تبادلۂ خیال ویکیپیڈیا:تعارف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آزادی اظہارِ خیال[ترمیم]

بہت اچھا ھے لیکن اس میں آزادی اظہارِ خیال کا حق تمام صارفین کو ھونا چاھیئے نہ کہ کسی کے خیالات کوپابند کیا جائے گل وھاب طاھری (تبادلۂ خیالشراکتیں) 06:08، 17 جون 2020ء (م ع و)

تبادلہ خیال[ترمیم]

میں ویکیپیڈیا کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور میں گاہے بگاہے اپنی تحاریر اور خیالات شٸیر کرتا رہوں گا امید ہے پذیراٸی ملے گی عطا الرحمٰن جامی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 03:44، 12 جولائی 2021ء (م ع و)

لوگ کیا کہیں گے[ترمیم]

لوگ کیا کہیں گے اس جملے کی بازگشت ہر وقت ہمارے کانوں میں گونجتی رہتی ہے۔ آج انسان اس نہج پر ہے کہ وہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کام کا انجام سوچنے کے بجائے یہ سوچتا ہے لوگ کیا کہیں گے؟ یہ جملہ صرف جملہ نہیں رہا بلکہ نفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔

کوئی اپنے لباس میں تبدیلی چاہتا ہے کوئی اپنا طرز زندگی بدلنا چاہتا ہے، اولاد شادی کے قابل ہے والدین پریشان ہیں، کوئی پسند کی شادی کرنا چاہتا ہے، کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے توکوئی اس پیشے کواپنانا نہیں چاہتا۔ یہ سب باتیں بجا ہیں مگر پوری نہیں ہو سکتی سماج آڑے آ جاتا ہے۔ سماج /معاشرہ کیا ہے؟ یہ لوگ کون ہیں؟

پچاس یا سو لوگوں کی مجلس میں سے آپ کسی بھی شخص کو کہیں کہ فلاں شخص گفتگو کرے یا صرف چند لفظ ہی بول دے تو وہ نہیں بول سکتا اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ شخص بول نہیں سکتا یا اس کے پاس الفاظ نہیں ہیں بلکہ میرے خیال میں ہو سکتا ہے وہ شخص بہت اچھا بول سکتا ہو لیکن وہ اس جملے سے خوف زدہ ہو جاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، لوگ کیا سوچیں گے، لوگ اس پر ہنسیں گے اگر اس کی زبان پھسل گئی یا کوئی لفظ غلط ادا ہو گیا۔ اس طرح تعلیمی اداروں میں کمرہ جماعت میں بچے کو اکثر سوال کا جواب آتا ہے لیکن وہ خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ بچے ہی کیا بڑوں کا بھی یہی حال ہے کالجز، یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طالب علموں کی صورتحال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔

ہر انسان کے جذبات و احساسات ہوتے ہیں۔ جذبات و احسات جنس نہیں دیکھتے لیکن لوگ دیکھتے ہیں لوگ جذبات کو بھی کٹہرے میں کھڑا کردیتے ہیں۔ جذبات و احساسات مرد اور عورت میں فرق نہیں کرتے مطلب مرد ہو یا عورت دونوں ہی جیتے جاگتے انسان ہیں اس لیے ان کے احساسات و جذبات ہیں۔ چھٹی یا ساتویں جماعت کا بچہ لے لیں اگر کلاس کی بچی روئے یا اس کے آنسو نکل آئے تو وہ رو سکتی ہے لیکن ایک لڑکا نہیں رو سکتا اگر لڑکا رونے لگے تو کہا جاتا ہے تم کیا لڑکیوں کی طرح رو رہے ہو مرد بنو مرد۔ یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت کی نسبت زیادہ مضبوط بنایا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مرد کے جذبات نہیں ہیں اس کا بھی دل ہے اس کے جذبات ہیں جنہیں ٹھیس لگے تو وہ بھی رو سکتا ہے۔

اسی طرح کوئی بچہ کلاس میں، رزلٹ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتا تو اسے نالائقی کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ ہر بچہ ایک جیسی صلاحیت کا حامل نہیں ہوتا جس طرح ایک بیل پہ لگے تمام انگور میٹھے نہیں ہوتے، اگر وہ پڑھائی میں اچھا نہیں ہے، زیادہ لائق نہیں ہے تو اسے اس کی ذہنیت کے مطابق پڑھنے دیں۔ اس کے اندر جو غیر معمولی اور انفرادی صلاحتیں ہیں ان کو پہچانیں یہ نہ سوچیں لوگ کیا کہیں گے۔

میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہیں یہ جملہ اکثر سننے کو ملتا ہے۔ جس طرح یہ دونوں دکھ سکھ کے ساتھی ہیں اس طرح ان کی گھر میں ساجے داری ہونی چاہیے۔ کیا فرق پڑتا ہے اگر شوہر بیوی کا گھر کے کام میں تھوڑا بہت ہاتھ بٹا دے۔ اول تو زیادہ تر شوہر یہ کام کرتے ہی نہیں اور اگر کردیں تو ان کو زن مریدی کے طعنے دیے جاتے ہیں۔

لوگ کیا کہیں گے اس سوچ نے انسان کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیا ہے انسان اس وجہ سے کھوکھلا ہو گیا ہے۔ انسان کے کچھ سوچنے، اس کے کچھ کر دکھانے کی صلاحیت دب کر رہ گئی ہے۔ دوسروں سے آگے بڑھنے، ان جیسا خود کو دیکھنے کے چکر میں انسان حقیقت سے دور ہو گیا ہے۔ انسان دکھاوے کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ آج کل شادیوں میں بے جا اخراجات بھی اسی جملے کے مرہون منت ہیں۔ ایک غریب آدمی جس کے لیے اس کے کنبے کی کفالت کرنا مشکل ہے وہ اس فقرے سے بچنے کے لیے لوگوں میں اپنا مرتبہ بنانے کے لیے بے جا اخراجات کرتا ہے جو قرض کی صورت میں کالا سایہ بن کر دن رات اس کے گرد منڈلاتے ہیں۔ اس کی پوری زندگی کالا سایہ بن جاتی ہے۔ اگر کسی کی شادی نہیں ہوتی، کسی کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور کوئی اولاد نرینہ چاہتا ہے، کسی کا گھر چھوٹا ہے، اس طرز کے اور بہت سے مسائل ”لوگ کیا کہیں گے“ کی نذر ہو جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جینے کی، اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی آزادی دی ہے لیکن انسان نے اپنے گرد غیر ضروری قسم کی رسومات کے دائرے بنا لیے ہیں۔ جس میں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پھنس گیا ہے۔ اگر لوگوں نے یہ سوچنے کے بجائے کہ لوگ کیا کہیں گے اس بات پر توجہ دی ہوتی کہ ہم کیا چاہتے ہیں تو وہ ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہوتے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو اس جملے کی فکر نہ کرتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھتے دیکھا ہے۔ ان کی زندگی اس لیے کا میاب ہوئی کیوں کہ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ لوگ کیا کہیں گے۔

دنیا کا سماج کا سامنا کریں، یہ دنیا یہ سماج آپ سے ہے، زندگی آپ کی ہے تو فیصلہ بھی آپ کا ہونا چاہیے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ سماج کو بالکل نظر انداز کر دیں بلکہ سماج کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کو سنواریں، بنائیں اسے ترتیب دیں۔ ہر چیز کا ایک مقصد ہوتا ہے کوئی بھی چیز بے مقصد نہیں ہوتی اس لیے سماج کو بھی بنیادی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ اپنی زندگی کا کوئی مقصد طے کریں کہ آپ کیا چاہتے ہیں آپ وہ کریں جو آپ کو خوشی اور اطمینان دے۔

جو آپ کے پاس ہے اس سے مطمئن ہو جائیں لوگوں کی طرف دیکھنا ان کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں۔ ورنہ زندگی کا دائرہ تنگ سے تنگ تر ہو جائے گا۔ یہی عمل انسان کو مثبت سے منفی سوچ کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ لوگ کون ہیں؟ یہ لوگ آپ ہیں یا میں ہوں۔ اگر ہر انسان انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کرے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ شروعات ہمیشہ خود سے کرنی چاہیے اس لیے شروعات خود کریں، نہ کسی پر بات کریں اور نہ کسی کو بات کرنے کا موقع دیں۔ مثبت سوچ ہی مثبت عمل کی طرف راغب کرتی ہے۔ اس لیے مثبت سوچیں اور اپنوں اور دوسروں کی زندگی آسان بنائیں۔ یہ بھی نہ ہو کہ آپ اتنے سنجیدہ ہو جائیں کہ زندگی کے مزے نہ لیں۔ زندگی ایک بار ملتی ہے اس لیے زندگی سے لطف اٹھائیں۔ محمد بابر سجافی عطا الرحمٰن جامی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 03:48، 12 جولائی 2021ء (م ع و)

میرا وطن پاکستان[ترمیم]

دس ستمبر 1945 ء کو ایک تقریب کے موقع پر قائد اعظم نے فرمایا :- " ہمارا نظریہ قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ قرآن غور سے پڑھیں۔ قرآنی نظریہ کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے سامنے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کر سکتی"

اور ہم با حیثیت مسلمان دوسرے کیسی نظریےکو پسند بھی نہیں کر سکتے ۔۔


1947 ء کو انتقالِ اقتدار کے موقع پر جب حکومت برطانیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے لارڈ ماونٹ بیٹن نے اپنی تقریر میں کہا کہ :

" میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہوگا اور ویسے ہی اصول پیش نظر رکھے جائیں گے جن کی مثالیں اکبر اعظم کے دور میں ملتی ہیں "

تو اس پر قائد اعظم نے برجستہ فرمایا :

" وہ رواداری اور خیر سگالی جو شہنشاہ اکبر نے غیر مسلموں کے حق میں برتی کوئی نئی بات نہیں۔ یہ تو مسلمانوں کی تیرہ صدی قبل کی روایت ہے۔ جب پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہودیوں اور عیسائیوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے ساتھ نہ ّ صرف انصاف بلکہ فیاضی کا برتاو کرتے تھے۔ مسلمانوں کی ساری تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ہم پاکستانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ہی پاکستان کا نظام چلائیں گے"۔۔

نہایت ہی بہترین اور سلجھے ہوئے خیال قائد اعظم محمد علی جناح کے ۔۔اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کے کیا ہم اپنے وطن عزیز کے ساتھ ایمانداری کر رہے ہیں یا بے ایمانی ؟؟

اس وطن نے ہمیں صلاحیتوں کے اظہار کے لاتعداد مواقع فراہم کیے، اس ملک کی وجہ سے ہماری زندگی میں ان گنت آسائشیں آئیں، اس ملک کی وجہ سے ہماری نسلوں نے آزاد فضاؤں میں سانس لیا، اس ملک کی وجہ سے ہم بہترین لباس پہننے کے قابل ہوئے، اس ملک کی وجہ سے ہم بہترین کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اس ملک کی وجہ سے دنیا گھومتے ہیں، گرمیوں میں ٹھنڈے مقامات کا سفر کرتے ہیں تو سردیوں میں اپنے گھروں کو گرم کرنے کا سامان رکھتے ہیں، اس ملک کی وجہ سے ہم بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، اس ملک کی وجہ سے دنیا کے مشہور برانڈز استعمال کرتے ہیں، اس ملک نے ہمیں اندرونی و بیرونی طور پر بے پناہ عزت، مرتبہ اور مقام دیا، اس ملک نے ہمیں اپنی خوشیوں کو منانے کے مواقع اور وسائل فراہم کیے

اس ملک نے ہمیں پہچان دی اس ملک نے ہم ہر طرح سے دینی فرائض انجام دینے کی مکمل چھوٹ دی اس ملک نے ہمیں دوسرے ملکوں کے لوگوں کی غلامی سے نجات دی اس ملک نے ہمیں ہر وہ سہولت دی الحمداللہ جو ایک زندہ انسان کے لیے ضروری ہے۔۔

یقین کریں ہم بہت ہی خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں میری کچھ غیر ملکی دوستوں سے ملاقات ہوئی وہ جس اذیت کی زندگی گزار رہے ہیں یہ ان کا دل ہی جانتا ہے روڈ پر چلتے ہوئے کیسی کو با آواز بلند سلام نہیں کر سکتے ہر شہر میں جا کے اپنی پہچان نہیں کروا سکتے سنت رسول محمــﷺــد نہیں رکھ سکتے اقلیتی والا درجہ ہے شکر ادا کریں اور قدر کریں اس انمول نعمت کی جو ایک ایٹمی طاقت ہے ۔۔

دشمن نے اتنے سال ہر ممکن کوشش کر لی کے میرے ملک پاکستان کو کیسی طرح ختم کردوں ہر حربہ استعمال کیا ہے اور آج بھی کر رہے ہیں مگر ان کو شاید یہ معلوم نہیں ہے یہ پاک وطن ایک معجزہ ہے اور معجزے کبھی مٹا نہیں کرتے

لگالو اپنا ضرور جتنا لگا سکتے ہیں اے دشمنوں تم اس کی ایک اینٹ تک نہیں گرا سکتے۔۔۔ ان شاءاللہ

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہم نے اس ملک کو کیا دیا ؟؟؟

کیا ہم نے چوری نہیں کی کیا ہم نے اس سے غداری نہیں کی ہم نے اس ملک کو ترقی کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ؟؟

ساری باتیں بھول کر نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرتے ہیں الگ الگ پارٹی کی سپورٹ کرتے رہو مگر پہلی سپورٹ پاکستان پہلی پسند پاکستان پہلی محبت پاکستان ❤

اللہ ربالعزت میرے ملک پاکستان کو ہمیشہ قائم ودائم رکھے

پاکستان تا قیامت زندہ باد۔۔۔ M Ali Shaikh (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:15، 8 نومبر 2021ء (م ع و)