تبع حمیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تبع اسعد ابو كرب الحميری۔ ان کی کنیت اور ان کا نام اسعد تھا، انصار بنی حیرہ اسی کی طرف منسوب ہیں، حیرہ کوفہ کے قریب ایک شہر ہے۔[1] ان کو اسعد الکامل بھی لکھا جاتا ہے۔ انہوں نے یہودیت کو ترک کرکے اسلام قبول کیا تھا۔

تبع سے مراد[ترمیم]

قرآنی تبع : قرآنی تُبَّعْ، تبع اوسط ہے جس کا نام اسعد، ابوکریب یا ابو کرب کنیت ہے، یہ بادشاہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے نو سو سال اور ایک روایت کے اعتبار سے کم از کم سات سو سال پہلے گزرا ہے، یہ اور اس کی قوم آتش پرست تھی۔

کعب احبار کی تفسیر[ترمیم]

عبد الرزاق وابن المنذر نے ابن عباس سے روایت کیا کہ چار آیات ہیں اللہ کی کتاب میں سے جن کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ ان کا کیا معنی ہے۔ یہاں تک کہ میں نے ان کے بارے میں کعب احبار سے پوچھا ” قوم تبع“ اور تبع کا ذکر نہیں فرمایا کہ وہ کون تھا تو انہوں نے کہا کہ تبع ایک بادشاہ تھا اور اس کی قوم کاہن تھی اور اس کی قوم میں کچھ لوگ اہل کتاب سے بھی تھے اور کاہن اہل کتاب پر حملہ کرتے تھے۔ اور ان کی تابعداری کرنے والے کو قتل کرتے تھے اہل کتاب نے تبع سے کہا کہ وہ لوگ ہم کو جھٹلاتے ہیں تو تبع نے کہا اگر تم سچے ہو تو ایک قربانی پیش کرو تم میں سے جو افضل ہوگا اس کی قربانی کو آگ کھاجائے گی اہل کتاب اور کاہنوں نے قربانی پیش کی آگ آسمان سے نازل ہوئی اہل کتاب کی قربانی کو کھاگئی تبع نے اہل کتاب کی تابعداری کی اور اسلام لے آیا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو قوم کا قرآن مجید میں ذکر فرمایا اور تبع کا ذکر نہیں فرمایا۔[2]

مدینہ کو تباہ کرنے کا ارادہ[ترمیم]

ایک مرتبہ سفر کے دوران میں اس کا مدینہ منورہ سے گزرہوا، یہاں اس کا بیٹا مارا گیا، تبع نے مدینہ کو تباہ و برباد کرنے کا ارادہ کیا، اوس و خزرج سے جو یہاں کے قدیم باشندے تھے مقابلہ ہوا، اہل مدینہ کا عجیب و غریب طریقہ تھا کہ دن میں تبع کے ساتھ لڑتے اور رات کو ان کی دعوت کرتے، تبع کو یہ امر نہایت عجیب معلوم ہوا، مدینہ میں یہودی بھی آباد تھے، بنی قریظہ کے دو بڑے عالم جن میں ایک کا نام کعب اور دوسرے کا نام اسعد تھا، یہ دونوں بادشاہ کے پاس گئے اور عرض کیا اے بادشاہ مدینہ کی طرف نظر بد نہ کرو، ورنہ عذاب آجائے گا، تجھ کو معلوم نہیں کہ یہ شہر نبی آخر الزمان محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت گاہ ہے، جن کا مولد مکہ ہے اور وہ قریش کی قوم سے ہوں گے، اے تبع اس وقت جہاں تو ہے اس سے قتال عظیم ہوگا، تبع نے معلوم کیا کہ جب وہ پیغمبر ہے تو اس سے قتال کون کرے گا، ان دونوں عالموں نے جواب دیا کہ ان کی قوم ان سے لڑے گی، تبع یہ سن کر لڑائی سے باز آگیا، پھر ان دونوں عالموں نے اس کو دین یہود کی تبلیغ کی جس کے نتیجے میں اس نے یہودیت قبول کرلی اور ان دونوں عالموں کو اپنے ہمراہ لیکر یمن چلا۔

پہلا غلاف کعبہ[ترمیم]

جب مکہ معظمہ پہنچا تو قبیلہ ہذیل کے بعض لوگوں نے ازراہِ شفقت بادشاہ سے کہا کہ ہم تجھے وہ گھر بتائیں کہ جس میں خزانہ ہے اور وہ گھر خانہ کعبہ ہے، مقصد ان کو یہ تھا کہ تبع اس گستاخی سے ہلاک ہو جائے مگر ان دونوں عالموں نے اس کو اس حرکت سے باز رکھا اور عرض کیا یہ خانہ خدا ہے، خبردار اس کی طرف نظر بد ہرگز نہ کرنا، تبع نے اس حرکت سے توبہ کی اور ہذیلیوں کو قتل کرا دیا اور مکہ میں حاضر ہو کر شعب صالح میں قیام کیا اور خانہ خدا کو لباس پہنایا، سب سے پہلے تبع ہی نے خانہ کعبہ پر غلاف ڈالنا شروع کیا، تبع نے مکہ میں چھ روز قیام کیا اور چھ ہزار بد نے قربان کیے۔

یمن میں آزمائش[ترمیم]

جب تبع یمن پہنچا تو قوم نے بغاوت کردی اور کہا تو نے دین بدل ڈالا ہے، آخر فیصلہ یہ ہوا کہ زیر کوہ جو ایک آگ ہے وہاں دونوں فریق چلیں اور آگ حسب معمول ظالم کو جلا دے، قوم اپنے بتوں کو لیکر گئی اور تبع کعب واسعد کو ساتھ لے گیا ان کے گلوں میں مصاحف لٹکے ہوئے تھے، یہ آگ کے اوپر سے بآسانی گزر کر مقام معین پر پہنچ گئے، اس کے بعد آگ نکلی اور بت پرستوں کو جلا کر خاکستر کر دیا، اس کے بعد آگ جدھر سے آئی تھی واپس چلی گئی، اس کے بعد قوم تبع کے کچھ بچے ہوئے لوگوں نے یہودیت قبول کرلی۔[3]

نبی آخرالزمان کو خط[ترمیم]

سیدتناعائشہ صدیقہ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو وہ مرد صالح تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبع کے بارے میں فرمایا کہ وہ اسلام لایا تھا. تبع نے دار ابو ایوب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے بنوایا تھا اور وصیت نامہ لکھا تھا کہ نبی آخر الزمان جب تشریف لائیں تو یہ گھر اور میرا پیام نیاز پیش خدمت کیا جائے، چنانچہ وہ خط ابو ایوب انصاری نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا۔[4] اس خط میں یہ اشعار بھی تھے : شھدتُ علی احمد أنَّہٗ رسول من اللہ باری النسم فلو مد عمری الی عمرہ لکنتُ وزیراً لہٗ وابن عم خط کا مضمون ابن اسحٰق کی روایت کے مطابق یہ تھا : امَّا بعد! فانی آمنتُ بک وبکتابک الذی أنزل علَیْک، وانا علی دینک وسنتکَ وآمنتُ بربک ورب کل شئ وآمنتُ بکل ما جاء من ربک من شرائع الاسلام فِان ادرکتُکَ فبھا ونعمت وان لم ادرککَ فاشفع لی ولا تنسنی یوم القیامۃ فانی من ربک من امتک الاولین وتابعتک قبل مجیئک وأنا علی ملتکَ وملت ابیک ابراھیم (علیہ السلام) ثم ختم الکتاب ونقش علیہ، للہ الامر من قبل ومن بعد وکتب عنوانہ الی محمد بن عبد اللہ نبی اللہ ورسولہ خاتم النبیین و رسول رب العالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من تُبَّع اول۔[5][6]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر جلالین۔ جلال الدین سیوطی صاحب
  2. تفسیر در منثور جلال الدین سیوطی سورہ ص،آیت 34
  3. خلاصۃ التفاسیر، تائب لکھنوی
  4. (خلاصۃ التفاسیر)
  5. لغات القرآن للدرویش
  6. تفسیر جلالین ،جلال الدین سیوطی۔ سورہ الدخان آیت 30