تبادلۂ خیال:مختار ثقفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

Untitled[ترمیم]

میرا خیال ہے جو مواد حوالے کے ساتھ تھا اس کو حذف نہیں کرنا چاہئے۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 11:24, 10 مئی 2015 (م ع و)

یہ باتیں با حوالہ ہیں، مگر مستند نہیں،
ان کا کردار اس لیے متنازعہ ہے کہ تاریخ دانوں میں یہ اختلاف موجود ہے کہ انہوں نے قاتلانِ شہدائے کربلا کا بدلہ محبتِ رسول و اہلِ بیت کی وجہ سے لیا تھا یا حکومت کی طلب میں۔
یہ نیت کا مسئلہ تاریخ کا مسئلہ کب سے بنا ؟ اور اہلسنت کی رائے اہلسنت کی کتب سے ہو گی۔ نا کہ مخالفین کی کتب سے)
جیسا کہ روایات میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اس بارے میں پیشینگوئی کی تھی۔
یہ شخصیت کو حق پر کہنے کی کوشش ہے، جب اسے انتہائی متنازع کہہ دیا تو ایک گروہ کی بشارت کو اس انداز میں نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اس شخصیت کو اچھا یا برا ثابت کرنے کا موجب بنے
مگر دوسری طرف ایسی بے شمار روایات ملتی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محبان اہلِ بیت سے تھے۔
مگر، بے شمار، ظاہر ہوتا ہے، امیر مختار، فیصلہ سنانا اور ایک بات کو ثابت کرنا، ویکیپیڈیا کام نہیں ہے۔ حوالہ دینے کا مطلب یہ بلکل بھی نہیں ہوتا کہ کوئی صارف فیصلہ سنائے، کسی بات کو عوام کی غلط فہی بتائے کسی پورے گروہ کے متعلق کہے کہ وہ بے شمار روایات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ویکیپیڈیا کا کام چیزوں کو بس با حوالہ، غیر جانبداری اور بلا تعصب، بیان کرنا ہے۔ فیصلہ سنانا، حق و باطل کی طرح چیزوں کو بیان کرنا منع ہے--«User-rollbacker-admin.gif عبید رضا » 17:03, 10 مئی 2015 (م ع و)
جب طرفین کی بات مکمل بیان نہ ہو گی کچھ سمجھ نہیں آئے گا اگر حوالہ میں کمی ہے تو آپ حوالہ اہل سنت کی کتب سے طلب کریں نا کہ بات کو حذف فرمائیں اور مضمون نگار تو صرف تنازعہ کو بیان کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر ایک متنازع بات کا فیصلہ تو آپ کی ترمیم نے کیا وہ بھی بلا حوالہ۔

“انہوں نے بنو امیہ کے خلاف تلوار اٹھائی اور کربلا میں حسین ابن علی کی شہادت کا بدلہ لیا اور سینکڑوں کو قتل کیا۔“

عبید بھائی عرض ہے نہ وہ کربلا میں تھے اور نہ ہی یہ آج تک ثابت ہوا ہے کہ انہوں نے بدلہ لیا اور ان کو کس شہداء کے کس وارث نے اجازت دی کہ کہا جا سکے بدلہ لیا ہے۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:44, 10 مئی 2015 (م ع و)
پہلی عبارت میری ترمیم
انہوں نے بنو امیہ کے خلاف تلوار اٹھائی اور کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا بدلہ لینے کی ٹھانی اور بےشمار قاتلانِ شہدائے کربلا کو واصلِ جہنم کیا۔ انہوں نے بنو امیہ کے خلاف تلوار اٹھائی اور کربلا میں حسین ابن علی کی شہادت کا بدلہ لیا اور سینکڑوں کو قتل کیا۔
اگر انہوں نے کوئی بدلہ نہیں لیا تو پھر تو باقی سب عبارات کو حذف کرنے پر آپ کو اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیوں کہ وہ سب اس بدلہ لینے کی وجوہات اور ان پر حضرت علی کی تعریفی پیشنگوئی کا ذکر کیا گيا ہے، ویسے آپ نے یہ اصول کہاں سے اخذ کیا کہ کوئی وارث کہے تب ہی بدلہ لیا جا سکتا ہے، ایک طرف اسے امیر مانا جائے دوسری طرف امیر کو اپنی رعایا کو ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت کی حاجت کا دعوا کچھ جچتا نہیں۔ میں معاف کر سکتا ہوں، مگر حکومت وقت، امیر وقت، حکمران وقت بدلہ لے گا، اسے میری اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں، اہل تشیع ہی اسے امیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، تو کس بات پر کہتے ہیں، اگر کوئی بدلہ اس نے نہیں لیا، جو ثابت بھی نہیں (بقول آپ کے)، چیزوں کو متنازع بنایا جائے تو وہ متنازع بن جاتی ہے نا بنایا جائے تو کوئی مسئلہ نہیں، ہمارے ہاں اختلافی مسئلہ کو تو ہر ہر پہلو سے، صرف سے نحو سے، تفسیر سے حدیث، رجال سے دریت سے، روایت سے، خواب سے بشارت سے، دعا سے ہر زاویہ سے جانچا جاتا ہےم کر بہت کچھ عقیدت کےنام پر ، فضیلت کہہ کر قبول کر لیا جاتا ہے، جن لوگوں نے یہ تحقیق کی ہے کہ کوئی بدلہ نہیں لیا، ان کا مجھے حوالہ تو دیں، میں ان کی باقی کتب سے اس تحقیقی رویہ کا تضاد دیکھا دوں گا۔--«User-rollbacker-admin.gif عبید رضا » 18:03, 10 مئی 2015 (م ع و)
عرض ہے میں اس موضوع کی بات نہیں کرنا چاہ رہا تھا ضابطہ کا پوچھا تھا کہ مضمون نگار تنازع کو بیان کر رہا ہے اور دونوں طرفین کے حوالے دے رہا ہے تو حذف نہیں ہونا چاہئے یہ سنی شیعہ کا مسئلہ نہیں ہے تاریخ کے ایک متنازع کردار کی بات ہو رہی ہے۔
باقی رہی بات موضوع کی تو۔
  • پہلی بات تو یہ کہ اہل تشیع میں امیر بن جانے سے بھی کوئی حق امیر کو حاصل نہیں ہوتا تا وقتی کہ امام معصوم کی اجازت نہ ہو۔
  • وہ امیر بن جانے سے پہلے بدلہ کا نعرہ لگا رہا تھا لہذا یہ بدلے کی بات محض اپنی امارت کا راستہ بنانا تھا۔
  • تاہم یہ مسلم ہے کہ مختار نے کھلی ہوئی اجازت کی سعی کی تھی جو نصیب نہیں ہو سکی (مروج الذہب مسعودی برحاشیہ کامل جلد ۶ ص۱۵۵)
  • اس نے جو سزائیں دیں اس کو کوئی مذہب بھی جائز نہیں سمجھتا۔ دین اسلام میں ہر جرم کی سزا متعین ہے کسی کو تیل میں تلنا، آگ سے جلانا، کیل ٹھونکنا یا کھولتے پانی میں ابالنا نیز جسمانی اعضاء کے علاوہ جسم کے عمومی حصوں کو کاٹنا یہ سب کچھ اسلام میں قصاص میں بھی جائز نہیں چہ رسد سزا میں۔
  • کتب اہل سنت میں بہ آسانی دونوں طرفین کی باتوں کے حوالے مل جاتے ہیں نیز کتب اہل تشیع بھی اس شخص کے بارے مختلف الرائے ہیں۔
  • شیعہ متفق القول ہیں ان کے امام زمانہ آ کر کربلا والوں کا بدلہ لیں گے تمام انہی ظالمین سے۔
  • اس کے علاوہ بھی ان کے بارے بہت سی قابل اعتراض باتیں ہیں۔
بہر حال میرا خیال ہے جس بات کا حوالہ ہو تو کافی ہے، مستند ہونا یا نہ ہونا آپ کی یا میری رائے ہو گی!!--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:39, 10 مئی 2015 (م ع و)
میں نے مختیار کے اعمال کی حمایت نہیں کی، بدلہ کا مطلب جائز یا ناجائز طریقہ نہیں ہوتا، بلکہ گالی کے بدلے کوئی قتل کر دے تب بھی عرف میں اسے بدلہ لینا کہا جاتا ہے۔

اہل تشیع کی کتب اور رسائل اور مختیار کے متعلق رائے نیٹ پر مل جائے گی۔ اس لیے یہ کہنا کہ اس نے ناجائزعمل کیے، یہ آپ کی رائے ہے، اکثر اہل تشیع (لکھا ہوا حوالہ) آپ کی اس رائے کی حمایت نہیں کرتے۔ جب بقول آپ نے اس نے ناجائز عمل کیے اور اسے بدلہ بھی نہیں کہا جا سکتا اور یہ اہل تشیع کی رائے (معتبر رائے) ہے تو اماموں کی طرف جس کتاب میں یہ قول ہے کہ انہوں نے دعا کی اور اس کو برا کہنے سے منع کیا، اور امام علی کی اس بارے پیشگوئی موجود تھی تو ان سب حوالوں کو مستند حوالہ نہیں کہا جا سکتا (کیونکہ یہ کام آخری امام کا ہے، اور امام کے علاوہ کوئی بدلہ نہیں لے سکتا، نا ہی کبھی مختیار نے اچھا کام کیا، تو یہ حوالہ جات کسی نے جھوٹے منسوب کیے نا، تو جھوٹے حوالوں کی جگہ یہاں کہاں؟)، ویکیپیڈیا صرف حوالہ نہیں مانگتا، کہ بس کسی بھی 15 ویں صدی کی کتاب کی عبارت اٹھا کر اس کا حوالہ لگا دو بس بات ختم ایسے ہم صرف حوالہ پر اکتفا کریں تو لوگ بہت کچھ باحوالہ شامل کریں گے۔--«User-rollbacker-admin.gif عبید رضا » 09:48, 11 مئی 2015 (م ع و)

تعجب ہے عبید بھائی۔ عرض کیا ہے کہ شخصیت متنازع ہے تو واضح بات ہے کہ دونوں طرح کے حوالے ملیں گے اب میری یا آپ کی کچھ بھی رائے ہو۔ مضمون نگار نے تو حوالہ دے کر تنازعہ کو پیش کرنا ہی ہے۔
ویسے ویکیپیڈیا اگر حوالہ نہیں مانگتا تو کیا مانگتا ہے؟ میری رائے یا میرے مخالف نظریہ والے کی رائے؟ یہ کیسے معلوم ہو گا کہ میری رائے صحیح اور مستند ہے یا مضمون نگار کے حوالے مستند ہیں؟ فرض کریں میں ویکی پیڈیا پر اسلام کی کسی مستند شخصیت کے خلاف با حوالہ مضمون لکھوں تو کیا مجھے یہ حق نہیں ہو گا؟--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:00, 11 مئی 2015 (م ع و)
ویکیپیڈیا حوالہ کا خانہ پر کرنے کا نہیں کہتا، اگر کوئی اہل تشیع کا عقیدہ ہے تو وہ اہل تشیع کی بڑی شخصیات کی کتب سے ان کی طرف نسبت کر کے اسے بیان کرنے کا کہتا ہے۔ آپ یہ تو لکھ سکتے ہیں کہ، بعض، یا اکثر، یا فلاں فلاں جماعت، تحریک، تنظیم یا فلاں مفتی، یا مولانا، یا لوگ، یا حکومت کے نزدیک مختیار ثقفی وہی شخص ہے جس کے متعلق حضرت علی نے یہ پیش گوئی کی، لیکن کچھ اہل تشیع کے علماء یا اکثر اہل تشیع کے علماء یا مستشرق یا اہل سنت کے نزدیک یہ وہ شخص نہیں ہے۔

اب دیکھیں اس مضمون میں یہی بات باحوالہ تو ہے مگر جانبداری لیے ہوئے ہے۔

مگر آپ بضد ہیں کہ یہ میری رائے ہے، میری کوئی رائے نہیں، میں تو ویکی اصول کو لاگو کرنے کا پابند ہوں بس، میں نے سب سے پہلے جو اوپر لکھا اسے دیکھیں مجھے جو اعتراض تھا وہ وجوہات ساتھ میں ہیں۔ مستند حوالہ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بات حق ہو، مستند کا مطلب کہ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ اہل تشیع کے نزدیک مختیار ظالم تھا اور مکار تھا، اور کوئی بدلہ نہیں لیا ، بلکہ سب کچھ حکومت کے لئے کیا تو یہ بات آپ اہم شیعہ کتب اور اہل علم سے ثابت کرنی ہو گی کہ وہ یہ بات مانتے/سمجھتے/ یا رائے رکھتے ہیں۔ اس کو ہم اہل تشیع کی رائے قرار دیں گے۔ اہم بنیادی کتب اور اہم کلیدی شخصیات کی رائے کو مستند کہا جائے گا، حق نہیں، مستند کا مطلب ہو گا، ان کی رائے کا مستند حوالہ--«User-rollbacker-admin.gif عبید رضا » 18:07, 11 مئی 2015 (م ع و)