کورٹ میں داخل کیا جس پر وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان کے دستخط تھے کہ جناح شیعہ خوجہ مسلم تھے اور عدالت سے درخواست کی کہ ان کی وصیت کے مطابق شیعہ قانون وراثت پر عمل کیا جائے۔ عدالت نے پٹیشن قبول کرلی۔6فروری1968کو فاطمہ جناح کی موت کے بعد ، ان کی بہن شیریں بائی نے ہائی کورٹ میں یہ دعویٰ داخل کیا کہ مس جناح کی جائیداد شیعہ قانون کے مطابق اسے دی جائے کیونکہ مرحومہ شیعہ تھیں۔

پہلے مس فاطمہ جناح کے احترام میں شیعہ فقہ پر عمل کیا گیا۔ جبکہ سنی ہونے کی صورت میں اُن کو صرف نصف حصہ مل سکتا تھا۔ بعد میں ان کی بہن شیریں بائی ممبئی سے کراچی پہنچیں جو اسماعیلی فرقہ چھوڑکر اثنا عشری ہوچکی تھیں اور اس بنیاد پر بھائی کی جائیداد کا دعویٰ کیا۔

اس موقع پر جناح کا باقی خاندان جو ابھی تک اسماعیلی فرقہ سے منسلک تھا نے جناح کے شیعہ عقیدے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہائی کورٹ پہلے مس جناح کی پیٹشن قبول کرچکی تھی۔ عدالت کیلئے بابائے ملت قائداعظم کواسماعیلی کہنا مشکل ہوگیا۔ چنانچہ اس کیس کو عدالت نے ملتوی کر دیا جبکہ مس جناح کا عمل ہمیشہ یہی رہا کہ وہ شیعہ عقیدے پر عمل کرتی رہیں اور اپنے بھائی کے متعلق بھی اثناء عشری شیعہ ہونے کا یقین دلاتی رہیں۔

جناح کیوں اثناء عشری شیعہ رہے؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مذہب کی آزادی کیلئے سیکولر اصولوں کے حامی تھے۔ اس بات کے گواہ عدالت میں سید شریف الدین پیرزادہ تھے۔ ان کی اطلاع کے مطابق جناح نے اسماعیلی عقیدہ 1901ء میں چھوڑا تھا۔ جبکہ اُن کی دو بہنوں رحمت بائی اور مریم بائی کے ایک سنی خاندان میں شادی کرنے کا مرحلہ در پیش تھا۔ کیونکہ اسماعیلی فقہ میں اس شادی کی اجازت نہیں تھی۔ اس لئے انہیں یہ فرقہ چھوڑنا پڑا۔ فرقہ کی یہ تبدیلی مسٹر جناح تک محدودرہی۔ اور ان کے بھائی ولجی اورنتھو بدستور اپنے سابقہ مذہب پر رہے۔

عدالت میں جو کارروائی ہوئی یہ مس جناح کے انتقال کے فوراً بعد ہوئی۔ اس میں گواہ سید اُنیس الحسن شیعہ عالم تھے۔ انہوں نے حلفی بیان دیا کہ مس جناح کے کہنے پر انہوں نے قائداعظم کو غٖسل دیا تھا اور گورنر جنرل ہاؤس کے ایک کمرے میں ان کی نماز جنازہ بھی شیعہ دستور العمل کے مطابق ادا کی جاچکی تھی۔ اس میں شیعہ عالم شریک تھے۔ جیسے یوسف ہارون، ہاشم رضا اور آفتاب حاتم علوی حاضر تھے۔ جبکہ لیاقت علی خان بطور سنی کمرے سے باہر کھڑے رہے۔

جب شیعہ رسومات ختم ہوئی تب جنازہ حکومت کے حوالے کیا گیا۔ تب متنازعہ شخصیت مولوی شبیر احمد عثمانی جو دیوی بندی فرقے کو چھوڑ چکے تھے اپنے فرقے کے خیالات کے برعکس جناح کی جدوجہد پاکستان کے حامی تھے۔ انہوں نے دوبارہ نماز جنازہ پڑھائی۔ یادرہے شبیر احمد عثمانی شیعوں کو مرتد اور واجب القتل قراردے چکے تھے۔ یہ دوسری نماز جنازہ سنی طریق سے پڑھائی گئی۔ اور جنازہ کی جگہ وہی تھی۔ جہاں قائداعظم کا مقبرہ بنا۔ دوسرے گواہان تصدیق کرتے ہیں کہ مس فاطمہ کی موت کے بعد کلام اور پنجہ شیعوں کے دونشان مہتہ پیلس سے برآمد ہوئے تھے۔ جس میں ان کی رہائش بھی تھی۔ آئی ایچ اصفہانی نے یہ گواہی1968ء میں سند ھ ہائی کورٹ میں دی تھی۔ جس میں انہوں نے جناح کے فرقہ کی تصدیق کی تھی۔ وہ جناح فیملی کے دوست تھے اور1936ء میں اُن کے اعزازی سیکرٹری بھی تھے۔اس گواہی میں مسٹر مطلوب حسن سید بھی شامل ہوئے۔ جو قائداعظم کے 1940-44 19ء تک پرائیویٹ سیکرٹری رہے۔

مسٹر اصفہانی بتاتے ہیں خود جناح نے انہیں1936ء میں بتایا تھا کہ ان کی فیملی اور خود انہوں نے شیعہ مذہب اس وقت اختیار کیا جب وہ1894ء میں انگلینڈ سے لوٹے تھے۔ اور انہوں نے رتی بائی سے شادی کی تھی جو ایک پارسی تاجر کی بیٹی تھی۔ یہ شادی شیعہ رسوم کے مطابق ہوئی۔ ان کے نمائندے راجہ صاحب محمود آباد تھے جو ان کے شیعہ دوست تھے۔ اگرچہ اُن کا عقیدہ جناح سے مختلف تھا۔ لیکن وہ ان کے گہرے دوست تھے۔ وہ اثنا عشری شیعہ تھے۔ اور آزادی کے بعد نجف عراق گئے تھے۔ قائداعظم سے اُن کی دوستی کو بہت لوگوں نے حیرانی کے ساتھ دیکھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جناح اور راجہ صاحب محمود آباد میں دوستی کی وجہ شیعہ ہوناتھا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ممبئی سے ایک مرتبہ شیعہ کانفرنس میں ممبئی الیکشن میں جناح کی مخالفت کی تھی۔

جب مس فاطمہ جناح 1967ء میں کراچی میں فوت ہوئیں تو اس موقعہ پر اصفہانی موجود تھے۔ انہوں نے مہتہ پیلس میں اُن کے غٖسل اور نمازہ جنازہ کا اہتمام خود کیا۔ جو شیعہ رسوم کے مطابق تھا۔ جنازہ پڑھانے کے بعد میت حکومت کے حوالے کی گئی۔ تب پولو گراؤنڈ میں سنی طریق سے نماز جنازہ دوبارہ پڑھائی گئی اور بھائی کے مقبرہ میں جو جگہ انہوں نے تجویز کی وہاں اُن کی تدفین ہوئی۔ شیعہ رسم جنازہ کے مطابق میت کو آخری الوداعی نصیحت جسے تلقین کہتے ہیں اس وقت ادا کی گئی جب میت کو لحد میں اتارا گیا۔ رتی بائی کو آخری الوادعی نصیحت یا تلقین خود قائداعظم محمد جناح نے کی تھی جب وہ1929ء کو فوت ہوئی تھیں۔

فاطمہ جناح کی وفات پرجب شیعہ رسوم اداکی گئیں تو مخالفت کرنے والے لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ جس کے بعد میت حکومت کے حوالے کی گئی اور سنی طریقے سے رسوم ادا کی گئیں۔ اس مخالفت کا ذکر فیلڈمارشل جنرل ایوب اپنی ڈائری میں یوں کرتے ہیں۔

۔۔۔جولائی1967ء۔۔ میجر جنرل رفیع میرے ملٹری سیکرٹری تھے۔ وہ میری نمائندگی کیلئے کراچی گئے اور مس جناح کے جنازے میں شریک ہوئے تھے۔اُن کا بیان ہے کہ اہل فہم لوگ اس بات پر خوش ہوئے کہ حکومت نے مس فاطمہ کو ایک عزت کا مقام دیا۔ اس لئے یہ امر حکومت کیلئے بھی خوش کن ہے۔ تاہم وہاں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے بہت برا سلوک کیا۔ اُن کی پہلی نمازہ جنازہ مہتہ پیلس میں شیعہ رسوم کے مطابق ادا کی گئی۔

پھر عوام کیلئے دوسری نماز جنازہ پولوگراؤنڈ میں ہوئی تو یہ سوال کیا گیا کہ امام سنی ہو یا شیعہ؟ تاہم بدایونی کو امامت کیلئے آگے کردیا گیا۔ جونہی امام نے اللہ اکبر کہا آخری صفوں میں کھڑے لوگ چھٹ گے جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا۔ لاش کو بڑی مشکل سے ایک گاڑی میں رکھا گیا اور قائداعظم کے مزارپر لے گئے اور انہیں دفن کیا گیا۔ وہاں ایک ہجوم اکٹھاہوگیا جنہوں نے کہا کہ قبر کی جگہ بدلی جائے، اس پر عمل نہ کیا گیا۔

طلباء کے ہمراہ غنڈے تھے جنہوں نے پتھر برسائے تب پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ غنڈوں کو آنسو گیس کی مدد سے ہٹایا گیا تو جنازہ کا میدان پتھروں سے اٹا پڑا تھا۔ لوگوں نے جس بے حسی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اس پر افسوس ہوتا ہے۔ کہ نماز جنازہ کی جگہ عبرت انگیز ہوتی ہے۔ لیکن یہ لوگ اس پہ بھی بازنہ آئے۔*

یہ مواد خالد احمد کی کتاب Sectarian war: Pakistan Sunni Shia Violence and its links to the Middle East سے لیا گیا ہے۔ یہ کتاب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی نے شائع کی ہے۔ اس کتاب کا یہ حصہ فرائیڈے ٹائمز میں شائع ہوا

ترمیم کی اجازت[ترمیم]

درخواست ترمیم روانہ کریں

4 جنوری 2019 پر محفوظ میں درخواست ترمیم[ترمیم]

وپ:منن N نہیں ہوابخاری سعید تبادلہ خیال 17:34، 4 جنوری 2019ء (م ع و)