مندرجات کا رخ کریں

تبتی ادب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

تبتی ادب (تبتی: བོད་ཀྱི་རྩོམ་རིག་‎) سے مراد وہ تحریری کام ہیں جو تبت میں یا تبتی مصنفین نے تخلیق کیے ہیں۔ تبتی ادب کی تاریخ تیرہ سو سال سے زیادہ پر محیط ہے، جو تبت کے ثقافتی، مذہبی اور سیاسی ارتقا کی عکاسی کرتی ہے۔[1]

جائزہ

[ترمیم]

تبتی ادب میں تبتی زبان کے علاوہ سنسکرت زبان میں تخلیقات شامل ہیں۔ یہ ادب تبت کے مختلف ادوار—سلطنتی دور، مذہبی حکمرانی اور جدید دور—کے تجربات کو پیش کرتا ہے۔ تبتی ادب کی ایک امتیازی خصوصیت اس کا تبتی بدھ مت کے مذہب کے ساتھ گہرا تعلق ہے، جو صدیوں سے اس خطے کی ثقافتی شناخت کا حصہ رہا ہے۔[2]

تاریخی ادوار

[ترمیم]

ابتدائی ادب (قبل از ساتویں صدی)

[ترمیم]

تبتی ادب کے ابتدائی دور میں تبت کے مقامی مذاہب بون مت کے زیر اثر ادب تخلیق ہوا۔ اس دور میں زیادہ تر زبانی روایات اور مقامی داستانیں شامل تھیں۔ ابتدائی تبتی ادب میں مقامی عقائد، رسومات اور ثقافتی روایات کی عکاسی ملتی ہے۔[3]

سلطنتی دور (ساتویں–نویں صدی)

[ترمیم]

تبتی سلطنت کے دور میں تبتی ادب نے اپنی شناخت قائم کرنا شروع کی۔ شاہ سونگتسین گامپو (605–649) کے دور میں تبتی حروف تہجی ایجاد کی گئی، جس نے تحریری ادب کی بنیاد رکھی۔ اس دور میں سنسکرت زبان سے تبتی زبان میں تراجم کا سلسلہ شروع ہوا اور بدھ مت کے مذہبی متن مقامی زبان میں منتقل کیے گئے۔[4]

چھٹی سے آٹھویں صدی عیسوی کے چینی ماخذ کے مطابق، قازقستان کے ترک قبیلوں میں زبانی شاعری کی روایت تھی۔ یہ روایات پہلے ادوار سے چلی آ رہی تھیں اور بنیادی طور پر بارڈز (پیشہ ور قصہ گو اور موسیقار) کے ذریعے منتقل ہوتی تھیں۔[5] قازقوں میں بارڈ زیادہ تر مردوں کا پیشہ تھا۔ کم از کم سترہویں صدی سے، قازق بارڈز دو اقسام میں تقسیم تھے: ژیراؤ جو دوسروں کی تخلیقات منتقل کرتے تھے اور اقین جو اپنی اصلاحی شاعری اور کہانیاں تخلیق کرتے تھے۔[6]

اگرچہ بیشتر کہانیوں کے ماخذ نامعلوم ہیں، ان میں سے زیادہ تر ماضی کے بارڈز سے منسوب ہیں۔ سولہویں اور سترہویں صدی کے بارڈز جیسے ار شوبان اور دوسمومبیٹ ژیراؤ کی تخلیقات میں واضح طرزیعی فرق پایا جاتا ہے۔ دیگر قابل ذکر بارڈز میں کزتوگان ژیراؤ، ژیمبیٹ ژیراؤ، اختمبردی ژیراؤ اور بوخار ژیراؤ شامل ہیں۔[5] ار ترغین اور الپامیس قازق ادب کی مشہور مثالیں ہیں جو انیسویں صدی میں ریکارڈ کی گئیں۔[6]

ابائی قونانبائیف کا سوویت ڈاک ٹکٹ

ادبی جرائد آی قاپ (1911–1915) اور قازق (1913–1918) نے بیسویں صدی کے اوائل میں قازقوں کی فکری اور سیاسی زندگی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

2021 میں، قازقستان کی حکومت نے 100 مشہور بین الاقوامی ادبی کاموں اور درسی کتابوں کے قازق زبان میں ترجمے کی مالی معاونت کی۔ ان تراجم میں ہیومینٹیز، جدید کلاسکس، معاشیات اور سماجی سائنس کی درسی کتابیں شامل ہیں۔[7]

سیمے مونسٹری، تبت کی پہلی بدھ مت مونسٹری

مذہبی احیاء کا دور (دسویں–چودہویں صدی)

[ترمیم]

دسویں صدی میں بدھ مت کے احیاء کے ساتھ تبتی ادب نے ایک نئی سمت اختیار کی۔ اس دور میں عظیم مترجمین نے سنسکرت زبان میں لکھے گئے بدھ مت کے متن کو تبتی زبان میں منتقل کیا۔ اٹیشا (982–1054) اور مارپا (1012–1097) جیسے مذہبی رہنماؤں نے تبتی ادب کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔[8]

اس دور کی سب سے اہم ادبی شخصیت ملاریپا (1052–1135) تھے، جنھوں نے تبتی شاعری کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی "سنگھوربا" (سو گیت) تبتی ادب کا شاہکار سمجھی جاتی ہے۔[9]

کلاسیکی دور (پندرہویں–انیسویں صدی)

[ترمیم]

کلاسیکی دور میں تبتی ادب نے نمایاں ترقی کی۔ تسونگکھاپا (1357–1419) کے دور میں تبتی بدھ مت کے فلسفیانہ متن تحریر ہوئے۔ اس دور میں تاریخی تواریخ، مذہبی سوانح اور فلسفیانہ مباحث پر متعدد کتابیں لکھی گئیں۔[10]

پانچویں دلائی لاما (1617–1682) نے تبتی ادب میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے نہ صرف مذہبی متن بلکہ شاعری اور تاریخ پر بھی کام کیا۔ ان کی تصنیف "تاریخ تبت" تبتی تاریخ کا اہم ماخذ ہے۔[11]

جدید ادب (بیسویں صدی کے بعد)

[ترمیم]

بیسویں صدی میں تبتی ادب نے جدید شکلیں اختیار کیں۔ دلائی لاما چودہویں کے دور میں تبتی ادب نے بین الاقوامی سطح پر پزیرائی حاصل کی۔ جلاوطنی کے دور میں تبتی مصنفین نے اپنی تحریروں میں تبت کی ثقافتی شناخت اور سیاسی جدوجہد کو پیش کیا۔[12]

جدید قازق ادب کی ترقی میں ابائی قونانبائیف (1845–1904) کا مرکزی کردار ہے، جن کی تحریروں نے قازق ثقافت کے تحفظ میں اہم حصہ ڈالا۔ ابائی کی اہم تصنیف کتاب الکلام ہے، جو ایک فلسفیانہ مقالہ اور نظموں کا مجموعہ ہے جس میں وہ روسی نوآبادیاتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں اور دیگر قازقوں کو تعلیم اور خواندگی اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔

اہم انواع

[ترمیم]

تبتی شاعری کی اہم اقسام میں "گلو" (روایتی گیت)، "گوریکا" (صوفیانہ شاعری) اور "نگاگور" (جدید نظمیں) شامل ہیں۔ تبتی شاعری کی ایک خصوصیت اس کا مذہبی اور فلسفیانہ موضوعات کی عکاسی ہے۔ تبتی شاعر اپنی تخلیقات میں بدھ مت کے فلسفے، انسانی جذبات اور روحانی تجربات کو موضوع بناتے ہیں۔

تبتی نثر میں مذہبی متن، تاریخی تواریخ، سوانح عمریاں اور جدید ناول شامل ہیں۔ نثری ادب نے تبت کے معاشرتی اور مذہبی ارتقا کو وسیع پیمانے پر پیش کیا ہے۔ تبتی مصنفین نے اپنی تحریروں میں تبت کے مختلف ادوار کی عکاسی کی ہے، جن میں سلطنتی دور سے لے کر موجودہ دور تک کے تجربات شامل ہیں۔[13]

تبتی لوک ادب میں مقامی کہانیاں، لوک گیت، محاورے اور کہاوتیں شامل ہیں۔ یہ لوک ادب تبت کی متنوع ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے اور نسلوں سے منتقل ہوتا رہا ہے۔ تبتی لوک ادب میں دیومالائی کہانیاں، تاریخی واقعات اور اخلاقی سبق شامل ہیں۔[14]

اہم مصنفین

[ترمیم]

تبتی ادب کے قدیم مصنفین میں ملاریپا (1052–1135)، تسونگکھاپا (1357–1419) اور پانچویں دلائی لاما (1617–1682) جیسے نام شامل ہیں۔ ملاریپا کو تبتی شاعری کا عظیم شاعر سمجھا جاتا ہے، جنھوں نے اپنی شاعری میں روحانی تجربات کو پیش کیا ہے۔[15]

جدید تبتی مصنفین میں دنپا گیلٹشن (1953–1985)، ووسرکار (1966–) اور تسیرنگ ووسر (1971–) جیسے نام شامل ہیں۔ دنپا گیلٹشن کو جدید تبتی شاعری کا بانی سمجھا جاتا ہے، جنھوں نے اپنی شاعری میں جدید تبتی تجربات کو پیش کیا ہے۔[16]

خصوصیات

[ترمیم]

تبتی ادب کی نمایاں خصوصیات میں تبتی بدھ مت کے فلسفے کا گہرا اثر، مذہبی اور روحانی موضوعات کی عکاسی، تاریخی واقعات کی دستاویز کاری، انسانی جذبات کی گہری ترجمانی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت شامل ہیں۔ تبتی ادب کی ایک اہم خصوصیت اس کا روحانی پہلو ہے، جو قاری کو نہ صرف تفریح بلکہ روحانی روشنی بھی فراہم کرتا ہے۔[17]

بین الاقوامی اثر

[ترمیم]

تبتی ادب نے حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر شہرت حاصل کی ہے۔ تبتی ناولوں اور شاعری کے تراجم بین الاقوامی سطح پر مقبول ہوئے ہیں اور تبتی مذہبی متن عالمی سطح پر پڑھے جاتے ہیں۔ تبتی مصنفین کے تراجم مختلف زبانوں میں شائع ہوئے ہیں اور بین الاقوامی ادبی انعامات جیت چکے ہیں۔[18]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Matthew Kapstein (2006)۔ The Tibetans۔ Blackwell Publishing۔ ص 45–67
  2. R.A. Stein (1972)۔ Tibetan Civilization۔ Stanford University Press۔ ص 78–102
  3. Samten Karmay (1975)۔ The Treasury of Good Sayings: A Tibetan History of Bon۔ Oxford University Press۔ ص 112–134
  4. David Snellgrove (1987)۔ "Indo-Tibetan Buddhism: Indian Buddhists and Their Tibetan Successors"۔ Journal of Asian Studies۔ ج 46 شمارہ 2: 23–45
  5. ^ ا ب Aitjan Nurmanova۔ "La tradition historique orale des Kazakhs"۔ Cahiers d'Asie Centrale۔ ترجمہ از Alié Akimova۔ ج 2000 شمارہ 8: 93–100
  6. ^ ا ب
  7. "Kazakhstan: 100 famed textbooks translated into Kazakh | Eurasianet". eurasianet.org (بزبان انگریزی). Retrieved 2021-09-28.
  8. David Ruegg (1989)۔ Buddha-nature, Mind and the Problem of Gradualism in a Comparative Perspective۔ School of Oriental and African Studies۔ ص 156–178
  9. Garma Chang (1999)۔ The Hundred Thousand Songs of Milarepa۔ Shambhala Publications۔ ص 89–115
  10. Robert Thurman (1991)۔ The Central Philosophy of Tibet: A Study and Translation of Jey Tsong Khapa's۔ Princeton University Press۔ ص 167–189
  11. Tsepon Shakabpa (1967)۔ "Tibet: A Political History"۔ Journal of Asian Studies۔ ج 26 شمارہ 3: 134–156
  12. Toni Huber (2002)۔ Amdo Tibetans in Transition: Society and Culture in the Post-Mao Era۔ Brill۔ ص 203–225
  13. Yangdon Dhondup (2011)۔ The Sound of Two Hands Clapping: The Education of a Tibetan Buddhist Monk۔ University of California Press۔ ص 67–89
  14. Rinjing Dorje (2009)۔ "Tibetan Folk Literature"۔ Journal of Tibetan Studies۔ ج 12 شمارہ 2: 50–65
  15. Thupten Jinpa (2003)۔ Songs of Spiritual Experience: Tibetan Buddhist Poems of Insight and Awakening۔ Shambhala Publications۔ ص 134–156
  16. Lauran Hartley (2008)۔ Modern Tibetan Literature and Social Change۔ Duke University Press۔ ص 189–213
  17. David Germano (2005)۔ The Tibetan History Reader۔ Columbia University Press۔ ص 45–67
  18. Francoise Robin (2016)۔ Tibetan Literature in the Global Context۔ University of Chicago Press۔ ص 203–225

بیرونی روابط

[ترمیم]