تبع تابعین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تابعین سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جنھوں نے حضور کے صحابہ کرام کا شرف زیارت اسلام کی حالت میں حاصل کیا۔ اور ان کی زبانی حضور کے اقوال و افعال کا ذکر سنا۔ تبع تابعین سے مراد وہ بزرگ ہیں جنھوں نے تابعین کا شرف زیارت اسلام کی حالت میں حاصل کیا اور ان کی صحبت سے تمتع کیا۔ بالفاظ دیگر تبع تابعین صحابہ کرام کی تیسری کڑی ہے۔ حضور نے صحابہ تابعین اور تبع تابعین ہر سہ کو امت کے بہترین افراد فرمایا ہے۔

تعارف تبع تابعین[ترمیم]

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ: خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ۔ [1] ترجمہ:میری بہترین اُمت میرے زمانہ کے لوگ ہیں (صحابہ) پھر وہ لوگ ہیں جنھوں نے اُن کا زمانہ پایا (تابعین) پھروہ لوگ ہیں جنھوں نے اُن کا زمانہ پایا (تبع تابعین)۔ عام علمائے اُمت (شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے غالباً بعض اعتراضات سے بچنے کے لیے پہلے ٹکڑے سے عہدِ نبوی اور دوسرے سے عہد صدیقی اور تیسرے سے عہد فاروقی مراد لیا ہے) نے ارشادِ نبوی کے پہلے ٹکڑے کا مصداق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مقدس جماعت کواور دوسرے اور تیسرے ٹکڑے کا مصداق تابعین اور تبع تابعین رحمہم اللہ کے برگزیدہ گروہ کوقرار دیا ہے۔ اس مشہود بالخیرقرون ثلثہ میں صرف خلافتِ راشدہ کا تیس سالہ مبارک عہد ایسا گذرا ہے جن میں عہد نبوی کی تمام سعادتیں اور برکتیں یایوں کہیے کہ اسلام کی تمام اخلاقی وقانونی خوبیاں ایک تسلسل کے ساتھ حکومت ومعاشرہ دونوں میں مشاہد طور پرموجود تھیں، جن کوہرآیندہ وردندایک سرسری نگاہ میں دیکھ سکتا تھا؛ چنانچہ اس عہد سعید میں جتنی کم سیاسی اور معاشرتی برائیاں پیدا ہوئیں، دنیا کی سیاسی ومذہبی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی؛ لیکن اس عہد سعید کے بعد اتفاق سے حکومت کی باگ ڈور ایسک لوگوں کے ہاتھ میں چلی گئی جواپنی بہت سی انفرادی واسلامی خصوصیات کے باوجود سیاسی میدان اور حکومت کے ایوان میں اپنی اجتماعی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں کوکماحقہ ادا نہ کرسکے، جس کے نتیجہ میں بہت جلد اسلامی خلافت شخصی حکومت میں تبدیل ہوگئی؛ گونام ابھی خلافت ہی تھا؛ مگراس میں خلافت کی روح باقی نہیں تھی، عہد راشدہ میں سیاست مذہب واخلاق کے تابع تھی اور اب مذہب واخلاق پرسیاست کوترجیح دی جانے لگی تھی، اس سے پہلے خلافت کسی خاندان کی میراث نہ تھی اور اب کسی نہ کسی خاندان کے لیے مخصوص ہوگئی تھی، حضرات خلفائے راشدین معاشرہ کی اصلاح وفلاح کوحکومت کی سب سے بڑی بلکہ ذاتی ذمہ داری سمجھتے تھے اور اب حکومت کا قیام اور اس کی بقا کے لیے سیاسی جوڑتوڑ خلفاء کا سب سے بڑا کام رہ گیا تھا؛ غرض یہ کہ اس تبدیلی کا اثر یہ ہوا کہ معاشرہ میں بعض نئی نئی اور بعض دبی ہوئی پرانی برائیاں پھراُبھرنے لگیں اور بہت سے سوئے ہوئے فتنے نئے نئے قالب میں پھرسراُٹھانے لگے؛ لیکن ایوانِ حکومت سے باہر ابھی ممتاز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بڑی تعداد اور حضرات تابعین رحمہم اللہ کی پوری جماعت موجود تھی، جوعہد نبوی اور عہد راشدہ کی تمام سعادتوں، برکتوں اور اسلام کی انفرادی واجتماعی خصوصیتوں کوابھی تک اپنے سینوں سے لگائے ہوئے تھی، جس کے دل میں جہاد کی تڑپ اور اقامت دین کا جذبہ موجود تھا، جوامربالمعروف ہی کونہیں بلکہ نہی عن المنکر کوبی اپنی سب سے بڑی ذمہ داری اور سعادت سمجھتی تھی؛ چنانچہ اس مبارک جماعت کے افراد انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقہ پراس صورتِ حال کوبدلنے اور برائیوں اور فتنوں کومٹانے کے لیے آگے بڑھے اور اس راہ میں انہوں نے وہ سب کچھ جھیلا جو اس راہِ حق کے راہ رؤں کوجھیلنا اور سہنا پڑتا رہا ہے، یعنی کتنے اس مقابلہ میں شہید ہوکر خدا کے خضور سرخ رو ہوئے، کتنوں نے داررسن کولبیک کہا اور اپنے مولیٰ کی مرضی پائی اور کتنے قید وبند کی کڑیاں جھیلتے جھیلتے جاں بحق ہوگئے اور کچھ موقع کی تلاش میں تھے: مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَاعَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ۔ [2] ترجمہ:اہلِ ایمان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے جومعاہدہ کیا تھا اُسے پورا کردکھایا؛ پھربعض اُن میں ایسے ہیں جنہوں نے اپنی نذر پوری کرلی، کچھ اس کے پورا کرنے کے آرزو مند ہیں۔ گواس برگزیدہ جماعت کی یہ کوششیں شخصی حکومت کودوبارہ اسلامی خلافت میں تبدیل کردینے میں مکمل طور پرتوکامیاب نہیں ہوئیں (اس کے بہت سے اسباب تھے، جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے، مکمل طور پرکی قید اس لیے لگائی گئی ہے کہ ان کوششوں کا کہ کچھ نہ کچھ اثر نظامِ حکومت اور ان کے چلاے والوں پربھی ضرور پڑتا تھا؛ مگرزیادہ تراس کا اثرمحدود اور وقتی ہوتا تھا؛ انہی کوششوں کا ایک ظہور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی خلافت تھی)؛ مگرایوانِ حکومت سے باہر معاشرہ کی اکثریت کودینِ مبین پرقائم واستوار رکھنے، ان کونئے نئے فتنوں سے بچانے اور علمی وعملی طور پردین کی حفاظت میں ان کی جدوجہد اور قربانی کا غیرمعمولی اثر ہوا اور ان کی یہ سعی اس لحاظ سے سعی مشکور ثابت ہوئی اور دراصل ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے۔ حضرات تابعین کے بعد اس مبارک کام کوان کی فیض یافہ جماعت یعنی تبع تابعین رحمہم اللہ نے اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنے زمانہ کے حالات وضروریات کے مطابق اسے پورا کرنے کی کوشش کی، اس راہ میں ان کوبھی وہ تمام مصیبتیں اور صعوبتیں اُٹھانی پڑیں جوان کے پیش روؤں کواُٹھانی پڑی تھیں، صحابہ کرام اور تابعین وتبع تابعین کی کوششوں کے دائرہ عمل میں اتنا فرق ضرور ہے کہ حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم نے انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح سے اصلاحِ حال کی سعی کی اور حضراتِ تابعین وتبع تابعین نے حالات اور چھپہلے تجربات کی بناپربی اور اس لیے بھی کہ امت مزید جنگ وجدال اور فتنہ وفساد سے محفوظ رہے، اپنا دائرۂ عمل انفرادی جدوجہد ہی تک محدود رکھا گوکہیں کہیں اجتماعی جدوجہد کی جھلک بھی ملتی ہے۔

قرآن مجید اور سیرۃ نبوی کا ایک اعجاز[ترمیم]

قرآن مجید اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑا اعجاز یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعہ نہ صرف یہ کہ دنیا کے علم وفن میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا؛ بلکہ ان کے ذریعہ اس کا دامن ایک ایسی متحرک عملی واخلاقی زندگی سے بھی مالامال ہوا جوایک خاص وقت میں پیدا ہوکر ختم نہیں ہوگئی؛ بلکہ صدہاسیاسی اور تمدنی انقلابات کے باوجود وہ دوام وتسلسل کے ساتھ آج تک باقی ہے اور انشاء اللہ قیامت تک باقی رہے گی، اس نئی متحرک اخلاقی وعملی زندگی کا اولین نمونہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد تابعین اور تبع تابعین رحمہم اللہ تھے یہی وجہ ہے کہ امت نے قرآن وسیرت کی حفاظت کے بعد ان بزرگوں کی سوانح حیات اور سیرت کے معنوی خدوخال کوتحریری طور پرمحفوظ ومنقوش کرلینے میں سب سے زیادہ کوشش کی؛ گوان نقوش کے ذریعہ ان قدسی صفات بزرگوں کی زندگی کی پوری کیفیتیں اور معنویتیں ہم تک نہیں پہنچ سکیں؛ مگرپھربھی ان کی زندگی کا جتنا حصہ بھی بذریعہ تحریر ہم تک پہنچا ہے، اس کے پڑھنے سے آج بھی مردہ دلوں میں زندگی اور بجھی طبعیتوں میں سوزوگداز اور حرارت پیدا ہوتی ہے، ان کی سادہ سادہ باتوں سے دل میں خدا کی محبت کاجوش اور رضائے الہٰی کی طلب اور آخرت کا یقین بلکہ ذوق ومشاہدہ پیدا ہوتا ہے، ان کی زندگی کے عام واقعات کے سننے اور پڑھنے سے اقامت دین کا جذبہ احیائے سنت کا ولولہ اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی تڑپ پیدا ہوتی ہے، ان کے زہد واتقاء استغنا وبے نیازی اور خلفاوامراء سے ان کی بے تعلقی اور اظہارِ حق کے واقعات پڑھ کردنیا کی بے حقیقتی اور اس کوایمان کی راہ میں شارکردینے کی کیفیت پیدا ہوتی ہے؛ اگرایک طرف اموی اور عباسی دور کی تاریخ پڑھ کرمایوسی اور شرمندگی پیدا ہوتی ہے توان کے حالات کا مطالعہ کرکے شرمندگی اور مایوسی دور ہوجاتی ہے۔ اسی اہم ضرورت کے پیشِ نظر دارالمصنفین نے اپنے ابتدائے قیام ہی سے سیاسی وتمدنی تاریخ کی تدوین وترتیب کے ساتھ اس مشہودبالخیر قرون ثلاثہ کے ممتاز بزرگوں کے سوانح حیات اردوزبان میں منتقل کرنے کا بھی پروگرام بنایا تھا؛ چنانچہ اس پروگرام کے مطابق قرن اوّل اور قرن ثانی کے بزرگوں کے اسوے اور سوانح حیات پرتقریباً ایک درجن کتابیں آج سے کئی برس پہلے شائع ہوچکی ہیں، اب یہ قرن ثالث یعنی تبع تابعین کے سوانح حیات کا مرقع ہدیۂ ناظرین کیا جارہا ہے اور یہ اس سلسلۃ الذہب کی آخری کڑی ہے۔

تبع تابعین کے عہد کی تعیین[ترمیم]

عہد صحابہ کی ابتدا بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئی اور اس کا اختتام اس وقت ہوا جب کہ دیدارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف اندوز ہونے والے آخری صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا پہلی صدی کے اختتام پرانتقال ہوا۔ عہد صحابہ کی طرح عہد تابعین کے بارے میں تاریخ وسنہ کی تعین کے ساتھ یہ بتانا مشکل ہے کہ وہ کب سے شروع ہوا اور کب ختم ہوا؛ مگربعض واقعات اور قوی قرائن کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس عہد کی ابتداء عہدِ نبوی میں ہوگئی تھی؛ کیونکہ اس عہد میں متعدد ایسے سلیم الفطرت لوگ موجود تھے جنہوں نے اپنے سرکی آنکھوں سے توروئے نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں کی تھی؛ لیکن جوں ہی دعوتِ حق کی آواز ان کے کانوں تک پہنچی انہوں نے اس پرلبیک کہا اور اس کواپنے سویدائے دل میں جگہ دی، مثلاً حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ، حضرت اصمحہ شاہِ حبشہ رحمہ اللہ وغیرہ، اس طرح تقریباً ایک صدی تک عہدِ صحابہ اور عہدِ تابعین ساتھ ساتھ چلتا رہا؛ لیکن پہلی صدی کے اختتام پرصحابہ کا عہد سعید ختم ہوگیا اور اب حضرات تابعین کے ساتھ ان کی تربیت یافتہ جماعت اتباع تابعین کا عہد رشید اس میں منسلک ہوگیا اور تابعین کے ساتھ تبع تابعین کا دور قریب قریب پون صدی تک ساتھ ساتھ گذرا۔ عہد تابعین کی طرح، اتباعِ تابعین کے بارے میں بھی سنہ وتاریخ کی تعیین کے ساتھ نہیں بتایا جاسکتا کہ وہ کب سے شروع ہوا اور کب ختم ہوا؛ مگربعض اتباع تابعین کے سنہ ولادت اور بعض تابعین کے سنہ وفات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلی صدی کے آخر سے اس عہد کی ابتدا ہوگئی تھی، مثال کے لیے امام شعبہ رحمہ اللہ کی ولادت سنہ۸۰ھ میں ہوئی اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ولادت بھی سنہ۸۰ھ میں ہوئی لیکن عام ارباب تذکرہ امام شعبہ کا شمار اتباعِ تابعین میں کرتے ہیں، امام صاحب کا تابعین میں؛ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اتباعِ تابعین کا اصلی دور دوسری صدی کے ربع اوّل سے شروع ہوکر تیسری صدی کے ربع اوّل تک ختم ہوجاتا ہے اس لیے کہ بعض تابعین کی وفات سنہ۱۶۴ھ اور بعض کی سنہ۱۷۴ھ میں ہوئی، اس اعتبار سے جن ائمہ فقہ وحدیث کی ولادت سنہ۱۵۰ھ اور سنہ۱۶۴ھ کے درمیان ہوئی ان کوبھی معاصرت کی وجہ سے اسی زمرہ میں شامل کرلیا گیا ہے؛ اگرچہ تابعین سے ان کے کسب فیض کرنے کا کوئی ظاہری ثبوت موجود نہیں ہے، مثلاً امام شافعی، امام احمد بن حنبل، اسحاق ابنِ راہویہ، علی بن المدینی وغیرہ، دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اموی خلیفہ ولید ثانی کے عہد سے لے کرعباسی عہد کے دسویں خلیفہ متوکل علی اللہ کے عہد تک اتباعِ تابعین کا خالص عہد رہا ہے۔

تبع تابعین سے کون لوگ مراد ہیں؟[ترمیم]

اس عہد میں گوبڑے بڑے صاحب سطوت خلفاء لائق ترین امراء اور سپہ سالار کامل ترین فلاسفہ ومتکلمین اور بڑے بڑے زبان آور خطباء ادباء وشعراء پیدا ہوئے جن میں سے ہرایک سے بواسطہ یابلاواسطہ ملک وملت اور اسلامی علوم کی کوئی نہ کوئی خدمت انجام پائی اور اس لحاظ سے ان کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا بڑی احسان ناشناسی ہوگی؛لیکن ان کوہم زمرۂ تبع تابعین میں اس لیے شامل نہیں کرتے کہ صحابہ اور تابعین کی طرح تبع تابعین کا لقب بھی امت میں ان حضرات کے لیے مخصوص ہوگیا ہے، جن کے علم وعمل میں یکسانیت اور ہم رنگی رہو، جن کے ذریعہ دین یاعلم دین کی حفاظت کا براہِ راست کوئی نہ کوئی کام انجام پایا ہو، جن کی زندگی میں سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ وتابعین کی سیرت کا رنگ غالب رہا ہو، جن کے علم وفضل، زہدوورع اور دیانت وتقویٰ پرایک مخلوق کواعتماد رہا ہو اور یہ اعتماد اب تک باقی ہو اس لیے جن خلفاء، وزراء، شعراء، ادباء اور اہلِ علم کی زندگی اس معیر پرپوری نہیں اترتی ان کا ذکر مستقلاً اس کتاب میں نہیں آئے گا، یوں جس طرح اس عہد کی سیاسی تاریخ کے ضمن میں حضرات تبع تابعین کا ذکر ضمناً آجاتا ہے؛ اسی طرح اس مرقع میں بھی اس کا ذکر ضمناً موقع، بہ موقع آگیا ہے۔

اس عہد کی خوبیاں اور خرابیاں[ترمیم]

تبع تابعین رحمہم اللہ کے عہد کی عکاسی اگرمختصر لفظوں میں کی جائے تویہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ عہد تضاد تھا، یعنی اگرآپ اس عہد کی سیاسی اور ادبی، تاریخ، فکری آزادی اور بعض معاشرتی خرابیوں کی داستان پڑھیں گے توآپ کے دل ودماغ پرتھوڑی دیر کے لیے یہ احساس ضرور طاری ہوجائے گا کہ یہ عہد ظلم وجورعیش وعشرت، قبائلی عصبیت اور مختلف مذہبی وسیاسی فتنوں اور فلسفیانہ موشگافیوں سے بھرا ہوا تھا؛ لیکن اسی آن اگر آپ کواس عہد کے قابل اعتماد محدثین، فقہا علما اور صلحاء کے تذکرے دے دئے جائیں اور اُن کے ذریعہ آپ کوکچھ دیر کے لیے ان برگزیدہ نفوس حضرات کی صحبت ومجلس میں پہنچادیا جائے تویہی نہیں کہ منفی طور پرآپ کے پہلے احساس میں کمی آجائے گی؛ بلکہ مثبت طور پرآپ یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ آپ کے کانوں میں ہرگوشہ سے قال اللہ اور قال الرسول ہی کی آواز آرہی ہے، ہرگھر اور ہرمجلس میں دین اور علم دین ہی کا چرچا ہے، فقروفاقہ کے باوجود دنیا اور اہلِ دنیا سے استغنا وبےنیازی، زہدواتقاء حق گوئی وبے باکی اور ان کی سادگی وتواضع کے واقعات پڑھ کرآپ کچھ دیرکے لیے اپنے آپ کوعہد صحابہ سے قریب ترمحسوس کرنے لگیں گے، ان کی علمی کاوشوں اورتفقہ واجتہاد اور قانونی دقتِ نظری کی اتنی کثرت سے مثالیں ملیں گی کہ اس عہد کی فلسفیانہ موشگافیوں کی آپ کے دل میں کوئی وقعت نہیں رہ جائے گی؛ جیسا کہ ذکر آچکا ہے کہ اسلامی معاشرہ میں یہ قضاء گوعہدراشدہ کے بعد ہی سے شروع ہوگیا تھا؛ لیکن اس عہد میں بعض سیاسی اسباب اور بعض نئے فتنوں کی وجہ سے اس میں اضافہ ہوگیا تھا، عہد تابعین یعنی اموی دور میں معاشرہ میں عام طور پرعربی اور بدوی رنگ غالب تھا اس لیے اس عہ دکی برائیوں میں ملمع سازی نہیں سادگی تھی؛ لیکن عہد تبع تباعین یعنی عباسی دور میں جوسیاسی، علمی، مذہبی، معاشرتی برائیاں پیدا ہوئیں، ان میں عجمیت، اباحیت پسندی اور فلسفیانہ موشگافی کا رنگ غالب تھا، جاحظ کا یہ مشہور مقولہ ہے کہ: من كلام خُلفائنا من وَلَد العباس، ولوأن دولتَهم عجميّة خُراسانيّة، ودولة بني مَرْوان عربيّة أعرابيّة۔ [3] ترجمہ:عباسی حکومت میں عجمی اور خراسانی رنگ غالب تھا اور بنوامیہ کی حکومت میں عربی اور بدوی رنگ غالب تھا۔ یہ تضاد دوسرے عناصر کے ساتھ یونانی، سریانی اور ہندی علوم خاص طور پرفلسفہ اور نجوم کی کتابوں کے عربی میں منتقل ہونے اور مدح خوان شعراء ادباء اور مغنیون کی حکومت کی طرف سے ہمت ازائی کی وجہ سے بھی پیداہوا اور اس کے بڑھانے میں قبائلی عصبیت اور ایرانی قومی حمیت نے بھی حصہ لیا؛ چنانچہ اس کے اثرات نہ صرف عملی زندگی میں پڑنے لگے؛ بلکہ اس کا اثراسلامی علوم اور اسلامی عقائدہ پربھی پڑا، اسلامی مملکت کے اکثر مقامات اور خاص طور پرکوفہ وبصرہ پایہ تخت ہونے کی وجہ سے نئے نئے مسائل اور نئے نئے مباحث کے آماج گاہ بن گئے تھے، شیعیت، خارجیت اور عربی عصبیت کے قدیم فتنے کیا کم تھے کہ ان میں قبائی اور قومی عصبیت، شعوبیت، اعتزال، مرجئیت، قدریت او رجہمیت وغیرہ جیسے نئے نئے فتنوں کا اضافہ ہوگیا تھا۔ اس پرفن اور پرشوردور میں جس میں آدمی کا اپنے ایمان کو سلامت رکھنا مشکل تھا، حضرات تبع تابعین نے نہ صرف یہ کہ اُن تمام فتنوں کا سلبی طور پرمقابلہ کیا؛ بلکہ ایجابی طور پرعلومِ دینیہ کی حفاظت اور تدوین وترتیب کا غیرمعمولی کام بھی انجام دیا؛ اگریہ برگزیدہ جماعت اس کام کی طرف متوجہ نہ ہوتی توامت، اسلامی علوم کے نہ جانے کتنے بڑے حصہ سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاتی اور ان کی جگہ نہ جان کتنے غیراسلامی علوم نے لے لی ہوتی آئیندہ صفحات میں ان کے سلبی اور ایجابی دونوں طرح کے کارناموں کی قدرے تفصیل کی جاتی ہے؛ لیکن ان کے ان کارناموں کی تفصیل سے پہلے ضرورت ہے کہ اس عہد کے فتنوں کا مختصر تذکرہ کردیا جائے، ان کا تذکرہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کتاب میں بار بار ان کا نام آئے گا اور اس لیے بھی کہ ان کی حقیقت جانے بغیر نہ توتبع تابعین کے کارناموں کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے اور نہ یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ بعض ائمہ نے ان کے مقابلہ میں اپنے جسم وجان کا پورا سرمایہ کیوں لگادیا۔

قبائلی عصبیت[ترمیم]

ظہورِ اسلام سے قبل عربوں میں قبائلی عصبیت اور ایرانیوں اور عیسائیوں میں قومی اورطبقاتی عصبیت اپنے شباب پرتھی، اس لام نے ان تمام عصبیتوں پرشدید ضرب لگائی اور اس کے بجائے اس نے شرف وامتیاز کا صرف ایک معیار قرار دیا: يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّاخَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ۔ [4] ترجمہ:اے لوگو! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کوایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمھیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے؛ تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو، درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جوتم میں سب سے زیادہ متقی ہو، یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا، ہرچیز سے باخبر ہے۔ [5] قرآن کی اس ہدایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار اور خاص طور پراپنے آخری حج کے موقع پراعلان فرمایا کہ: عَنْ أَبِي نَضْرَةَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ يَاأَيُّهَا النَّاسُ أَلَاإِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ أَلَالَافَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ وَلَالِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَالِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَاأَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّابِالتَّقْوَى۔ [6] اس تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ عربی، عجمی، رومی ایرانی، کالے، گورے، غلام اور آقا ہرطبقہ وگروہ کے لوگ اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوگئے اور ان میں سے ہرایک گروہ اور طبقہ کے لوگوں نے اپنی اپنی ذاتی صلاحیت وتقویٰ کی بنیاد پربڑے سے بڑا شرف وامتیاز حاصل کیا؛ لیکن اموی حکومت نے جب اسلامی خلافت کی جگہ شخصی حکومت کی بنیاد ڈالی توانہوں نے اپنی سیاسی مصلحت کی بناپر اپنے گردایسے ہی لوگوں کوجمع کرنا شروع کیا اور انہی کی زیادہ ہمت افزائی کی جوہرحال میں ان کی حمایت کریں؛ چونکہ یہ خود عربی النسل تھے اور شام کے عربوں کی حمایت پران کی حکومت قائم ہوئی تھی اس لیے انہوں نے عربی عصبیت کوہوادی اور خاص طور پرعرب قبائل کوحکومت اور فوج میں زیادہ سے زیادہ دخیل کیا، اس دور کے عربی ادب وشاعری میں یہ چیز عام طور پرنظر آتی ہے، اس عصبیت سے اموی حکومت کوکچھ سیاسی فائدے ضرور ہوئے؛ لیکن اس ذہنیت نے عربوں میں بھی یمنی، مصری اور عدنانی وقحطانی عصبیت کوپھرسے زندہ کردیا اور یہ کہنا بالکل مبالغہ نہ ہوگا کہ اسی عصبیت نے مشرق میں بھی اموی حکومت کا بیڑا غرق کیا اور مغرب یعنی اندلس میں بھی ایک مدت تک ان کوچین لینے نہیں دیا، یہ داستان بڑی لمبی اور دل دوز ہے، اموی خلفاء میں حضرت عمربن عبدالعزیم رضی اللہ عنہ کی ایک ذات ایسی تھی جونہ صرف اس عصبیت سے دورتھے؛ بلکہ انہوں نے اس کے مٹانے کی بھی کوشش کی۔

غیرعربوں کی قومی عصبیت[ترمیم]

ایران وروم کی سیاسی شکست کے بعد وہاں کی دبی اور کچلی ہوئی عام آبادی نے تواسلام کوبطیبِ خاطرقبول کرلیا اور اس کواپنے لیے ایک نعمت ورحمت تصور کیا؛ مگروہاں کے بااقتدار اور اونچے طبقہ نے گوظاہری طور پراسلامی حکومت کی اطاعت قبول کرلی تھی؛ مگرابھی تک اس کے دل سے طبقہ واریت اور قومی عصبیت کا ناپاک جذبہ نہیں نکلا تھا اور جب بھی ان کوموقع ملتا تھا وہ اس جذبہ کوظاہر کرتے رہتے تھے الاماشاءاللہ جس طرح امویوں نے اپنی سیاسی مصلحت کے تحت عربی عصبیت کوہوادی؛ اسی طرح عباسیوں نے اپنی حکومت کے قیام اور پھراس کے بقا کے لیے عجمی عصبیت کوابھارا جس کی وجہ سے ان کے پیرپورے طور پرجم گئے؛ چنانچہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ عربوں یامسلمانوں کے خلاف جتنی سیاسی بغاوتیں یااسلامی ممالک میں جتنے مذہبی اور معاشرتی فتنے پید ہوئے ان کی ابتدائ یاتوکسی عجمی کے ذریعہ ہوئی یاکم ازکم ان کی پشت پران کی مدد ضرور رہی، عباسی حکومت انہیں کی مدد سے قائم ہوئی جس کا خود منصور کواعتراف تھا اور بار بار اعلان کرتا رہا کہ: ياأهل خُرَاسان، أنتم شيعتنا وأنصارنا، وأهل دعوتنا۔ [7] ترجمہ: اے اہلِ خراسان تم ہمارے مددگار اور انصار اور ہماری حکومت کے داعی ہو۔ مگراس کے باوجود منصور کے زمانہ سے لے کرہارون کے زمانہ تک جتنی بغاوتیں اور مذہبی فتنے پیدا ہوئے ان میں ایرانیوں کا ہاتھ ضرور تھا، مثال کے طور پرسنہ۱۳۷ میں سنباو کی بغاوت سنہ۱۴۱ میں فرقہ راوندیہ کی شورش میں انہی کا ہاتھ تھا، سنہ۱۵۰ میں استاذسیس نامی ایک خراسانی نے دعوائے نبوت کیا، جس کی دعوت کوسب سے زیادہ فروغ انہی میں ہوا؛ اسی ذہنیت کے نتیجہ میں منصور کواپنے سب سے بڑے حامی ابومسلم حراسانی کوقتل کرانا پڑا، عجمیت نوازی کے نتائج عباسی حکومت کے سامنے برابر آتے رہے؛ لیکن ایرانی اور غیرعربی عنصر عباسی حکومت میں اتنا دخیل ہوچکا تھا کہ اس کوبالکل نظر انداز کردینا اس کے بس میں نہیں تھا۔ اس عجمیت نوازی سے گوعربوں کی اہمیت سیاسی طور پرقدرے کم ہوگئی تھی؛ لیکن پھربھی جوعربی عناصر حکومت کے اندر اور باہر موجود تھے؛ انھوں نے شکست نہیں کھائی تھی؛ بلکہ وہ ہمیشہ اس ذہنیت کا مقابلہ کرتے رہتے تھے؛ چنانچہ امین مامون کی جنگ گوبظاہر دوبھائیوں کی جنگ تھی؛ لیکن حقیقۃ عربوں اور عجمیوں کی جنگ تھی؛ اگرامین فاتح ہوتا تواس سے عربوں کی فتح ہوتی (کیونکہ اس کی ماں عربی النسل تھی جس کی وجہ سے عربی عصبیت اس میں کوٹ کوٹ کربھری تھی اور یہی وجہ تھی کہ اس کی پشت پناہی زیادہ ترعربوں نے کی) اور مامون کی جیت ہوتی تواس سے عجمیوں اور غلاموں کی فتح ہوتی؛ کیونکہ وہ خود کنیز زادہ تھا اس لیے عجمیت نوازی اس کوورثہ میں ملی تھی اور اہلِ عجم ہی اس کے پشت پناہ تھے، ان عجمیوں کی فتنہ پرورذہنیت کا اندازہ نعیم بن حاذم عربی کی اس گفتگو سے لگائیے جواس نے مامون کے عجمی وزیر فضل بن سہل سے کی تھی، نعیم اور فضل میں مامون کے سامنے کسی بات پرسخت گفتگو ہوئی، نعیم نے فضل سے صاف صاف کہا کہ تم یہ چاہتے ہوکہ بنوعباس سے حکومت نکال کرآل علی میں پہنچادو اور پھرآل علی سے چھین کرآل کسریٰ کی حکومت دوبارہ قائم کردو۔ [8]

شعوبیت[ترمیم]

اسی عجمی ذہنیت نے شعوبیت کا فتنہ پیدا کیا، بظاہر اس کا مقصد توعربوں اور غیرعربوں میں مساوات پیدا کرنا تھا؛ مگر اس کے اندر عرب دشمنی کے ساتھ کسی قدر اسلام دشمنی بھی پوشیدہ تھی، صاحب لسان العرب نے شعوبی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے: والشعوبي: هوالذي يصغر شأن العرب، ولايرى فضلا على غيرهم۔ [9] ترجمہ:شعوبی اس کوکہتے ہیں جوعربوں کی اہمیت کوگھٹائے اور دوسروں پران کی فضیلت کوتسلیم نہ کرے۔ یہ لوگ اپنے استدلال میں قرآن کی ان آیات اور احادیثِ نبوی کوپیش کرتے تھے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فی نفسہ کسی خاص طبقہ کوکسی خاص طبقہ پریاکسی خاص قوم کوکسی خاص قوم پرکوئی فوقیت نہیں ہے، جوکچھ فضیلت وفوقیت ہے وہ علم وتقویٰ کی بناپر ہے، اس میں بہت سے لوگ خلوش سے اس مساویانہ ذہنیت کوفروغ دینا چاہتے تھے؛ لیکن اکثریت کے دماغ میں عجمی عصبیت اور عرب دشمنی بھری ہوئی تھی، اس تحریک کی بساط ایوان حکومت سے لے کربزم علم تک پھیلی ہوئی تھی، یہ ایک مذہب اور مسلک بن گیا تھا، مامون کے مشہور وزیر فضل کے بارے میں ابن ندیم نے لکھا ہے کہ: کان فارسی الاصل شعوبی المذہب، شدید العصبیۃ علی العرب ولہ فی ذالک کتب کثیرۃ۔ ترجمہ:یہ ایرانی النسل اور شعوبی المذہب تھا اس کوعربوں سے سخت دشمنی تھی، اس موضوع پراس نے بہت سی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ اس طرح اس موضوع پردوسرے بہت سے عجمیوں نے کتابیں لکھیں، جن میں علان الشعوبی، سعید بن حمید، ہشیم اور ابوعبیدہ کی کتابیں بہت مشہور ہوئیں، ابن ندیم نے ان سب کا تذکرہ کیا ہے، خاص طور پرابوعبید توان کا سرخیل تھا، ابن خلکان نے اس کے بارے میں لکھا ہے: کان یبغض العرب والف فی مثالبہا کتبا کثیرۃ۔ [10] اس تحریک نے صرف سیاسی طور پرعربوں کوکمزور نہیں کیا بلکہ اس کے ذریعہ اسلامی علوم کوبھی کافی نقصان پہنچا؛ انہوں نے ادب وتاریخ اور تفسیر میں ایران کے شاہی زمانہ کے کتنے فرضی قصے اور نہ جانے کتنی بے سروپا روایتیں داخل کردیں؛ گوتبع تابعین اور ان کے بعد کے محدثین اور مفسرین نے ان قصوں اور روایتوں کی بڑی حد تک پردہ دری کی؛ لیکن اس کے باوجود تفسیر وحدیث کے ذخیرہ میں بہت سی روایتیں اہلِ عجم کی فضیلت کے سلسلہ میں اب بھی ایسی ملتی ہیں جن کودرایۃً تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔ عربی عصبیت اور عجمی عصبیت کے ساتھ اسلامی مملکت میں ایک اور عنصر نے معاشرہ کے بگاڑنے میں حصہ لیا، وہ موالی یعنی غلاموں کاطبقہ تھا، طوالت کے خیال سے اس کی تفصیل کونظرانداز کیا جاتا ہے؛ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خواص وعوام پرانہی کا اثر تھا اور معاشرہ میں اس وقت اسلامی ذہنیت کا بالکل ہی فقدان ہوچکا تھا اور اس کا مظاہرہ کرنے والے موجود نہیں تھے؛ بلکہ مقصود یہ دکھانا ہے کہ حضراتِ تبع تابعین کے عہد میں مسلمانوں کے حکمران اور غالب عجمی عنصر کا مقصود یہ دکھانا ہے کہ حضرات تبع تابعین کے عہد میں مسلمانوں کے حکمران اور غالب عجمی عنص رکا رحجان کیا تھا؟ اور معاشرہ میں کیا خرابیاں پیدا ہورہی تھیں؛ ورنہ اب بھی معاشرہ میں انہی لوگوں کی حقیقی عزت وعظمت تھی اور خواش اور عوام پرانہی کا اثر تھا، جوعلم وتقویٰ کے لحاظ سے ممتاز تھے؛ خواہ عربی ہوں یاعجمی، کالے ہوں یاگورے، اس ذہنیت کے پیدا کرنے اور پھراس کے باقی رکھنے میں حضرات تبع تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ حصہ لیا، ان کی مجلسوں کا دروازہ جس طرح ایک عجمی کے لیے کھلا ہوا تھا؛ اسی طرح ایک عربی کے لیے بھی، جس طرح ان کا چشمہ فیض ہاشمیوں اور قریشیوں کے لیے جاری تھا؛ اسی طرح غلاموں کے لیے بھی؛ یہاں محمود وایاز ایک ہی صف میں نظر آتے تھے؛ یہاں امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام ابویوسفؒ، امام زفرؒ، سفیان ثوریؒ جیسے عربی النسل حضرات کی جوعظمت وعزت تھی، وہی عظمت وجلالت امام محمدؒ، یحییٰ بن معینؒ، امام اوزاعیؒ، سعید القطانؒ، ابن جریحؒ، علی بن المدینیؒ، عبدالرحمن مہدیؒ اور عبداللہ بن مبارکؒ جیسے غلامانِ اسلام کی تھی، ان حضرات کوجب بھی موقع ملا اس ذہنیت کومٹانے اور اس پرضرب لگانے کی کوشش کی، امام سفیان ثوریؒ کا انتقال غربت ومسافرت میں ہواتھا، انتقال کے وقت آپ نے پوچھا کہ میرے وطن کا کوئی آدمی ہے؟ لوگوں نے عبدالرحمن بن عبدالملک اور حسن بن عیاش کا نام لیا، آپ نے عبدالرحمن کونمازِ جنازہ اور حسن کوترکہ کی وصیت کی، انتقال کے بعد جب لوگوں کومعلوم ہوا کہ عبدالرحمن نمازِ جنازہ پڑھائیں گے توبنوتمیم کے لوگ یہ کہہ کرمانع ہوئے: یمنی یصلی علی مصری، ترجمہ:ایک یمنی مضری کی نمازِ جنازہ پڑھائے گا۔ یعنی امام سفیان مضری تھے اور عبدالرحمن کندی یمنی تھے، اس لیے یہ شرف کسی مضری ہی کوملنا چاہیے، جبلوگوں نے بنوتمیم سے یہ کہا کہ یہ امام کی وصیت ہے توپھرانہوں نے نمازِ جنازہ پڑھانے کی اجازت دی [11] اس سے اندازہ لگانا چاہیے کہ سیاسی بازی گرؤں نے اس ذہنیت کوکہاں تک پہنچادیا تھا۔ حضرت فضیل بن عیاض اور امام اوزاعی کے حالات میں پڑھیں گے کہ انہوں نے منصور اور ہارون جیسے باجبروت خلفا کے سامنے کس طرح اس ذہنیت پرضرب لگائی۔

مذہبی فتنے[ترمیم]

حضرت تبع تابعین میں سے آپ جن بزرگ کا بھی تذکرہ کتاب میں پڑھیں گے ان میں چند فرقوں کا کسی نہ کسی حیثیت سے ذکر ضرور آئے گا، جس طرح بعض سیاسی اسباب کی بناپر بعض فتنے پیدا ہوگئے تھے؛ اسی طرح سیاسی انتشار اور نئی نئی قوموں کے اسلام میں داخلے اور پھریونانی اور ہندی فلسفہ کے اثر سے بعض دینی فرقے پیدا ہوئے، جن میں سے بعض نے تبع تابعین کے زمانہ میں بڑا اثرورسوخ پیدا کرلیا تھا اور ان کی وجہ سے اسلامی معاشرہ میں روزآنہ نئے نئے مسئلے اور قضیئے پیدا ہونے لگے تھے، حضرات اتباع تابعین گوان فرقوں اور ان کے پیدا کیے ہوئے مسائل سے صرفِ نظر کرکے شریعت کی اسادہ اور اعلیٰ تعلیم کی حفاظت اور اس کی ترویج میں لگے ہوئے تھے؛ مگرپھربھی ا کوکبھی کبھی ان کے خلاف زبان کھولنی پڑتی تھی، ان کا ذکر کتاب میں بار بار آئے گا، ا س لیئے قدرے ان کی تفصیل کردی جاتی ہے، ان میں سب سے زیادہ طاقت ور فرقے شیعہ، خوارج، مرجیہ، جبریہ، جہمیہ، قدریہ یامعتزلہ تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (بخاری، كِتَاب الْمَنَاقِبِ،بَاب فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر:۳۳۷۷، شاملہ، موقع الإسلام)
  2. (الأحزاب:۲۳)
  3. (البیان ولتبیین:۱/۳۱۱، شاملہ، موقع الوراق۔دیگرمطبوعہ:۳/۲۰۶)
  4. (الحجرات:۱۳)
  5. (توضیح القرآن:۳/۱۵۸۵، مفتی محمدتقی عثمانی، مطبوعہ:فرید بکڈپو، دہلی)
  6. (مسنداحمد بن حنبل، حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر:۲۳۵۳۶، شاملہ، الناشر:مؤسسة قرطبة،القاهرة)
  7. (مروج الذهب:۱/۴۸۲، شاملہ،المؤلف : المسعودي،موقع الوراق۔ مسعودی:۱۲۷)
  8. (کتاب الوزراء:۳۹۷)
  9. (لسان العرب۔ ھامش سیرأعلام النبلاء:۹/۲۴۲،موقع يعسوب)
  10. (ابن خلکان:۲/۵۵۴)
  11. (تاریخ بغداد:۹/۱۶۰)