تحریک ختم نبوت 1974ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(تحریک ختم نبوت1974 سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
تحریک ختم نبوت 1974ء اور فسادات
مضامین بسلسلہ تحریک ختم نبوت
تاریخ 29 مئی 1974 ء-اکتوبر 1974ء
مقام پاکستان
طریقہ کار
نتائج

سرکاری طور پر احمدیوں کو کافر قرار دے دیا گيا
آرڈیننس XX

  • احمدیوں کے خلاف تشدد کے واقعات
سرکردہ رہنما

1974ء ميں وزیراعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں احمدیوں جن کوقادیانی بھی کہا جاتا ہے، کوغیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا، اس تحریک کے اصل محرک شاہ احمد نورانی تھے انہوں نے 30 جون کو ایک تاریخی قرارداد جمع کرائی اور 6 ستمبر 1974ء تک بحث و تمحیص کے بعد اسے ایک قانونی شق کی حیثیت دے دی گئی۔ دوسری آئینی ترمیم کے اس حصے جس میں احمدیوں کو واضح طور پر آئین پاکستان نے غیرمسلم قرار دیا ہے، کو آرڈیننس 20 کہا جاتا ہے۔

تاریخ

قیام پاکستان کے بعد احمدیوں کے خلاف کئی سال تک تحریکیں چلتی رہیں، 1953ء اس حوالے سے زیادہ مشہور سال ہے ان تحریکوں میں کئی علماء مثلاً عبدالستار خان نیازی اور مودودی صاحب کو پھانسی کی سزا بھی سنائی گئی لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہوا۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی میں احمدی عقائد کے خلاف ایک قرارداد منظور ہو چکی تھی کہ پنجاب کے شہر ربوہ میں 29 مئی کو مسلمان طلباء پر احمدیوں نے حملہ کرکے تشدد کیا جس میں ان کے ناک، کان اور جسم کے اعضا بے دردی سے علیحدہ کیے گئے۔ جسے سانحہ ربوہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں پریشانی کی ایک لہر دوڑ گئی اور اس واقعہ کے تھوڑا عرصہ بعد مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی نے قومی اسمبلی (پاکستان) میں 30 جون 1974 احمدیوں اور لاہوری گروہ کے خلاف ایک قرارداد پیش کی کہ یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں جبکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور رسول تھے لہٰذا اس باطل عقیدے کی بناء پر احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

بحث و تمحیص

اس تحریک میں سب مکاتب فکر کے علماء شامل تھے، علماء کے علاوہ دیگر بہت سے سیاستدانوں نے حصہ لیا جن میں نوابزادہ نصر اللہ خان کا نام نمایاں ہے، سوائے چند ایک رکن قومی اسمبلی پاکستان کے اکثر ارکان نے اس قرارداد کی حمایت میں دستخط کر دئیے، احمدی اور لاہوری گروپ کے نمائندوں کو ان کی خواہش کے مطابق اپنی صفائی کا مکمل موقع دیا گیا اور دوماہ اس پر بحث ہوتی رہی پوری قومی اسمبلی کے ارکان کو ایک کمیٹی کی شکل دے دی گئی تھی اور کئی کئی گھنٹے کیمرے کے سامنے بیانات و دلائل و جرح کا سلسلہ جاری رہتا، اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحیٰ بختیار فریقین کے مؤقف کو سن کر ایک دوسرے تک بیان پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ کمیٹی اس بات کی پابند تھی کہ کئی سال تک اس مناظرے کو کہیں نشر نہیں کرے گی۔

نتیجہ

بہت سے سیاستدان اس تحریک سے قبل اس مسئلے کی سنگینی سے ناواقف تھے، لیکن جب انہیں کیمرے کے سامنے احمدی نمائندوں (مرزا ناصر وغیرہ) کے قول و اقرار سے اصل صورت حال کا علم ہوا تو وہ بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے سلسلے میں سنجیدہ ہو گئے، بالآخر مرزا ناصر سے ایک سوال ہوا کہ اگر کبھی دنیا میں کہیں تم لوگوں کی حکومت قائم ہوجائے تو تم (احمدی/مرزائی) غیر احمدی کلمہ گو مسلمانوں کو وہاں کس درجے میں رکھو گے تو اس نے جواب دیا کہ ہم انہیں اقلیت سمجھیں گے، یوں اس کے کلیہ کے مطابق احمدیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ اب پاکستان کے مسلمان غیر سرکاری طور پر 7 ستمبر کو یوم ختم نبوت کے طور پر مناتے ہیں۔

کورٹ میں چیلنج

اس قانون کے پاس ہوتے ہی احمدیوں نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اس قانونی ترمیم کو چیلنج کیا، مسلمانوں کی طرف سے ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی اور احمدیوں کی طرف سے فخرالدین جی ابراہیم نے اس کیس کی پیروی کی، لیکن مرزا غلام احمد کی تصانیف میں لکھی ہوئی اسلام مخالف باتیں دلائل قاطعہ ثابت ہوئیں اور احمدی کورٹس میں بھی خود کو مسلمان ثابت نہ کر سکے

بیرونی حوالہ جات

حوالہ جات