تبادلۂ خیال:پاکستان میں شیعیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عنوان[ترمیم]

شیعہ اسلام اور سنی اسلام اردو کی اصطلاحیں نہیں ہیں، ہمارے پاس ان سے بہتر اور زیادہ رائج اصطلاحیں موجود ہیں یعنی اہل تشیع یا شیعہ اور اہل تسنن یا سنی۔ اس صورت میں انگریزی اصطلاحوں کا چربہ بنانے کی ضرورت باقی رہتی ہے؟ :) یہ صارف منتظم ہے—خادم—  مورخہ 4 اپریل 2018ء، بوقت 12 بج کر 30 منٹ (بھارت) 07:00، 4 اپریل 2018ء (م ع و)

میں نے اہل تسنن کبھی نہیں سنا البتہ ”اہل سنت“ یا ”سنیت“ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اہل تشیع اور شیعیت — بخاری سعید تبادلہ خیال 08:11، 4 اپریل 2018ء (م ع و)
شیعیت کہا جاتا ہے اور خود شیعہ بھی اس اصطلاح کو اپنے لیے استعمال کرتے ہیں (یعنی سرل ورڈ میں نہیں آتا) --Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:39، 4 اپریل 2018ء (م ع و)
YesY تکمیلبخاری سعید تبادلہ خیال 09:58، 4 اپریل 2018ء (م ع و)
محترم شیعیت لفظ کا کوئی وجود نہیں ہے ادبی لحاظ سے شیعت درست ہے --Mjnkhan (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:29، 23 فروری 2019ء (م ع و)--Mjnkhan (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:29، 23 فروری 2019ء (م ع و)
ملاحظہ ہو اہل تشیع کا مضمون اور اس کا آغاز۔--مزمل الدین (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:47، 23 فروری 2019ء (م ع و)

- لفظ شیعیت کا وجود بھی ہے مستعمل بھی بیشمار کتب حوالہ موجود ہیں۔ آغاجہانگیربخاری (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:58، 23 فروری 2019ء (م ع و)