تبادلۂ خیال:وزیر اعظم بھارت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تو پیار کا ساگر ہے تیری اک بوند کے پیاسے ہم۔ سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی ہے رام۔ میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے اگلے ہیرے موتی ۔ہر کرم اپنا کرینگے آئے وطن تیرے لئے۔ ہم جئنگے اور مرینگے اے وطن تیرے لیے ۔ آے میرے پیارے وطن دل تجھ پہ قربان ہے۔

جب آے ہری کا بلاوا سب کچھ چھوڑ کے جانا پڑیگا ۔یہ آتما کو پرماتما میں کیسے زم کرنا ہے۔[ترمیم]

ہم سب کو علم حاصل کرنا فرض ہے ۔اور وہ علم حاصل کریں جس سے ہم اس جہاں میں اور بعد موت کے ہم جہاں جائیں ہم کو سکون حاصل ہو ۔من کی شانتی ہی سب سے بڑا گیان ہے۔ بھگوان ہم سب کو آپنے درشن کے لیے پیدا کیا ۔ تمام عبادت و پوجا کا اور زندگی کا حقیقی مقصد ہم آپنے پروردگار کو راضی کریں اور اس کے محبوب بندوں میں شامل ہو جائے ۔یہ ہی زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔ آخرت کا توشا کیاہے۔یہ معلوم کرنا اور اس کی حقیقت کو پانا ہم سب کو لازمی ہے۔آللہ تعالی نے یہ مختصر سی زندگی آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کو حاصل کرنے کے لئے عطا کی یاد رکھ سکندر کے حوصلے تو عالی تھے جب گیا دنیا سے دونوں ہاتھ خالی تھے ۔ ہم سب کو اس مقام سے خالی ہاتھ نہیں جانا ہے۔ آخرت کا توشا بنا لے کر جانا ہے۔ اک تو نہ ملا ساری دنیا ملے بھی توکیا ہے میری آنکھیں تجھ کو نہ دیکھے سارے جہاں کو دیکھے تو کیا ہے۔ بھگوان کا درشن ہی اللہ کا درشن ہے آللہ کا درشن ہی بھگوان کا درشن ہے۔سب کا مالک خالق حاکم حافظ ایک ہی ہے۔ پانی واٹر نیل وغیرہ وغیرہ ہر زبان میں پانی کو الگ الگ نام سے بولتے ہیں لیکن پانی کی صفت تو وہی رہے گی ک وہ ہر اک کی پیاس بجھاے ۔۔ ہم سب آتما ہیں اور بھگوان پرماتما ہے۔ ہم اگر قطرہ ہے تو وہ سمندر ہے۔ جو قطرہ مل گیا سمندر میں وہ قطرہ نظر نہیں آتا ۔ ایک ہوجائیں ساجد ومسجود ۔ ۔۔

یا  رب ایسی نماز ہونا تھا۔

نظر امتیاز ہونا تھا ۔۔۔۔ مجھ کو حاصل نیاز ہونا تھا۔ طاعت کیلیے کچھ کم نہ تھی کروبیان ۔ درد دل کیلئے پیدا کیا انسان کو ۔ تیری آنکھوں پہ پردہ پڑا ہے۔۔۔۔اس کے چہرہ پر پردہ نہیں ہے۔ آج بھی عام ہے اس کے جلوے کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔ جدھر دیکھوں ادھر آتا نظر اللہ ہی اللہ ۔زمین پر آسمان پر آللہ ہی اللہ ہے۔ آللہ کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا۔ آللہ شئرگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ برائی کر برا ہوگا بھلائی کر بھلا ہوگا ۔ کوئی دیکھے نہ دیکھے خدا دیکھ رہا ہے ۔ آللہ کے پاس دیر ہے آندھیر نہیں ۔ موسی علیہ السلام کی نا فرمانی فرون نے کی آج بھی اس کی لاش مصر کے میوزیم میں موجود ہے ہم سب کو عبرت حاصل کرنے کے لئے ۔ دنیا مسافر خانہ ہے۔۔موت کا ایک دن مقرر ہے۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی ۔ یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے نہ ملا ہی خدا نہ وصال صنم ۔۔نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ۔ سنبھل جاو جہاں والو قیامت آنے والی ہے ۔ سورگ یعنی جنت میں جانے کے لئے جنت والے کو حاصل کرنا ظروی ہے۔ خدا حافظ محمد عاقل الدین۔ (تبادلۂ خیالشراکتیں) 21:07، 5 جنوری 2020ء (م ع و)

بیرونی روابط کی درستی (اکتوبر 2020)[ترمیم]

تمام ویکیپیڈیا صارفین کی خدمت میں آداب عرض ہے،

ابھی میں نے وزیر اعظم بھارت پر بیرونی ربط میں ترمیم کی ہے۔ براہ کرم میری اس ترمیم پر نظر ثانی کر لیں۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو یا آپ چاہتے ہیں کہ بوٹ ان روابط یا صفحے کو نظر انداز کرے تو براہ کرم مزید معلومات کے لیے یہ صفحہ ملاحظہ فرمائیں۔ میری تبدیلیاں حسب ذیل ہیں:

نظر ثانی مکمل ہو جانے کے بعد آپ درج ذیل ہدایات کے مطابق روابط کے مسائل درست کر سکتے ہیں۔

As of February 2018, "External links modified" talk page sections are no longer generated or monitored by InternetArchiveBot. No special action is required regarding these talk page notices, other than ویکیپیڈیا:تصدیقیت using the archive tool instructions below. Editors have permission to delete these "External links modified" talk page sections if they want to de-clutter talk pages, but see the RfC before doing mass systematic removals. This message is updated dynamically through the template {{sourcecheck}} (last update: 15 July 2018).

  • If you have discovered URLs which were erroneously considered dead by the bot, you can report them with this tool.
  • If you found an error with any archives or the URLs themselves, you can fix them with this tool.

شکریہ!—InternetArchiveBot (بگ رپورٹ کریں) 22:54، 14 اکتوبر 2020ء (م ع و)