تبادلۂ خیال صارف:Dr. Hamza Ebrahim

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خوش آمدید![ترمیم]

ہمارے ساتھ سماجی روابط کی ویب سائٹ پر شامل ہوں: F icon.svg اور G 2014-04-24 22-48.png

Welcome! Bienvenue! Willkommen! Benvenuti ¡Bienvenido! ようこそ Dobrodosli 환영합니다 Добро пожаловать Bem-vindo! 欢迎 Bonvenon Welkom
(?_?)


Wikipedia laurier wp.png
بزمِ اردو ویکیپیڈیا میں خوش آمدید Dr. Hamza Ebrahim

السلام علیکم! ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اُردو ویکیپیڈیا کے لیے بہترین اضافہ ثابت ہوں گے۔
ویکیپیڈیا ایک آزاد بین اللسانی دائرۃ المعارف ہے جس میں ہم سب مل جل کر لکھتے ہیں اور مل جل کر اس کو سنوارتے ہیں۔ منصوبۂ ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری 2001 میں ہوا، جبکہ اردو ویکیپیڈیا کا اجرا جنوری 2004 میں عمل میں آیا۔ فی الحال اس ویکیپیڈیا میں اردو کے 147,401 مضامین موجود ہیں۔
اس دائرۃ المعارف میں آپ مضمون نویسی اور ترمیم و اصلاح سے قبل ان صفحات پر ضرور نظر ڈال لیں۔

Icona parla di Wikipedia.svg


بہتر ہوگا کہ آپ آغاز ہی میں درج ذیل صفحات پر نظر ڈال لیں:

WikiVote.png


Samarbetare.svg

یہاں آپ کا مخصوص صفحۂ صارف بھی ہوگا جہاں آپ اپنا تعارف لکھ سکتے ہیں اور آپ کے تبادلۂ خیال صفحہ پر دیگر صارفین آپ سے رابطہ کر سکتے ہیں اور آپ کو پیغامات ارسال کرسکتے ہیں۔

  • کسی دوسرے صارف کو پیغام ارسال کرتے وقت ان امور کا خیال رکھیں:
    • اگر ضرورت ہو تو پیغام کا عنوان متعین کریں۔
    • پیغام کے آخر میں اپنی دستخط ضرور ڈالیں، اس کے لیے درج کریں یہ علامت --~~~~ یا اس (Insert-signature.png) بٹن پر کلک کریں۔

Signature-guide-ur.png


Under construction icon-green.svg

ویکیپیڈیا کے کسی بھی صفحہ کے دائیں جانب "تلاش کا خانہ" نظر آتا ہے۔ جس موضوع پر مضمون بنانا چاہیں وہ تلاش کے خانے میں لکھیں اور تلاش پر کلک کریں۔

آپ کے موضوع سے ملتے جلتے صفحے نظر آئیں گے۔ یہ اطمینان کرنے کے بعد کہ آپ کے مطلوبہ موضوع پر پہلے سے مضمون موجود نہیں، آپ نیا صفحہ بنا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک موضوع پر ایک سے زیادہ مضمون بنانے کی اجازت نہیں۔ نیا صفحہ بنانے کے لیے، تلاش کے نتائج میں آپ کی تلاش کندہ عبارت سرخ رنگ میں لکھی نظر آئے گی۔ اس پر کلک کریں، تو تدوین کا صفحہ کھل جائے گا، جہاں آپ نیا مضمون لکھ سکتے ہیں۔ یا آپ نیچے دیا خانہ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔


  • لکھنے سے قبل اس بات کا یقین کر لیں کہ جس عنوان پر آپ لکھ رہے ہیں اس پر یا اس سے مماثل عناوین پر دائرۃ المعارف میں کوئی مضمون نہ ہو۔ اس کے لیے آپ تلاش کے خانہ میں عنوان اور اس کے مترادفات لکھ کر تلاش کر لیں۔
  • سب سے بہتر یہ ہوگا کہ آپ مضمون تحریر کرنے کے لیے یہاں تشریف لے جائیں، انتہائی آسانی سے آپ مضمون تحریر کر لیں گے اور کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔


-- آپ کی مدد کے لیے ہمہ وقت حاضر
محمد شعیب 09:50، 1 اپریل 2018ء (م ع و)

اعزاز آپ کے لیے[ترمیم]

Tireless Contributor Barnstar.gif ستارہ ان تھک صارف
مسلسل ویکی مضامین پر ترامیم کے صلہ میں اعزاز قبول فرمائیں۔ — بخاری سعید تبادلہ خیال 12:51، 3 اپریل 2018ء (م ع و)

Face-smile.svg شکریہ![ترمیم]

مجھے اچھا لگا ہے کہ آپ مضامین میں اضافہ کر رہے Thumbs-up-icon.svg بہت اچھے!۔ مگر فرقہ واریت سے کنارا کشی اختیار کریں۔ محمد علی جناح شیعہ مسلمان تھے یا سنی مسلمان اس کے لیے آپ نے جتنے حوالے پیش کیے ہیں میں اس سے زیادہ پیش بھی کر سکتا ہوں۔ اگر کوئی شخص مسلمان یا مسیحی یا یہودی یا ہندو یا شمن پرست یا زرتشتی ہے اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اوپر سے آپ خلاصہ ترمیم میں ”نا جواں مردی اور جھوٹ“ لکھ رہے ہیں ایسے تلخ لہجہ میں گفتگو کرنے سے ماحول خراب ہوگا آپ خود کے لہجے میں شیریں لائیں۔ پیشگی شکریہ — بخاری سعید تبادلہ خیال 02:17، 4 اپریل 2018ء (م ع و)

یہ سوال تو آپکو خود سے کرنا چاہیئے کہ قائد اعظم کے شیعہ مسلک کو تسلیم کر لینے میں کیا برائی ہے جبکہ آپ کے بقول انکے زرتشتی ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیئے۔ انکی زندگی میں انکے اثنا عشری شیعہ ہونے میں کسی کو کوئی شبہ نہ تھا، میں نے تو وقت کی قلت کے باعث صرف چند حوالے پیش کئے ہیں۔ انکا اور محترمہ فاطمہ جناح کا پہلے شیعہ طریقے سے جنازہ بھی ہوا تھا اور اسی طریقے سے انکی جائیداد بھی تقسیم ہوئی۔ اسی بنیاد پر انکے خلاف فتوے بھی نکلے۔ انکو زبردستی سنی کرنے کی کوشش ضیا دور میں شروع ہوئی اور ان کوششوں کی تاریخی بنیاد کوئی نہیں ہے۔ انکے رشتہ دار آج بھی اسماعیلی شیعہ ہیں اور جس مقدمے کا حوالہ آپ کے پیش کردہ مضمون میں ہے اس میں رشتہ داروں نے انکے اسماعیلی ہونے کا دعوی کیا تھا تاکہ انکی جائیداد میں اسماعیلی طریقے سے حصہ وصول کر سکیں مگر وہ دعوی عدالت میں مسترد ہو گیا۔ میرے خیال سے کھلے دل سے اس بات کو تسلیم کرنے سے مسلکی برداشت کا اظہار ہو گا۔ ورنہ تو یہی ظاہر ہو گا کہ ہم کسی شیعہ شخصیت کو اسکی اصلی شناخت کے ساتھ ہضم نہیں کر سکتے۔ اگر تسلیم نہ بھی کیا جائے تو حقیقت تو اپنی جگہ قائم رہے گی۔ کوئی بات دل پر نہ لیجئے گا! Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 07:32، 22 جون 2018ء (م ع و)

پاکستان میں شیعیت[ترمیم]

محترم حمزہ ابراہیم صاحب!

پاکستان میں شیعیت مضمون میں آپ نے بہت سارا مواد شامل کیا ہے، اچھی بات ہے، لیکن کئی مقامات پر موجود متن کا موضوع سے خاص تعلق ثابت نہیں ہوتا، مثلاً سرخی مفتی شامزئی کا فتویٰ اور تحریک طالبان پاکستان کا سارا مواد (دوسرے پیرے کی آخری دو سطور کے سوا) پاکستان میں دہشت گردی یا طالبان کی حمایت کا موضوع ہے۔ ویکیپیڈیا پر ہر ایک چیز کا طویل پس منظر نہیں دیا جاتا، ہاں، موضوع کی پہلی یا دوسری سرخی بعض موضوعات میں پس منظر کی ہوتی ہے (لیکن پس منظر کا براہ راست تعلق اصل موضوع سے ہونا لازم ہے) تقریباً یہی حال باقی سرخیوں کا ہے، سارا مضمون یا تو طالبان سے متعلق ہے یا دیوبندیوں کی افغان جہاد اور طالبان کی حمایت سے متعلق۔ براہ کرم اس سارے غیر متعلقہ مواد کو نکال کر، اگر موضوع سے متعلق باحوالہ مستند مواد ہے تو اس سے اضافہ فرمائیں، دوسری صورت میں اول الذکر کام مجھے یا کسی منتظم کو کرنا ہو گا۔ مزید دیکھیے، ویکیپیڈیا:ویکیپیڈیا کیا نہیں ہے، ویکیپیڈیا:اسلوب نامہ، ویکیپیڈیا:معتدل نقطہ نظر۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:58، 19 جون 2018ء (م ع و)
بہت شکریہ، آپکے تبصرے کی روشنی میں سرخیوں کو واضح تر اور مواد کو مختصر کیا ہے۔ مفتی شامزئی صاحب کے فتوے کے بعد وزیرستان اور سوات میں شروع ہونے والی مسلح تحریک نے شیعہ کشی میں بم کے استعمال کا نیا دور شروع کیا ہے جسکی وجہ سے اسکا ذکر ضروری ہے۔ پچھلے اٹھارہ سالوں میں ہونے والے خودکش دھماکوں کا تذکرہ اس پس منظر کے بغیر واضح نہیں ہو سکتا تھا۔ باقی سرخیوں میں بھی شیعہ کشی کے واقعات کے ارتقا سے متعلق مواد کو ہی شامل کیا ہے اور افغان جہاد کی تفصیلات میں جانے سے گریز کیا گیا ہے۔ شیعہ کشی پاکستانی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کا ذکر صرف مرنے والوں کے ذکر سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ ان واقعات اور حالات کا اجمالی ذکر بھی ضروری ہے جو اس قتل عام میں معاون ثابت ہوئے۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 07:14، 22 جون 2018ء (م ع و)
پاکستان میں شیعیت سے مراد، یہ ہے کہ، شیعیت اس خطے (موجودہ پاکستان کا جغرافیائی علاقہ) میں کب وارد ہوئی، اس کی تاریخ، اس میں مختلف پھر اسماعیلی، قرامطی، بوہری، اثناعشریوں کا بھی ذکر ہو گا، مختلف بادشاہوں کے شیعیت کے فروغ میں کردار، مختلف شیعہ مبلغین، اہم کتابیں، مدارس، تحریکیں، شیعیت اور سیاست، تحریک پاکستان میں شیعیت کا مجموعی کردار، شیعیت مخالف نظریات کا فروغ اور شیعہ نسل کشی یا شیعیت پر فتوی یہ سب فقط اس موضوع کا ایک جزو ہیں، لیکن آپ نے سارا مضمون دیوبندی اور وہابی نظریات طالبان کے نظریات (جن میں براہ راست شیعیت مخالف کا آپ نے ذکر ہی نہیں کیا)۔

آپ اس کو نئے سرے سے لکھیں، ابتدائیہ بے شک ابھی رہنے دیں، وہ بعد میں ہو جائے گا، پہلی سرخی تاریخ کی ہے، کہ شیعیت برصغیر میں کب اور کیسے داخل ہوئی، پھر اسی تاریخ کی ذیلی سرخیاں بنيں گی، سلطنت مغلیہ، انگریڑی دور، آزادی کے بعد وغیرہ۔ شیعہ کی علمی خدمات، شیعہ کی ادبی خدمات، شیعیت کے اثرات، شیعیت مخالفت، شیعہ سیاست، پھر اس سیاست کی ذیلی سرخیوں میں سیاسی جماعتوں کا ذکر۔ باقی آپ لکھنا چائیں تو الگ سے مضمون پاکستان میں شیعہ مخالف نظریات یا پاکستان میں شیعہ پر تشدد، پاکستان میں شیعہ نسل کشی، پاکستان میں۔ انگریزی ویکی پر شاید ہزارہ نسل کشی پر مضمون ہے بھی۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 10:20، 22 جون 2018ء (م ع و)

جناب عبید رضا صاحب میں نے عنوان "پاکستان میں شیعہ کشی" رکھا تھا اور اسی موضوع پر بڑی محنت سے حوالے جمع کئے۔ اس عنوان کو بعد میں ایک اور آپ جیسے محترم صاحب نے زیادہ پھیلا کر "پاکستان میں شیعیت" کر دیا تو میں نے اس میں قدیم تاریخ بھی شامل کر دی جس کو آپ "تاریخ" کے ذیلی عنوان میں پڑھ سکتے ہیں اور اس میں کافی مواد شامل کیا ہے۔ اگر آپ اس میں اضافہ کرنا چاہیں تو بے شک کریں مگر حوالے ہٹا کر میری محنت پر پانی نہ پھیریئے گا۔ وکی پیڈیا پر سینکڑوں صفحات والے پیجز بھی ہیں مثلا انگریزی میں قائد اعظم والاپیج دیکھیں۔ لہذا آپ اس میں جتنا چاہیں اضافہ کریں مگر جو تاریخی حوالے ہیں انکو یہیں رہنے دیں۔ موجودہ مواد کو میں نے پہلے ہی کافی مختصر رکھا ہے۔
دیو بندیت میں سے میں نے صرف شیعہ کشی کے اسباب کو یہاں ذکر کیا ہے جن کے بغیر اس مظہر کو سمجھنا ممکن نہیں۔ دیوبندیت کی بہت سی ابعاد ہیں اور شیعہ دشمنی ان میں سے محض ایک ہے۔ 
Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:45، 23 جون 2018ء (م ع و)
دوسری بات یہ کہ میرے خیال سے شاید آپ نے اس مضمون کا پہلا حصہ بعنوان "تاریخ" نہیں کھولا ہے۔ اس میں وادی سندھ میں شیعیت کی آمد اور زمانے کے ساتھ ساتھ اسکے ارتقا کو ہی بیان کیا گیا ہے۔

https://ur.m.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%AA نیز اسماعیلی، زیدی اور اثنا عشری شیعوں کا ذکر کیا گیا ہے اور مختلف بادشاہوں اور حملہ آوروں کے شیعیت پر اثرات کو بھی بیان کیا ہے۔ اگرچہ اس میں اضافے کی گنجائش سے انکار نہیں کر رہا۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:54، 23 جون 2018ء (م ع و)

اس مضمون کو محمد افضل نامی صارف نے پاکستان میں شیعہ اسلام کے نام سے شروع کیا تھا۔ پہلے بھی عرض کی کہ ویکیپیڈیا پر تجزیہ نہیں کیا جاتا کہ کیوں کر ایسا ہوا۔ یہ ذاتی رائے ( (ویکیپیڈیا:اصل تحقیق نہیں) کہلاتی ہے۔ ویکیپیڈیا تبصرہ، تنقید یا بحث مباحثے کی چوپال نہیں، یہاں ویکی اسلوب میں لکھا جاتا ہے۔ دیوبندی یا طالبان کیوں کر شیعہ پر حملے کرنے شروع ہوئے۔ اس سب کو دو تین سطور میں نمٹایا جا سکتا ہے۔ اس پورے مضمون میں صرف ایک بات ہے طالبان اور دیوبندی، دہشت گردی، پاکستانم یں شیعیت اس سے الگ موضوع ہے۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:00، 23 جون 2018ء (م ع و)
بھائی پچھلے اٹھارہ سالوں میں مفتی شامزئی صاحب کے فتوے کے بعد سے جو خودکش دھماکے ہوئے ہیں آپ ان کے بارے میں ایک پیراگراف تو شامل رہنے دیتے۔ اس طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔ گلگت سے کراچی اور کوئٹہ سے کشمیر تک سینکڑوں مرتبہ شیعوں کے اجتماعات پر دھماکے ہوئے اور انکو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ میں نام دیکھ کر مارا گیا۔ ان سالوں میں شیعہ کشی اپنے عروج پر رہی ہے۔ اسکو چھپانا ٹھیک ہے کیا؟ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:41، 23 جون 2018ء (م ع و)
محترم، دعوے اور حقیقت میں فرق ہوتا ہے، خودکش حملے باقی دنیا میں کیا مفتی شامزئی کی وجہ سے ہو رہے ہیں، کتنے دہشت گردوں نے کہا کہ انھوں نے یہ کام ان مفتی صاحب کے فتوے کے بعد کیا؟ پہلے بھی عرض کیا کہ برصغیر میں شیعیت اور پاکستانم یں شیعیت میں فرق ہے، پاکستانی علاقوں میں لکنھو یا دہلی سلطنت نہیں آتی۔ ہاں ان کا سرسری ذکر (بطور پس منظر) کیا جائے گا۔ اور مضمون میں پورا زور دیوبندیوں کی شیعیت مخالفت پر دیا گیا ہے، اور عجلت سے کام لیا گیا، شیعیت اور شدت پسندی، شیعیہ شدت پسند تنظیمیں، دیوبندی علما کا قتل، ایرانی انقلاب کے بعد پاکستان سے انقلاب برامد کرنے کے نعرے، یہ سب بھی اسی موضوع کا حصہ ہیں۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:50، 23 جون 2018ء (م ع و)

پاکستان میں خودکش دھماکے کرنے والے تمام گروہ اپنے کام کے شرعی جواز کے طور پر مفتی شامزئی صاحب کے فتوے کو پیش کرتے ہیں۔ یہاں باقی دنیا کی بات نہیں ہو رہی، پاکستان کی بات ہو رہی ہے اور اس میں دھماکے کرنے والے گروہوں کے رسالے اور سوشل میڈیا پر یہی فتوی بطور جواز پیش کیا جاتا ہے۔ اسی فتوے کی بنیاد پر وہ حکومت کی نظع میں آئے اور نامعلوم افراد کی جانب سے قتل ہوئے۔ پاکستان میں اس فتوے کے بعد دہشت گردی میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ مجھے آپ کے جذباتی پن اور پردہ پوشی پر تعجب ہوا ہے۔

Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:02، 23 جون 2018ء (م ع و)

آپ کہتے تو یہ رہے کہ اس مضمون میں بہت سے عنوانات کو شامل کرنا چاہتے ہیں، جس پر میں نے آپ سے اتفاق کیا اور وقت ملنے پر ان عنوانات پر حوالہ جات اکٹھے کر کے لکھنے کے بارے میں عزم بھی کر لیا تھا۔ مگر آپ نے الٹا شیعہ کشی کے اہم ترین دور، یعنی گزشتہ اٹھارہ سال، کے بارے میں دیئے گئے حقائق کے ذکر کو حوالوں سمیت مٹا دیا۔ آپ لکھنے کے انداز میں اپنی عقیدت مندی شامل کر سکتے تھے مگر ان کے ذکر کو مٹانا انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔ یہ کام وکی پیڈیا کے بجائے کسی فرقہ وارانہ اور جانبدار ویب سائٹ کے نصب العین سے میل کھاتا ہے۔ مفتی شامزئی کا فتوی روز روشن کی طرح سب کے سامنے ہے۔ میں نے اسکو ہو بہو نقل بھی کیا ہے۔ اس فتوے کے بعد پاکستان کے صدر پر دو، وزیر اعظم پر ایک خودکش حملہ ہوا۔ وزیر داخلہ معین الدین حیدر سمیت کئی حکومتی شخصیات اور انکے قریبی لوگ نشانہ بنے۔ تین ہزار شیعہ اور ایک ہزار کے قریب عام شہری قتل ہوئے اور ہزاروں زخمی ہو کر پوری عمر کیلئے معذور ہوئے۔ آپ دہشت گردوں کو دیوبندی کہنے پر بھی نالاں ہیں جبکہ میرے خیال میں انکو سنی کہنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ان میں بریلوی اور اہل حدیث بھی تھے۔ پاکستان میں دہشت گرد گروہ یا دیوبندی رہے ہیں یا شیعہ۔ شیعہ دہشت گرد گروہ سپاہ محمد کا میں نے ذکر کیا ہے۔ اگر آپ اس پر مزید روشنی ڈالنا چاہیں تو بے شک کریں مگر انکی شناخت نہ چھپائیں۔ ابہام جانبدار قیب سائٹس کی مجبوری ہو سکتا ہے مگر وکی پیڈیا جانبدار نہیں ہو سکتا۔ نیز انکا نشانہ بھی جو تنظیم تھی، یعنی سپاہ صحابہ، اسکی شناخت بھی بیان کریں۔ مقتولین کو صرف سنی علما کہنا کافی نہیں بلکہ انکی تعداد اور انکا دیوبندی تنظیم سپاہ صحابہ کا عہدیدار ہونا بھی سامنے لانا ہو گا۔

یہ رہی گیند اور وہ رہا میدان، اور غیر جانبدار ریفری آپکا ضمیر! Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:04، 23 جون 2018ء (م ع و)

کسی شخص کو ”ریفری“ کہنا کسی پڑھے لکھے یا ڈاکٹر کی نشانی نہیں، برا مت منائیں لیکن آپ کی ترامیم سراسر تفرقہ بازی ہے @Syedalinaqinaqvi: صاحب بھی میری بات سے اتفاق کریں گے۔ آپ جو مواد مضمون میں شامل کیے تھے وہ موضوع سے بالکل ہٹ کر تھا، پاکستان میں شیعیت سے مراد اس پاکستان میں اس کی تاریخ (پاکستان میں آنے اور 1947ء کے بعد کی)۔ چاہے حوالہ جات معتبر ہی ہوں لیکن معتدل نقطہ نظر کا ویکیپیڈیا پر خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ہاں آپ اپنا غیر متعلقہ مواد ہٹا کر ایک نیا مضمون بنا سکتے ہیں، ”ضد شیعیت“ (Anti-Shi'ism) کے عنوان سے۔ مگر اس میں کسی دوسرے مذہب یا فرقہ پر تنقید نہ ہو، ہاں آپ ذکر کر سکتے ہیں اس انداز میں ”کچھ لوگوں کا دعوی/کہنا ہے کر کے“۔ دوسری زبان کی ویکیپیڈیا (عربی و فارسی) والوں کو دیکھیے، وہ مل جل کر کام کرتے ہیں تب ہی وہ ہم سے بہت آگے ہیں اور اس طرح کی لڑائیوں میں نہیں الجھتے۔ وہاں مسلمان تو کیا یہود و مسیحی بھی کام کرتے ہیں، یہاں تو غیر فرقہ کو ہی ”Alien“ سمجھا جاتا ہے۔ امید ہے کہ آپ پاکستان میں شیعیت پر درستی کر کے غیر متعلقہ مواد نکال باہر کریں گے۔ شکریہ — بخاری سعید تبادلہ خیال 03:02، 24 جون 2018ء (م ع و)
آپ نے اب تک حسینیہ (Hussainiya) پر کیوں نہیں مضمون بنایا؟ :) — بخاری سعید تبادلہ خیال 03:10، 24 جون 2018ء (م ع و)

پاکستان میں خود کش دھماکوں کے پیچھے موجود اصلی عوامل پر پردہ ڈالنا فرقہ پرستی ہے۔ فتوی دینے اور اس پر عمل کرنے والوں نے اپنا کام کھلے عام کیا ہے۔ اسکی وجہ سے ہزاروں خاندان تباہ ہوئے اور اسکا ذکر کرنے سے روکنا محض فرقہ پرستی ہے اور کچھ نہیں۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 07:58، 24 جون 2018ء (م ع و)

اگر ہم نے خودکش حملوں کے اس جواز کا ذکر نہیں کرنا جو طالبان کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے، تو کیا جماعت اسلامی کے اس بیانئے کو پیش کریں کہ خودکش حملے امریکہ کی بلیک واٹر نے کئے؟ بلیک واٹر کو یکدم شیعوں سے کیا دشمنی ہو گئی اور قبائلی علاقوں میں پچھلے دو سو سال کی شیعہ مخالفت یکدم کیسے غائب ہو گئی جبکہ ہر خودکش دیوبندی ہوتا ہے اور دھماکے کا مقصد مذہبی اختلاف؟ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:13، 24 جون 2018ء (م ع و)

آپکی طرف سے فرقہ واریت کا الزام کئی دفعہ لگ چکا ہے۔ یہ اس وقت ٹھیک ہوتا جب میں نے شیعوں کی دہشت گرد تنظیم کا ذکر نہ کیا ہوتا۔ میں نے سپاہ صحابہ پر انکے حملوں کا ذکر کیا ہے۔ دوسری طرف عبید صاحب نے میرے پیش کردہ حوالے مٹانے کے بعد انکو دعوے قرار دیا ہے۔ جبکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ محض دعوے نہیں تھے۔ مفتی شامزئی کا فتوی آج بھی طالبان کے سوشل میڈیا کی زینت ہے۔ سپاہ صحابہ کی ہزاروں تقریریں اور سینکڑوں کتب اور پمفلٹ اسکی سوچ کا مستند ترین حوالہ ہیں۔ آپ ان سب حوالوں کو دیکھنے کے بجائے مجھے فرقہ واریت کا الزام کیسے دے سکتے ہیں؟ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:35، 24 جون 2018ء (م ع و)

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ جو بیانیہ پیش کیا گیا ہے وہ ٹھیک نہیں تو اسکو چاہیئے کہ حقائق کا ذکر اور حوالے مٹانے کے بجائے (بعض لوگوں کے مطابق) لکھ کر اپنا بیانیہ حوالون سمیت پیش کرے اور فیصلہ قاری پر چھوڑ دے۔ حوالے مٹانے کے بجائے انکا سامنا کرنا چاہیئے۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:55، 24 جون 2018ء (م ع و)

چاہے کوئی بات حقیقت ہی کیوں نہ ہو بات وپ:معتدل نقطہ نظر کی ہے! یہ ہماری ویکیپیڈیا کا اصول یہ آپ کا کوئی بلاگ نہیں ہے۔— بخاری سعید تبادلہ خیال 09:16، 24 جون 2018ء (م ع و)

معتدل نکتہ نظر دراصل انسان کے ذہن کی غیر جانبداری کے نتیجے میں حاصل ہونے والے بیانئے کا نام ہے۔ آپ نے سب سے پہلے مجھ پر فرقہ پرستی کا الزام تب لگایا جب میں نے قائداعظم کو شیعہ شخصیات میں شامل کیا اور حوالے کے طور پر پانچ مدارک پیش کئے جن میں انکے دوست ابو الحسن اصفہانی، دیوبند کے مفتی کفایت اللہ دہلوی اور مفتی محمود کے فتاوی جیسے قدیم ماخذ بھی شامل تھے۔ آپ نے وہاں جا کر لکھ دیا کہ قائد اعظم کچھ عرصہ شیعہ رہے پھر سنی ہو گئے۔ حوالے کے طور پر آپ نے چند سال قبل لکھا گیا ایک من گھڑت مضمون پیش کیا جس میں انکے ان رشتہ داروں کو سنی کہا گیا تھا جو آج بھی اسماعیلی ہیں۔ آپ اس وقت بھی مجھ پر کیچڑ اچھال رہے تھے۔ میں فرقہ پرست ہوتا تو بغیر حوالے کے بات کرتا اور لیاقت علی خان اور عبد الرب نشتر اور دیگر سینکڑوں سنی شخصیات کی مسلکی شناخت کو بدلنے کی کوشش کرتا۔ اب آپ یہاں کبھی عبید صاحب کی ہمرکابی میں مجھے فرقہ پرستی کا الزام دیتے ہیں اور وہ نہ بن پڑے تو سچ کو چھپانے کو اعتدال پسندی کہہ دیتے ہیں۔ بھائی آپ جو نصیحت مجھے کر رہے ہیں اس پر خود غور کریں تو یہ سب کرنے کی ضرورت نہ ہو گی۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 11:17، 24 جون 2018ء (م ع و)

آپ کو چاہیئے کہ خودکش دھماکوں والے پیرے کو دوبارہ جگہ دیں۔ اس میں جو حقائق میں نے لکھے ہیں انکو حوالوں سمیت رہنے دیں اور اگر انکے متبادل کچھ اور چیزوں کو پیش کرنا چاہتے ہیں تو انکو بھی وہاں لکھ دیں۔ اس مضمون میں بہتری اسی طرح آئے گی نہ کسی کی محنت کو کاٹ پھینکنے سے۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 11:31، 24 جون 2018ء (م ع و)

آپ گمراہ کر رہے ہیں میں اوپر کے اپنے الفاظ یہاں دوبارہ لکھ رہا ہوں: ”برا مت منائیں لیکن آپ کی ترامیم سراسر تفرقہ بازی ہے“ تو پاکستان میں شیعیت کے مضمون میں افغانستان کی بات کیوں شامل کی تھی آپ نے؟— بخاری سعید تبادلہ خیال 11:51، 24 جون 2018ء (م ع و)

آپ سیخ پا کیوں ہو رہے ہیں؟ ٹھنڈے دل سے اپنی اور میری باتوں پر غور کریں۔ پاکستان میں شیعیت کے ارتقا کو اس کے زمانی اور مکانی محل وقوع سے کاٹ کر کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ کیا یہاں شیعہ سنی تعلقات پر ہندوستان اور افغانستان کا کوئی تعلق نہیں رہا اور یہ لوگ الگ تھلگ رہے ہیں؟ ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ پختونوں پر مشتمل ہے جن کا ماضی اور حال افغانستان سے متاثر ہوتا رہا ہے۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:19، 24 جون 2018ء (م ع و)

آپ سمجھ نہیں میری بات کو۔ آپ کا ای میل رابطے کے لیے مل سکتا ہے؟ — بخاری سعید تبادلہ خیال 12:27، 24 جون 2018ء (م ع و)

حقائق کو بیان کرنا کیسے گمراہ کن ہو سکتا ہے؟ قبائلی علاقہ جات میں سب سے پہلا علاقہ جو انگریزوں کے زیر انتطام آیا وہ کرم ایجنسی تھی اور اسکی وجہ افغان بادشاہ امیر عبد الرحمان خان کا خوف تھا۔ اسی دوران ہزارہ شیعہ کی اکثریت کوئٹہ آئے اور وجہ وہی تھی۔ کرم ایجنسی کے بعد باقی علاقے بھی انگریزوں کی حکومت کا حصہ بنے۔ ایسا نہ ہوتا تو ڈیورنڈ لائن پشاور کے پاس ہوتی اور پاکستان کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ اسی مذہبی قتل عام نے اس علاقے میں شیعہ دیوبندی تصادم کی بنیاد رکھی جو پاکستان بننے کے بعد سے اب تک کئی زندگیاں نگل چکا ہے۔ کیا اسکا ذکر بے جا ہے؟ تو اس تصادم کی کیا تشریح کر سکتے ہیں؟ کہ چاند سے لوگ آئے اور جادو کر دیا؟ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:29، 24 جون 2018ء (م ع و)

جی بھائی میرے لیے آپ کے اکثر اعتراضات ناقابل فہم ہیں اور مجھے آپکی جذباتیت سے خوف نہ ہوتا تو اپنا ای میل بھی دے دیتا۔ آپ آرام سے ساری گفتگو پڑھیں اور ہو سکے تو کسی غیر متعصب شخص سے ڈسکس کر لیں۔ میرے الفاظ اگر اپ کو مناسب نہیں لگے تو انہی حوالہ جات کے ساتھ آپ اپنی مرضی کے الفاظ سے مضمون میں ترمیم کریں۔ میری برادرانہ التماس ہے کہ محنت سے اکٹھے کئے گئے حوالہ جات اور تاریخ ساز واقعات کے ذکر کو مٹانے سے گریز کریں۔ ان واقعات سے ہزاروں انسانوں کی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں اور آج کے حالات کو ان حقائق کے ذکر کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں۔ سید احمد بریلوی سے لیکر مفتی شامزئی صاحب کے فتوے تک، سب اہم ہے۔ اگر کوئی اضافہ کرنا چاہے تو بے شک کرے، مجھے صرف کمی کئے جانے اور اہم چیزوں کو چھپانے پر اعتراض ہے۔

Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:40، 24 جون 2018ء (م ع و)
پہلی بات تو یہ کہ سوشل میڈیا پر نامعلوم افراد ہوتے ہیں جو اپنے اپنے مقاصد کے لیے بہت کچھ اپلوڈ کرتے ہیں، دوسری بات میں نے حوالہ طلب کیا کن کن دہشت گردوں نے عدالت کے روبرو اقرار کیا کہ انھوں نے خودکش حملہ آور اس لیے تیار کیے یا ان کی مدد کی، کیوں کہ مفتی شامزئی نے فتوی دیا، میں نے فتوی کا انکار نہیں کیا، اس فتوی ہی کی وجہ سے اتنا کچھ ایک دم ہونے لگا، یہ چیز دعوا ہے۔ آپ شیعہ ہیں تو یقینا مجھ سے زیادہ جانتے ہیں کہ برصغیر میں شیعہ سنی اختلاف نئی بات نہیں، اور کفر کے فتاوی تمام ہی غیر شیعہ مکاتب فکر کی نامور شخصیات کی طرف سے مل جاتے ہیں، پاکستان میں 9/11 سے پہلے ہی جو شیعہ کشی ہوتی رہی، وہ کس فتوی کی وجہ سے تھی؟ سیاسی شخصیات کا قتل ضروری نہیں کہ فرقہ ورانہ تناظر ہی میں ہوا ہو۔ بلیک واٹر یا دیگر اسلام مخالف قوتیں کیا شیعہ یا سنی کی دوست ہیں جو ان کو ان سے کوئی دشمنی نہیں؟ میں نے یہ نہیں کہا کہ آپ دیوبندی کا لفظ استعمال نہیں کر سکتے، بل کہ آپ سنی کا استعمال نہ کریں، یہ مطلب ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپ اس بات پر زور دیں کہ سارے دیوبندی شیعہ کو کافر، واجب القتل قرار دیتے ہیں، یا شیعہ مخالفت تمام حملے دیوبندیوں نے کیے، اکثر کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اصولی طور پر ویکیپیڈیا پر ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی جا سکتی، کیوں کہ یہ عدالت نہیں کہ ہر صورت ایک کو مجرم اور دوسرے کو مظلوم ثابت کیا جائے۔ بل کہ یہاں پر آسان راہ ہے کہ پاکستان میں شیعہ کی تاریخ ان کی خدمات ان کےخلاف فتوی باز کا ذکر، ان کے علما، امام بارگاہوں، جلوسں پر حملوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سب میں کسی فرقے کو بار بار نام لے کر کہنا کہ وہ یہ سب کر رہے ہیں، جب کہ ان کی طرف سے اس معاملے میں مبہم موقف ہے، کہیں واضع اور کہیں اس عمل کو ظلم قرار دیا جاتا ہے۔ آپ طالبان، افغانستان، مدرسہ دیوبند کا قیام وغیرہ جیسے غیر متعلقہ موضوعات کو ترک کریں، اور پاکستان میں شیعیت پر فوکس کریں۔ آپ بریلوی مساجد پر قبضے کا ذکر لے آئے میلاد اور مزارات پر حملوں کا ذکر لے آئے، وہ پاکستانم یں تصوف اور پاکستانم یں بریلوی مکتب فکر کا موضوع ہے۔ یا پاکستان میں دہشت گردی وغیرہ کا۔ بہتر یہ ہے کہ ابھی بحث برائے بحث سے بچیں اور فی الحال شیعیت متعلقہ دیگر موضوعات پر لکھیں۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:42، 24 جون 2018ء (م ع و)


بھائی مفتی صاحب کا فتوی انکے مدرسے کے لیٹر پیڈ پر شایع ہوا نہ کہ سوشل میڈیا پر، اس وقت سوشل میڈیا تھا بھی نہیں۔ ان کے فتوے سے پہلے اور بعد کی دہشت گردی میں زمین اسمان کا فرق ہے۔ اس فتوے کا اثر بھی پختون علاقوں میں زیادہ ہوا جسکی وجہ ان علاقوں کی تاریخ ہے۔ طالبان کی آفیشیل ویب سائٹس اور انکے آفیشیل سوشل میڈیا پر یہی فتوی شرعی جواز کے طور پر پیش ہوا اور مفتی صاحب کے قد کاٹھ کی وجہ سے ہی سرکاری سرپرستی میں شایع ہونے والے خودکش مخالف فتاوی کا عملی طور پر اثر نہ ہو سکا۔ میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ اکثر دیوبندی شیعہ کشی پر یقین نہیں رکھتے۔ اسلئے بعض لوگ تکفیری کا لفظ استعمال کرتے ہیں جس کا میں نے اسلئے زیادہ استعمال نہیں کیا کہ کچھ لوگ اسکو بگڑا ہوا لقب سمجھ کر ناپسند کر سکتے ہیں۔ میں خود مفتی شامزئی صاحب جیسی برجستہ شخصیات کیلئے اس لفظ کا استعمال مناسب بھی نہیں سمجھتا۔ رہی بات پاکستان میں شیعیت کے بارے میں بات کرنے کی تو میرے مضمون کا نوے فیصد حصہ اسی بارے میں ہے۔ اعداد و شمار اور حوالے پیش کئے گئے ہیں۔ باقی باتیں ضمنی ہیں جن کو مختصر کیا جا سکتا ہے۔ آپ خودکش حملوں والے پیراگراف کو واپس شامل کر دیں تو اس کو مزید مختصر کر دوں گا۔ آپ خود بھی اسکو اپنی مرضی کے مطابق مختصر کر سکتے ہیں لیکن اہم حوالوں کو شامل ضرور کیجئے گا۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 13:31، 24 جون 2018ء (م ع و)

قیام پاکستان کے بعد سے آج تک جتنے لوگوں نے مذہبی بنیاد پر شیعہ قتل کئے ان میں سے ایک بھی بریلوی یا اہل حدیث کا نام پیش نہیں کیا جا سکتا۔ 1950 میں کرم ایجنسی پر حملہ ہو یا بھکر میں 1957 میں آغا محسن کا قتل، شروع سے ہی اس محاذ پر بعض دیوبندی ہی سرگرم رہے ہیں۔ آغا محسن کے قاتل نے تو مولانا نور الحسن بخاری کا نام لیا تھا۔ آپ ملک اسحاق، ریاض بسرا، داود بادینی، سب بڑے بڑے شیعوں کے قاتلوں کو دیوبندی علما کی سرپرستی اور افغانستان کے قندھار جیسے دیوبندی علاقوں میں پناہ سے بہرہ مند ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے واقعات کے تسلسل کی وجہ سے آپ کو لگا ہو کہ دیو بندی لفظ زیادہ استعمال ہوا لیکن اسکے استعمال نہ ہونے کی صورت میں بے گناہوں پر الزام چلا جائے گا۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 13:40، 24 جون 2018ء (م ع و)

درخواست[ترمیم]

السلام علیکم!

آپ حسینیہ (Hussainiya) پر مضمون بنا دیں گے؟— بخاری سعید تبادلہ خیال 14:41، 25 جون 2018ء (م ع و)

بھائی میں آجکل بہت مصروف ہوں لہذا وعدہ نہیں کر سکتا۔ اچھے معیار کی تحریر کیلئے تحقیق کرنا اور حوالے اکٹھے کرنا پڑیں گے۔

اجمالی بات یہ کہ برصغیر میں حسینیہ کے بجائے امام بارگاہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ نیز یہ مسجد سے الگ جگہ ہوتی ہے جس پر مسجد کے احکامات نہ لگتے ہوں۔ یہ ایک طرح کا کمیونٹی سنٹر ہے جو یہاں کے سماج کی ضرورت کیلئے بنایا گیا کیونکہ مسجد میں ہندو نہیں جا سکتے تھے۔ اسی طرح مسجد میں نیاز وغیرہ پکانے اور کھانے، وضو کے بغیر داخل ہونے، زنجیر زنی کرنے کو مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 15:24، 25 جون 2018ء (م ع و)

گزارش ہے کہ آپ سب سے پہلے شیعہ موضوعات پر لکھیں۔ — بخاری سعید تبادلہ خیال 16:35، 14 جولائی 2018ء (م ع و)

مدرسہ دیوبند[ترمیم]

جناب آپ پھر سے وہی غلطی دار العلوم دیوبند مضمون میں دھرا رہے ہیں، علما دیوبند کی کرامات یا لال مسجد کے مولانا کا خواب کا مدرسے کے مضمون سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کرامات کو الگ الگ متعلقہ شخصیت کے مضمون میں مناسب انداز میں شامل کیا جا سکتا ہے۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:28، 26 جون 2018ء (م ع و)

بہت شکریہ، دراصل اس مضمون میں خدمات کے بہت سے عنوانات تھے جن میں اس مکتب کی سوچ پر بات ہوئی تھی۔ اسلئے میں نے یہ عنوانات بھی شامل کئے۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:07، 26 جون 2018ء (م ع و)

ویکیپیڈیا:منصوبہ ایشیائی فلمی شخصیات، 2018ء[ترمیم]

جناب Dr. Hamza Ebrahim کی خدمت میں آداب عرض ہے۔

'ایشیائی فلمی شخصیات اردو ویکیپیڈیا پر ایک منصوبہ ہے جس کے تحت ایشیائی فلمی شخصیات کے متعلق مضامین تخلیق کرنے اور پرانے مضامین میں توسیع کرنی ہے۔ منصوبے کا آغاز 1 اکتوبر، 2018ء سے ہے اور اختتام 1 نومبر کو ہوگا۔ آپ سے منصوبے میں شرکت کی درخواست ہے۔

  • آپ باہمی تعاون کے اصول و ضوابط یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

  • آپ 11:59 PM (یو ٹی سی)، 1 نومبر 2018ء تک کسی بھی وقت شامل ہو سکتے ہیں۔

اس منصوبے کا اہم مقصد ایشیاء کی فلمی شخصیات کو اردو ویکیپیڈیا کے قارئین سے متعارف کروانا ہے۔ اردو ویکیپیڈیا پر کئی اہم ایشیائی اداکاروں، فلم پروڈیوسروں اور فلم ہدایتکاروں کے صفحہ/مضامین نہیں ہیں۔ اس منصوبہ کے ذریعے ہم ان سب اشخاص کا اردو ویکیپیڈیا کے قارئین سے متعارف کروا سکتے ہیں۔

امید ہے کہ آپ اس تعاون میں شامل ہو کر اردو زبان کی خدمت فرمائیں گے۔ اگر آپ کو اس ضمن میں کوئی سوال دریافت کرنا ہو تو بلا جھجھک یہاں رابطہ کریں۔ ممنون — ناظمین منصوبہ ایشیائی فلمی شخصیات (تبادلۂ خیال!)

حسیب احمد (تبادلۂ خیالشراکتیں) 10:24، 21 ستمبر 2018ء (م ع و)

رابطہ[ترمیم]

السلام علیکم

ممدوح کا ای میل، رابطہ نمبر یا ٹیلی گرام مل سکتا ہے؟— بخاری سعید تبادلہ خیال 17:12، 8 اکتوبر 2018ء (م ع و)

شکریہ بھائی، مصروفیت کی وجہ سے ذاتی رابطے کی معلومات نہیں دے سکتا۔ البتہ آپ نے جو حکم دیا تھا اس سلسلے میں مطالعہ کر رہا ہوں اور مواد تیار کر کے وکی پیڈیا پر لکھ دوں گا۔— سابقہ غیر دستخط شدہ تبصرہ بدست Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں)
جی شکریہ— بخاری سعید تبادلہ خیال 09:16، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)

ویکیپیڈیا:ویکیپیڈیا ایشیائی مہینہ[ترمیم]

محترم حمزہ ابراہیم صاحب!

گزشتہ سالوں کی طرح، اس سال بھی، ویکیپیڈیا ایشیائی مہینہ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جو یکم نومبر سے شروع ہو چکا ہے، اب ہمارے پاس 30 دن ہیں۔ آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ آپ کم از کم ایک نیا مضمون ایشیائی موضوعات (ایشیا کی شخصیت، شہر، تنظیم، کتاب، فلم وغیرہ) میں کسی موضوع پر لکھیں (آپ کا جس ملک سے تعلق ہوں، اس سے متعلق موضوع پر نہ ہو)، جو کم از کم 300 الفاظ اور 3 ہزار بائٹ پر مشتمل ہو۔ طریقہ کار کے تحت منصوبے میں شامل کریں۔ مزید معلومات ویکیپیڈیا ایشیائی مہینہ پر ملاحظہ فرمائیں!— بخاری سعید تبادلہ خیال 04:24، 7 نومبر 2018ء (م ع و)

عطیہ بن عوف یا سعد[ترمیم]

السلام علیکم!

سب علی میں عطیہ بن عوف لکھا ہے۔ اور انگریزی ویکیپیڈیا پر عطیہ بن سعد بن جنادہ۔ براہ مہربانی درستی کیجیے۔— بخاری سعید تبادلہ خیال 13:44، 28 مئی 2019ء (م ع و)

عطیہ بن سعد عوفی— سابقہ غیر دستخط شدہ تبصرہ بدست Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں)
شکریہ، جی تہذیب التہذیب میں بھی یوں درج ہے: 414 "بخ د ت ق – عطية" بن سعد بن جنادة العوفي الجدلي القيسي— بخاری سعید تبادلہ خیال 14:57، 28 مئی 2019ء (م ع و)

انگریزی ویکیپیڈیا[ترمیم]

1900 کے بعد کا ایک حوالہ یہ ہے۔ سب علی از ابن قاسم۔ https://books.google.com.pk/books?id=xxAVAAAAIAAJ&pg=PA126&dq=cursing+ali+muhammad+bin+qasim&hl=en&sa=X&ved=0ahUKEwjO1uP217_iAhURoRQKHXvnAGIQ6AEIJDAA#v=onepage&q=cursing%20ali%20muhammad%20bin%20qasim&f=falseبخاری سعید تبادلہ خیال 02:27، 29 مئی 2019ء (م ع و)

نیز اس کے قطعے کو عین اوپر نہ چسپاں کیا کیجیے۔ یہ جانبداری کے زمرے میں آئے گا۔— بخاری سعید تبادلہ خیال 02:29، 29 مئی 2019ء (م ع و)

بہت شکریہ، اسکو حوالے کے انداز میں لکھا اور مضمون میں دوبارہ ایک پیراگراف شامل کیا ہے۔ یہ ایک اہم علمی نکتہ ہے جس کو چھپایا نہیں جانا چاہیئے۔ مجھے لگتا ہے وہ دوبارہ کسی بہانے سے اس ٹکڑے کو مٹا دینگے، آپ نظر رکھیں اور ہو سکے تو لاک کر دیں۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 03:01، 29 مئی 2019ء (م ع و)

آپ وہاں حوالہ Derryl N. MacLean, "Religion and Society in Arab Sind", page 126, E. J. Brill (1989). کی جگہ یوں پیسٹ کر دیں Derryl N. MacLean, "[https://books.google.com.pk/books?id=xxAVAAAAIAAJ&pg=PA126&dq=cursing+ali+muhammad+bin+qasim&hl=en&sa=X&ved=0ahUKEwjO1uP217_iAhURoRQKHXvnAGIQ6AEIJDAA#v=onepage&q=cursing%20ali%20muhammad%20bin%20qasim&f=false Religion and Society in Arab Sind]", page 126, E. J. Brill (1989).
بخاری سعید تبادلہ خیال 03:26، 29 مئی 2019ء (م ع و)

ان صاحب نے پھر بھی اس حصے کو مٹا دیا۔ ہر دفعہ ساتھ بین لگانے کی دھمکی بھی دیتے ہیں۔ آپ انکے ایڈٹ کو واپس کر سکتے ہیں؟ جتنے بھی حوالے پیش کئے انہوں نے کسی دلیل کے بغیر حذف کر دیئے۔ Dr. Hamza Ebrahim (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:33، 29 مئی 2019ء (م ع و)

کوٹلیا پاکستان مخالف ترامیم کرتے ہیں یہ اسی کا حصہ ہے۔ میں وہاں مذہبی موضوعات میں نہیں پڑتا۔— بخاری سعید تبادلہ خیال 19:16، 29 مئی 2019ء (م ع و)

عید مبارک[ترمیم]

بدون_چوکھٹ

السلام علیکم!

عید الفطر کے پر مسرت موقع پر تمام امت مسلمہ کو بہت بہت مبارک باد (تقبل اللہ منا ومنکم)۔ اللہ ہم سب کی رمضان المبارک میں کی جانے والی عبادات کو قبول فرمائے اور عید کی حقیقی خوشیاں نصیب فرمائے آمین۔MediaWiki message delivery (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:38، 4 جون 2019ء (م ع و)