علم تجوید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(تجوید سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

علم تجوید یا تجوید قرآن مجید کی تلاوت میں حروف کو ان کے درست مخرج سے اداء کرنے کے علم کو کہتے ہیں۔[1]

کچھ ضروری اصطلاحات[ترمیم]

  • (1) حروف: الف سے لیکر یا تک تمام حرفوں کی تعداد 29 ہے ان کو حروف تہجی کہتے ہیں۔
  • (2) حروف حلقی: وہ تما م حروف جو حلق سے ادا ہوتے ہیں ان کی تعداد 6 ہے اوروہ یہ ہیں (ء، ھ، ع، ح، غ، خ)
  • (3) حروف مستعلیہ: وہ حروف جو ہر حال میں پُر پڑھے جاتے ہیں۔ ان کی تعداد 7 ہے۔ (خ، ص، ض، ط، ظ، غ، ق) حروفِ مستعلیہ کا مجموعہ خُصَّ ضَغْطٍ قِظْ ہے ۔
  • (4) حروف شفوی: وہ حروف جو ہونٹوں سے ادا ہوتے ہیں۔ تعداد کے اعتبار سے 4 ہیں ۔(ب۔ م۔ و۔ ف)
  • (5) حروفِ مدّہ: (حروف ہوائیہ) وہ حروف جو ہوا پر ختم ہوجاتے ہیں۔ انکی مقدار ایک الف کے برابر ہوتی ہے ۔(ا) ماقبل مفتوح، (و) ساکن ماقبل مضموم،(ی) ساکن ماقبل مکسور۔
  • (6) حروفِ لین: وہ حروف جو نرمی سے پڑھے جاتے ہیں ۔ (و) اور (ی) ساکن ماقبل مفتوح۔
  • (7) حرکت: زبر، زیراور پیش میں سے ہر ایک کو حرکت کہتے ہیں اور ان کو مجموعی طور پر حرکات کہتے ہیں ۔
  • (8) فتحہ اشباعی: کھڑے زبر کو کہتے ہیں ۔
  • (9) ضَمّہ اشباعی: اُلٹے پیش کو کہتے ہیں۔
  • (10) کسرہ اشباعی: کھڑے زیر کو کہتے ہیں۔
  • (11) متحرک: جس حرف پر حرکت ہو اسے متحرک کہتے ہیں ۔
  • (12) فتحہ: زبر کو کہتے ہیں۔ جس حرف پر فتحہ ہو اسے مفتوح کہتے ہیں ۔
  • (13) کسرہ: زیر کو کہتے ہیں۔ جس حرف کے نیچے کسرہ ہو اسے مکسور کہتے ہیں ۔
  • (14) ضَمّہ: پیش کو کہتے ہیں۔ جس حرف پر ضمہ ہو اُسے مضموم کہتے ہیں۔
  • (15) تنوین: دو زبر ( ً)، دو زیر ( ٍ) اور دو پیش ( ٌ) کو کہتے ہیں اورجس حرف پر تنوین ہو اسے مُنَوَّنْ کہتے ہیں۔
  • (16) نونِ تنوین: تنوین کی ادائیگی میں جو نون کی آواز پیدا ہوتی ہے اسے نونِ تنوین کہتے ہیں۔
  • (17) ماقبل حرف: کسی حرف سے پہلے والے حرف کو کہتے ہیں۔
  • (18) مابعد حرف: کسی حرف کے بعد والے حرف کو کہتے ہیں۔
  • (19) ترتیل : بہت ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا (علمِ تجوید اور علمِ وقف کی رعایت کے ساتھ صحیح و صاف پڑھنا) جیسے قراء حضرات محافل میں تلاوت کرتے ہیں ۔
  • (20) حدر: جلدی جلدی پڑھنا جس سے تجوید نہ بگڑے۔ جیسے امام تراویح میں پڑھتا ہے۔
  • (21) تدویر: ترتیل اور حدر کی درمیانی رفتار سے پڑھنا (جس طرح امام فجر، مغرب اورعشاء میں قدرے بلند آواز میں پڑھتا ہے)
  • (22) اظہار: (ظاہر کرنا) نون ساکن، نون تنوین اور میم ساکن کو بغیر غنہ کے ظاہر کر کے پڑھنا۔
  • (23) اقلاب:(تبدیل کرنا) نون ساکن اور نونِ تنوین کو میم سے بدل دینا (یہ صرف اس کے ساتھ خاص ہے)
  • (24) اِخفاء: (چھپانا) نون ساکن اور میم ساکن کو چھپاکر ادا کرنا۔
  • (25) غُنّہ: ناک کے بانسے میں آواز کو ایک الف کے برابر چکر دینا اسے غنہ کہتے ہیں۔
  • (26) موقوف علیہ: جس حرف پر وقف کیا جائے ۔
  • (27) وقف: وقف کا لغوی معنٰی ٹھہرنا، رکنا۔ اصطلاح تجوید میں کلمہ کے آخر پر سانس اور آواز توڑ دینا اور موقوف علیہ کو(اگر متحرک ہو تو) ساکن کر دینا وقف کہلاتا ہے۔
  • (28) اِدغام: (ملانا) دو حرفوں کو ملا دینا۔ (پہلا مدغم اور دوسرا مدغم فیہ کہلاتا ہے)
  • (29) مُدْغَمْ فِیہ: جس حرف میں ادغام کیا گیا ہو۔
  • (30) سکون: سکون جزم کو کہتے ہیں۔
  • (31 )ساکن: جس حرف پر سکون ہو اسے ساکن کہتے ہیں ۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. علم تجوید
  2. نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان صفحہ 9: المد ینۃ العلمیۃ کراچی

متعلقہ[ترمیم]