مندرجات کا رخ کریں

تتلیاں اور پتنگے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

تتلیاں اور پتنگے
زمانی حد: Early Jurassicموجود، 200–0 ما ممکنہ Late Triassic ریکارڈز
مور تتلی (Aglais io)
بڑا فیل پتنگا (Deilephila elpenor)
سائنسی درجہ بندی e
اقلیم: حیوانات
قوم: مفصل پایاں
جماعت: حشرات
(غیر درجہ بند): Amphiesmenoptera
فصیلہ: Lepidoptera
کارل لینیس، 1758
ذیلی تقسیم

Aglossata
Glossata
Heterobathmiina
Zeugloptera

تتلیوں اور پتنگوں کا تعلق پردار حشرات کے فلسی بالان[1] (انگریزی: Lepidoptera) فصیلہ سے ہے۔ ان کے پنکھ چھلکے کی طرح باریک ہوتے ہیں جو ہزاروں ننھے ننھے رنگ دار چانوں (اسکیل) سے ڈھکے ہوتے ہیں بکل نما یہ چانے بہت نازک ہوتے ہیں اور چھونے پر سفوف کی طرح اُتر جاتے ہیں۔ پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی پودے ہوں، وہاں تتلیاں اور پتنگے بھی پائے جاتے ہیں۔ ان حشرات کے رنگ اور جسامت میں بہت تنوع پایا جاتا ہے۔ ان کی کچھ انواع گروہوں کی شکل میں سفر کرتی ہیں اور سردی سے بچنے کے لیے ترک وطن کر کے ہزاروں میل دور بھی چلی جاتی ہیں۔ ان کے فلسی بالان فصیلے کی 180،000 انواع ہیں جن میں سے زیادہ تر پتنگے ہیں۔

جسمانی ساخت

[ترمیم]

تتلیوں اور پتنگوں کے اجسام کے تین حصے ہوتے ہیں۔ سر، سینہ اور پیٹ۔ سر پر دو مرکب آنکھیں (Compound eyes) اور محاس (Antennae) کا ایک جوڑا ہوتا ہے۔ یہ محاس پھولوں کی خوشبو کو محسوس کرنے اور آوازوں کو سننے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ اپنی ٹانگوں سے پودوں کا ذائقہ بھی چکھتے ہیں۔ مادہ اس طریقے سے انڈے دینے کے لیے صحیح پودے کا انتخاب کر سکتی ہے۔ ان کے منھ میں جبڑا نہیں ہوتا اور اسی لیے یہ کوئی چیز بھی چبا نہیں سکتے۔ اس کی بجائے ان کے منھ میں کھوکھلی بل دار زبان خرطوم (Proboscis) ہوتی ہے جسے یہ پھولوں کا رس چوسنے میں استعمال کرتے ہیں۔ اس عمل میں پودوں کے مابین زر دانوں کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ بار آور ہوتے ہیں۔

ان کے سینے میں تین قطعات (Segments) ہوتے ہیں اور ہر قطعے کے ساتھ ٹانگوں کا ایک جوڑا لگا ہوتا ہے۔ اگلی ٹانگیں بعض اوقات چھوٹی اور نا قابل استعمال ہوتی ہیں۔ دوسری چاروں ٹانگیں کمزور ہوتی ہیں اور ان سے چلنے کا کام بھی کبھار ہی لیا جاتا ہے۔ اگلے پنکھ درمیانی قطعے سے اور پچھلے پنکھ تیسرے قطعے سے جڑے ہوتے ہیں۔ پنکھوں میں موجود رگیں انھیں سہارا دیتی ہیں۔ انہی نالیوں میں سے کچھ خون اور ہوا کے رستے بھی ہیں اور کچھ کے ساتھ ساتھ اعصاب چلتے ہیں۔ باریک ہونے کے باوجود یہ پنکھ پرواز کے لیے ضروری قوت مہیا کرتے ہیں۔

پیٹ کے حصے میں عموماً دس قطعات ہوتے ہیں، جن میں سے آخری چند تولید کے لیے وقف ہیں۔ ان قطعوں میں اکثر سانس لینے کے لیے سوراخ ہیں، جنھیں نتھنے (Spiracles) کہتے ہیں۔ مخالف جنس کو متوجہ کرنے کے لیے ان کے پیٹ سے مخصوص بُو خارج ہوتی ہے۔

دورانِ زندگی

[ترمیم]

تے لیاں اور پتنگے چار مراحل میں مکمل کایا پلٹ (Complete metamorphosis) سے گزرتے ہیں۔ (1) انڈا، (2) بُھوا / کملا / سُرفہ (لاروا)، (3) منجھ روپ (پیوپا) اور (4) بالغ حشرہ۔[2]

مادہ ہزار سے زیادہ انڈے دیتی ہے جو پتوں کی نچلی سطح یا ایسی دوسری چیزوں پر دیے جاتے ہیں جہاں سے سُرفوں کو خوراک ملتی رہے۔ ان انڈوں سے عام طور پر ملتی رہے۔ ان انڈوں سے عام طور پر چند دنوں میں بُھوے (Caterpillar) نکل آتے ہیں لیکن موسم اور ماحول کے مطابق کبھی کبھار آٹھ آٹھ مہینے بھی لگ جاتے ہیں۔ بُھوے یا سُرفے کے جسم میں بارہ قطعہ ہوتے ہیں۔ یہ غذا کھاتا، اپنا جسم بڑھاتا اور کینچلی بھی بدلتا ہے۔ بڑھتے جسم کے باعث اسے یہ عمل کئی بار کرنا پڑتا ہے۔ تتلیوں اور پتنگوں کے بُھوے پودوں اور فصلوں کے لیے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ کچھ پتنگوں کے بھوت یا کملے یا سُرفے کپڑوں اور قالینوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ کچھ پتنگوں اور تتلیوں کی اصل شناخت، ان کے سُرفوں سے پہنچنے والے نقصان سے ہوتی ہے

سُرفے کی آخری کینچلی کے اندر ہی منجھ روپ (پیوپا) بن جاتا ہے۔ یہ جھلی کو پھاڑ کر باہر نکلتا اور ریشم کی ایک چھوٹی سی گولی (Button) میں جا بیٹھتا ہے۔ ریشم کی یہ گولی سرفے نے پیوپے کے لیے پہلے سے بنائی ہوتی ہے۔ اب پیوپا اپنے گرد ایک خول بنا کر اس کے اندر آہستہ آہستہ بالغ حشرے میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ اس پورے عرصے کے دوران پیوپا بہت کم حرکت کرتا ہے۔ بہت سے پتنگوں اور کچھ تتلیوں کے پیوپے اس دوران اپنے گرد ریشم کی طرح کا ایک کویا (Cocoon ککون) بُن لیتے ہیں۔ پیوپے سے بالغ ہونے تک کا عمل مختلف حالات میں دس دن سے آٹھ مہینے میں مکمل ہوتا ہے۔

کویے میں بالغ ہونے پر حشرہ ایک مائع خارج کرتا ہے جس سے کویا گلتا ہے اور حشرہ باہر نکل آتا ہے۔ آدھ گھنٹے کے اندر یہ بالغ حشرہ اڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ بالغ حشرے کی جسامت تاحیات کم و بیش یکساں رہتی ہے۔

دشمن

[ترمیم]

تتلیوں اور پلنگوں کے بہت سے قدرتی دشمن ہیں۔ مثلاً مکھیاں اور بھڑیں اپنے انڈے تتلیوں اور پتنگوں کے بُھووں (کیٹرپلر) پر دیتی ہیں۔ جب ان انڈوں سے لاروے نکلتے ہیں تو یہ تتلیوں اور پتنگوں کے بھووں کو کھا لیتے ہیں۔ مکڑی جیسے کچھ دوسرے حشرے، پرندے، مینڈک اور چھپکلیاں نہ صرف ان کے بُھوے کھا جاتے ہیں بلکہ بالغ تتلیوں اور پتنگوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ چنانچہ اپنے دشمنوں سے بچنے کے لیے یہ بڑے فریب انگیز کیموفلاژ اختیار کرتے ہیں۔ کچھ تتلیوں کے رنگ بڑے خوبصورت اور عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ کچھ تتلیوں اور پتنگوں کے جسم پر زہریلا مائع ہوتا ہے اور کچھ کے جسم پر خوف ناک اور انتہائی رنگ کاری ہوتی ہے جس سے ان کے دشمن خوف کھاتے ہیں اور ان کے قریب نہیں بھٹکتے۔

تتلیوں اور پتنگوں کے درمیان فرق

[ترمیم]

اگر چہ تتلیوں اور پتنگوں میں بہت سے عمومی فرق ہیں، لیکن ان کا اطلاق تمام انواع پر نہیں ہوتا۔ تتلیوں کے محاس ہوتے ہیں جن کے آخری سرے پر ایک گانٹھ سی ہوتی ہے۔ جب کہ پتنگوں کے محاس پَر یا بال کی طرح کے ہوتے ہیں اور ان کا اگلا سرا آہستہ آہستہ پتلا ہوتا جاتا ہے۔ اکثر تتلیاں دن کے وقت اڑتی ہیں جبکہ اکثر پتنگے رات کے وقت اڑتے ہیں۔ بہت سی تتلیاں جب آرام کرتی ہیں تو ان کے پَر ان کے جسم کے گرد لپٹے ہوئے ہوتے ہیں جبکہ اکثر پتنگے جب آرام کرتے ہیں تو ان کے پَر جسم کے اطراف میں پھیلے ہوتے ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. شیخ منہاج الدین (1965)۔ قاموس الاصطلاحات (پہلا ایڈیشن)۔ لاہور: مغربی پاکستان اردو اکیڈمی۔ ص 430
  2. P. J. Gullan; P. S. Cranston (13 Sep 2004). "7". The insects: an outline of entomology (بزبان انگریزی) (3 ed.). Wiley-Blackwell. pp. 198–199. ISBN:978-1-4051-1113-3.