تبادلۂ خیال ویکیپیڈیا:دیوان عام/وثائق/وثائق اول/ہشتم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Archive یہ صفحہ وکیپیڈیا کی تاریخ کا حصہ ہے۔ براہ مہربانی اس صفحہ میں ترمیم نہ کیجیۓ؛ موجود صفحہ براۓ تبادلۂ خیال پر رجوع کیجیۓ۔

پانچ ہزار مقالات پر بیان

پاکستان اور ناپاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوۓ بےحس اور ناکارہ اردو دوانوں ، عالموں ، اردو تحقیقاتی اداروں ، ذمہ دار تنظیموں ، ایم اییوں اور پی ایچ ڈیوں کیلیۓ گنتی کے چند افراد کی جانب سے چھوٹے بڑے ، اچھے یا برے ، سائنسی ، ریاضیاتی ، تاریخی و جغرافیائی پانچ ہزار مقالات کا شاندار طمانچہ! سمرقندی

  • سب کو مبارک ہو۔ میرے خیال سے اور کام کی ضرورت ہے مگر یہ چند لوگ نہیں کر سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صارفین کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ مختلف موضوعات پر مقالوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔ پانچ ھزار مقالات ہونے کے باوجود اردو کا نمبر گر کر 85 واں ہو گیا ہے۔ ایسی زبانوں کے مقالات کی تعداد اردو سے زیادہ ہے جن کے بولنے والوں کی تعداد اردو والوں سے ایک چوتھائی سے بھی کم ہے۔ انشاءاللہ کوشش جاری رہے گی مگر صارفین کی تعداد بڑھائے بغیر چارہ نہیں اور اس بارے میں کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔

بہرحال یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ اور میں سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اردو مقالات میں شعر و شاعری کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے خصوصاً ریاضی اور سائنس کے مقالات۔ اور یہ کامیابی واقعی چند افراد کی مرہونِ منت ہے۔ --سید سلمان رضوی 13:27, 17 مارچ 2007 (UTC)

مجھے خود بھی یقین نہیں آتا کہ دوسو سے پانچ ہزار کا سفر کیسے ہوا؟ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم لوگوں کوبتائیں کہ ہمارے پاس کیا کچھ ہے۔ ایک تجویز میری یہ تھی کہ جو ویب سائٹس آن لائین اردو کتابیں بیچتی ہیں ان سے رابطہ کیا جاۓ۔ان کے روابط متعلقہ کتابوں کے مضامین پردیے جائیں اور ان کی ویب پر ہمارا ربط ہو۔سیف اللہ (تبادلۂ خیال) 18:32, 17 مارچ 2007 (UTC)
  • میری چند دن کی غیر حاضری کے دوران یہاں 5 ہزار مقالات مکمل ہوئے، بہت زیادہ خوشی ہوئی کہ ہم نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا۔ حالانکہ ہونا تو ہمیں 50 ہزار سے آگے چاہیے تھا لیکن اردو زبان کی موجودہ صورتحال میں یہ 5 ہزار بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ بہت لوگوں نے سخت محنت کرکے اسے اس مقام تک پہنچایا ہے جس پر داد نہ دینا بخل ہوگا۔ اب ہمارا پہلا ہدف 10 ہزار مضامین ہونا چاہیے جس کے لیے اتنا وقت نہیں لگنا چاہیے جتنا ان 5 ہزار میں لگا ہے۔ بہرحال جب میں اکتوبر 2006ء میں آیا تھا تو شاید ڈھائی ہزار مضامین تھے اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ہم نے 2004ء سے 2006ء تک کیے جانے والے کام کو ڈبل کرنے میں محض 6 ماہ لگائے ہیں جو قابل تعریف ہیں۔ ویسے سیف صاحب کی بات درست ہے کہ یقین نہیں آتا کہ یہ سفر کیسے ہوگیا؟ Fkehar 04:29, 19 مارچ 2007 (UTC)
  • مل گیا!! اردو وکیپیڈیا پر 13 اگست 2006ء کو دو ہزار مضامین مکمل ہوئے تھے، ماشآ اللہ اگلے تین ہزار مضامین صرف 7 ماہ میں مکمل ہوا ہے جو قابل تعریف ہے۔ بہت سارے حضرات اس بات کا شکوہ کررہے ہیں کہ وکیپیڈيا پر کئی زبانیں اردو سے آگے ہیں، میرے بھائی! کبھی ان وکیپیڈیاز پر جاکر دیکھ بھی لیں کہ انہوں سے کس طرح اپنے مضامین کی تعداد بڑھائی ہے، مثال کے طور پر ہندی، کبھی ادھر کا نظارہ کریں تو آپ کو احساس ہوگا کہ اردو وکیپیڈیا کتنا بہتر ہے۔

سمرقندی صاحب "ناپاکستان" کا طنزیہ لفظ بہت کچھ کہہ رہا ہے!! ایک تیر میں دو شکار کیے ہیں آپ نے طنز کے ۔۔۔۔۔۔ والسلام Fkehar 12:03, 19 مارچ 2007 (UTC)

  • فہد بھائی کیوں دکھتی ہوئی رگ پہ ہاتھ رکھتے ہیں ۔۔۔

صفحہ اول پر درج شعر آپ ہی کے لیۓ ہے :-) سمرقندی

انداز گفتگو

میں نے یہ بات دیکھی ہے کہ نۓ آنے والوں کو بلاوجہ پریشان کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ انکے مضامین میں غیرضروری کانٹ چھانٹ کی جاتی ہے جو کہ کسی بھی طرح قابل برداشت نہیں۔ نۓ آنے والوں کو کوئی پیغام دیا جاۓ تو انکے تبادلۂ خیال پر اور قابل عزت و احترام کے انداز میں دیا جاۓ، شہنشاہیت نا دکھائی جاۓ ۔ ویکیپیڈیا پر جن لوگوں کا نام منتظمین کے صفحہ پر ہے، ویکیپیڈیا ان کی میراث نہیں ہے۔ بلاوجہ قوائد و ضوابط کی بھر مار نہیں کرا کیجیۓ نۓ آنے والوں کے ساتھ، آپ کو نہیں معلوم کہ ہوسکتا ہے وہ نیا آنے والا آپ سے بہت بہتر جانتا ہو اور آپ سے زیادہ قابل ہو۔ سمرقندی

اردو لفظوں کا پیغام اردو وکی پیڈیا کے ساتھیوں کے نام

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ اِدھر ہماری کیا حیثیت ہے؟

وہ اردو الفاظ جو عام بول چال میں استعمال ہوتے ہیں انھیں اردو وکیپیڈیا کے تعارفی صفحات سے غائب رکھا جاتا ہے۔ ان کی جگہ دوسری زبانوں کے لفظوں بالخصوص عربی کے الفاظ کو بلاضرورت اور جان بوجھ کر استعمال کیا جارہا ہے جوکہ اردو کے الفاظ کی حق تلفی ہے ایسا لگتا ہے جیسے اردو وکیپیڈیا کی سرکاری زبان عربی ہے۔

اردو وکی تو انٹرنیٹ کی اجنبی دنیا میں اپنے گاؤں مانند ہونی چاہیۓ مانوس، جانی پہچانی اور اپنی اپنی سی۔

ہم دیسی الفاظ کو نظر انداز کر کے اور پردیسی الفاظ کو اردو وکی کے منہ پر ٹھونس تھوپ اور ٹھوک کر کیا ملا؟ ایک ایسا وکیپیڈیا جسے لوگ دور سے ہی سلام کر کے ہی گزر جاتے ہیں۔

اگر تصفح کے بجاۓ کھوجی اور زبراثقال ملف کے بجاۓ فائل چڑھائیں لکھا جاۓ اور دیوان عام کے بجاۓ پن گھٹ، بیٹھک یا چوپال لکھا جاۓ تو کیا پڑھنے والا بات بہتر انداز میں نہیں سمجھ سکے گا؟

آسان، دیسی یا عام مستعمل لفظ اردو وکی پر منع کیوں ہیں؟؟؟ صارف جدید کے بجاۓ نیا ساتھی میں کیا برائی ہے سواۓ اس کے کہ یہ ہمارے شناسا الفاظ ہیں درامد شدہ نہیں دوسری زبانوں کے الفاظ اردو کا حسن ہیں مگر جس بے ڈھنگے انداز میں انہوں نے اردو وکی پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ یہ بالکل نامناسب ہے اور ان الفاظ نے اردو وکی کو ثقیل بنا کے رکھ دیا ہے۔

آج سے 119 سال پہلے 1888ء میں جب نیشنل جیوگرافک سوسائٹی قائم ہوئی تو ان لوگوں نے اس کے میگزین کے لۓ 9 سالہ امریکی بچے کے معیار کی زبان کو میگزین کی زبان کا معیار قرار دیا۔ دنیا کے اس سب سے بڑے سائنسی اور تعلیمی ادارے نے تو اپنا معیار رکھ لیا تھا۔ کیا اردو وکی کا بھی کوئی معیار ہے؟؟ یہاں یہ حالت ہے کہ اگر دیسی یا عام نام استعمال کیا جاۓ تو اسے "سطحی" کہہ کر بے عزت کر دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ عربی کا لفظ جوڑ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اب بات "عالمانہ" ہو گئی ہے۔ واہ واہ۔ یعنی چین کے بازاروں میں فارسی میں صدا لگا کر مال بیچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

کبھی کسی بہانے سے یا اکثر بغیر کسی بہانے کے ہی عربی کے الفاظ کو جوڑ دیا جاتا ہے سمجھ میں کسی کو آۓ یا نہ آۓ۔ اردو وکی کی موجودہ صورت حال کوئی نئی نہیں شاید ایسا پہلے بھی ہوتا تھا تبھی تو ہماری زبان میں مثل ہے کہ:

آب آب کرتے مرگۓ سرہانے دھرا رہا پانی

مشکل اور نامانوس الفاظ کو اردو وکی میں لگا لگا کر اسے مقبول نہیں بنایا جا سکتا سواۓ اس کے کہ انٹرنیٹ کے کوڑہ دان میں یہ بالاخر چلا جاۓ گا۔ لیکن کیا اردو کے چاہنے والے ایسا ہونے دیں گے یقینا نہیں۔ اگر اردو وکی کو زندہ رہنا اور بڑھنا ہے اور اسکے ساتھیوں کی تعداد میں اضافہ ہونا ہے تو اسے وہی زبان اور الفاظ استعمال کرنے ہونگے جو میرتقی میر نے اپنی شاعری میں لتا منگیشکر نے اپنے گیتوں ميں اور حسن نثار نے اپنے کالموں میں استعمال کیۓ ہیں۔

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔

شکریہ

آپ کے صدیوں کے ساتھی

آپ کے اپنے اردو الفاظ

  • خالد صاحب، اگرچہ آپ کی بات درست ہے، مگر عملی طور پر کوئی سادہ ترجمہ ابھی تک کر نہیں سکا۔ ایسے ترجمے جو معنوی طور پر انگریزی کے نعم البدل بھی ہوں اور سادہ بھی۔ اس کی وجہ کئ دفعہ بیان ہو چکی ہے۔ آپ کے دیے ہوئے زیادہ تر تراجم قابل قبول نہیں۔ مثلا "چڑھاؤ" کسی نے بھی "ڈاونلوڈ" کے لیے استعمال نہیں کیا۔ CRULP والے اسے "حصول" کہتے ہیں۔ "اورد ویب" والے "ڈاونلوڈ" لکھتے ہیں۔ وکیپیڈیا پر تراجم کی خوبی یہ ہے کہ انگریزی الفاظ کے ہم معنی کیے گئے ہیں، اپنی طرف سے اصطلاحات نہیں گھڑی گئیں ۔ دوسرے لوگ یا تو transliteration کرتے ہیں یا اپنی طرف سے انگریزی معنی سے بالکل ہٹ کر اصطلاح چنتے ہیں۔ سائنسی مضامین کے لیے یہ "ہم معنی" طریقہ نہایت ضروری ہے۔ آپ نے خود ابھی تک چھوٹے چھوٹے مضا مین لکھے ہیں۔ اگر کسی موضوع پر تفصیلی مضمون لکھیں، تو آپ پر انکشاف ہو گا کہ اصطلاحات کا بامعنی ترجمہ کئے بغیر یہ کام ناممکن ہے۔ کیا پھر ہم مختصر مضامین پر ہی اکتفا کریں؟ کسی علم کی تفصیل میں نہ جائیں؟

--Urdutext 23:33, 22 مارچ 2007 (UTC)

ہمارے اپنے اردو الفاظ سے معذرت کے ساتھ۔۔

  1. یہاں پر کوئی بھی بات کسی پر بھی ٹھونسی نہیں جاتی
  2. صارف اور دیوان عام جیسے الفاظ اردو میں عام ہیں۔
  3. کسی لفظ کی غیرموجودگی میں مشکل اصطلاح استعمال کرنے سے آسان اردو کے لیے راستہ رہتا ہے۔ مگر اگر ہم سیدھا ہی لکھ دیں فائل اپ لوڈ کریں تو اردو کے لیے راستہ بند ہو جاۓ گا۔
  4. ایک وجہ الفاظ کے اجنبی لگنے کی یہ بھی ہے کہ ہم کشش ثقل سے تو واقف ہیں مگر ثقل سے نہیں۔
  1. زبراثقال ِملف جیسے الفاظ تو میرے ہاضمے میں بھی نہیں آرہے۔ لیکن فائل اپ لوڈ بھی ایک مناسب متبادل نہیں ہے۔

سیف اللہ (تبادلۂ خیال) 09:31, 23 مارچ 2007 (UTC)

  • مجھے اندازا نہیں تھا کہ زبان کے بارے میں بات کرنا اتنا اہم مسئلہ ہے۔ میں ہفتہ دس دن بعد آتا ہوں اردو وکیپیڈیا پر میرے خیال میں اردو وکی کی زبان عام بول چال کی زبان ہونی چاہیۓ حالانکہ اتنی سی بات پر ایک صاحب مجھے انگریز پرست یا قریبا کافر کہہ چکے ہیں۔ ویسے اگر نیت اپنی زبان کو فروغ دینے کی ہو تو الفاظ اپنے گھر سے ہی مل جائیں گے عربی تک جانے کی ضرورت نہیں۔ مجھے خالد صاحب کے خیالات درست لگتے ہیں۔

دانش

  • دانش بھائی میں نے کبھی آپ کو انگریز پرست نہیں کہا بھائی۔ ذرا phagocytosis کی اردو بتا دیجیۓ میں ابھی تبدیل کردیتا ہوں۔ سمرقندی
  • اگر احباب اسے دخل در معقولات نہ سمجھیں تو کچھ عرض کروںـ دنیا کی ھر وہ زبان جس میں لچک اور گنجائش موجود نہ ہو اور وہ اپنے الفاظ کے معاملہ میں متعصب ہو وہ جلد یا بدیر مردہ ہو جایا کرتی ہے آج ایسی کئی زبانوں کی مثال دی جا سکتی ہے جن کے نام تو موجود ہیں لیکن ان کے جاننے والے معدودے چند ماہرین ہی ہیں جنہوں نے قدیم زبانوں پر ری سرچ کی ہوئی ہوتی ہےـ الحمد للہ کہ ہماری اردو میں یہ لچک اور گنجائش روز اول سے ہی بدرجہ اتم موجود ہے وہ اس لیے کہ یہ ایک ایسے ماحول میں پیدا ہوئی جہاں دنیا کی مختلف زبانیں اور تہذیبیں بغل گیر ہو رہی تھیں تمام بڑی بڑی زبانوں کے الفاظ کو اپنے اصلی لب و لہجہ کے ساتھ اپنے اندر سمیٹ لینے کی صلاحیت اردو زبان کو ورثہ میں ملی ہےخود "اردو" کو ہی لیجئے جو ترکی کا لفظ ہے اور لشکر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے یہ لفظ فارسی میں بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے آج بھی اگر آپ ایران کا خبرنامہ سنیں تو وہ پاکستان کے آرمی چیف کے لیے "رئیس اردوئے پاکستان" کا لفظ استعمال کرتے ہیں اردو لے لچک دار ہونے کا اس سے بڑ ھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ اس کا ذخیرہ الفاظ ہندی، عربی، فارسی، پنجابی، سسنکرت اور ایسی ہی کئی دوسری زبانوں سے مستعار لیا ہوا ہے اگر آپ کہیں تو میں ایک چھوٹے سے پیرا گراف کا تجزیہ کر کے بتا دوں کہ کونس کون سی زبان کے الفاط کتنے ہیں اور وہ الفاظ جنہیں ہم اردو کے اپنے کہ سکتے ہیں وہ کتنے ہیں حقیقت حال واضح ہو جائے گی ـ اردو زبان نے جو غیر معمولی ترقی کی ہے وہ اس کی اسی صلاحیت کی بنا پر ہے اردو زبان اسداللہ خان غالب کے زمانہ میں ہی اردوئے ممعلی کی معراج کمال تک پہنچ چکی تھی لیکن اس کا مطلب یہ نہییں کہ اس کا ارتقائی سفر رک گیا زمانے کے تغیر و تبدل کے ساتھ ساتھ اس میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں اور یہ بے شمار انگریزی الفظ کو اپنے اندر اس انداز سے سم چکی ہے ککہ وہ اس کا اپنا ذخیرہ الفاظ بن گیا ہے سکول، اسٹیشن، کلرک، ہسپتال وغیرہ کتنی مثالیں دی جا سکتی ہیں میں بذات خود اس نظریہ کا حامی ہوں کہ دوسری زبانوں کے جو الفاظ اردو تہذیب میں رچ بس گئے ہیں انہیں جوں کا توں استعمال کرنا چاہیے از راہ تصب خواہ مخواہ ان کی اردو بنانے کی مضحکہ خیزی سے بچنا چاہیئے البتہ جہاں ضروری ہو وہان عربی فارسی الفاظ سے استفادہ کرنا چاہیئے لیکن اس میں بھی اس بات کا خیال رکھا جائے کہ الفاظ سادہ اور عام فہم ہوں نہ کہ بھاری بھرکم ثقیل اور عالمانہ اکڑخوں کے حامل ـ

اپ لوڈنگ اور ڈائون لوڈنگ کے لیے وکیپیڈیا پر جوتراجم استعمال ہوئے ہیں وہ واقعی انتہائی ثقیل ہیں اس کے لیے آسان اور عام فہم یک لفظی یا دولفظی تراجم وضع کیے جا سکتے ہیں

اردو زبان میں ترتیب صعودی اور ترتیب نزولی کی تراکیب سے کون واقف نہیں اسی" نزول" اور "صعود" یا اس سے اخذ شدہ "تنزیل" اور "تصعید" کو ڈائون لوڈنگ اور اپ لوڈنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو کہ یک لفظی بھی ہیں آسان بھی ہیں اور درست معنی بھی دیتے ہیں

میں نئے الفاظ اور تراکیب کے وضع کرنے کا بھی مخالف نہیں ہوں لیکن ان کو وضع کرنے کے لیے زبان کے متعلقہ قواعد اور گرائمر کے اصولوں کی پائمالی کا سخت مخالف ہوں اب دیکھیے ناں "کثیرالاستعمال" ایک عربی ترکیب ہے کیونکہ "کثیر" اور "استعمال" دونوں الفاظ عربی کے ہییں لہذا ان کو ترکیب بنانے کے لیے عربی قاعدے کے مطابع اس میں الف لام کا اضافہ کیا گیا ہے اگر اس ترکیب کو کوئی عربی قاعدے کی بجائے فارسی قاعدے سے" کثیرِاستعمال" لکھے تو کتنی مضحکہ خیز صور ت ہوگی--شاکرالقادری 15:32, 23 مارچ 2007 (UTC)

میری تجویز ہے کہ تراجم کے لیے" تبادلہ خیال براائے تراجم" نامی علیحدہ زمرہ بنایا جائے اور وہاں جب کسی لفظ کے ترجمہ کی ضرورت ہو رائے طلب کی جائے اور کسی ایک ترجمہ پر اتفاق ہونے کے بعد اس کو نافذالعمل قرار دیا جایا کرے--شاکرالقادری 15:32, 23 مارچ 2007 (UTC)

  • میرے بھائی شاکر ، میرے عزیزم خدا کیلیۓ مجھے phagocytosis کی اردو بتا دیجیۓ Familial adenomatous polyposis کی اردو بتا دیجیۓ۔ صرف باتیں کرنے سے کیا ہوتا ہے کچھ عملی طور پر مدد تو کیجیۓ۔ سمرقندی

آسان متبادل

آپ االفاظ کا متبادل فراہم کریں۔ اس پر راۓ شماری کروا لیتے ہیں۔ جس کے حق میں راۓ عامہ ہوگی وہ لفظ استعمال کرلیں گے۔ سیف اللہ (تبادلۂ خیال) 12:31, 23 مارچ 2007 (UTC)

  • میں ثاقب صاحب کی راۓ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح روزآنہ کے اس جھگڑے سے جان چھوٹ جاۓ تو یہی وقت تعمیری کاموں میں لگایا جاسکے۔ جتنے بھی انگریزی الفاظ لکھے جاچکے ہیں اگر انکے متبادلات پیش کردیۓ گۓ اور راۓ شماری سے اتفاق ہوگیا تو انکو انشااللہ فوراً تبدیل کردیا جاۓ گا۔ سمرقندی
  • سیف صاحب آپ نے ایک عجیب مشورہ دیا ہے۔ اگر ساری دنیا بھی میزائل کو میزائل کہے تو جو طریقہ آپ نے راۓ شماری کا دیا ہے اس کے مطابق تو یہاں میزائل قبول نہیں کیا جاۓ گا صاروخ اور ارسالہ کی طرح کے الفاظ ہی آئیں گے کیونکہ اگر ان پر کسی کو اعتراض ہوتا تو یہ الفاظ یہاں آتے ہی نا اور یہاں کے ممبر لازماً صاروخ کے حق میں ووٹ دیں گے۔ انہیں عام استعمال کے الفاظ پسند نہیں۔ میں میرا خیال ہے اجنبی ہوں یہاں۔ اگر میں یہاں مزید کام کرتا ہوں اور پھر اسے نامانوس لفظوں کے بلڈوزر سے تباہ کر دیا جاتا ہے کیونکہ چند لوگوں کے ووٹ لے کر انہیں بلڈوز کر دیا جاۓ گا۔ عقل سلیم یا لفظوں کے استعمال کی شرح کی کوئی اہمیت نہیں یہاں۔ مجھے یہاں سے میرا خیال ہے چلے جانا چاہیۓ۔ کیا خیال ہے آپ کا؟
  • سمرقندی صاحب مجھے معاف کر دیجیۓ لیکن ایک بات پوچھوں گا اگر کسی لفظ کا اردو نہیں ملتا تو پچھلے ڈھائی ہزار سال میں ہم نے کیا کیا ہے؟؟

اس لفظ کو ایسے ہی قبول کر لیا ہے۔ عربی سے ترجمہ کروانے نہیں چلے گۓ تھے۔

دانش

  • دانش صاحب آپ غلط سمجھ رہے ہیں ۔ یقین کیجیۓ آپ نہیں آرہے تھے تو میں پریشان تھا کہ آپ ناراض تو نہیں آج آپ کو صبح دیکھا تو خوشی ہوئی تھی۔ میرے خیال میں آپ کو پس منظر معلوم نہیں، آپ اور خالد صاحب جو مسائل آج اٹھا رہے ہیں ان پر اتنی بحث ہوچکی ہے کہ اب اور کچھ کہنے کو باقی نہیں رہا۔ پچھلے ڈھائی ہزار سال کا تو میں خود رونا روتا ہوں۔ انکا ذمہ دار آپ مجھے کیوں ٹہرا رہے ہیں؟؟ میں تو خود اپنی سی کوشش ان ڈھائی ہزار سال کو پوری کرنے کررہا ہوں جو کہ میری ذمہ داری نہیں۔ اردو میں ہے کیا ؟ صرف شاعری اور عشقیہ افسانے جو کہ خالد صاحب نے لتا کا حوالہ دیا ہے تو کیا خالد صاحب یہاں لتا کے گانے لکھنا چاہتے ہیں؟ کیا لتا نے کبھی کوئی سائنسی مضمون لکھے ہیں ؟ یا لتا کے جو گیت ہیں ان سے سائنس کے مضامین لکھے جاسکتے ہیں؟؟ میرے بھائی آپ مشورے سے میرا ساتھ دیجیۓ میں تو آپ کی ہر بات پر پوری توجہ دینا چاہتا ہوں۔ اگر مجھ سے کوئی شکایت ہو تو اردو ٹیکسٹ صاحب یا فہد صاحب سے مشورہ کیجیۓ۔ پھر ثاقب صاحب بھی موجود ہیں۔
  • جو بحث اب تک ہوچکی ہے اسکے لیۓ براہ کرم یہاں دیکھیے
  • اور اس جگہ بھی دیکھیۓ سمرقندی
  • دانش صاحب، جن میزایل بنانے والے دوستوں کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ تو اپنے کاروبار میں انگریزی ہی استعمال کرتے ہیں۔ اردو اور انگریزی کا مغلوبہ بولتے ہیں، اردو لکھتے بحرحال نہیں۔ ان لوگوں کی بول چال ویکیپیڈٰیا کے لیے سند کیسے ہو گئ؟
  • شاکر صاحب، مسلئہ صرف ایک دو اصطلاحات کے ترجمہ کا نہیں۔ انٹرنیٹ کی سائنس پر استعمال ہونے والی تمام اصطلاحات کا مربوط ترجمہ کا ہے۔ ایسا ترجمہ جو تمام مضامین میں یکساں استعمال ہو، اور ہر سائنسی اصطلاح کے معنی برقرار رکھے۔ اس کے لیے ایسے اشخاص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس علم کا وسیع علم رکھتے ہوں تاکہ وہ مختلف اصطلاحات کی باریکیاں سمجھ کر ترجمہ کر سکیں۔ اس وقت سمرقندی صاحب کے علاوہ اس ویکیپیڈیا پر اس طرح کے اشخاص کم ہی ہیں۔ کیا اخبار جنگ کی تحریروں کو معیار بنا کر وکیپیڈٰیا لکھا جائے؟ انگریزی کو اردو میں لچکدار طریقہ سے سمانے کا فن یہ لوگ جانتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے سرخی لگائ کہ "حکومت نے (کسی معاملہ میں) ڈیو ڈلیجنس کی اجازت دے دی"۔ ٰیہ "due diligence" ہے۔

--Urdutext 00:18, 24 مارچ 2007 (UTC)

  • السلام وعلیکم برادران! بقول شاعر ہمیشہ دیر کردیتا ہوں، اس لیے اس مرتبہ بھی دیر سے آیا ہوں کیونکہ میں چھٹی والے دن انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتا، بہرحال یہاں بحث کافی گرما گرمی میں داخل ہوگئی ہے۔ میرے ذہن میں اس کا صرف اور صرف ایک حل ہے، بجائے باتیں کرنے کے جن افراد کو اعتراضات ہیں وہ سائنس اور دیگر موضوعات پر خود مضامین لکھیں اور انہیں "اسٹینڈرڈ" کے طور پر پیش کریں، پھر تقابل کرکے دیکھ لیتے ہیں کہ کس کا فیصلہ درست ہے۔ اعتراضات والے بھائی صاحبان! حالانکہ میں سائنس اور ریاضی وغیرہ پر مضامین نہیں لکھتا لیکن مجھے اندازہ ہے کہ اس کے لیے کتنا سر کھپانا پڑتا ہے! آپ ذرا دو تین مضامین لکھیں، آپ لوگوں کو اندازہ ہوجائے گا۔ جو لوگ واقعتاً محنت کررہے ہیں ان کو تنگ نہ کریں۔ خالد صاحب اور دانش صاحب آپ لوگ انتہائی سنجیدہ اور اپنے موضوعاتی شعبہ جات میں ماہر ہیں اس لیے آپ لوگوں سے یہ خصوصی درخواست ہے کہ اس مسئلے پر غصہ دکھانے کے بجائے ٹھنڈے مزاج سے سوچیں۔ لیکن ایک حقیقت میں آپ کو بتادوں کہ اگلے 10 سالوں تک بھی ہم اس بحث کے ذریعے کسی ایسے فیصلے تک نہیں پہنچ سکتے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ اس لیے جہاں تک میرا خیال ہے کہ اگر کسی صاحب کو کسی مضمون کے نام پر اعتراض ہو تو اس کے تبادلۂ خیال کے صفحے پر اپنی رائے دے دیں، تمام برادران سے پوچھ کر اس پر مناسب فیصلہ لیا جائے گا اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا جاسکتا! Fkehar 06:18, 24 مارچ 2007 (UTC)

لگتا ہے معاملہ فی الحال ٹھنڈا ہوگیا ہے ، پر ۔۔۔

آج دن بھر ویکیپیڈیا نہیں دیکھا ابھی آیا تو لگتا ہے اردو ٹیکسٹ صاحب اور فہد صاحب کوشش سے معاملہ فی الحال ٹھنڈا ہوگیا ہے۔ حجت تمام کی خاطر ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں کہ شائد مسلے کو سلجھانے میں کچھ مدد گار ہو۔ polyp کو اگر عام اردو میں لکھا جاۓ تو

  1. ابھار
  2. انگلی نما
  3. بواسیر لحمی
  • لکھا جاسکتا ہے تو پھر سلیلہ کیوں اختیار کیا گیا؟
  1. اول تو یہ کہ یہ تینوں الفاظ جہاں بھی انگریزی کا لفظ (قوسین) میں لکھے بغیر لکھے جائیں گے ابہام ہی پیدا کریں گے! صرف ابھار یا انگلی نما لکھ دیا جاۓ تو کیا سمجھ آۓ گا کہ کونسے ابھار یا کونسی انگلی نما کی بات ہورہی ہے؟؟ اور پھر کہاں کہاں آپ brackets لگا لگا کر وضاحت کرتے پھریں گے ، کہ بھائی یہ ابھار دراصل polyp والا ابھار ہے!! یا یہ بواسیر لحمی دراصل polyp والی بواسیر لحمی ہے !!
  2. دوئم یہ کہ چلیں polyp کو تو آپ آسانی کی خاطر مندرجہ بالا تین میں سے کوئی ایک نام اختیار کرکہ لکھ دیں ، ٹھیک ؟ پھر ذرا یہ بتائیے ان الفاظ سے آپ polypoid اور polyposis کس طرح بنائیں گے ؟؟ انکے لیۓ الگ الفاظ ڈھونڈتے پھریں گے ؟؟ polypotome کیسے بنائیں کے اور polypotrite کیسے بنائیں گے ؟؟ جب کہ یہ تمام الفاظ ایک ہی چیز کے متعلق ہیں مگر بالکل الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں ۔
  3. یہ تو صرف وہ مثال ہے کہ جہاں لفظ صرف ایک ہی شعبہ میں استعمال ہورہا ہے ۔ ان سے زیادہ بڑا مسلہ ان الفاظ کا ہے جو کہ بہ یک وقت ایک سے زائد شعبہ جات میں استعمال ہوتے ہیں، اس وقت کی پچیدگی کا اندازہ تو کیجیۓ کہ کیا حال ہوگا۔ سائنس میں کھچڑی نہیں پکائی جاتی ، ہر بات یا تو plus ہوتی ہے یا minus ۔ صرف ہے ، یا نہیں ہے والا معاملہ چلتا ہے سائنس میں۔ شکریہ۔ سمرقندی

بات صرف اتنی تھی

بہت پہلے میں نے ریڈار پر مضمون لکھا۔ سیف صاحب نے بتایا کہ اس پر پہلے سے ہی مضمون ہے ارسالہ کے نام سے میں کبھی کبھار آتا ہوں یہاں۔ جب ان کا پیفام پڑھا تو اپنا مضمون مٹا دیا اور اس نام کو ارسالہ کی طرف موڑ دیا اور ان سے صرف گزارش کی کہ ارسالہ اور صاروخ کو تو انکے بنانے والے اور استعمال کرنے والے نہیں جانتے۔ ساری دنیا اور ڈکشنریاں ریڈار اور میزائل کے نام سے ہی جانتی ہیں اور یہاں یہی کہہ دیا۔

بس اتنی سی بات تھی۔ جن صاحب سے بات پوچھی انہوں نے تو جواب ہی نہیں دیا دوسرے لوگ ویسے ہی بیچ میں آگۓ۔ اتنی سی بات پر میرے اوپر مسلسل سنگباری جاری ہے۔

میری یہاں کسی سے جان پہچان نہیں ہے۔ ایک شعبہ میں نے چنا تھا جس کا مجھے پتہ تھا اس پر ہی لکھتا تھا۔

میں نے پہلی بار اردو وکیپیڈیا کو غور سے دیکھا تو پتہ چلا یہاں ایک پیر سمردقندی صاحب ہیں۔ پہلے تو انھوں نے مجھ سے خوامخواہ ٹانگ اڑائی۔ میرے محض ایک سوال کرنے پر ہی حفا ہو گۓ۔ اب انکا ہر مرید مجھ پر سنگ زنی کرنا حق سمجھاتا ہے۔

اردو وکی پر ڈکشنری، بول چال کی زبان اور متعلقہ افراد کے بجاۓ پیر سمرقندی کو ہی مستند سمجھا جاتا ہے۔ اب فہد صاحب آۓ ہیں تو بغیر سوچے سمجھے کہ میری یہاں اصل بات کیا تھی سنگباری شروع کر دی اور یہ تک لکھ دیا کہ میں دوسروں کو تنگ کرتا ہوں اور اپنا غصہ جھاڑتا ہوں۔

میں نے کب کسی کو تنگ کیا ہے اور کب اپنا غصہ جھاڑا ہے کوئی ہے اس کا ثبوت؟ حالانکہ یہاں پر میرے اوپر غصہ جھاڑا جارہا ہے اور اس چھوٹے مسئلے پر مجھے تقریباً کافر بھی قرار دیا جا چکا ہے۔

فہد صاحب نے بغیر دیکھے کہ مسئلہ کیا ہے میری ٹھیک ٹھاک ہتک کر دی ہے لکھ میں بھی سائنس سے متعلقہ رہا ہوں لیکن مریدوں کو پیر صاحب کا لکھا ہی سائنس سے متعلقہ نظر آتا ہے۔

اب میری بات بھی سن لیں۔ میں کسی پیر سمرقندی کو نہیں مانتا۔ ڈکشنریاں، متعلقہ لوگ اور عام بول چال ہی میرے لیۓ سٹینڈرڈ ہیں۔ میرا چونکہ سٹینڈرڈ پیر صاحب نہیں ہیں اس لۓ انکے مریدوں سے معذرت۔ کیونکہ میں کسی کی ہتک نہیں کرتا اس لۓ میں دوسروں کو بھی یہ حق دینے کو تیار نہیں ہوں۔

مجھے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنا نہیں آتا اور نہ ہی میں یہاں مزید "عزت" کروانا چاہتا اس لۓ خداحافظ۔

بڑے ہی بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے۔

دانش

  • دانش صاحب آپ لکھتے رہیۓ ، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر آپ کے مضمون میں کسی لفظ کو تبدیل کرنا ضروری ہوا تو پہلے آپ سے اسکا مشورہ کیا جاۓ گا۔ اور کوئی بھی آپ کے مضمون کے کسی لفظ کو آپ سے مشورہ لیۓ بغیر اس وقت تک تبدیل نہیں کرے گا جب تک آپ اتفاق نہ کرلیں اور اجازت نہ دے دیں ۔ آپ اس بات کی بالکل پریشانی نہیں لیں کہ کوئی آپ کے لکھی ہوئی محنت کو بے اجازت ترمیم کردے گا۔ اب تو ٹھیک ہے نہ ؟ :-)
  • اور ہاں ، براہ کرم یہ پیر مرید جیسے القابات تو نہ دیجیۓ بھائی ، جیسے آپ کے احساسات نازک ہیں اسی طرح ہم لوگ بھی تو آپ کی طرح احساسات رکھنے والے انسان ہی ہیں نا بھائی۔ شکریہ۔ سمرقندی

کچھ ایسے بھی ہیں

  • کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ویکیپیڈیا پر کہ انکی صرف بات کرنے سے ہی ٹوٹی ہوئی ہمت سنبھل جاتی ہے۔ ابھی اتفاق سے پرانے صفحات پر نظر ڈال رہا تھا تو یہ ایک صفحہ ملا ہے جو black hole کا تبادلۂ خیال ہے ، یہاں ملاحظہ کیجیۓ ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انہوں نے پیغام اپنے IP سے چھوڑا ہے اور شک کیا جاسکتا ہے کہ میں نے خود ہی لکھ دیا ہوگا۔ لیکن ایک تو یہ کہ یہ مضمون عادل صاحب کی شراکت سے لکھا گیا ہے مکمل میں نے یہ مضمون نہیں لکھا اور دوئم یہ کہ انداز تحریر سے اندازہ ہوجاۓ گا کہ یہ تحریر میری نہیں ہے۔
  • ایک اور تبصرہ اپنے شعبہ کے معلم اور ماہر robotics جناب محمد ابوبکر صاحب کا ہے جو کہ یہاں دیکھا جاسکتا ہے ۔ یہ تبصرے صرف موجودہ مسلہ کو حل کرنے کی غرض سے لکھ دیۓ ہیں، کہ شائد ۔۔۔ سمرقندی

خط کو بڑا کیا جائے۔

چند گزستہ درخواستوں اور میری درخواست کو مد نظر رکھیں تو فانگ زرا بڑا کر لیا جائے۔ کیونکہ ابھی تقریبا سب کو ہی فانٹ بڑا کر کہ پڑھنا پڑتا ہے۔

  • ایک بار تو بڑا کیا ہے ثاقب صاحب نے ، پہلے تو اس سے چھوٹا تھا۔ یہ ایک نمونہ %100 کا ہے جو میں نے کئی شمارندوں پر دیکھا ہے ایسا ہی اور اسی جسامت میں نظر آتا ہے۔ Aalahazrat صاحب کیا آپ اپنے شمارندے پر خط کی جسامت کا نمونہ بھیج سکتے ہیں؟ تاکہ تقابل کر کہ اندازہ کر لیا جاۓ۔

FONTSIZE.PNG

  • لیکن میرا خیال ہے کہ اوپر والا نمونہ بھی عمررسیدہ اور بینائی کمزور افراد کیلیۓ پڑھنا مشکل ہی ہے، اس لیۓ میں بھی خط کی جسامت تھوڑی سی مزید بڑی کرنے کے حق میں ہوں۔ سمرقندی
    • صاحب دیکھا جائے تو میرے پاس بھی خط کا یہی ناپ ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ اردو کو آسانی سے پڑھنے کے لئے یہ ضروری بھی ہے۔
جی! کیا اب ٹھیک ہے؟ اب 30 فیصد ہر چیز ہی بڑی ہو گئی ہے!سیف اللہ (تبادلۂ خیال) 15:09, 25 مارچ 2007 (UTC)

اردو وکیپیڈیا کی چوپال میں

اردو الفاظ کی زبوں حالی لے کر ایک بار پھر حاضر اور حاضر ہوتا رہوں گا۔

ہمارے ساتھیوں کو یہ افسوس ہے کہ اردو وکیپیڈیا کےتعارفی صفحات سادہ اردو الفاظ کے بجاۓ عربی میں ہونے کی وجہ سے فوری سمجھ میں نہیں آتے ہمارے الفاظ کا حق کیوں مارا جا رہا ہے۔ ہم سب اس چیز کو دیکھ بھی رہے ہیں کڑھ بھی رہے ہیں۔ پھر کیا رکاوٹ ہے کیا ہمیں مصطفی کمال اتاترک کا انتظار ہے؟ اس کے نزدیک ترکی کی پسماندگی تعلیم میں کمی تھی۔ وہ اگرچہ فوجی تھا لیکن جلد ہی معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا اس نے ترک زبان میں موجود فارسی اور عربی کے مشکل الفاظ کو نکال کر ان الفاظ کو رواج دیا جو ترک استعمال کرتے تھے اور جن کی انہیں سمجھ نہیں تھی۔ اس چھوٹے سے کام نے تعلیم کو کتنا آسان اور عام کیا آپ لوگ خود ترک تاریخ پڑھ کر دیکھ سکتے ہیں۔ اس پر ہمارے ایک مہربان سمرقندی صاحب فوراً کہیں گے کہ اور اس طرح کی باتیں اکثر کرتے رہتے ہیں کہ جنوبی امریکہ کے ایمیزن کے گھنے جنگلات میں پاۓ جانے والے سانپ ایناکونڈا کے معدے میں پاۓ جانے والے بیکٹیریا کا نام کیا اردو میں ہے؟ ظاہر ہے نہیں ہے۔ اس پر وہ کہیں گے کہ میں نے اس کا عربی ترجمہ کیا ہے اور اب اس بیکٹیریا کے نام کی خاطر ہر سطح پر ہمارے دیسی الفاظ کو انکے اپنے گھر یعنی اردو وکیپیڈیا سے ہی نکال دیا جاۓ گا۔ ذرا چشم تصویر سے سوچیں ہمارے سمرقندی صاحب مصطفی کمال اتاترک کو اس بیکٹیریا کی بنا پر ترکوں کو انکی اپنی ہی زبان سے محروم کرنے کا کہتے ہیں تو مصطفی کا جواب کیا ہونا تھا؟؟؟

یہاں پر کافی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ بہت اچھا ترجمہ کرتے ہیں۔ یہ بات درست ہوگی لیکن ان کے ترجمے کرنے کا سٹائل میرے ایک مضممون نیشنل جیوگرافک سوسائٹی سے واضح ہو جاتا ہے۔ جب انہوں نے فوراً اسکا نام بدل کر قومی جغرافیائی انجمن رکھ دیا اور میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ کن لوگوں ميں آگیا ہوں۔ وہ تو خدا بھلا کرے حیدر صاحب کا کہ بیچ میں آۓ اور نام دوبارہ درست کیا۔

وہ الفاظ کا سوچے سمجھے بغیر کہ اس کی ضرورت ہے کے نہیں ہے عربی میں ترجمہ کر دیتے ہییں تنگ آکر انہی موضوعات پر لکھنا شروع کیا جہاں ان کی مداخلت کا خطرہ نہیں تھا جیسے باندرکلا، پٹھو گرم اور پہاڑوں کہ لے بھئی ان کی عربی کر کے دکھا۔ نہ انہوں نے اور نہ کسی اور نے محسوس کیا کہ کس طرح نۓ آنے والے کو زچ کیا جارہا ہے۔

پاکستان کے ایک صوبے یا شہر تو کیا ایک گاؤں کی زبان بھی عربی نہیں۔ پھر یہ مہربانی کیوں فرمائی جارہی ہے۔ عربی اتنی ہونی چاہیۓ جتنی ضرورت ہے۔ نۓ الفاظ بناتے وقت وہ خاص طور پر اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ لفظ صرف عربی کے ہی بنیں مقامی یا دیسی زبان کو ملا کر لفظ کیوں نہیں بناۓ جاتے (میرا خیال ہے وکیپیڈیا کے قوانین کے مطابق یہاں کوئی نئی چیز نہیں بنا سکتے اور اپنی طرف سے نۓ الفاظ بنا کر وہ وکیپیڈیا کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔)۔ اردو الفاظ سے بغض جائز نہیں۔ وہ میرے لۓ انتہائی محترم ہو سکتے ہیں اگر وہ اردو الفاظ کے ساتھ اپنا رویہ بدل دیں۔ ایک مضمون ٹائٹان اروم سائنس پر تھا فوراً انہوں نے اس کا ترجمہ کیا لوف جسیم اور مضمون کے اندر ایک لفظ سٹا کا عربی ترجمہ کیا طلع۔ طلع پر مضمون بنایا جس میں لکھا طلع کو اردو میں سٹا کہتے ہیں۔ سارے پاکستان کے دیہاتوں اور اردو میں سٹا عام لفظ ہے۔ لیکن مجھے جتانے، چڑانے اور بھگانے کی خاطر یہ سب کیا یعنی مانتے بھی ہیں کہ اردو میں لفظ سٹا ہے لیکن جان بوجھ کر جڑ دیا عربی لفظ طلع۔ آپ سب لوگ خود یہ بات مشاہدہ کر سکتے ہيں اور اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں۔

Urdutext صاحب نے کہا کے میں نے چھوٹے مضامین لکھے ہیں۔ مجھے آۓ ہوۓ 150 دنوں سے کم ہوۓ دن ہوۓ ہیں اور میں نے 330 سے زیادہ مضامین شروع کیۓ۔ کیا ٹائٹان اروم چھوٹا ہے؟ 5000 مضامین پورے ہونے پر میں نے سوچا تھا کہ ميں اپنے لۓ خاص شعبہ جنوں گا اور اسی کو بڑھاؤں گا۔ لیکن کیا مجھے یہاں سکون مل سکتا ہے؟ کیا سمرقندی صاحب میرا اردو سے محبت کا قصور معاف کر سکتے ہیں؟؟

میں جب یہاں آیا ہوں مجھے دانستہ یا نا دانستہ طور پر یہاں سے بھگانے کی کوشش ہو رہی ہے اور یہ میرے پہلے مضمون سے ہی شروع ہو گۓ تھی۔ کچھ اصحاب لکھے ہوۓ مضمون کو مٹا کر دوبارہ اپنے نام سے لکھ دیتے ہیں۔ جس پر مجھے کافی ہنسی آتی ہے۔ جبرالٹر ذہن میں آرہا ہے اور چند ہفتے پہلےکسی صاحب نے عابدہ سلطان کو مٹا معمولی سی تبدیلیاں کر کے نام بدل کر دوبارہ لکھ دیا۔ ہوسکتا ہے یہ نا دانستہ ہوا ہو۔

کچھ دیر پہلے کسی صاحب نے نعرہ لگایا کہ ہم تین اردو وکیپیڈیا پر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ کاش وہ کہتے کہ اردو وکیپیڈیا کے اصل حکمران چند قوانین ہیں اور ہم ان قوانین کے محافظ۔ محافظ آتے جاتے رہتے ہیں لیکن قوانین اور ادارے رہتے ہیں۔

میں نے قاعدے قوانین کے تحت زنگی گزاری ہے اور میری خواہش ہے اردو وکیپیڈیا کے حکمران بھی قاعدے قوانین ہوں۔

سمرقندی صاحب نے مجھ پر لتا منگیشکر کو پسند کا الزام لگایا ہے۔ یہ الزام نہیں حقیقت ہے۔ مجھے لتا کے علاوہ ایک سکھ گلزار اور انگریز رالف رسل بھی بڑے پسند ہیں کہ ان تینوں نے میرے ماں باپ کے خوابوں کی سرزمین پاکستان کی زـان اردو کو پاکستان سے باہر زندہ رکھا۔

بے سہارہ اور بے گھر اردو الفاظ کا وکیل

خالد محمود

خالد بھائی۔ خالد بھائی دیکھیں آپ کے نزدیک اس مسلہ کا حل کیا ہے؟ یہی نہ کہ جہاں جہاں عربی استعمال ہوئی ہے وہاں آپ اردو کو استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ تو آپ بے شک کریں ۔آپ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ آپ کی حمایت نہیں کریں گۓ؟ آپ تین کی کیا بات کرتے ہیں؟ کب یہاں تینوں نے (میں، افراز صاحب اور خاور صاحب) نے اپنی ٹھونسی ہے؟ آپ کیوں نہیں چوتھے بنتے؟
ہم سب یہاں خلوص دل سے کام کررہے ہیں۔ کوئی بھی یہاں پیری فقیری یا مریدی نہیں کررہا۔ آپ دوسروں کی راۓ کو ایک بھائی یا دوست کی راۓ سمجھ کر پڑھا کریں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک صارف نے مذاق کوئی بات کی ہوتی ہے تو دوسرا یہ سمجھتا ہے کہ شاید اس کی تذلیل کی گئی ہے۔ وکیپیڈیا کا ماحول کسی بھی دوسری محفل کی نسبت ہمشہ ہی گرم رہتا ہے۔سیف اللہ (تبادلۂ خیال) 17:02, 25 مارچ 2007 (UTC)


  • برادرانِ گرامی۔ ایسے حالات دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ میری التماس ہے کہ معاملات کو جذباتی انداز سے حل نہ کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کسی مشکل عربی لفظ کا اچھا اردو متبادل موجود ہے تو خالد صاحب سمیت ھر کوئی اسے تبدیل کرنے میں آزاد ہے۔ مگر اردو الفاظ کے ہوتے ہوئے انگریزی الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہئیں۔ اگر اردو کا کوئی نیا آسان لفظ ایجاد بھی کرنا پڑے تو کوئی حرج نہیں۔ مگر وہ قابل استعمال ہونا چاہئے۔ ترکی میں رسم الخط بدلنے کے بعد سینکڑوں نئے الفاظ ایجاد کیے گئے اور سینکڑوں یورپی الفاظ ڈالے گئے۔ خود انگریزی ڈکشنری میں ھر سال بیسیوں نئے الفاظ داخل ہوتے ہیں۔ ھندوستان نے اردو سے عربی اور فارسی الفاظ نکال کر ایک مردہ زبان سنسکرت کے الفاظ استعمال کرنا شروع کیے جو میڈیا کی مدد سے آھستہ آھستہ استعمال ہونا شروع ہو گئے اور اب عام لوگ ان کو سمجھتے ہیں۔ کئی ممالک مثلاً فرانس، ایران میں ایسے بورڈ یا ادارے ہیں جو نئےسائنسی الفاظ کے اپنے متبادل کی تشکیل کرتے ہیں۔

ان مثالوں سے میرا مطلب یہ ہے کہ آسان اردو متبادل ایجاد کرنے میں کوئی حرج نہیں اور فارسی اور عربی اردو سے بہت قریب ہیں۔ جب ھزاروں انگریزی الفاظ استعمال کے بعد سمجھے جانے لگے تو نئے اردو الفاظ بھی رائج ہو سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک عام لوگ انگریزی کا لفظ انٹرنیٹ نہیں سمجھتے تھے اب وہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن گیا ہے۔ مگر دوسری طرف یہ بھی خیال رکھنا چاہئیے کہ نئے الفاظ مشکل نہ ہوں اور اردو کی روح کے مطابق ہوں۔ اس پر بحث کی جاسکتی ہے کہ کیا لفظ مناسب ہے اور یہ لڑائی کی وجہ نہیں بننا چاھئیے۔ درمیانہ راستہ ہی مناسب ہے۔ نہ بہت عربی نما نہ بہت انگریزی۔ خالد صاحب، افراز صاحب (سمرقندی صاحب یہی ہیں جہاں تک مجھے معلوم ہے) ، ثاقب صاحب، فہد صاحب، وہاب صاحب اور urdutext صاحب ایسے نام ہیں جن کی وجہ سے وکیپیڈیا کچھ بن سکتا ہے۔ اگر کوئی نام بھول گیا تو معذرت۔ ان سب سے التماس ہے کہ اپنی توانائیاں اپنی مرضی کے مطابق اردو کی خدمت پر اسی روح کے ساتھ لگاتے رہیں۔ ھمیں آپ سب کی سخت ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کے مضامین میں تبدیلیاں کرنا تو وکی کی بنیادی خصوصیت ہے۔ ایک تجویز یہ ہے کہ جہاں انگریزی کے الفاظ کی جگہ اردو کا ایسا لفظ استعمال کیا جائے جس کا ابھی رواج نہیں تو انگریزی لفظ بھی ساتھ دیا جائے۔ انگریزی الفاظ جیسے ریڈار یا میزائیل کے صفحات بنا کر انھیں رجوع (Redirect ) کروایا جا سکتا ہے۔ انگریزی ابھی بھی استعمال ہو رہی ہے مثلاً کیا ھم انگریزی اعداد ( 1 2 3) استعمال نہیں کر رہے؟؟ یہاں کسی نے ضد نہیں کی کہ انھیں بھی ۱ ۲ ۳ لکھا جائے جیسا عربی فارسی میں ہوتا ہے۔

مل جل کر اردو وکی پر کام مناسب ہے اور ھاں نئے آنے والوں کو تھوڑا وقت دینا چاہئے تاکہ ہو وکی کا مزاج سمجھ سکیں۔ مذہبی مضامین لکھنے والے بھی دوسرے مضامین میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے انھیں آتے ہی چھاڑ پلانا مناسب نہیں۔ سب کچھ آنے دیں اور وقت دیں۔ آھستہ آھستہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
مخلص۔--سید سلمان رضوی 00:38, 26 مارچ 2007 (UTC)

آج کل کی اردو

یہ صرف مذاق کے طور پر لکھ رہا ہوں اس لیے کوئی برا نہ مانے
آج کل کی میڈیا پر اردو کچھ یوں ہے۔ اردو زبان کی ترقی کے لیے ایک صاحب نے فرمایا
اردو ھماری نیشنل لینگویج ہے۔ ھمیں اس میں فارن لینگویجز کے ورڈز کو اوائڈ (avoid) کرنا چاہئے اور ٹرائی کرنی چاہئے کہ لوکل (local) ورڈز (words) کو موسٹ آف دی ٹائم یوز کریں۔ اس سے ھماری لینگویج ڈیویلپ ھو جائے گی اور ھم بھی ڈیولیپڈ کنٹریز کی طرح پراوڈلی اپنی لینگویج میں چیٹ کر سکیں گے۔ :-)
یہ بلا مبالغہ آج کل کے لوگوں کی زبان ہے اور میڈیا پر بھی استعمال ہوتی ہے۔ --سید سلمان رضوی 00:49, 26 مارچ 2007 (UTC)

ایک حقیر پاگل اور کمینے انسان کی جانب سے

  • اب کیا کہوں۔ کاش کوئی ذمہ دار ادارہ اردو ویکیپیڈیا پر سائنس کی اصطلاحات کو دیکھ لے۔ یہاں تو میں ان لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ہو رہا ہوں کہ جو اتنی سائنس بھی نہیں جانتے کہ جتنی ایک دسویں جماعت کا طالب علم۔ کیا سٹا کا لفظ آپ کسی جامعہ کی کتاب یا مقالے میں لکھ سکتے ہیں میں نے پورے ہندوستان میں اور پاکستان کے بلوچستان اور سند میں کسی جگہ سٹا نہیں سنا ؟؟ ۔ ایک حقیر پاگل اور کمینہ انسان

اردو اصطلاحات

میں نے اس موضوع پر بہت پہلے خاصی بحث کی تھی لیکن اپنی کم علمی اور کچھ فضا کی گرمی کی وجہ سے کنارہ کش ہو گیا۔ جہاں میرے دلائل ٹھوس تھے وہاں چند محترم منتظمین کی طرف سے مجھے حمایت بھی نصیب ہوئی لیکن دیگر مقامات پر میں نے دوسروں کو بھی اپنی طرح شش و پنج میں مبتلا اور حیران (گستاخی معاف) پایا۔ اردو اصطلاحات سے متعلق جو مسائل بیان کیے گئے ہیں وہ تمام کے تمام ٹھوس ہیں۔ لیکن ان کے حل کے بارے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ ان مسائل کو کم سے کم الفاظ میں کیسے بیان کیا جا سکتا ہے۔ میر‏ے خیال میں ہمارے سامنے دو بنیادی نکات واضح ہوتے ہیں:

  • سائنسی اصطلاحات کے عربی و فارسی تراجم عام فہم اردو نہیں ہیں لیکن انگریزی اصطلاحات کا ترجمہ کسی اور طرح سے کس طرح ممکن ہے۔
  • عام فہم انگریزی اصطلاحات کا ترجمہ کیا جائے یا نہیں۔

ان کا حل کسی طرح بھی آسان یا سادہ نہیں۔ اس کے لیے انگریزی زبان کی سائنسی اصطلاحات کے ماخذ اور تاریخ پر غور کرنا ہوگا۔ اس کے بعد اردو زبان کی تاریخ اور ارتقاء، اور اس کے الفاظ کی اس زبان میں آمد کے راستوں کو کھوجنا ہو گا۔

اگر انگریزی زبان کی سائنسی اصطلاحات پر غور کیا جائے تو بیشتر اصطلاحات سخت قواعد کی رو سے کافی مہمل اور بسا اوقات بے معنی ہیں۔ لیکن ان کے بانیوں نے اپنے اثرورسوخ سے ان کو باقاعدہ اور بامعنی الفاظ کے طور پر متعارف کروایا۔ یہ اصطلاحات زیادہ تر لاطینی یا (چند مثالوں میں) یونانی زبان کےقدیم الفاظ کے آپس میں ملاپ سے تشکیل دی جاتی ہیں۔ یہ تو ذکر تھا مشکل سائنسی اصطلاحات کا جو چند عام فہم اصطلاحات پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اگر چند نئے سائنسی الفاظ (بالخصوص کمپیوٹر سائنس سے متعلق) الفاظ پر غور کیا جائے تو بیشتر الفاظ پیشہ ور ماہرین کمپیوٹر کی کوششوں سے انگریزی میں رائج ہوئے ہیں اور پہلے سے موجود انگریزی الفاظ کے اختصار و بگاڑ سے تشکیل دیے گئے ہیں لیکن انگریزی زبان کے بولنے والوں نے رفتہ رفتہ ان کو قبول کر لیا ہے۔ یہ الفاظ اب باقاعدہ انگریزی کے طور پر نہ صرف قبول کر لیے گئے ہیں بلکہ انگریزی کی معتبر ترین لغات کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔ انگریزی زبان سے متعلق بہت سے ادارے اس کے نئے اور زیادہ سے زیادہ الفاظ کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ انگریزی کو مزید وسیع کیا جائے۔ میں آپ کو بے شمار ایسی مثالیں دے سکتا ہوں جہاں بہت سی غیر زبانوں کے الفاظ کو من و عن یا انتہائی معمولی تبدیلی کے بعد انگریزی کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

اردو ایک لشکری زبان ہے جس میں عربی فارسی، سنسکرت، ہندی، انگریزی، ترکی، فرانسیسی، پرتگالی، اطالوی اور بیشمار دیگر زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ اردو کے اپنے الفاظ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں (بلاتکلف میں "بلا" ایک خود ساختہ لفظ ہے جس کو باقاعدہ کوشش کے ذریعے متعارف کروایا گیا ہے: بحوالہ فیروز الغات اردو جامع)۔

مؤرد ایک ایسا لفظ ہے جو یقینی طور پر کسی دوسری زبان کا لفظ ہو لیکن اس میں لہجے کے مزاج کے مطابق رد و بدل کر کے اس کو معیاری اردو کا حصہ بنا لیا گیا ہو جیسے جولیئن مہینوں کے نام، ہسپتال، ریل، شٹام وغیرہ۔ ان الفاظ کا اردو میں ترجمہ کرنے کی کوئی تک نہیں۔ میرے خیال میں یہی بات عام طور مستعمل انگریزی الفاظ کے لیے بھی ٹھیک ہے، ان الفاظ کیلیے جن کی اردو کسی معتبر اردو لغت سے ثابت نہیں جیسے کمپیوٹر، فرج، فون، گلاس، کپ، مگ، پلیٹ، سپیکر، مائیک، ٹیلیوژن، بٹن، سوئچ وغیرہ۔ ان الفاظ کی تبدیلی کو کسی باقاعدہ اتھارٹی، حکومت یا قدرتی ارتقاء پر اٹھا رکھا جائے تو بہتر ہے۔

وہ الفاظ جو ثقیل سائنس میں مروج ہیں اور عام انگریزی کا حصہ نہيں (جیسے الفاظ کے متعلق سمرقندی صاحب استفسار فرماتے ہیں) وہ زیادہ تر ایک خاص سائنسی مکتب فکر کے نامنکلیچر یا اسمی اصولوں کے مطابق تشکیل دیے جاتے ہیں۔ اگر ان کی اردو کسی کتاب سے ثابت ہے تو جس طرح جون ایلیا، قلعہ اٹک بنارس اور افتخار محمد چودھری میں حوالہ جات دیے گئے ہیں ویسے ہی اس کتاب کا حوالہ دیا جائے اس کیلیے سانچہ:حوالۂ کتاب دستیاب ہے۔ باقی الفاظ کے تراجم کو کسی اتھارٹی پر اٹھا رکھیے اور انہیں من و عن اردو حروف میں تحریر کر دیا جائے کیونکہ وکیپیڈیا کا مقصد ہے معلومات کے نچوڑ کو اکٹھا کر کے قاری کو فراہم کرنا نہ کہ کسی قسم کی اتھارٹی کا کردار ادا کرنا یا کسی زبان کی سرپرستی کرنا۔ اگر کوئی انگریزی لفظ اردو میں موجود نہیں تو اس تلخ حقیقت کا سامنا کیا جائے اور مضمون میں صاف طور پر بیان کیا جائے کہ اس لفظ کی اردو موجود نہیں کیونکی یہی حق ہے۔

شاکر القادری صاحب کے چند مشورے مجھے بہت پسند آئے ہیں۔ ان پر غور کیا جانا ضروری ہے۔

اردو کو ایک وسیع زبان بنانے کیلیے اس کو ایک خول میں بند کرنے کی بجائے دوسری زبانوں سے نئے الفاظ کو خوش آمدید کہا جائے اور ان کی اردو میں بحیثیت اردو الفاظ کے موجودگی کو تسلیم کیا جائے (مثلا کمپیوٹر، فون، ریل، فائل وغیرہ)۔ مشکل اصطلاحات کے تراجم کیلیے یا تو شاکر القادری صاحب کا بیان کردہ طریقہ استعمال کیا جائے یا تسلیم کیا جائے کہ ان کی اردو موجود نہیں۔

میری باتیں بہت سوں کو تلخ اور ناقابل قبول محسوس ہوں گی۔ آج سے پانچ سال قبل تک یہ تمام باتیں میرے لیے بھی ناقابل قبول تھیں لیکن اگر ٹھنڈے دماغ سے غور کیا جائے تو ان کو قبول کرنا آسان ہو گا۔ حیدر 04:48, 26 مارچ 2007 (UTC)

دھیرج بھئی دھیرج!

  • اب تک ہونے والی گفتگو سے جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے لکھے گئے مضمون کو اپنی ملکیت سمجھ رہا ہے، سب سے پہلے ایک بات واضح کردوں کہ وکیپیڈیا پر لکھا گیا کوئی مضمون کسی شخصیت کی ملکیت نہیں اور اس میں کوئی بھی کسی بھی وقت تبدیلی کرسکتا ہے لیکن جو اصول ہے وہ یہ ہے کہ تبدیلی سے قبل یا اعتراض کی صورت میں ایک سنجیدہ ماحول میں اس پر تبادلۂ خیال اور گفتگو کرلی جائے تاکہ کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہے، کام کرنے کا پیشہ وارانہ انداز یہی ہے۔ خالد صاحب! کہیں آپ آج تک موئن جو دڑو اور ینی چری کے مضامین کے حوالے سے ناراض تو نہیں؟ اگر ایسی بات ہے تو میں ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں۔ محترمی جناب دانش صاحب نے مجھ پر الزامات لگائے ہیں کہ میں انہیں نجانے کیا کیا کہا ہے واللہ میں نے نہ ایسی کوئی بات کسی شخص کے بارے میں کہی ہے اور نہ ہی میرے ذہن میں کسی کی تضحیک کا کوئی مقصد تھا۔ اصل میں آپ لوگ کچھ نئے ہیں اس لیے آپ کو اس موضوع پر گذشتہ بحثوں کا علم نہیں جہاں ایک دوسرے کی خوب ٹانگیں کھینچیں گئی تھیں، میں نے اس وقت بھی یہی کہا تھا جو اب کہہ رہا ہوں کہ جس کے پاس اچھا متبادل ہے وہ اس کو لے آئے! لیکن اگر میرے طرز عمل سے آپ کو دکھ پہنچا ہے تو میں انتہائی معذرت خواہ ہوں۔ یقین جانیے میں آپ کی بے حد قدر اور عزت کرتا ہوں۔ میں انتہائی دھیمے مزاج کا آدمی ہوں اور کبھی بھی کسی کے بارے میں تضحیک آمیز الفاظ استعمال نہیں کرتا۔ سب جانتے ہیں کہ میں گذشتہ سال اکتوبر سے یہاں پر ایک مصروف رکن ہوں اور سب جانتے ہیں کہ میں زیادہ مواد مضامین میں لکھتا ہوں نہ کہ تبادلۂ خیال کے صفحات پر! میں تو بلا وجہ کسی سے گفتگو بھی نہیں کرتا تو کسی کو تضحیک کا نشانہ کیوں بناؤں گا؟ بہر حال اگر دانش صاحب کو میری کوئی بات بری لگی تو میں ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں۔ جہاں تک عربی و فارسی کے عام فہم نہ ہونے اور انگریزی کے عام فہم ہونے کے بارے میں دلائل سامنے آرہے ہیں تو اس دلیل میں کوئی خامی مجھے تو نظر نہیں آتی بلکہ اس کے پیچھے ایک ٹھوس وجہ ہے اور وہ یہ کہ ہم یہاں فارسی اور عربی پڑھتے ہی نہیں (پڑھتے تو خیر اردو بھی نہیں ہیں ؛-) )تو ان کے الفاظ ہمارے لیے عام کیسے ہوسکتے ہیں؟ اس کے مقابلے میں انگریزی ہمارے معاشرے کے رگ و پے میں بسی ہوئی ہے تو اس کے الفاظ تو سب کے لیے آسان ہوں گے، اس لیے عام فہم کے بارے میں جب بھی گفتگو سامنے آتی ہے تو انگریزی کا نام لیا جاتا ہے جو میرے خیال میں غلط بھی نہیں لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اگر ایسے ہی انگریزی کے الفاظ استعمال ہوتے رہے تو وہی ہوگا جو آپ سلمان صاحب کی جانب سے لکھی گئی مندرجہ بالا سطروں میں دیکھ رہے ہیں۔ موجودہ مسئلے کا ایک حل جو مجھے نظر آرہا ہے (شاید کسی کو اتفاق نہ ہو) کہ یہاں زیادہ تر افراد کو اعتراض مضمون کا نام عربی میں ہونے کا ہے جبکہ انگریزی اور تمام ناموں کے ری ڈائریکٹس بھی بنائے جاتے ہیں لیکن اعتراض اصل میں مضمون کے نام پر ہی رہتا ہے تو کیا ایسا کیا جاسکتا ہے کہ انگریزی کے "عام فہم" نام کو مضمون کو نام رکھا جائے اور بریکٹ میں عربی یا مجوزہ اردو نام تحریر کردیا جائے۔ یہ صرف میری رائے ہے کسی کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایک بات میں واضح کردینا چاہوں کہ اگر احترام اور عزت کو پیری مریدی کا معیار سمجھا جاتا ہے تو میرے لیے یہاں کے تمام افراد پیر ہیں کیونکہ وہ اپنے متعلقہ شعبہ جات میں مجھ سے کہیں زيادہ علم رکھتے ہیں۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر التجا کروں گا کہ اس طرح جھگڑنے اور بگڑنے سے معاملہ نہیں سلجھے گا اگر کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش ہے تو سیف اللہ صاحب، اردو ٹیکسٹ صاحب اور میں آپ کی خدمت کے لیے موجود ہیں۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنا مسئلہ بیان کیجیے انشاء اللہ اسے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، یہ وقت لڑنے جھگڑنے کا نہیں بلکہ کچھ کر دکھانے کا ہے والسلام Fkehar 05:16, 26 مارچ 2007 (UTC)
  • نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کو قومی جغرافیائی انجمن بنانے پر اعتراض اٹھایا گیا تھا جبکہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر مضمون کو ہی دیکھ لیجیے عربی میں اس مضمون کا نام مركز التجارة العالمي' ہے، فارسی میں مرکز تجارت جهانی اور ہم سب کی محبوب ترکی زبان میں Dunya_Ticaret_Merkezi ہے اور رہی ہماری پیاری اردو تو اس میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر! واہ کیا بات ہے! اسے بھی اگر میں عالمی تجارتی مرکز کردیتا تو؟ ویسے مجھے ان دو تین زبانوں کے بارے میں ہی سطحی علم ہے نجانے کتنی زبان والوں نے اسے اپنی زبان میں تبدیل کردیا ہوگا؟ واللہ اعلم! ویسے ترکی کو محبوب زبان اس لیے کہا کیونکہ ہمارے اندر اردو میں ترکی زبان کی جیسی اصلاحات کے حامیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی جارہی ہے (اللہ خیر کرے!) کیونکہ ترکی سے فارسی اور عربی کے الفاظ کو چن چن کر باہر نکال دیا گیا تھا اور یورپی زبانوں کے الفاظ کو ترکی کے اپنے الفاظ سمجھ کر شامل کیا گیا (واہ کیا اصلاحات تھیں!!)۔ اور ہم بھی اسی قسم کی "انقلابی تبدیلی" کے خواہاں ہیں کہ اردو کا فارسی اور عربی سے نام نہاد تعلق بھی ختم ہوجانا چاہیے۔ حالانکہ میں اردو کو عربی زدہ کرنے کا حامی نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انگریزی آلودہ کرنے کا حامی بھی نہیں ہوسکتا۔ Fkehar 06:06, 26 مارچ 2007 (UTC)
  • ابھی تھوڑی دیر پہلے میں آکسفرڈ کی شہرۂ آفاق انگریزی-اردو لغت دیکھ رہا تھا جو شان الحق حقی صاحب (مرحوم) کا آخری کارنامہ ہے اس میں میزائل کے معنی میں دو ایسے الفاظ درج ہیں جو میرے خیال میں صاروخ سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں ایک "خدنگا" اور دوسرا "قذیفہ"۔ جن افراد کو ڈکشنری یعنی لغت کا حوالہ چاہیے وہ اسے دیکھ کر صاروخ کو خدنگا یا قذیفہ جس کی جانب چـاہیں منتقل کردیں۔ خدنگا کا لفظ دراصل خدنگ سے نکلا ہے جس کے معنی تیر کے ہیں (بحوالہ: فیروز اللغات اردو جامع) جبکہ قذیفہ کا حوالہ مجھے نہیں مل سکا جن صاحب کو معلوم ہو وہ بتادیں۔ ویسے میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ مضمون کا نام میزائل ہونا چاہیے اور مضمون کے متن میں مذکورہ تینوں الفاظ بحوالہ درج کردینے چاہئیں۔ نوازش Fkehar 08:15, 26 مارچ 2007 (UTC)

"صارف جدید"، پنگھٹ پر

صارف جدید عربی زبان کا لفظ ہے۔ یہ دو لفظوں سے مل کر بنا صارف اور جدید۔ صارف اسم ہے اور جدید اسم صفت ہے عربی گرامر کی روسے اسم صفت اسم کے بعد آتا ہے۔ صارف جدید کا اردو میں مطلب ہے نیا صارف۔ عربی گرامر کا اصول ایک اور مثال سے بھی واضح کروں گا 700سال پہلے مراکش کا شہر فیض جب انکے مکینوں کے لۓ چھوٹا پڑ گیا تو اس کے ساتھ ہی ایک نیا شہر آباد کیا گیا اور اس کا نام رکھا گیا فیض جدید۔

لیکن اردو گرامر میں اور اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی، سندھی اور پشتو میں اسم صفت پہلے آتا ہے اور اسم بعد میں مثلاً نئیی آبادی، دو لڑکے، نواں شہر، نو شہرہ، نیو مری، موہنجودڑو اور نواں کلی وغیرہ وغیرہ۔

اگر آپ اردو وکی پر گھوم پھر کر دیکھیں تو آپ کو یہ لطیفہ جگہ جگہ نظر آۓ گا کہ نا صرف یہاں عربی الفاظ کی بھرمار ہے بلکہ اردو کو عربی گرامر سے پیش کیا گیا ہے۔ کیا پڑھنے والا پریشان نہیں ہو گا۔

اردو میں بے شمار لفظ عربی میں ہونے کے باوجود اردو اور عربی مختلف زبانیں اور ان کی گرامریں مختلف ہیں۔ عربی کا تعلق سامی زبانوں کے خاندان سے ہے اور اردو کا انڈویورپین زبانوں کے خاندان سے۔

انڈویورپین زبانوں کے خاندان میں بے شمار دوسری ممانلتوں میں یہ چیز بھی مشترکہ ہے کہ ان میں اسم صفت پہلے آتا ہے اسم بعد میں مثلاً انگریزی میں New User، اردو میں نواں شہر یا نیا صارف، فارسی میں نو روز، جرمن میں Neuschwanstien۔ موٹے الفاظ اسم صفت کا تعین کر رہے ہیں۔

انگریزی اور اردو ایک ہی خاندان کے ہیں اور یہ میں نے ایک مضمون میں بھی واضح کیا ہے۔ انڈویورپین زبانیں مضمون اور اس کے نقشے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے۔ انگریزی کی طرح اردو میں بے شمار الفاظ باہر سے آۓ ہیںلیکن اردو کا بنیادی ڈھانچہ انڈویورپین ہی ہے اور یہ حقیقت ہمارے پیش نظر رہنی چاہیۓ۔ میرے اکثر مضامین کا ترجمہ عربی میں کرتے ہوۓ سمرقندی صاحب اردو اور عربی کے بنیادی فرق کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں مثلاً ٹائٹان اروم کو لوف جسیمکر دیا یہاں اسم صفت شروع کے بجاۓ آخر میں چلا گیا۔ نیلی وھیل سے حوت نیلگوں یہاں بھی ہر چیز الٹ پلٹ گئی۔

کیا دنیا میں اور کہیں مترجم حضرات اس طرح کرتے ہیں؟

اردو میں لکھنے کے لۓ اردو گرامر ہی چلے گی عربی گرامر نہیں۔

کسی بھی زبان کے ساتھ ہمیں جزباتی وابستگی نہیں ہونی چاہیۓ اور نہ ہی جزباتی نفرت۔ کیونکہ زبانیں محض اوزار ہیں بات چیت کے وسیلے ہیں۔ اردو وکی پر وہ زبان استعمال کرنے جاہیۓ جسے اردو دان سے جھتے ہیں اور اس پر پہلا حق اردو کا ہے۔

لفظ سٹا ایک چھوٹی سی لفت میں

سمرقندی صاحب نے فرمایا ہے انہوں نے سٹا لفظ کہیں نہیں دیکھا میں نے چھوٹی سے لفت کی فوٹو ہمراہ کر دی ہے اور ایک مشہور پنجابی گیت بھی ذہن میں آرہا ہے جس میں لفظ سٹا آیا ہے۔

باجرے دا سٹا اساں تلی تے مروڑیا رسیا جانا ماہیا اساں گلی وچوں موڑیا

لفظ سٹا یا دوسرے دیسی لفظ کسی جامعہ میں کیوں نہیں جا سکتے بڑی ہمت ہے کہ انہوں نے یہ بات کہہ دی ہے۔ کسی اور ملک میں ذرہ یہ کہہ کر دیکھیں اس ملک کی زبان کے بارے میں۔ کیا دیسی لفظوں سے انہیں بو آتی ہے؟

ہمیں سندھ اور پنجاب کے پانیوں میں دھلی، اجرکوں اور دلیوں کے رنگوں میں رچی اردو چاہیۓ۔

شہ سرخی کا عنوان مشہور ترین لفظ ہوان چاہیۓ۔ اردو کا ہو تو اور کیا چاہیۓلیکن ترجمہ اردو یا مقامی زبانوں میں کیوں نہیں ہو سکتا؟

ایک بات ہمیں ذہن یمں رکھنی چاہیۓ کہ 1950ء تک سائنس کی زبان جرمن تھی اس کے بعد اب تک انگریزی ہے۔ تو انگریزی لفظ لے لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جب سائنس کی زبان عربی تھی تو تمام زبانوں نے عربی کے لفظوں کو من و غن قبول کیا۔ ہسپانوی زبان میں اب بھی واللہ اور انشااللہ عام مستعمل ہیں۔ غیر مسلم معاشروں ميں لفظ صوفہ عام استعمال میں ہے وہاں کوئی اسے بدلنا نہیں چاہتا یا نفرت کر تا کہ اس لفظ کا ڈائرکٹ تعلق مسجدِ نبوی مدینہ اور رسول پاک سے ہے ہمیں کیوں یہ مرض ہے۔ ذاتی طور پر مجھے کسی شخص سے نفرت نہیں کہ اس کا رنگ، دیس، زبان، مزہب مجھ سے مختلف ہیں۔ بلکہ یہ diversity تو مزہ دیتی ہے۔ زندگی کتنی بدمزہ ہونی تھی اگر سب ایک جیسے ہوتے۔

فہد صاحب نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کا اگر ترجمعہ کرنا ہی تو لگے ہاتھوں پاکستان پیپلز پارٹی کا بھی اردو میں ترجمہ کر دیں انگریزی وکی پر غالب بھی کر دیں۔ میں کوئی اتنا بھی نیا نہیں میں بھی آپکے ساتھ اکتوبر 2006ء میں آیا تھا۔ کسی کے لکھے ہوۓ مضمون کو مٹا کر دوبارہ لکھنا مناسب نہیں۔ ترمیم جتنی مرضی کریں۔

میں سمرقندی صاحب کے عربی ترجموں کے جنون سے اتنا ڈرتا ہوں کہ اگرچہ میں پاکستان کے ایک بہت بڑے ہائیکنگ کلب کا رکن ہوں لیکن میں "ہائیکنگ" پر مضموں نہیں لکھ سکا کہ جانے اس کے ساتھ کیا کریں۔ کیونکہ اس کی جو اصتلاحات ہیں ہائیکنگ اور ٹریکنگ وغیرہ وہ ان کے شوقینوں میں عام ہیں لیکن دوسرے لوگوں کو عجیب لگتی ہیں اور اگر ان کا خواہ مخواہ عربی ترجمہ کر دیا جاۓ تو مضمون کا بالکل ہی خون ہو جاۓ گا۔ فہد صاحب نے جب بتایا کہ وہ نقشے بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ میرا ایک دم جی چاہا کہ ہم دونوں اک پراجیکٹ کریں جن میں پاکستان کے مشہور ٹریکنگ کے علاقوں کے نقشے بنا دیں کیونکہ اردو میں یہ ہیں ہی نہیں اگر یہ اردو میں آجائیں تو بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہو۔

فہد صاحب مصطفی کمال اتاترک کی اصلاحات مجھے بھی پسند نہیں پردہ نہ اوڑنے سے یا رسم الخط عربی سے رومن کر دینے سے قومیں ماڑرن نہیں ہو جاتیں۔ لیکن زبان سادہ بنانے کے عمل نے تعلیم کو بحرحال آسان کر دیا تھا۔ اسی طرح اکر ہم اردو وکی کو عام کرنا چاہتے ہیں تو اسے عام زبان میں ہی ہونا چاہیۓ۔ مشکل سائنسی اصطلاحات تو چند ایک مضامین میں ہی آئیں گی لیکن انھیں بہانہ بنا کر عام صفحات پر کہ جہاں اردو کے عام الفاظ کا حق ہے اردو کے الفاظ کو اس حق سے محروم کر دینا اس کے ساتھ زیادتی ہے۔

خالد محمود


  • خالد صاحب۔ نہائت ادب سے (صرف تبادلہ خیال کے لیے) صارف جدید اصل میں صارفِ جدید ہے۔ دو الفاظ کو جوڑنے کی ترکیب (زیر لگا کر) اردو میں فارسی سے آئی ہے عربی سے نہیں۔(بے شک دونوں جوڑے جانے والے الفاظ عربی کے ہوں) اس کی دوسری مثالیں ہیں تجاہلِ عارفانہ، قائدِ اعظم (اعظم قائد نہیں) شہرِ قائد ، بازارِ حسن(حسن کا بازار کہنے سے وہ مطلب سامنے نہیں آتا)، شہنشاہِ عالم وغیرہ۔ البتہ اسم (noun) اور terms کا ترجمہ ویسے ہی کیا جا سکتا ہے جیسے وہ انگریزی میں ہیں۔ ویسے صارفِ جدید کی جگہ نیا صارف کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ مگر عام اور ادبی زبان میں فرق ہوتا ہے۔ انگریزی وکی پر بھی جو زبان ہے وہ عوام کی نہیں۔ عوام جو انگریزی بولتے ہیں (slang) وہ کتابوں اور اخباروں میں نہیں لکھی جاتی۔ بہرحال میری دعا ہے کہ ھم تبادلہ خیال ضرور کریں مگر ایک دوسرے سے ناراض نہ ہوں۔ عربی نما اردو اور عوامی اردو کا درمیانی راستہ بہتر ہے۔--سید سلمان رضوی 20:28, 26 مارچ 2007 (UTC)

تجزیہ

اب تک کے تبادلہ خیال سے پتہ چلا ہے کہ تین اقسام کی اردو پر بات ہو رہی ہے:

  1. میڈیاوکی کا مقامیانا
  2. عام موضوعات کی اردو
  3. سائنسی موضوعات

پہلے کا وکیپیڈیا سے خاص تعلق نہیں۔ اس کے لیے ایک علیحدہ گروہ تشکیل دیا جا سکتا ہے، جو یہ فیصلہ کرے کہ "نیا ساتھی" لکھنا ہے، یا "صارف جدید"۔ میڈیاوکی اب "اردو لائبرری ڈاٹ آرگ" پر بھی زیر استعمال ہے، اور وہ اس کا اردو ورژن نکالنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کی مدد بھی حاصل کر کے یہ مشترکہ مقامییائ میڈیا وکی سامنے آ سکتی ہے۔

دوسری قسم کا تعلق عام موضوعات سے ہے، کہ "ہوائی جہاز" لکھا جائے یا "ائیر پلین"۔ ان اصطلاحات پر ہر چھ ماہ بعد رائے شماری کرا کر اصطلاح چنی جا سکتی ہے، اور نتائج کے مطابق تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ (یاد رہے کہ انگریزی اور متبادل اصطلاحات کے مکرر ہمیشہ موجود رہیں گے، صرف متن اور عنوان میں رائے عامہ کے مطابق تبدیلی ہوتی رہے گی۔) یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ رائے شماری قابل قبول نہیں۔ مگر غور کریں کہ وکیپیڈیا ایک زندہ فورم ہے، اس میں تبدیلیاں تو ہوتی رہیں گی، ہم چاہیں یا نہیں۔ یہ پتھر پر لکیر والی بات نہیں۔ اگر اس وقت تک یہاں لکھنے والے ایک نکتہ نظر رکھتے ہیں، تو جیسے جیسے نئے لکھنے والے آئیں گے ان کی رائے کو وزن تو ملے گا۔ اس لیے معیادی رائے شماری سے بہتر کوئ طریقہ نہیں۔

تیسرا سائنسی موضوعات کا ہے۔ اس پر میری نظر میں ترجمہ کا طریقہ جو اپنایا گیا ہے، وہ سب کو قابل قبول ہے۔ اسی سے اردو میں علم کی ترقی کی راہٰیں کھل سکتی ہیں، اور یہاں "دقیق" اصطلاحات ہر زبان میں استعمال ہوتی ہیں۔

--Urdutext 23:28, 26 مارچ 2007 (UTC)


  • یہاں پر بالکل﴿ع﴾ نیا ہوں اور یہاں پر ہونے والے گزشتہ﴿ف﴾ مباحث﴿ع﴾ سے واقف و آگاہ﴿ف﴾ نہیں ہوں لیکن﴿ع﴾ موجودہ﴿ع﴾ بحثیں ماشاء اللہ﴿ع﴾ خاصی علمی﴿ع﴾ ہیں لیکن یہاں پر شریک﴿ع﴾ گفتگو لوگوں کے مزاج میں موجود تنائو میرے خیال میں اس علمی اور معلوماتی﴿ع﴾ فورم کے لیے مضر﴿ع﴾ صحت﴿ع﴾ ہو سکتا ہے میں نے زندگی لائبریری میں گزاری ہے بڑے بڑے مزاکروں﴿ع﴾ اور تنقیدی﴿ع﴾ مجالس﴿ع﴾ میں شرکت کی ہے لیکن جو انداز گفت وگو﴿ف﴾ یہاں چل رہا ہے وہ کہیں نہیں دیکھا اور یہ اہل﴿ع﴾ علم﴿ع﴾ کے منصب﴿ع﴾ کے خلاف ہے میں امید کرتا ہوں کہ یہاں موجود لوگ علمی﴿ع﴾ مباحث﴿ع﴾ کو نہایت﴿ع﴾ شائستہ و شستہ﴿ف﴾ انداز میں آگے بڑھائیں گے تاکہ اردو میں علمی﴿ع﴾ مواد کی فراہمی﴿ف﴾ کا عظیم﴿ع﴾ منصوبہ تعطل﴿ع﴾ کا شکار نہ ہو جائےمیں پہلے بھی یہ بات کہہ چکا ہوں کہ اردو مختلف﴿ع﴾ زبانوں کے امتزاج﴿ع﴾ سے تشکیل﴿ع﴾ پاتی ہےجہاں اس زبان کا ذخیرہ الفاظ﴿ع﴾ مختلف﴿ع﴾ زبانوں سے اس انداز میں مستعار لیا گیا ہے کہ وہ اس زبان کا اپنا ذخیرہ﴿ع﴾ بن گیا اسی طرح اس زبان کی کوئی اپنی خالص﴿ع﴾ گرامر بھی نہیں اس کی گرامر بھی مختلف﴿ع﴾ زبانوں کی گرامر سے لی گئی ہے اس کے واحد﴿ع﴾ اور جمع﴿ع﴾، مذکر﴿ع﴾ اور مونث﴿ع﴾ بنانے کے قاعدے﴿ع﴾ اور ترکیب سازی﴿ف﴾ کے قوانین﴿ع﴾ سکہ بند نہییں بلکہ مختلف﴿ع﴾ ہیں اور ان قواعد﴿ع﴾ و قوانین﴿ع﴾ میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کونسا لفظ کس زبان سے متعلق﴿ع﴾ ہے اور وہ لفظ﴿ع﴾ جس زبان کا ہو اسی کے قاعدے﴿ع﴾ اور قانون﴿ع﴾ سے اسکی واحد جمع﴿ع﴾ بنائی جاتی ہے یہی معاملہ﴿ع﴾ تذکیر﴿ع﴾ و تانیث﴿ع﴾ میں بھی ہے مثلا﴿ع﴾ لفظ "یوم" اگر عربی کا ہے تو اس کی جمع عربی قاعدہ کے مطابق "ایام" بنائی جائے گی نہ کہ "یوموں" اسی طرح یوم کا مترادف لفظ "روز"﴿ف﴾ فارسی کا ہے تو اسکی جمع "روزھا" فارسی قاعدے کے مطابق بنائی جاتی ہے یہی سلوک اردو میں شامل دوسری زبانوں کے الفاظ سے کیا جاتا ہے جہاں تک فارسی اور عربی کا تعلق ہے تو اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ فارسی ﹺ عربی اور اردو کا تعلق اس قدر گہرا ہے کہ ان کو آپس سے جدا کرنا ناممکنات میں سے ہے اگر کوئی اردو کے ذخیرہ الفاظ میں سے ان دونوں زبانوں کے الفاظ کو نکالنے کوشش کرے گا تو گویا اردو پھر اسی سطح پر پنچ جائے گی جہاں وہ گھٹنوں کے بل چلا کرتی تھی لہذا عربی اور فاارسی کے الفاظ کو بہ نظر تعصب دیکھنا قرین انصاف نہیں ہوگا البتہ میں اس بات کا پر زور حامی ہوں کہ تراجم کرتے وقت عام فہم الفاظ کا استعمال ضروری ہے ثقیل اور بھار بھرکم الفاظ اسی صورت میں استعمال کیے جائیں جب انکا کوئی آسان مترادف بالکل دستیاب نہ ہو اس سلسلہ میں ایک اور اہم تجویز ییہ ہے کہ فیروز اللغات یا عافم لغات پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اردو کی ممعیاری لغات کو استعمال کیا جائے اور وکی پیڈیا پر بھی ایک معیاری لغت کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے جو کہ معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ مستند بھی ہو اور تمام الفاط کے درست تلفظ کے لیے کی اتھارٹی کی سند اور حوالہ بھی موجود ہو میں نے اپنے اس پیغام کے کچھ حصہ میں سرسری طور پر ایک نظر ڈالنے کے بعد عربی اور فارسی الفاظ کو قوسین میں ع اور ف سے ظاہر کیا ہے اس سے احباب کو اندازہ ہو جائے گا کہ عربی اور فارسی سے بچنا کس قدر مشکل ہے بلکہ نا ممکن ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان دو زبانوں سے ہماری روایت منسلک ہے ہمیں ان زبانوں سے دشمنی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے بلکہ اردو کو"رابطہ کی زبان" مانتے ہوئے اردو کی معرفت سے اس زبانوں میں بھی استعداد حاصل کرنا چاہیےـ وما علینا الا البلاع --شاکرالقادری 21:40, 27 مارچ 2007 (UTC)

تنبیہ خالد صاحب کے لیے !!

میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ یہاں عربی الفاظ کی بھرمار ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو ہورہا ہے اسے بھی رکوادیا جائے، آپ کے ناقص طرز عمل کے باعث یہاں حیاتیات اور نباتیات پر مضمامین لکھنے والی اہم ترین شخصیت سمرقندی صاحب چھوڑ کر چلے گئے، میرا خیال ہے کہ انہیں راضی کیا جاسکتا تھا لیکن آپ کے طرز عمل کے باعث وہ جاچکے ہیں۔

میں نے نیشنل جیوگرافک والے معاملے پر صرف مثال دی تھی آپ (خالد صاحب) تو دل پر لے بیٹھے، ویسے آپ مجھے یہ بتائیے کہ میں نے آپ کا کون سا مضمون مٹا کر اپنے نام سے لکھا ہے؟ یہ الزام آپ پہلے بھی دھر چکے ہیں لیکن میں آپ کو جذبات میں مغلوب سمجھ کر ٹال گیا۔ بات کرنے کا کوئی انداز اور اخلاق نامی بھی کوئی چیز ہوتی ہے، یہاں پہلے بھی میرے حوالے سے چند باتیں کی گئیں لیکن میں برداشت کرگیا، اب آپ چوری کا الزام لگا رہے ہیں، میں آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ آئندہ بات کرتے ہوئے آداب کو ملحوظ خاطر رکھیں بصورت دیگر میں منتظمین اعلیٰ سے رابطہ کروں گا۔ میں بہت دھیمے مزاج کا اور ہر کسی سے تعاون کرنے والا آدمی ہوں اور صبر سے کام لیتا ہوں لیکن تیسری یا چوتھی مرتبہ الزامات لگانے پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ آپ پہلے بھی سمرقندی صاحب کے بارے میں اس طرح کا جملہ لکھ چکے ہیں جو بہرحال ادب کے دائرے سے باہر ہے

لے بھئی ان کی عربی کر کے دکھا

اس کے علاوہ دانش صاحب بھی مجھے صلوٰتیں سنا کر چلے گئے۔ میں آپ دونوں حضرات کو ایک مرتبہ پھر متنبہ کرتا ہوں کہ اخلاق کے دائرے سے نہ نکلیں اور اپنی گفتگو میں آداب کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ نہ میں نے کسی کو برا بھلا کہا ہے کہ نہ کسی پر الزامات دھرے ہیں بلکہ حتی الامکان ہر کسی کے ساتھ تعاون ہی کیا ہے، کیا دانش صاحب نہیں جانتے کہ میں نے لڑاکا جہازوں کے مضامین پر ان کے ساتھ تعاون کیا؟ کیا آپ (خالد صاحب) نہیں جانتے کہ جب آپ نے پہاڑوں پر مضامین لکھے تو میں نے اپنا کام چھوڑ کر آپ کو سانچے بنا کر دیئے، نجانے کیوں آپ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دائرۂ اخلاق سے باہر نکل جاتے ہیں۔ Fkehar 07:22, 27 مارچ 2007 (UTC)

جس کا کھائیے اس کے ہی گن گائیے

فہد صاحب یہ کہاوت صدیوں کے تجربے کا نچوڑ ہے۔ اردو وکیپیڈیا پر پہلا حق اردو الفاظ کا ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کريں گے تو ہم بے وفائی کے مرتکب ہونگے۔ اردو کے بعد یہ حق عام ترین لفظ کا ہے اور یہ کسی بھی زـان کا ہو سکتا ہے۔ میں اردو وکیپیڈیا پر اردو کے ہی الفاظ کے قتل کا مجرم نہیں ہوسکتا میں کسی کو خوش کرنے کی خاطر اپنے وطن اپنی قوم اور زبان کو نہیں چھوڑ سکتا مجھے اس سے معاف رکھیں میں بے وفا نہیں ہوسکتا اور میں نے کسی کو کچھ نہیں کہا۔ یہ میں ہی ہوں جسے مسلسل تنگ کیے جارہا ہے۔

سمرقندی صاحب نے اپنی کسی بھی بات کو ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی آپ نے۔ انھوں نے لفظ سٹا کے بارے میں کہا میں نے ثبوت دے دیے اور آپ کیا چاہتے ہیں۔ آپ ان کے بیان کو غور سے پڑھیں وہ مقامی الفاظ کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ انھیں کسی جامع میں استعمال کیا جاۓ۔ اردو زبان کی اس سے بڑی توہین اور کیا ہو گی۔ کیا آپ ذرا سا بھی محسوس نہیں کرتے کہ کس طرح کے الفاظ اردو کے مقامی الفاظ کے لیۓ استعمال کیۓ جارہے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ وہ جو کہیں ہر کوئی اسے مان لے ایسا نہیں ہو سکتا۔ اردو وکی پر سمرقندی نہیں اردو زبان، قوائد و ضوابط اور سچ کی حکمرانی ہونی چاہیۓ۔ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ ثابت کر دیں کہ خلد الماء، حوت نیلگوں اور لوف جسیم میرے دیۓ گۓ ناموں کے مقابلے میں زیادہ عام ہیں اگر آپ سمرقندی صاحب کا مقدمہ لڑنا ہی چاہتے ہیں تو قوائد و ضوابط کے تحت لڑیں خواہ مخواہ بد مزگی پیدا نہ کریں اگر وہ سچے ہیں تو خود کیوں نہیں بات کرتے؟ آپ کو کیوں آگے آگے رکھا ہوا ہے؟

سمرقندی صاحب میں کام کرنے کی بے تحاشا صلاحیت ہے اور یہ آپ میں بھی ہے لیکن یہ سب صلاحیتیں نظم و ضبط کے اندر ہونی چاہئیں اگر اردو زبان کے ساتھ وہ پرخلوص ہیں تو عملی طور پر اسے ثابت کریں۔ چند ہفتے پہلے میں نے رنگوں کے بارے میں کچھ تعارف کراۓ۔ رنگ پر ڈھونڈا تو پتہ چلا مضمون بنا ہوا ہے صفحے کو کھول کر دیکھا تو سمرقندی صاحب نے صرف ایک لفظ لکھا ہوا تھا اور وہ بھی انگریزی میں "Color" یہ ہیں آپ کے سمرقندی صاحب میں نے کوئی مضمون چھوٹے سے چھوٹا بھی لکھا ہے تو وہ تعارف ضرور کراتا ہے شہ سرخی کا۔

میں نے یہ نہیں کہا کہ آپ نے چوری کی ہے آپ نے اسے ہو سکتا ہے بہتر نہ سمجھا ہو اس لۓ اسے مٹا دیا ہو اور دوبارہ نۓ سرے سے لکھا ہو لیکن پھر بھی یہ مناسب نہیں ہے۔ 24 نومبر کو میں نے جبرالٹر کا تعارف کرایا اسکی ایک تصویر بھی ڈالی اور پھر اس کا تعلق 24 نومبر کو ہی طارق بن زیاد سے جوڑ دیا آپ نے 11 دسمبر کو یہ سب مٹا کر نۓ سرے سے اس مضمون کو لکھا آپ بتائیں کیا بات مناسب ہے؟ آپ خود چیک کر لیں جہاں تک مجھ سے ہو سکتا ہے میں وکی کے قوانین کی پابندی کرتا ہوں لیکن کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ آپ تصویریں استعمال کرتے ہیں مثلاً طارق بن زياد میں ہی کیا آپ کو بلااجازت ایسا کرنے کا حق ہے۔ سمرقندی صاحب کی طرح آپ بھی بے دریغ عربی کی شہ سرخیاں استعمال کرتے ہیں کیا یہ غیر مناسب نہيں مثلا{{دوزبر}] ایک مضمون جنگ ٹورس اردو میں جنگ ٹورس کے نام سے ہی ہے لیکن آپ نے اس کی سرخی بلاط الشہداء لگائی بے شک آپ نے جنگ ٹورس سے اسے ریڈائرکٹ کیا اور اندر اس کا ذکر کیا لیکن جہاں اس کا حق ہے وہاں تو یہ حق عربی کو دے دیا یہ صرف چند مثالیں ہیں بے شمار ڈھونڈی جاسکتی ہیں۔ سمرقندی صاحب کو خوش کرنے کی خاطر اردو کا خون تو نہ کریں۔

  • سید سلمان صاحب بہت خوب وکالت کی آپ نے اردو کے ساتھ زیادتی کرنے کی سارے غیر ملکی زبانوں کے ہی وکیل ہیں کیا اس غریب اردو کا کوئی وکیل نہیں بہت خوب۔ کاش آپ اردو الفاظ اور اردو گرامر کی وکالت کرتے۔

خالد محمود

خالد صاحب کے نام

قابلِ صد احترام خالد صاحب السلام علیکم۔ میں نے اردو گرامر کی ہی وکالت کی ہے۔ آپ نے بات تو کی ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ میری کون سی بات غلط ہے۔ میں اردو الفاظ ہی استعمال کرنے کا حامی ہوں۔ اس بات کا قائل ہوں کہ اگر اردو میں کوئی لفظ نہیں (خصوصاً سائنسی) تو اسے ایجاد کر کے رواج دیا جائے۔ الفاظ کی ایجاد اور رواج دینا کوئی بری بات نہیں۔ ھندوستان ، ایران، ترکی، مصر اور فرانس کے بارے میں مجھے خود معلوم ہے کہ ادھر ایسے ادارے موجود ہیں جو سائنسی اور دوسرے الفاظ اپنی زبان میں ڈھالتے ہیں۔ یورپ میں برطانیہ اور آئر لینڈ کے علاوہ کہیں انگریزی نہیں چلتی اور وہ اپنی اپنی زبان میں نئے الفاظ ڈھالتے ہیں۔ نئے تراجم کرتے ہیں اور اسے میڈیا اور جامعات کے ذریعے رواج دیتے ہیں۔ میں ایسے الفاظ کی بےشمار مثالیں پیش کر سکتا ہوں۔ اردو میں بھی یہی ہونا چاہئیے۔ اب اردو میں ایسے الفاظ جو موجود نہیں انھیں عربی اور فارسی سے ڈھالنے میں کوئی قباحت نہیں۔ کیونکہ اردو میں پہلے ہی ساٹھ فی صد الفاظ انھی زبانوں سے ہیں اور باقی بنیادی طور پر پنجابی سے ہیں اور پنجابی کے بیشتر الفاظ بھی فارسی سے ہیں۔ انگریزی سے الفاظ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں مگر الفاظ کو سو فی صد انگریزی جیسا ہی رکھنا کوئی ٹھیک بات نہیں۔ ایسا تو ترکی، جاپانی، چینی اور فرانسیسی میں نہیں ہوتا۔ رہی بات عام اردو کی تو عام اردو تو مختلف علاقوں میں بہت مختلف ہے۔ مثلاً عام لاہور کے لوگ، کراچی کے لوگ اور ملتان کے لوگ مختلف اردو بولتے ہیں۔ کتابی اردو بہتر ہے۔ ھر زبان میں عوام کی بول چال کی نسبت کتابوں میں زیادہ مشکل، ادبی اور نسبتاً ثقیل الفاظ ہوتے ہیں۔ تو اردو میں کیوں نہیں۔ عام بول چال میں تو اردو کے زیادہ سے زیادہ ایک ھزار یا پندرہ سو الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ وہ ادبی سائنسی اور فنی لحاظ سے کافی نہیں ہیں۔ ھر زبان میں کسی علاقے کی زبان کو معیار (سٹینڈرڈ) سمجھا جاتا ہے مثلاً انگریزی آکسفورڈ کی۔ اسی طرح بلا شبہ لکھنو اور دھلی کے لوگ جنھیں ھم اھل زبان کہتے ہیں معیاری اردو بولتے ہیں۔ میں نے جیسے پہلے آپ سے درخواست کی ہے کہ آپ اپنے نقطہ نظر کے مطابق کام کریں اور ھمیں مل کر کام کرنا چاہئے اور درمیانہ راستہ اختیار کرنا چاہئیے۔ مثلاً میں نے (International Monetary Fund) کا ترجمہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کیا ہے جو رائج ہے اور جس میں فنڈ کا لفظ انگریزی ہی ہے۔ یہاں اسے آئی ایم ایف رکھنا اردو کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ اس سلسلے میں آپ انگریزی وکی پر ایسے الفاظ پر تحقیق کر سکتے ہیں مثلاً IMF کو انگریزی میں کھولیں اور نیچے دوسری زبانوں کے صفحات ملاحظہ کریں مثلاً فرانسیسی، سپینش، جرمن، عربی سب میں کہیں اسے انگریزی نہیں رکھا گیا اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔

میرا مقصد ھرگز آپ کی دل آزاری نہیں بلکہ میں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ آپ میرے صفحہ پر جا کر میرے لکھے ہوئے مضامین پڑھیں اور ازراہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا وہ عربی نما اردو میں ہیں۔ ان میں میں کیا تبدیلی کر سکتا ہوں؟ آپ کی تجاویز میرے لیے قیمتی ہونگی۔ کیا جو اردو میں نے اوپر لکھی وہ مشکل ہے؟ یا وہ اردو گرامر سے ھٹ کر ہے؟ یا عربی نما ہے؟ میری درخواست یہ ہے کہ مل جل کر کام کریں اور اس تبادلہ خیال کا مقصد بھی یہ ہے کہ کدورتیں دور ہوں اور کوئی درمیانہ راستہ برامد ہو۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ بحث اختتام پذیر نہیں تو اس کا حل یہ ہے کہ ھم اپنے نقطہ نظر کے مطابق صفحات لکھتے رہیں۔ ایک دوسرے کے صفحات کو حذف نہ کریں اور بس کام کرتے رہیں۔ مخلص۔--سید سلمان رضوی 17:23, 27 مارچ 2007 (UTC)

ترکش کا آخری تیر -- خالد صاحب کے لیے!!

تو میرے بھائی میں نے کب کہا کہ اردو پر پہلا حق اردو الفاظ کا نہیں ہے اور میں نے کب لوف جسیم، حوت نیلگوں اور خلد الماء اور اس طرح کے دیگر الفاظ کی حمایت کی ہے؟ آپ کو کسی نے تنگ نہیں کیا بلکہ آپ نے یہ موضوع خود چھیڑا تھا اور اگر آپ کے بیان کردہ موضوع سے دلچسپی نہ ہوتی تو کوئی اس پر گفتگو بھی نہ کرتا۔ میں نہ سمرقندی صاحب کی وکالت کررہا ہوں نہ انہوں نے مجھے اس کا کہا ہے، بلکہ میں تو ان کے نام سے زیادہ انہیں جانتا بھی نہیں۔ اگر آپ اس طرح کے تبادلۂ خیال کو بد مزگی سمجھتے ہیں تو یہ آپ کی سوچ ہے میں تو اس طرح کی گفتگو کو تعمیری سمجھتا ہوں جس کا انشاء اللہ کوئی نہ کوئی اچھا حل ہی نکلے گا۔ مجھے اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے آپ جو طرز عمل اختیار کررہے ہیں وہ درست نہیں۔ میں نے اپنی جو بات کی ہے ثبوت کے ساتھ کی ہے ینی چری کے موضوع پر ہونے والی بحث پر میں نے آپ کو چھ سات ثبوت دیئے تھے (آپ کو یاد ہوں گے) جبکہ موئن جو دڑو پر بھی میں نے ثبوت کے ساتھ بات کی تھی۔ نظم و ضبط کی خلاف ورزی میں نہیں کررہا بلکہ آپ کررہے ہیں جو بغیر کسی سے پوچھے صفحہ اول کو پہلا صفحہ کی جانب منتقل کررہے ہیں۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ میں پہلا حق عربی ناموں کو نہیں دیتا ہوں تو میں نے جبرالٹر کو جبل الطارق کیوں نہ کیا؟ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو مرکز تجارۃ العالمی کیوں نہ لکھا؟ پیٹروناس ٹوئن ٹاور کو تبدیل کیوں نہ کیا؟ جن ماؤ بلڈنگ کو کیوں "عام فہم" الفاظ میں رہنے دیا؟ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو کیوں نہ تبدیل کیا؟ پورٹ ٹاور کمپلیکس اور حبیب بینک پلازہ کو بھی کچھ اور بنادیتا؟ کیا عربی میں کریٹ، کوہ پائرینیس اور رہوڈس کے نام نہیں ہیں؟ میں تھریس اور اٹلی کو تراقیہ اور اطالیہ بھی کرسکتا تھا! دنیا کا آٹھواں عجوبہ سے زیادہ آسان لفظ اور کیا ہوسکتا ہے؟ نیشنل اسٹیڈیم کو کچھ اور بھی لکھا جاسکتا تھا! آپ کو لے دے کر بلاط الشہداء ہی یاد آرہا ہے؟ یہ نام میں نے کتابوں میں پڑھا تھا اس لیے لکھا مجھے یہ معلوم نہیں کہ عربی وکیپیڈیا پر اس کو کیا لکھا گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں نے دانستہ طور پر آپ کے مضامین کو مٹا کر اپنے لکھے ہیں تو میرے پاس ویسے تکمیل طلب کام اتنا زیادہ ہے کہ میرے پاس دوسروں کے مضمون مٹا کر از سر نو دوبارہ لکھنے کا وقت نہیں۔ البتہ اگر آپ یہی سمجھتے ہیں کہ میں نے یہ "حرکت" جان بوجھ کر کی ہے کہ تو خاکسار معذرت خواہ ہے۔ آپ نے تصویروں کے استعمال کے حوالے سے بات کی ہے کہ میں بغیر اجازت شائع کرتا ہوں، کم از کم آپ کو تو یہ بات نہیں کہنی چاہیے آپ کو یاد ہوگا کہ ناران کے مضمون میں ایک تصویر لگائی گئی تھی جس کی میں نے اس کے فوٹوگرافر سے اجازت لی تھی۔ آخری بات یہ کہ آپ دوبارہ یہ نہیں بولیں گے کہ سمرقندی صاحب کو خوش کرنے کے لیے میں اردو کا خون کررہا ہوں۔ آپ ذیل میں نومبر میں حیدر صاحب اور سمرقندی صاحب کے درمیان ہونے والی بحث پر میرا نقطۂ نظر دیکھ لیں، اس کے بعد شاید آپ مجھ سے اختلاف نہ کریں:

السلام وعلیکم حیدر بھائی! امید ہے بخیر ہوں گے۔ آپ سے بات کرنے کا مقصد آپ کے اور افراز بھائی کے درمیان ہونے والی تلخی کو ختم کرنا اور معاملے کو مزید الجھنے کے بجائے اس پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف ویکیپیڈیا پر نہیں بلکہ دنیا بھر میں اردو استعمال کرنے والوں کا مسئلہ ہے جو ابھی تک حل طلب ہے۔

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جس طرح اردو عربی، فارسی، ترکی، سنسکرت اور دیگر زبانوں کے ملاپ سے بنی ہے اس سے یہ چیز اردو کے مزاج میں شامل ہے کہ یہ دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنی اندر سمونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ انگریزی زبان کے الفاظ اردو میں شامل نہیں ہوسکتے تو میرے خیال میں عربی، فارسی، ترکی و دیگر زبانوں کو سرخاب کے پر نہیں لگے کہ ان کے الفاظ تو اردو میں شامل کئے جاسکتے ہیں لیکن انگریزی کے نہیں۔ اس لئے وہ انگریزی الفاظ جو آج کل اردو میں مروج ہیں ان کو ہرگز نہیں چھیڑا جانا چاہئے۔ پہلے زمانے میں انگریزی کے الفاظ اردویا لیئے جاتے تھے مثلا رومانس کو رومان کردیا گیا اور اسی طرح دیگر الفاظ کو بھی اردو کے پیرائے میں ڈھال دیا گیا۔ آج کل کیونکہ یہ کام کوئی ادارہ نہیں کررہا اس لئے اردو سے محبت کرنے والے حلقوں میں یہ بحث چھڑتی رہتی ہے باقی رہے دیگر ان کی بلا سے اردو کیا پاکستان کی ساری مقامی زبانیں ختم ہوجائیں ان کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ اب ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ الفاظ جن کا اردو میں متبادل موجود ہے اسے ضرور استعمال کیا جائے جس کا نہیں اسے بطور انگریزی لفظ اردو میں شامل کیا جائے۔ موجودہ اردو میں کہیں انگریزی کی اصطلاح اس حد تک مروج ہے کہ ہم اسے ہٹاکر اردو کی خود ساختہ اصطلاح نہیں ٹھونس سکتے اور کہیں ایسا ہے کہ اردو کی اصطلاح کو نظر انداز کیا جارہا ہو اور انگریزی کی اصطلاح ٹھونسی جارہی ہو تو ہماری ترجیح اردو کی اصطلاح ہوگی اور اس کی ترویج کے لئے جو کچھ ہوسکا ہم کریں گے۔

آپ کو مل کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا اور درمیان کی راہ تلاش کریں۔ آپ دونوں حضرات دراصل دو انتہاؤں پر چل رہے ہیں اور دونوں کو درمیان میں آنا ہوگا۔

والسلام و دعاگو --Fkehar 10:53, 24 نومبر 2006 (UTC)

بات اگر اب بھی واضح نہیں ہوئی تو میں کیا کرسکتا ہوں؟ اس بحث کو اب میں ختم کررہا ہوں، اس معاملے پر اب کسی بات کا میں کوئی جواب نہ دوں گا کیونکہ نہ میرے پاس اتنا وقت ہے کہ نہ سمجھنے والے کو سمجھاسکوں اور اپنا اہم کام چھوڑ کر بحث کرتا پھروں۔ بہرحال اگر آپ کو کوئی بات بری لگی ہو (میرے خیال میں بہت ساری لگی ہوں گی) تو معاف کردیجیے گا، یہ میرے ترکش کا آخری تیر ہے جو میں نے پھینکا ہے اب میں نہتا ہوں۔ والسلام قدردان و دعاگو Fkehar 05:48, 28 مارچ 2007 (UTC)

دوسروں کو الزام نا دیں

خالد صاحب اور دانش صاحب آپ تو میرا بہانہ بناتے ہوۓ غیرجانبدار لوگوں کو جانبداری کے دائرے میں کھینچنے لگے۔ فہد ، اردو ٹیکسٹ ، ثاقب ، خاور اور سلمان صاحبان میں سے کسی پر غصہ نا نکالیۓ، یہ وہ لوگ ہیں (بشمول حیدر صاحب) کہ جنکی وجہ سے آج ویکیپیڈیا آپ کے سامنے ہے۔ اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر میں کوئی غلط بات کروں گا تو ان میں سے ایک بھی میرا ساتھ نہیں دے گا اسکا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے (اگر کبھی) کوئی ایسی بات کہی ہو جسکو آپ میری طرفداری سمجھ بیٹھے تو یہ غلط فہمی ہے کیونکہ ان لوگوں نے جو مناسب سمجھا وہی کہا۔ آپ کو جو کہنا ہے مجھ ہی سے کہـ لیں۔

  • بات مختصر کرتا ہوں کہ وقت نہیں ہے طویل لفاظی کرنے کا۔
1- جو لوگ موجودہ اصطلاحات روکنا چاہتے ہیں وہ یہ ہیں
  • حیدر ، خالد ، دانش
2- جو لوگ (خواہ اعتراض بھی ہو) مگر روکنا نہیں چاہتے وہ یہ ہیں
  • خاور ، ثاقب ، اردو ٹیکسٹ ، فہد ، سلمان ، آصف ، سمرقندی

لہذا انتخاب تین کے مقابلے میں سات سے جاری رکھنے کی جانب ہو رہا ہے۔

سائنسی اور جدید مضامین کے اصول

  1. مضمون کے عنوان میں Transliteration استعمال نہیں کی جاسکتی ۔
  2. اگر لغتی اردو دستیاب نہ ہو تو ایسی صورت میں نام انگریزی alphabets میں ہی رہنے دیا جاۓ گا ۔ اس سے یہ احساس رہتا ہے (جیسے ثاقب صاحب نے بھی کہا تھا) کہ ابھی اسکی اردو تلاش کرنا چاہیۓ اور اردو کے لیۓ راستہ کھلا رہتا ہے۔ (مثلا Robot) ہاں اگر اسکے خود ساختہ نام پر راۓ شماری سے اتفاق ہوجاۓ تو اردو نام پر منتقل کردیا جاۓ گا۔
  3. مضمون کے متن میں جہاں انگریزی اندراج کی مجبوری ہو وہاں transliteration کی جاسکتی ہے مگر کسی کی جانب سے بھی اگر اردو متبادل بتایا گیا تو اسے تبدیل کرکہ اردو کردیا جاۓ گا اور انگریزی (قوسین) میں لکھ دی جاۓ گی۔
  4. کوئی لفظ بھی خود ساختہ ہوا تو راۓ شماری کے بغیر مضمون نہیں بنایا جاۓ گا۔ جیسا کہ حیدر صاحب نے کہا ہے
  5. اردو ویکیپیڈیا پاکستان کا نہیں ہے اور نہ ہی اردو صرف پاکستان میں بولی جاتی ہے اس لیۓ وہ الفاظ اختیار نہیں کیۓ جاسکتے جو کہ کسی دیگر علاقے کے اردو بولنے والوں کیلیۓ اجنبی ہوں (ہاں ان کو متبادل کے طور پر دیا جاسکتا ہے)۔ مثلا ہندوستان میں (جہاں پاکستان سے زیادہ اردو بولنے والے ہیں) ۔ یا سندھی کے الفاظ پنجاب میں اور پنجاب کے بلوچستان میں کیونکہ اس قسم کی باتوں سے کوئی فائدہ نہیں نقصان ہوگا ، ہاں آپ مضمون کی ابتداء میں جو متبادلات لکھنا چاہتے ہیں ضرور لکھے جانے چاہیں کیونکہ دائرہ المعارف کا مقصد ہی مکمل معلومات فراہم کرنا ہے اور اس مقصد کیلیۓ سانچہ اصطلاح برابر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ جو بھی چاہے وہ اپنے علاقے میں بولا جانے والا (گجراتی اردو ، سندھی اردو ، پنجابی اردو ، مراٹھی اردو ، بنگالی اردو وغیرہ کا) اردو نام ، اصطلاح برابر کے سانچے میں لکھ دے۔ اگر اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا تو اس ویکیپیڈیا کی علمی حیثیت کسی کی سمجھ میں آنے والی نہیں رہے گی۔ آپ خود سوچیے نہ اس طرح تو چوں چوں کا مربہ ہی بنے گا۔
  6. آپ ذرا غور کیجیۓ کہ اگر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ سائنسی اصطلاحات سندھی میں لکھے کا تو بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ بلوچی اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ پنجابی میں اور بنگال ٹیکسٹ بک بورڈ بنگالی میں ۔ تو پھر ؟ اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ سائنسی اصطلاحات وہ ہونی چاہیں جو کہ دنیا میں ہر کوئی لغت میں دیکھ سکے اور قبول کرسکے۔ ورنہ آپ تو خود اپنی قوم کو تقسیم کرنے کا باعث بنیں گے۔ (اگر کچھ اتحاد باقی ہے)۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بلوچی ، بنگالی اور سندھی میں سائنسی مضامین نہیں ہونا چاہیں ۔ میں نے تو کہیں یہ بھی لکھا تھا کہ ہمارا مقصد ہی تمام علاقائی زبانوں میں سائنس کے مضامین عام کرنے کا ہے، مگر اس مقصد کیلیۓ تو ان زبانوں کے اپنے ویکیپیڈیا موجود ہیں اور کتابیں بھی لکھی جا رہی ہیں اور لکھی جانی چاہیں۔ مگر کوئی تنظیم اور طریقہ تو قائم رکھنا ہوگا۔ میں اگر یہ کہوں کہ میں نے تو بجنور (ہندوستان) میں اردو بولنے والوں سے بھینسے کو کٹا کہتے سنا ہے اور کٹا کے نام سے بھینسے پر مضمون لکھ دوں تو کیا یہ مناسب ہوگا۔ میں کٹا کا نام مضمون میں کہیں بتا سکتا ہوں کہ اسکو کٹا بھی کہا جاتا ہے مگر کٹا کے نام کو عنوان بنا کر اردو میں مضمون تو نہیں لکھا جاسکتا۔
  7. اب آئیے ذرا انگریزی کی ان اصطلاحات کی جانب جو کہ رائج ہیں ، تو اس سلسلے میں میں یہ کہوں گا کہ اگر ہم انگریزی کی اصطلاحات انگریزی ہی میں لکھنے لگ گئے تو یقین کیجیۓ کہ اردو ویکی چوں چوں کے مربے سے بھی کسی بڑی چیز کا مربہ بن جاۓ گا۔ سائنس کے مضمون میں ایک سطر (line) میں دس اصطلاحات آتی ہیں، پھر ؟ کیا حال ہوگا اس مضمون کا جس میں تمام کا تمام مواد ہی transliteration میں لکھا گیا ہوگا۔ اور پھر اس درد سری کی ضرورت ہی کیا ہے؟؟ انگریزی میں ہی پڑھنا ہے بھائی تو انگریزی ویکی موجود تو ہے۔
  8. اردو کی طب و حکمت کی کتب میں جو اصطلاحات اختیار کی جاتی ہیں ان کی اکثریت عربی اور فارسی کی ہی ہے اور ان پر کسی بھی قسم کی کوئی بحث نہیں کی جاسکتی وہ اگر مشکل ہیں تو انکا متبادل آسان کر کہ مضمون کی ابتداء میں لکھ دیا جاۓ گا مگر ان اصطلاحات پر کوئی حرف نہیں آنے دیا جاسکتا کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم آسان الفاظ کی خاطر علمی اصطلاحات کو رد کردیں ۔ انکو اسی طرح استعمال کیا جاۓ گا جیسے وہ اردو حکمت کی مستند کتب میں درج ہیں (لفظ مستند کتب ہے نہ کہ وہ حکمت کی کتب جو کہ عام آدمی کو صحت کی معلومات فراہم کرنے کیلیۓ لکھی گئی ہوں)
  9. اگر کسی مضمون پر کوئی سمجھتا ہے کہ آسان مضمون لکھا جاسکتا ہے تو وہ بخوشی ایسا کر سکتا ہے اور اسکے لیۓ اصل مضمون کے عنوان کے ساتھ (آسان) کا اضافہ کیا جاسکتا ہے تاکہ الگ صفحہ بنایا جاسکے اور اس کے بعد اصل مضمون کی ابتداء میں یا مزید پڑھیے کے قطعہ میں اسکا ربط دیا جاسکتا ہے اور اسی طرح آسان مضمون میں اصل مضمون کا ربط دیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ عادل صاحب نے ایڈز کے سلسلے میں اس طریقے کی عملی مثال پیش کی ہے۔
  10. مندرجہ بالا اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوۓ ہی کوئی کسی مضمون میں ترمیم کرسکتا ہے بصورت دیگر پہلے تبادلۂ خیال پر اطلاع دی جاۓ گی اور پھر اس پر بات کرنے کے بعد ہی تبدیلی ممکن ہو گی (خواہ مضمون کسی کا بھی لکھا ہوا ہو)
  • گو یہ اصول نۓ نہیں ہیں میں نے ہمیشہ اسی طریقۂ کار کو اپنایا ہے ، آج انکو ایک جگہ لکھ دیا ہے تاکہ کسی کو کوئی ابہام باقی نا رہے۔ میں ہر ہر لفظ پر مشورہ کرنے کیلیے تیار ہوں اور ہر بات کو گفت و شنید سے حل کر کے آگے بڑھنا چاہتا ہوں ۔
  • صفحۂ اول پر اصطلاحات پر جو جو الفاظ بھی آپ کے خیال میں تبدیل ہونا چاہیں ان کو درج کردیجیۓ ، سب آپس میں مشورہ کر کہ ایک ایک کو حل کر لیں گے۔

جامعہ اور جواب

  • میرا خیال ہے کہ اس بات کی وضاحت اور جواب مل گیا ہوگا کہ میں مقامی الفاظ کے خلاف نہیں ہوں اور جامعہ کی کتاب سے مراد آپ لوگ سمجھ گۓ ہوں کہ کیا تھی۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ میں مقامی الفاظ کا مخالف ہوں ، میں نے تو کہیں یہ بھی لکھا تھا کہ جو لوگ عجیب و غریب اردو میں مذہبی مضامین لکھتے ہیں انکو بھی سختی سے حذف نہ کریں یہ بھی اردو کا ایک انداز ہے۔ لہذا میرے جامعہ کے معاملے سے مراد یہی تھی کہ بھائی اس طرح تو ہر علاقے کے لوگ اپنی اپنی اصطلاحات لکھنا چاہیں گے تو ایسے کام تو نہیں چل سکتا نا، جسکا جواب اور حل میں نے اوپر تفصیل سے دے دیا ہے۔
  • آخر میں خالد صاحب کیلیۓ ایک وضاحت کہ ، صارف جدید اصل میں جیسا کہ سلمان صاحب نے بتا ہی دیا ہے کہ صارفِ جدید ہے۔ اسکے علاوہ بھی جو الفاظ آپ کو غلط محسوس ہوتے ہیں وہ آپ بتا دیجیۓ مشورے سے سب کو ایک ایک کر کہ درست کر لیتے ہیں۔

وضاحت

شاکر صاحب سے معذرت کے ساتھ (کہ انہوں نے کہا تھا کہ یہاں گفتگو علمی نہیں) یہ عرض کرنا لازمی ہے کہ مجھے اندیشہ ہے ، مجھے پہلے یہاں دھمکی دی جاچکی ہے لہذا میرا حق ہے کہ اس بات کا ذکر کردوں۔ اگر کوئی مجھ سے مشورہ گفتگو کرنا چاہتا ہے تو میں ایک ایک لفظ پر گفتگو کر کے اسکا حل تلاش کرنے کیلیۓ تیار ہوں ۔ لیکن اگر کوئی مرعوب کر کے اور کسی بھی قسم کی طاقت سے روکنا چاہے گا تو ایسا ممکن نہیں کیونکہ خوف اسکو ہوتا ہے جسکا آگے پیچے کوئی ہو۔ ہمارا تو کوئی آگے پیچھے ہے اور نہ اوپر نیچے۔

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
اگر جنگ لازم ہے تو جنگ ہی سہی
اس ڈھنگ پہ ہے زور تو یہ ڈھنگ ہی سہی

اب ہر مضمون اوپر کے اصولوں کے مطابق ہی لکھا جاۓ گا۔ ان پر کسی کو اعتراض ہے تو میں مشورہ کرنے کیلیۓ تیار ہوں۔ میں من مانی نہیں کروں گا جو درست ہوگا وہی لکھوں گا۔ اب کھلی جنگ ہے ، اور ہر کوئی آزاد ہے کہ وہ جو چاہے طاقت استعمال کرلے اور مجھے روک کر دیکھ لے۔ ویکیمیڈیا فاؤنڈیشن کو بلا لاۓ (وہ اتنے احمق نہیں ہیں کہ معاملے کو نہ سمجھ سکیں I am not violating any of the policy of the wikimedia including the no original research policy. ذاتی غنڈے یا جٹ لے آۓ ، ایجنسی استعمال کرے یا ریاست۔ میں کوئی جرم تو نہیں کر رہا ہر ایک سے مشورہ کرکہ کام کرنا چاہتا ہوں ۔ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔

  • میں مجبور تھا (بلکہ مجبور کر دیا گیا تھا کہ یہ سب لکھ دوں)۔ اگر میرے الفاظ سے کسی کو تکلیف ہوئی ہو تو میں اسکی معذرت چاہتا ہوں لیکن یہ سب آپ لوگوں کے علم میں لانے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ باقی نہیں تھا۔ میرے پاس نہ تو کوئی طاقت ہے نہ کوئی ایسی ایجنسی یا ادارہ کہ میں جسکی پناہ میں جاکر بیٹھ جاؤں۔ میرے پاس تو صرف قلم ہے، لہذا اپنے اندیشے بیان کردیۓ۔ اور میں نے مصالحت اور باہم مشورے کے تمام دروازے کھلے رکھے ہیں۔ سمرقندی

عمدہ

سمرقندی صاحب، آپ کی دی تجاویز عمدہ ہیں۔ میری نظر میں انھیں وکیپیڈیا پر "رہبر لڑی" کے طور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر احباب متفق ہوں تو اس کا "اردو ویکیپیڈیا پر اصطلاحات کے بارے طریقہ کار" کے عنوان سے ایک علیحدہ مضمون بنا کر لکھا جا سکتا ہے، جس کے اوپر یہ بتایا جا سکتا ہے کہ ان پر اردو وکیپیڈیا کے مدیران کی اکثریت کا اتفاق ہے۔

--Urdutext 23:47, 28 مارچ 2007 (UTC)

  • جی بالکل ۔ اور اگر ان میں کسی بھی صاحب کو کسی تبدیلی یا اعتراض کی ضرورت محسوس ہوتی ہو تو اسکے مطابق بھی سب سے راۓ لیکر ان اصولوں میں ترمیم کی جاسکتی ہے تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ افراد کیلیۓ قابل قبول ہوں۔ لیکن اتنی درخواست کروں گا کہ ان میں ترمیمات کرتے وقت اصولوں اور معیار پر سودے بازی نہ ہونے دی جاۓ۔ سمرقندی
Symbol support vote.svg تائید سیف اللہ (تبادلۂ خیال) 06:34, 29 مارچ 2007 (UTC)
Symbol support vote.svg تائید سمرقندی صاحب آپ کی تجاویز واقعی قابل عمل ہیں اور مجھے خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنے رویے میں لچک کا مظاہرہ کیا ہے لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ خالد صاحب اور دانش صاحب چند دنوں سے غائب ہیں، ان سے رابطہ کرکے انہیں واپس لانے کی ضرورت ہے والسلام Fkehar 07:13, 30 مارچ 2007 (UTC)

روٹھے ہوۓ ساتھی

  • بالکل درست کہا فہد صاحب ، مجھے بھی خالد صاحب اور دانش صاحب کے ساتھ ساتھ آصف صاحب کی غیر موجودگی کا احساس ہے۔ خالد صاحب اور دانش صاحب کو اگر اوپر درج باتوں پر کوئی اعتراض ہے تو اس میں ترمیم کیلیۓ مشورہ کرلیں گے اور ابھی تو میں اپنی جانب سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ خالد صاحب اور دانش صاحب جو بھی چاہیں لکھ لیں میں انکے مضامین میں ان سے تبادلۂ خیال پر مشورے کے بغیر کوئی تبدیلی یا ترمیم نہیں کروں گا۔ بس ، اب تو ٹھیک ہے نا؟ اب تو واپس آجائیے۔
  • اور آصف صاحب بھی شمارندی مسرد کے کام کی رفتار سے مایوس (اور شائد کچھ ناراض بھی) ہوکر چھوڑ گۓ ہیں ان سے بھی درخواست ہے کہ واپس آجائیے آپ کی بہت ضرورت ہے۔ مصروفیات زیادہ ہوں تو کبھی کبھی ہی آجایا کیجیۓ ، بالکل تو تعلق قطع نا کیجیۓ۔ شکریہ۔ سمرقندی

== وضاحت مزید سمرقندی صاحب کے لیے == میں نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ:

یہاں پر بالکل نیا ہوں اور یہاں پر ہونے والے گزشتہ مباحث سے واقف و آگاہ نہیں ہوں لیکن موجودہ بحثیں ماشاء اللہ خاصی علمی ہیں لیکن یہاں پر شریک گفتگو لوگوں کے مزاج میں موجود تنائو میرے خیال میں اس علمی اور معلوماتی فورم کے لیے مضر صحت ہو سکتا ہے میں نے زندگی لائبریری میں گزاری ہے بڑے بڑے مزاکروں اور تنقیدی مجالس میں شرکت کی ہے لیکن جو انداز گفت وگو یہاں چل رہا ہے وہ کہیں نہیں دیکھا اور یہ اہل علم کے منصب کے خلاف ہے میں امید کرتا ہوں کہ یہاں موجود لوگ علمی مباحث کو نہایت شائستہ و شستہ انداز میں آگے بڑھائیں گے تاکہ اردو میں علمی مواد کی فراہمی کا عظیم منصوبہ تعطل کا شکار نہ ہو جائے

سمر قندی بھائی آپ کام کرتے جایئے اور جو اصطلاحات و تراجم آپ بہتر سمجھتے ہیں وہ استعمال کرتے جائیے وقت کے ساتھ ساتھ جب خوب سے خوب تر کا سلسلہ دراز ہوگا خود بخود اعتراضات رفع ہوتے جائیں گے میں تو بس اس بات پر زور دونگا کہ یہاں کام کرنے والوں کے لیے خوشگوار اور برادرانہ ماحول کی اشد ضرورت ہےـ تناٶ او کچھاٶ کا ماحول علمی اور تحقییقی کام کرنے والے اھل علم و دانش کے لیے موزوں نہیں اور نہ ہی اہل علم کا یہ منصب ہے کہ وہ اس طرح کے بے سود اور وقت ضائع کرنے والے مباحث میں الجھیںـ میں آپ کے دقیق علمی کام کر سراہتے ہوئے آپ کے لیے نیک تمناٶں اورپرخلوص خواہشات کا اظہار کرتا ہوں اسی طرح دوسرے دوست جو اس فورم پر کام کر رہے ہیں ان کے علمی کام کے لیے بھی معترف ہوں اور سب لوگوں کی صحت و خوشی کے لیے اللہ سے دعا گو ہوںـ--شاکرالقادری 21:13, 29 مارچ 2007 (UTC)

تجاویز دلچسپ مگر متنازعہ

  • تجاویز دلچسپ ہیں لیکن تجاويز پیش کرنے والے کا اردو زبان کے بارے میں علم خطرناک حد تک محدود ہے۔ سمرقندی صاحب کو اردو کی ابتدا کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔ اردو کا خمیر مقامی زبانوں سے لیا گیا لیکن سمرقندی صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر مقامی زبانوں سے الفاظ لیۓ گۓ چوں چوں کا مربعہ بن جاۓ گا لیکن بیرونی زبانوں سے لے لیۓ جائیں تو ٹھیک ہے۔
  • جو بندہ متنازعہ ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو متنازعہ امور سے علیحدہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
  • پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے بارے میں فرماتے ہیں اور اس طرح پاکستان کے باقی علاقائی بورڈوں کے بارے میں کہ جیسے علاقائی زبانوں میں کتابیں شائع کرتے ہیں انھیں اندازہ ہی نہیں کے یہ بورڈ اور اس طرح کے کئی ادارے پاکستان یمں قائم ہیں جو زبان اور الفاظ کی ہم آہنگی کو قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ بورڈ اردو میں ہی کتابیں شائع کرتے ہیں۔
  • پاکستان میں اردو میں جتنے اخبار، رسالے، کتابیں اور دوسرا مواد چھپتا ہے باقی دنیا میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں چھپتا۔ پاکشتان اردو کا گھر اور اس کی آخری پناہ گاہ کیا خقائق کے ذریعے اس بات کو غلط ثابت کیا جا سکتا ہے؟ سو اردوص کے حوالے سے پاکستان کو کسی طرح بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا پاکستان سے باہر مثلاً ہندوستان میں اردو کی وہی حیثیت ہے؟
  • پاکستان میں حکومتی سطح پر ادارے ہیں جو ترجمے کا کام کرتے ہیں اور اپنی کتابیں شائع کرتے ہیں کیا دائرہ کو اسکا پتہ ہے؟ اور وہ معیاری ترجمے ہیں کیا اردو وکی کو انکی خبر ہے؟
  • اردو الفاظ اور زبان کے بارے میں ڈاکٹر جمیل جالبی اور مشتاق احمد یوسفی نے بھی راۓ دی ہے انھیں بھی دیکھ لینا چاہیۓ۔
  • سمرقندی صاحب قطعی طور پر ہمارے لیۓ معیار نہیں ہے۔ کیا یہ دلچسپ بات نہیں نہ ہمیں ان کا تعلیمی پس منظر، قابلیت، تجربہ زندگی اور کام کچھ بھی پتہ نہیں۔ ان دیکھا صرف خدا ہی میں مان سکتا ہوں کسی اجنبی کے بھینٹ میں اپنا علم نہیں کر سکتا جسے میں جانتا ہی نہیں۔ ہم بازار میں جاتے ہیں تو بہترین چیز کا انتخاب کرتے ہیں سمرقندی صاحب میں ایسی کیا خوبی ہے جو انھیں معیار مان لیا جاۓ جبکہ یہ واضحے طور پر اردو زبان کے خلاف اپنا تعصب ظاہر کرچکے ہیں۔ کیا وہ اپنا تفصیلی تعارف کرا سکتے ہیں۔
  • ساری دنیا ایک طرف اور دائرہ معارف میں چند ووٹ ایک طرف مزاحیہ بات لگتی ہے۔ کل چند ووٹ فیصلہ کرتے ہیں پاکستان کا ترجمعہ آئندہ وطن مقدس ہو گا اور ہم سارے منہ دیکھتے رہ جائینگے۔
  • سب سے اہم نقطہ سمرقندی صاحب کا اردو الفاظ کے بارے میں متعصبانہ رو یہ ہے۔ اگر وہ اپنا رویہ بدل لیں تو وہ مجھے فہد صاحب سے بھی زیادہ تعبدار پائیں گۓ۔ ہم سب شکر نہیں کریں گے کہ ایکک بندہ ہمارے اپنے اہم مسائل کو حل کۓ جارہیں اور ہماری بہت بڑی سردردی اس نے اپنے ذمے لی ہوئی ہے لیکن انکے کام نے مجھے ان سے شدید مایوس کیا ہے۔
  • اگر وہ پرخلوص ہیں اردو سے تو ثابت کریں اپنے کام سے باتوں سے نہیں۔ باقی جہاں بھی لوگ اکھٹے کام کرتے ہیں۔ مزاج میں فرق یا کسی بھی وجہ سے اختلاف راۓ ہوسکتا ہے اور فطری ہے میں ان سے اپنے پر اختلاف پہ معذرت کرنے کو تیار ہوں۔ لیکن ہمارے درمیان ہم آہنگی میں رکاوٹ اردو الفاظ کے بارے میں ان کا رویہ ہے۔
  • وہ ٹانگ اڑانے اور گروہ بندی کے ماہر ہیں اور پھر سمجھتے ہیں کہ تمام لوگ جو کہیں فوراً مان لیں، اس خیال است و محال است و جنوں است۔ وہ دوسروں کو کہتے ہیں کہ جنھیں انگریزی کا شوق ہے وہ اپنا شوق انگریزی وکی پر پورا کرے یہ کلیہ وہ اپنے اوپر کیوں نہیں لاگو کرتے وہ عربی وکی پر کیوں اپنا شوق پورا نہیں کرتے؟ ادھر وہ ہمیں کیوں بد مزہ کرتے ہیں۔
  • فہد صاحب متروک الفاظ کو استعمال کرنے کے شدید حامی ہیں۔انہوں شان الحق کی لفت سے الفاظ ڈھونڈہ اور یہ نہ سوچا کہ عام لوگ سمجھتے ہیں کہ نہیں۔ متروک الفاظ کو بہرحال دائرالقعارف کو (ہاں یہ دائرہ ہی ہے جہاں آزادی راۓ کی کوئی اجازت نہیں) کو اگر لطیفہ ہی بنانا ہے تو تجربہ کر کے دیکھ لیتے ہیں۔ مثلا میں اپنے مضامین میں صاروخ کا استعمال کرتا ہوں اور پھر نتائج دیکھ کر بتائیۓ اب یہ لفظ کیسے لگ رہے ہیں۔
  • برصفیر پاک و ہند کا حصہ پودوں اور جانوروں کے لحاظ سے کل دنیا کے حصے کا 7٪ ہے۔ اب سمرقندی صاحب مقامی ناموں کی کلی پرواہ کیۓ بغیر یہاں عربی نام رکھنا چاہتے ہیں اور اس پر کوئی بحث نہیں کرنا چاہتے ان کا خیال ہے کہ یہاں کے لوگوں نے اپنی حیاتیات کے کوئی نام رکھے ہی نہیں ہے اور تاریخ میں یہ فریضہ پہلی بار سمرقندی صاحب انجام دے رہے ہیں لطیفہ زنی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اور وہ یہ سب عربی اصطلاحات کے پردے میں کرنا چاہتے ہیں۔
  • اگر کوئی بات بری لگے تو معذرت خواہ ہوں لیکن ایک عربی کہاوت ہے "الحق مر" بچپن میں یہ کہیں پڑھی تھی یعنی"سچ کڑوا ہوتا ہے"۔

دانش


وضاحت

السلام وعلیکم دانش صاحب! آپ کی واپسی (چاہے تبادلۂ خیال پر ہی سہی) پر خوشی ہوئی، لیکن آپ شاید معاملے کو سمجھ نہیں رہے یا اس کو سلجھانا نہیں چاہتے! بلکہ شاید آپ میری گفتگو کو مکمل پڑھتے ہی نہیں اور تمام مثبت باتوں کو چھوڑ کر چند باتوں کو اپنے مطالب میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں، جہاں میں نے خدنگا اور قذیفہ کی رائے دی ہیں وہیں میں نے نیچے یہ بھی لکھا تھا کہ میرے خیال مضمون کا عنوان میزائل ہونا چاہیے، اس سے زیادہ میں کیا لچک دکھاؤں۔ خدنگا اور قذیفہ ڈھونڈنے کا مجھے کوئی شوق نہیں تھا بلکہ وہ بھی آپ کے اس سوال پر میں نے ڈھونڈے جن میں آپ نے لغت کے اور عام فہم الفاظ کے حق میں گفتگو کی تھی۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میں سمرقندی صاحب کو نہیں جانتا بلکہ صرف اس معاملے کو سلجھانا چاہتا ہوں، جتنے اختلافات مجھے اُن سے ہیں اتنے ہی اختلافات آپ کی رائے سے ہیں، اس سلسلے میں پہلے بھی آپ کو اپنی گذشتہ سال کی گفتگو بطور حوالہ پیش کرچکا ہوں، اور اب تک آپ سے انتہائی تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کی ہے اور کبھی بھی جوش سے کام نہیں لیا۔ حالانکہ میں بھی نوجوان ہوں اور میرا بھی خون جوش مارتا ہے لیکن بردباری اور معاملہ فہمی سے کسی بھی قضیے کو حل کرنا دانشمندی کی علامت ہے۔ آپ کو کہا جا چکا ہے کہ آپ جو لکھیں گے آپ سے تبادلۂ خیال کیے بغیر کچھ تبدیل نہیں کیا جائے گا تو اس سے زیادہ آپ کو کیا ضمانت (گارنٹی) چاہیے۔ آپ لکھیں اور بے دھڑک لکھیں۔ مجھ سمیت یہاں کسی نے نہ سمرقندی صاحب کو کبھی معیار مانا تھا نہ مانا ہے اگر ایسا ہوتا تو آپ سے قبل مختلف معاملات پر شدید بحثیں نہ ہوتیں۔ سمرقندی صاحب جو بھی کریں میرا ان سے کوئی واسطہ اور تعلق نہیں اور نہ ہی آپ تینوں حضرات (سمرقندی، خالد محمود اور دانش خالد صاحبان) کے مضامین میں میری کوئی دلچسپی ہے بلکہ میرا واحد مقصد یہاں چند لوگوں کے درمیان مصالحت کرانا تھا، اگر آپ لوگ نہیں چاہتے کہ ایسا ہو تو ٹھیک ہے، میں کیوں اپنے مضامین کو ادھورا چھوڑ کر اور مختلف منصوبوں پر کام کو روک کر اس بحث میں حصہ لوں۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ دو مومنوں کے درمیان صلح کرانا بہت افضل ہے لیکن اگر آپ لوگ نہیں چاہتے تو ٹھیک، میں تو پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اس معاملے پر اب میں بحث نہیں کروں گا۔ لیکن کیونکہ آپ نے میرا نام لے کر چند باتیں کہی ہیں اس لیے ان کا جواب دیا۔ ویسے آپ سے ایک گذارش ہے کہ خالد محمود صاحب سے رابطہ کرکے انہیں واپس لانے کی کوشش کریں۔ والسلام Fkehar 06:17, 31 مارچ 2007 (UTC)

خوشخبری

کچھ لوگ اسے ایک احمقانہ حرکت کہیں گے ، کچھ معترض ہونگے۔ دنیا میں سب سے پہلے اردو زبان میں انسانی Hormones کی اردو فہرست پیش کرنے کا اعزاز اردو ویکیپیڈیا کو حاصل ہو رہا ہے۔ الفاظ مشکل تو ہوسکتے ہیں (جسکا علاج شائد کسی کے پاس بھی نہیں) لیکن اس کے مستند اور علمی لحاظ سے کامل ہونے کی مکمل کوشش کرلی گئی ہے۔ یہ کام اردو ٹیکسٹ ، فہد ، ثاقب ، سلمان ، آصف اور خاور جیسے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا تھا جسکے لیۓ میں سب کا شکر گذار ہوں۔ سمرقندی

  • بہت خوشی کی بات ہے۔ یہ مشکل کام صرف مستقل مزاج لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ اللہ کرے کہ اردو وکی اور شعبوں میں بھی ایسی ہی کامیابی حاصل کرے۔ جہاں تک مشکل ہونے کی بات ہے تو تکنیکی زبان انگریزوں کو بھی مشکل لگتی ہے۔ الفاظ کو صرف رواج دینے کے ضرورت ہوتی ہے۔ جب تمام ترقی یافتہ زبانوں میں تکنیکی الفاظ کے تراجم ہوتے ہیں تو اردو میں کیوں نہیں۔ عرب، جاپانی، چینی، ایرانی اور فرانسیسی لوگ اپنی زبان کے معاملے میں نہائت متعصب ہیں اور تکنیکی الفاظ کا فوراً ترجمہ کرنے میں نہیں شرماتے۔ وکی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے اردو کے وہ الفاظ رواج پا سکتے ہیں جو کبھی استعمال ہوتے تھے مگر اب انگریزیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ اگر ایک اردو دان صارف کو معلوم ہو کہ اسے تمام ممکنہ مطلوبہ معلومات کہیں سے اردو میں مل سکتی ہیں تو وہ انگریزی پر اردو کو ترجیح دے گا۔ اس سے اردو تکنیکی الفاظ رواج پا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے انگریزی متبادل بھی ساتھ دیے جائیں کیونکہ لوگ ان سے ابھی مانوس ہیں۔ اور یہ کام افراز صاحب بخوبی کر رہے ہیں۔ --سید سلمان رضوی 14:34, 4 اپريل 2007 (UTC)
  • اس کارنامہ پر میری طرف سے بھی سب کو مبارک!

--Urdutext 00:56, 5 اپريل 2007 (UTC)

Uchohan

معاف کیجیۓ گا ، یہ یو چوہان صاحب کیا شغل فرمارہے ہیں ویکیپیڈیا پر؟ کیوں دھڑا دھڑ تصاویر زبراثقال کی جارہی ہیں۔ جنکا نہ کوئی زمرہ ہے نہ سر نہ پیر۔ کیا ہے یہ سب بھائی ؟؟ سمرقندی

  • چوہان صاحب سے درخواست ہے کہ مضامین میں تفصیل بھی ڈالیں، صرف تصاویر دینا تو کافی نہیں۔

--Urdutext 00:58, 5 اپريل 2007 (UTC)

غالبا یہ گیم Mortal Combat کے کردار ہیںسیف اللہ (تبادلۂ خیال) 10:14, 5 اپريل 2007 (UTC)
  • میں نے آج تک اس مصیبت کا نام نہیں سنا جناب۔ سمرقندی
  • اصل میں یہاں کچھ عرصے بعد ایک ایسا صارف ضرور آتا ہے جو اس طرح کا کام کرکے غائب ہوجاتا ہے۔ پہلے ایک صاحب امریکہ کی تمام ریاستوں اور ان کے دارالحکومتوں پر ایک ایک لائن کے مضامین لکھ کر جاچکے ہیں اور جب انہیں کہا گیا کہ جناب تفصیل ڈالیں تو انہوں نے کہاکہ میں آہستہ آہستہ ڈالتا رہوں گا لیکن وہ بعد میں ایسے غائب ہوئے کہ آج تک نظر نہیں آئے اور وہ مضامین آج بھی ان کی راہ تک رہے ہیں۔ میرے خیال میں Uchohan صاحب بھی یہی کہیں گے کہ میں انہیں مکمل کردوں گا اور بعد ازاں خود بھی غائب ہوجائیں گے۔ ان سے بات کرلیں کہ اگر ان کو مکمل مضامین بنانے کا ارادہ ہے تو کام کریں کیونکہ ہمیں "تعداد" نہیں بلکہ "معیار" چاہیے۔ باقی وہ نئے صارف ہیں اس لیے ہاتھ تھوڑا "ہلکا" رکھیں۔ ویسے مورٹل کومبیٹ ہے بڑا مزیدار گیم، میں نے لڑکپن میں بہت کھیلا ہے، اگر اس کے کرداروں پر مکمل مضمون ہوں تو مجھے خوشی ہوگی۔ Fkehar 11:20, 5 اپريل 2007 (UTC)

کوشش

I tried to solve the matter of gohar shahi and to keep it inside only one Category of the same name. It does not mean that I am taking the responsibility of this matter. I will be happy if other Administration members are able to deal with this matter.
  • Please see the talk page of User Iamsaa. I think it will be easy to manage if all of Iamsaa pages are in one category of gohar shahi, that we can decide about it some months later. I also think that his previous pages can be redirectd to the current page of gohar shahi ( thats what he requested , see talk page ). But if you think this is not the proper way to deal with this matter, please do as you like to. My work is over. Samarqandi.
  • ان اصطلاحات کا استعمال کہاں ہوا ہے؟ جو اس صفحہ پر درج ہیں ۔ کیا ان کو میں جو خامیاں ہیں ان کو درست کرنے سے کوئی فائدہ ہو سکتا ہے؟ اگر کسی جگہ استعمال ہوسکتی ہیں تو ان پر محنت کی جاسکتی ہے۔ سمرقندی
  • یہ میں نے بہت شروع میں کہیں سے نقل کیں تھیں۔شاید اردو ویب کے وکی سے۔ ان اصلاحات کی مدد سے میں نے ابتداء میں ترجمہ کیا تھا۔ فائدہ !! اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ مگر بہتر ہے کہ اسے شمارندی مسرد پر منتقل کردیا جاۓ۔سیف اللہ (تبادلۂ خیال) 10:28, 10 اپريل 2007 (UTC)
    • بالکل درست خیال ہے۔ انشااللہ انکو ایک ایک کر کہ منتقل کردوں گا۔ سمرقندی

    جانے کیا کیا گیا ہے

    مجھے نہیں معلوم کہ ویکیپیڈیا کی کس file میں کیا کیا گیا ہے کہ عجیب و غریب واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ کبھی کسی صفحہ کی تصویر پردہ کی حدود سے اچھل کر browser کے بائیں جانب چھپ جاتی ہے، کبھی ویکیپیڈیا کا لوگو غائب ہوجاتا ہے۔ کبھی تدوینی خانے میں لکھتے وقت الفاظ جھپکنے (blink) لگتے ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ کوئی جاوا وغیرہ کا مسلہ ہے۔ سمرقندی

    انسانی روح کی توہین والے الفاظ و خیالات

    گوہر کے بارے میں الٹے سیدھے صفحات حذف کردیۓ گۓ ہیں۔ اس شخص نے عجیب ماحول بنا دیا ہے ویکیپیڈیا کا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ دائرہ المعارف نہیں کسی پیر صاحب کا دیا ہوا تعویذ ہے۔ آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ یہ شخص اپنے آپ کو ---- سگِ درِگوھرشاہی ---- لکھتا ہے۔ یہ سنگ نہیں ہے بلکہ سگ ہے جسکا مطلب کتا ہوتا ہے یعنی گوہر شاہی کے در کا کتا ۔ کمال ہے !! ایسا لگتا ہے کہ یہاں کوئی پاکستانی چوہدری جی یا وڈیرہ یا ہندوستانی نمبردار جی آگۓ ہیں جنکی آقائی غلامی جاری ہے۔ میں اس شخص کا اس قسم کا کوئی غیرانسانی لفظ اور خیال ویکیپیڈیا پر لانے کی سخت مخالفت کرتا ہوں۔ سمرقندی

    • میں تو ان صاحب پر پہلے ہی پابندی لگانا چاہ رہا تھا لیکن کیونکہ چند دنوں سے غیر فعال تھا اس لیے اس کام کو دیگر منتظمین پر چھوڑدیا ۔ انہوں نے ابتدا میں ہی دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ میں ڈان میں کام کرتا ہوں جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ وہ اردو وکیپیڈیا کو بدنام کرنے کے لیے کچھ لکھیں گے، میرے خیال سے ان کا یہ طرز عمل ہی ان پر پابندی لگانا کے لیے کافی ہےFkehar 08:08, 17 اپريل 2007 (UTC)

    نئے صارفین

    گذشتہ تقریبا ایک ماہ سے روزانہ تین سے چار نئے صارف وکیپیڈیا میں اپنا اندراج کرارہے ہیں، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مستقل یا کچھ عرصے کے لیے مکمل وابستگی اختیار نہیں کرتا، اس کی کیا وجہ ہے؟ اور نئے صارفین کو ٹیم کا مستقل حصہ بنانے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟

    • میرا خیال ہے کہ کچھ بھی نہ کیا جاۓ۔ انشااللہ اور دو ایک سال میں اس دائرہ المعارف کا معیار وہ ہو جاۓ گا کہ لوگ اسکی جانب آنے پر مجبور ہونگے۔
    1. اپنے ہر مضمون کا بین الویکی ربط لازمی طور پر انگریزی ویکی کے مضمون پر ضرور درج کیجیۓ، اردو پڑھنے والوں کی کثیر تعداد انگریزی ویکی پر جاتی ہے اور وہاں انکو ہر مضمون میں اردو کا ربط نظر آنا چاہیۓ۔
    2. خوش آمدید کا پیغام بھی صرف ان صارفین کو دیا جاۓ کہ جو کم از کم تیسری بار آۓ ہوں یا انہوں نے کم از کم کہیں دو جگہ پر ترمیم کی ہو (ایسی صورت میں تین بار آنے کی شرط متروک ہوجاتی ہے)۔ سمرقندی
    • درست فرمایا سمرقندی صاحب نے۔ اس کے علاوہ نئے صارفین کے لیے ایک مربوط مضمون تیار کرنے کی ضرورت ہے جو وکیپیڈیا کو استعمال کرنے کے طریقے بتائے ۔ جو مکمل طور پر اردو میں ہو جیسے انگریزی مضامین Tables, Templates, وغیرہ۔--سید سلمان رضوی 13:01, 20 اپريل 2007 (UTC)

    ایک تجویز

    ایک تجویز صفحہ اول کے بارے میں ہے کہ اس کے اوپر باقاعدہ عنوان کے طور پر صفحہ اول لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب ہم خوش آمدید کہہ رہے ہیں تو یہ صفحہ اول ہی ہوگا۔ انگریزی وکی پر بھی ایسا کوئی عنوان نہیں ہے۔ اصل میں صفحہ اول کے عنوان سے صفحہ کا کافی حصہ ضائع ہوتا ہے۔ اگر اسے ھٹا دیا جائے تو صفحہ کی خوبصورتی میں اضافہ ہو جائے گا ۔کیا یہ ممکن ہے؟--سید سلمان رضوی 14:32, 20 اپريل 2007 (UTC)

    توجہ دلانے کا شکریہ، فائرفاکس پر صفحہ اول لکھا نظر نہیں آرہا۔ دیکھتا ہوں آئی ای میں کیا مسلہ ہے۔سیف اللہ (تبادلۂ خیال) 14:38, 20 اپريل 2007 (UTC)

    گزارش

    میں ان نئے صارفین میں سے ایک ہوں جن کا یہاں ذکر ہو رہا ھے۔ گو کہ میں کچہ ترامیم کرنے کی کوشش تو کر رہا ہوں، لیکن اردو ٹائپنگ میرے لئے کافی مشکل ثابت ہو رہی ہے اس لئے ابہی رفتار کم ہے۔ میرے ذہن میں درج ذیل تجاویز ہیں جن پر غور کرنے کی گزارش کروں گا

    1. دیوان عام میں نئے تبصروں کو نیچے کی بجائے اوپر دکھایا جائے۔ اکثر انگریزی فورمز میں اسے طرح ہوتا ہے اور عموما لوگ اس چیز کے عادی ہوتے ہیں۔ اس سے نئی گفتگو کو دیکھنے اور اس کا جواب دینے میں آسانی ہو گی
    2. بہت سے اردو کے الفاظ لکھنے کا طریقہ اب تک میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے، مثال کے طور پر "عموما" میں دو زبر کیسے لگیں گے۔ میں نے اس سلسلے میں مدد کے لئے "اردو سپورٹ" کے صفحے پر "اردو کلیدی تختے کا استعمال" کے عنوان سے ایک حصہ شروع بھی کیا ہے مگر مجھے خود ابھی کچھ چیزوں کا پنہ نہیں ہے اس لئے مکمل نہیں کر سکا۔ اگر کوئی تجربہ کار ساتھی اس سلسلے میں مدد کریں تو مہربانی ہو گی۔

    کاشف عقیل 15:05, 20 اپريل 2007 (UTC)

    • کاشف عقیل صاحب! آپ نے دیوان عام میں تبصروں کی ترتیب کی جانب توجہ دلائی ہے، اس سلسلے میں موجودہ ترتیب کو درست سمجھتا ہوں کیونکہ اوپر سے نیچے کی جانب پڑھنے میں مطالعے کا تسلسل قائم رہتا ہے لیکن اگر اس کی ترتیب الٹ دی جائے (یعنی نئے پیغامات اوپر کی جانب آئیں) تو میرے خیال میں مطالعے میں تسلسل برقرار نہیں رہ سکتا یعنی جواب اوپر آئے گا اور سوال نیچے۔ یہ صرف میری رائے ہے باقی دیگر تمام ساتھی جس پر اتفاق کريں وہ مجھے منظور ہوگا۔ Fkehar 05:06, 23 اپريل 2007 (UTC)

    سوال ۔ سانچے

    یہ کیسے دیکھا جا سکتا ہے کہ کون کون سے سانچے دستیاب ہیں اور ان سانچوں کی تفصیل (Translation to Wiki markup, HTML or CSS) کیا ہے

    یہ وہ تمام سانچے ہیں جو اردو وکیپیڈیا پر میسر ہیں۔17:12, 20 اپريل 2007 (UTC)

    ترجمہ درکار ہے

    درج ذیل چیزوں کا ترجمہ درکار ھے۔ اگر انہیں فی الحال انگریزی میں ہی لکہنا ہے تو یہ بھی واضع کر دیں

    Centigrade or C *

    Fahrenheit or F *

    Geological Activity *

    Thanks شکریہ کاشف عقیل 16:02, 20 اپريل 2007 (UTC)

    خطرناک سوال

    جناب یہ تو آپ نے خطرناک بات کردی کہ ایسے مشہور انگریزی الفاظ کا اردو ترجمہ مانگ لیا ، ترجمہ تو سب کا موجود ہے مگر میں اسے پیش کرنے سے ڈرتا ہوں اب آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو لکھ دیتا ہوں :-)

    1. CENTIGRADE = درجۂ مِئویہ
    2. FAHRENHEIT = یہ چونکہ ایک طبیعیات دان کے نام سے منسوب ہے اس لیۓ ہم تبدیل کرنے کا حق نہیں رکھتے، اسے فارنہائٹ یا فارنہائت ہی رہنے دیا جانا بہتر ہے۔
    3. GEOLOGICAL ACTIVITY = ارضیاتی فاعلیہ

    سمرقندی

    ویسے تو میں کاپی / پیسٹ کر سکتا ہوں مگر اچھا ہو گا اگر آپ یہ بھی بتا دیں کہ "درجۂ مِئویہ" کلیدی تختے سے لکھنا کیسے ھے :)

    • اگر آپ کے پاس Microsoft کا keyboard layout ہے تو درجۂ کی حمزہ ۂ کیلیۓ آپ کو SHIFT + G دبانا ہوگا اور مِئویہ کی حمزہ ئ کیلیۓ آپ SHIFT + N دبانا ہے۔ سمرقندی
    • اور انہی چیزوں کے لیے صوتی تختہ کے لیے کیا دبائیں؟؟ SHIFT + 4 سے ئ لکھا جارہا ہے مگر درجۂ کی ھمزہ ۂ نہیں مل رہی۔--سید سلمان رضوی 18:37, 20 اپريل 2007 (UTC)
    • صوتی تختہ میں دو حروف لکھنے پڑیں گے o اور SHIFT &

    --Urdutext 00:38, 6 مئی 2007 (UTC)

    ترجمہ درکار

    Astronomical Unit کا ترجمہ درکار ہے۔ یہ فلکیاتی فاصلوں کی پیمائش کی اکائی ہے اور ایک AU سورج سے زمین تک کے فاصلے کے برابر ہوتی ہے

    • فلکیاتی اکائی

    یہ جواب کسی نامعلوم شخص نے دیا ہے۔ کیا باقی لوگ (سمرقندی، سیف اللہ ۔۔۔) اس جواب سے اتفاق کرتے ہیں؟ کاشف عقیل 21:40, 20 اپريل 2007 (UTC)

    • میرے خیال میں فلکیاتی اکائی یا (فلکیاتی اکائیاں) درست ہے۔--سید سلمان رضوی 21:52, 20 اپريل 2007 (UTC)
    • یہ نامعلوم صاحب ہمارے بہت اھم ساتھی ہیں۔ انکا ترجمہ بہت مناسب ہے :-) سمرقندی

    سورۂ نور

    میں نے سورۂ نور پر ایک مضمون تحریر کیا ہے، جو انتہائی تفصیلی ہے، میری خواہش ہے کہ اسے منتخب مقالہ قرار دیا جائے۔ اس میں تصویر اور دیگر لوازمات میں ایک دو روز میں شامل کردوں گا۔ Fkehar 14:36, 24 اپريل 2007 (UTC)

    لوگو

    جو لوگو لگایا گیا ہے اس کو بہتر بنانے کے لیے نستعلیق میں وکیپیڈیا آزاد دائرۃ المعارف لکھ کر بھیج سکتا ہوں، کیا وہ قابلِ قبول ہوگا؟ یا موجودہ یا اس سے ملتے جلتے خط (فونٹ) میں ہونا ضروری ہے؟ اگر نستعلیق منظور ہے تو میں ایک دو روز میں بھیج سکتا ہوں، نیز یہ بھی بتادیں کہ کس فارمیٹ میں ہو اور سائز کیا ہو؟ Fkehar 04:37, 25 اپريل 2007 (UTC)

    جس طرح مرضی بھیج دیں۔ میں تبدیل کردوں گا۔ لوگو یہی رکھنا ہے یا تبدیل کرنا ہے یہ بھی بتادیں۔سیف اللہ (تبادلۂ خیال) 15:27, 26 اپريل 2007 (UTC)
    • انشاء اللہ کل بھیج دوں گا! اس حساب سے لوگو میں مناسب تبدیلی کردیجیے گا۔ والسلام Fkehar 04:48, 27 اپريل 2007 (UTC)

    نظام شمسی ۔ مدد درکار ہے

    میں پچھلے کئ روز سے اس مضمون پر کام کر رہا ہوں۔ میری کوشش ہے کہ اسے اس درجے تک پہنچا دوں جہاں یہ مستقبل میں اردو وکیپیڈیا کا ایک منتخب مقالہ بن سکے۔ میں نے یہ مضمون بنیادی طور پر انگریزی وکیپیڈیا سے ترجمہ کیا ہے اور ابھی اس پر بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ چونکہ یہ میرا پہلا مضمون ہے اس لئے غالب امکان یہ ہے کہ انداز تحریر اور تراجم میں بہت سی غلطیاں ہوں گی۔ اگر کچھ تجربہ کار ساتھی اسے ایک نظر دیکھ لیں اور غلطیوں کی اصلاح کر دیں تو جو مزید کام ابھی کرنا ہے اس میں ان غلطیوں کے اعادہ سے بچ جاؤں گا۔

    شکریہ --کاشف عقیل 16:56, 25 اپريل 2007 (UTC)

    کوئی فیصلہ

    اس جگہ پر گفتگو پڑھ لیجیۓ ، وقت نا ہو تو کم از کم آخری حصہ ہی پڑھ لیجیۓ تبادلۂ خیال:ریاض احمد گوہر شاہی اور مضمون کو حذف کرنے یا رکھنے کے بارے میں اپنا ووٹ نیچے * کے نشان کے ساتھ دے دیجیۓ۔ شکریہ ۔ سمرقندی

    • میرے خیال میں اردووکی پیڈیاایک غیرجانبدارانسائیکلوپیڈیاہے۔اس لئے اس پرحضورسیدناریاض احمدگوھرشاہی مدظلہ العالیٰ کے متعلق ایک مختصر ومفصل مضمون لازماًہوناچاہیئے۔ --سگِ درِگوھرشاہی 10:03, 30 اپريل 2007 (UTC)
    • مضمون ہونا چاہیے لیکن اس میں کہیں بھی جانبداری نہیں جھلکنی چاہیے بلکہ حقائق اور تنقیدی رائے کو بھی پوری جگہ دی جائے۔ لیکن گوہر شاہی پر مضمون کے مصنف صاحب کا رویہ دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ غیر جانبداری کا وعدہ نبھا سکیں گے۔ Fkehar 10:22, 30 اپريل 2007 (UTC)
    • The recent essay uploaded by the writer is full of knowledge and I am of the view that it should sustain on Wikepedia. (MUHAMMAD SAEED
    • میں فہد صاحب کی راۓ سے اتفاق کرتا ہوں کہ اگر مضمون کو رکھا جاۓ تو انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ اس میں اتفاقی اور اختلافی دونوں جانب کی راۓ کو جگہ ملنی چاہیۓ۔ سمرقندی
    • اس میں تو شک والی کوئی بات ہی نہیں کہ اتفاقی اور اختلافی دونوں باتیں مضامین کا حصہ ہونا چاہئیں۔ اس کے علاوہ یہ بات مدنظر رکھنا چاہئیے غیر سائنسی چیزیں مضمون کا حصہ نہ بنیں مثلاً چاند پر شکلیں نظر آنا۔ ایسی باتوں کے لیے بیرونی روابط مضمون میں ہیں، جو دلچسپی رکھتا ہو وہ وہاں سے پڑھ سکتا ہے۔ جہاں ایسا مواد ہو جس پر سب متفق نہیں وہاں واضح کیا جائے کہ یہ کن کا نقطہ نظر ہے۔ غیر ضروری القاب جو انبیاء ، آئمہ اور صحابہ کرام سے مخصوص ہیں ان سے پرہیز بھی ضروری ہے۔ ھز ھولی نس تو وکی پر بادشاہوں کے لیے بھی استعمال نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ مضمون ہو تو متوازن ہونا ضروری ہے۔--سید سلمان رضوی 11:45, 30 اپريل 2007 (UTC)
    • محترم میںنے ہمینہ سے یہی کوشش کی ہے کہ اردووکی پیڈیاکے ساتھ مکمل تعاون کے ساتھ باہم گفتگوکے ذریعے ،معاملہ فہمی کے ساتھ کام لیاجاءے۔ میں چاہوںگاکہ مجھے موقع دیاکہ میں حضورسیدناریاض احمدگوھرشاہی مدظلہ العالیٰ پر ایک مفصل و مختصرمضمون لکھوںجوکہ وکی پیڈیاکے پڑھنے والوںکے لءے معلوماتی ہواورجوکہ غیرجانبدارانہ اندازمیں پڑھنے والوںکوحضورسیدناریاض احمدگوھرشاہی مدظلہ العالیٰ کے متعلق معلومات فراہم کرے۔لیکن اس کے لءے مجھے کچھ وقت دیاجاءے کیونکہ میں کل ہی عمرے سے واپس آیاہوںاوراگلے اتوارکوہماری بین الاقوامی گیارہویں شریف المرکزِ روحانی کوٹری شریف میں منعقد کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے بھی میں کافی مصروف ہوں۔ --سگِ درِگوھرشاہی 12:27, 30 اپريل 2007 (UTC)
    • میرے رائے میں مضمون ہونا چاہیے لیکن اس پر گوھر شاہی صاحب کے لمبے چوڑے القابات (سیدناریاض احمدگوھرشاہی مدظلہ العالیٰ) اور چاند پر شبیہ نظر آنے والے جیسے کرامات کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ لکھا جا سکتا ہے کہ ان کے ماننے والے انھیں "سیدنا" اور "مدظلہ العالیٰ" کہتے یا مانتے ہیں مگر اسے ان کے نام کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر مضمون رکھا جائے تو تنقید کا ایک الگ حصہ ہونا ضروری ہے۔ --کاشف عقیل 22:52, 30 اپريل 2007 (UTC)


    حوالہ دینے کا درست طریقہ

    اردو وکیپیڈیا پر حوالہ دینے کا درست طریقہ کار کیا ہے؟ مجھے انگریزی کے </ ref> ٹیگ کا علم تو ہے لیکن یہ اردو مسودے کے ساتھ عجیب بے ترتیبی پیدا کر دیتا ہے۔ --کاشف عقیل 02:59, 1 مئی 2007 (UTC)

    سانچہ ر اور ڑ

    • سانچہ { {ر} } اور { {ڑ} } کا استعمال کیجیۓ

    {{ر}} <ref> [http://www.who.int/classifications/apps/icd/icd10online/?gf40.htm+f448 عالمی ادارۂ صحت کے موقع پر عالمی جماعت بندی امراض (ICD)] </ref> {{ڑ}}


    نیا سانچہ

    میں نیا سانچہ کیسے بنا سکتا ہوں؟ --کاشف عقیل 05:02, 1 مئی 2007 (UTC)

    • درج ذیل انداز میں نیا مضمون بنائیے

    سانچہ:نام

    • اپنے سانچے میں زمرہ سانچے رکھنا نا بھولیۓ۔


    منتخب مقالے کی شرائط

    نظام شمسی اب اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور انشا اللہ ایک دو روز میں مکمل ہو جائے گا۔ تکمیل کے بعد اسے منتخب مقالے کا مقام دلانے کے لئے میرے ذہن میں درج ذیل باتیں ہیں۔ اگر مذید کچھ شرائط پوری کرنا ضروری ہوں تو براہ کرم یہاں نشاندہی کر دیں

    1. حوالہ جات کا اضافہ کرنا
    2. نامکمل کا زمرہ خارج کرنا
    3. دوسرے ساتھیوں کی جانب سے چھان پھٹک اور تصحیح


    منتخب مقالہ

    میں نے نظام شمسی کے مضمون کو اپنی جانب سے مکمل کر دیا ہے۔ --کاشف عقیل 03:32, 2 مئی 2007 (UTC)

    وکیپیڈیا نستعلیق

    چند روز پہلے وکیپیڈیا کے لوگو کے لیے نستعلیق میں اردو خطاطی بھیجنے کا ذکر کیا تھا کیونکہ اردو کا اصل خط (فونٹ) نستعلیق ہے اس لیے میرے خیال میں کم از کم لوگو میں ہمیں نستعلیق ہی استعمال کرنا چاہیے۔ اس لیے نستعلیق میں لوگو کے لیے ایک تصویر زبر اثقال کی ہے۔ ثاقب بھائی توجہ فرمائیں! یہاں میں نے صرف JPG زبر اثقال کیا ہے دیگر فائل فارمیٹ tif، eps، psd اور png آپ کو ای میل کر دیئے ہیں وہاں سے حاصل کرلیں۔ دیگر حضرات ذیل کے بارے میں اپنی رائے دیں۔ Fkehar 05:03, 2 مئی 2007 (UTC)

    Wikicalliurdu.jpg

    بہت خوبصورت ہیں۔ نستعلیق کی بات ہی اور ہے۔ --سید سلمان رضوی 12:36, 2 مئی 2007 (UTC)

    منصوبۂ تجدیدِ قدیم

    بہت پرانے لکھے ہوۓ مضامین کی ایک ایک کرکہ تجدید نو کا منصوبہ شروع کرنے کا ارادہ ہے۔ روزآنہ ایک یا دو کی کوشش کروں گا۔ اس دوران جو بھی لفظ آپ کے سامنے آتا جاۓ جسکا کوئی بہتر متبادل کرنے کی ضرورت ہو یا کوئی لفظ عجیب یا نامعقول ہو تو براہ کرم آگاہ ضرور کیجیۓ۔ اس طرح ہم مل کر تمام مضامین کو زیادہ قابل فہم بنا سکتے ہیں، آپ کی توجہ اور مشورے کے بغیر اس تمام تجدید کا کوئی فائدہ ہونے کی امید کم ہی ہے۔ آپ کے تعاون اور قیمتی وقت میں سے تھوڑے سے لمحات کی اشد (عرض مکرر، اشد) ضرورت ہے۔ سمرقندی

    • سمرقندی بھائی مجھے کئی بار ایسا محسوس ہوا ہے کہ ہم ان الفاظ کا بھی اردو ترجمہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اب ہماری روزمرہ زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔ مثلاً منٹ؛ اس کے لئے یہاں دقیقہ کا لفظ استعمال ہو رہا ہے لیکن پاکستان کے کسی دیہات میں بھی چلے جائیں تو لوگ نہ صرف منٹ سمجھتے ہیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں اسے استعمال بھی کرتے ہیں۔ جبکہ شہروں اور پڑھے لکھے طبقے میں بھی شاید آپکو دقیقہ کا مطلب سمجھنے والے کم ہی لوگ ملیں گے۔ میری رائے میں ایسے الفاظ کا ترجمہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں من و عن اردو کا حصہ تسلیم کر لینا چاہیے۔ --کاشف عقیل 20:09, 2 مئی 2007 (UTC)
    • ایک دوسری تجویز یہ ہے کہ اگر کسی سائنسی اصطلاح یا کسی نئی مشین یا ڈیوائس کے نام کا ترجمہ درکار ہو تو فارسی کو عربی پر ترجیح دی جائے کیونکہ میری رائے میں فارسی اپنی روح میں اردو سے قریب تر ہے اور اکثر اس کی اصطلاحات سمجھنے میں نسبتاً آسان ہیں۔ مثال کے طور پر thermometer کے لئے فارسی ترجمہ حرارت پیما عربی ترجمہ آلہ مثقال حرارت کی نسبت آسان فہم اور اردو سے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔ ہمارے مقالوں کا ایک عام قاری کے لئے قابل فہم ہونا بہت ضروری ہے۔ --کاشف عقیل 20:20, 2 مئی 2007 (UTC)

    --Urdutext 00:07, 3 مئی 2007 (UTC)

    میڈیا وکی پیغامات

    کیا "تبادلۂ خیال" کو "تبادلۂ خیال" کر دیا جائے؟ یعنی "ۂ" U+06c2 کی جگہ "ہ" U+06c1 اور "ھمزہ " U+0654 لکھے جائیں۔ پہلی صورت MS کے تختے سے لکھی جاتی ہے، دوسری CRULP کے تختہ سے۔ معلوم نہیں سب فونٹ میں درست نظر آتا ہے یا نہیں۔

    --Urdutext 00:30, 6 مئی 2007 (UTC)

    فونٹ کا بڑا سائز

    اب ویکیپیڈیا پر خط کا سائز بہت بڑا ہو گیا ہے،، جو کہ مجھے اچھا نہیں لگا۔۔۔ کیا اسکا کوئی حل ہے کہ کم از کم مجھے اس کا سائز چھوٹا ہی نظر آئے۔۔۔ ( عادل )

    • عادل صاحب اگر آپ اپنے computer کا screen image دکھا سکیں تو اندازہ آسان ہو جاۓ گا۔ اصل میں کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ font size بہت چھوٹا ہے پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے اس لیۓ ثاقب صاحب نے شائد 120% کر دیا تھا۔ ویسے ایک مسلئہ اس size میں یہ بھی ہے کہ قابل طبع نسخہ دیکھا جاۓ تو واقعی بہت بڑا اور بھدا نظر آتا ہے۔ اگر اسکو 10% کم کر کہ دیکھا جاۓ تو کیا خیال ہے ؟ یعنی اگر 120% ہے تو 110% کر کہ دیکھا جاسکتا ہے۔ سمرقندی
    • میں چونکہ ٹاہوما فونٹ استعمال کرنے میں آسانی محسوس کرتا ہوں اس لیے خصوصا میرے لیے خط کا بڑا سائز قابل قبول نہیں ہے۔ خط کا سائز بڑھانے سے بہت سے مضمامین کا تناسب بھی خراب ہو گیا ہے چاہے وہ اردو وکی کے معیاری خط ہی میں دیکھیں جائیں۔ لہذا کم از کم کوئی ایسا کوڈ بتا دیں جو میں اپنی مونو بک میں ڈال کر اپنی پسند کا سائز منتخب کر سکوں۔ ویسے جتنا سائز پہلے تھا وہ ٹھیک تھا۔ ذیل میں کچھ تصاویر سے اسکا اندازہ ہوسکتا ہے۔
    • خط کا سائز بڑا ہونے کے بعد اردو وکیپیڈیا کے میعاری خط میں ایک مضمون

    Qomi.JPG

    • ٹاہوما میں صفحہ اول کا منظر جیسا پہلے ہوتا تھا۔۔۔ لیکن اب بڑے سائز میں اسکا تناسب بھی خراب ہو گیا ہے۔

    Chota.JPG

    ( یہ تصاویر کچھ دنوں میں ختم کی جا سکتی ہیں )

    عادل جاوید چودھری تبادلہ خیال | میرا حصہ

    دیر اثقال

    کچھ روز سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ وکیپیڈیا کے صفحات دیر سے اثقال (Load) ہو رہے ہیں ، کیا کسی اور نے بھی یہ محسوس کیا ہے؟ میں نے تو دو تین شمارندوں پر دیکھا یہی مسلئہ ہے۔ ثاقب صاحب سے درخواست ہے کہ ذرا ایک نظر دیکھ لیجیۓ کیا بات ہے جو ایسا ہو رہا ہے، کہیں جاوا وغیرہ میں تو کوئی گڑبڑ نہیں ہو رہی۔ کوئی اور منتظم اگر اس بارے میں کچھ جانتے ہوں تو براہ کرم دیکھ لیجیۓ۔ سمرقندی

    اپنے مصفح IE/Firefox کا خزانہ (cache) ختم کر کے دیکھیں۔

    --Urdutext 00:39, 22 مئی 2007 (UTC)

    • جی شکریہ ؛ فرق تو پڑا ہے پہلے سے کچھ تیزی آ گئی ہے۔ ویسے ایک بات یہ ہے کہ CACHE کیلیۓ تو ابطن استعمال ہو رہا ہے ، کیا آپ کے خیال میں خزانہ زیادہ مناسب ہے؟ اگر آپ نے خزانہ مستعمل دیکھا ہے تو صفحہ کا نام تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ سمرقندی
    • ابطن ہی ٹھیک ہے۔ ویسے ہی روانی میں "خزانہ" لکھ گیا تھا۔

    --Urdutext 00:19, 23 مئی 2007 (UTC)

    • جی بہت بہتر، جب بھی کسی لفظ کی کوئی بہتر یا آسان اردو اصطلاح دستیاب ہوجاۓ تو اسکو مشورے سے تبدیل کر لینگے۔ سمرقندی

    توجہ درکار

    تمام ساتھیوں کی توجہ ایک بار پھر پرانے مسلۓ کی جانب دلانا چاہتا ہوں ۔ اردو اصطلاحات کے جھگڑے کے موقع پر یہ طے ہوا تھا کہ خود ساختہ الفاظ نہ بناۓ جائیں گے اور اگر ایسا کیا گیا تو تمام ساتھیوں کے راۓ مشورے سے کیا جاۓ گا۔ اب اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ علم الاورام پر مضامین کا آغاز کیا ہے اور انگریزی میں بھی کم و پیش تمام سرطانوں کے نام لاطینی سابقات اور لاحقات کا ملغوزہ ہوتے ہیں (گو انکا ایک باقاعدہ نظام جماعت بندی ہے)۔ ان کا ترجمہ اردو عربی فارسی سمیت کسی بھی زبان میں نہیں ملتا۔ لہذا یہاں خود ساختگی سے دامن بچانا ممکن نہیں۔ اگر میں آسان الفاظ میں ترجمہ کی کوشش کرتا ہوں تو وہ ایک اصطلاح نہیں پوری عبارت بن جاتی ہے ، مثال کے طور پر lymphangioma کو آسان انداز میں لمف کی رگوں کا سرطان کہا جاۓ گا، مگر یہ اصطلاح تو نہیں ہوئی نا ! یہ تو ایک عبارت بن گئی جو کہ بہت سے مسائل پیدا کرے گی، اس عبارت سے مزید مرکب الفاظ نہیں بناۓ جاسکتے، لیکن اگر الفاظ کی تجزیہ کاری اور جماعت بندی کی روشنی میں اسکے لیۓ اصطلاح بنانے کی کوشش کی جاۓ تو وہ سیالہ وعائیومہ بنتی ہے۔ اگر آسان عبارتی ترجمہ ہوگا تو پھر lymphangioma سے Lymphangioleiomyomatosis کیسے بنائیں گے؟ پھر اسکے لیۓ ہموار عضلات کے سرطان نما لمف کی رگوں کا سرطان لکھنا پڑے گا جو کہ ایک مکمل عبارت ہے، جبکہ اصطلاح بنالی گئی تو اسکو سیالہ وعائیومی ہمعضلومہ لکھا جاۓ گا جو کہ ایک مکمل صحت والی اور علمی باریکیوں کے ساتھ اصطلاح کے طور پر اختیار کیا جاسکتا ہے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے ایسے نا جانے کتنے مواقع ہیں جنکو اگر بیان کرا جاۓ تو کتاب بن جاۓ گی۔ میں آپ ساتھیوں کے علم میں یہ بات اس لیۓ لا رہا ہوں کہ بعد میں کسی جانب سے اعتراض کیا گیا تو آپ کو پس منظر معلوم ہو۔ اگر ان ناموں پر کوئی اعتراض آپ کو بھی ہو تو براہ کرم فورا مضمون کے تبادلۂ خیال پر آگاہ فرمائیۓ گا۔ اگر اعتراض ہو تو براہ کرم اس پر اپنا ووٹ دے دیجیۓ ، کسی جانب سے ووٹ نا آیا تو میں اسکو اس کام کے جاری رکھنے کا اجازہ تصور کرتے ہوۓ یہ سلسلہ جاری رکھوں گا۔ شکریہ ۔ سمرقندی

    ویب پیڈ

    اردو وکیپیڈیا پر اگر ویب پیڈ کو enable کیا گیا ہے تو اس کا باقاعدہ اعلان ہونا چاہیے اور اس کو enable کرنے کے لیے طریقۂ کار کو معاونت کے صفحات پر مناسب جگہ پر رکھنا چاہیے تاکہ وہ افراد جو ویب پیڈ استعمال کرتے ہیں انہیں کام کرنے میں آسانی ہو۔ فہد احمد کیہر تبادلۂ خیال | میرا حصہ

    synesthesia

    سلام! پوچھنا تھا کہ synesthesia کو اردو میں کیا کہا جاۓ گا؟ کیا اس کا کوئ متابادل ہے؟ http://en.wikipedia.org/wiki/Synesthesia

    • حسِ مُعاصر

    شکریہ! اور Seasonal Affective Disorder (SAD) کیا کہلاۓ گا؟ http://en.wikipedia.org/wiki/Seasonal_affective_disorder

    • seasonal = موسمی
    • affect = تاثر ، عاطفہ
    • affective = تاثری
    • disorder = اضطراب
    • SAD = موسمی تاثری اضطراب
    • طب میں اسے عاطفی اضطراب فصلی بھی کہا جاتا ہے، دونوں اپنی جگہ درست ہیں، جو آسان لگے استمعال کیا جاسکتا ہے۔ سمرقندی

    Deletionists/Inclusionists

    Deletionists اور Inclustionists کو اردو میں کیا کہا جاۓ گا؟ شکریہ --عثمان وقاص چوہان 17:44, 24 مارچ 2008 (UTC)