تحفۂ اثنا عشریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تحفۂ اثنا عشریہ
مصنف شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مصنف (P50) ویکی ڈیٹا پر
اصل زبان فارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کام یا نام کی زبان (P407) ویکی ڈیٹا پر
موضوع اثنا عشری شیعیت پر تنقید  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مرکزی موضوع (P921) ویکی ڈیٹا پر

تحفہ اثنا عشریہ شاہ عبد العزیز دہلوی کی کتاب ہے جو اہل تشیع کے عقائد کی رد میں لکھی گئی ہے۔[1]

پس منظر[ترمیم]

مرشد آباد میں برصغیر کی سب سے بڑی امام بارگاہ، "نظامت امام باڑہ"، جس کی بنیاد نواب سراج الدولہؒ  نے اپنے ہاتھوں سے رکھی تھی-

اٹھارویں صدی عیسوی جہاں مغل سلطنت کے مغرب میں افغان حملہ آوروں اور مشرق و جنوب میں انگریزوں کے سامنے عسکری کمزوری دکھانے سے عبارت ہے، وہیں دہلی میں شیعہ اور سنی امرا کے بیچ سرد جنگ اس سلطنت کے زوال کا دوسرا اہم عامل ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے اقتدار کی شکست و ریخت کے زمانے میں دہلی میں جامعہ رحیمیہ کے گدی نشین شاہ ولی الله محدث دہلوی ( 1703ء ۔ 1762ء) نے اہلسنت میں بہت مقام پیدا کیا۔ شاہ ولی الله 1731ء میں حج کرنے گئے اور وہاں شیخ محمد بن عبد الوہاب کی تحریک "توحید والعدل"، جس کو عرف عام میں وہابیت کہا جاتا ہے، کے اثرات اپنے ساتھ لائے۔اس وقت شیعہ نواب اودھ صفدر جنگ کو مغل دربار میں بہت اہمیت حاصل تھی۔1747ء میں احمد شاہ ابدالی کو سرہند کے مقام پرمغل سلطنت کی طرف سے صفدر جنگ نے شکست دی۔ اس کے نتیجے میں اس کے مرتبے اور عزت میں اضافہ ہوا تو دہلی میں اس کے خلاف سنی امرا کی سازشیں عروج پر پہنچ گئیں اور 1753ء میں اس کو دہلی چھوڑ کر اودھ جانا پڑا۔ اس ماحول میں سنی امرا نے شاہ ولی الله کو شیعہ امرا کے خلاف اکسایاتو انہوں نے اپنے خوابوں کو بنیاد بنا کر اہل تشیع کے خلاف "فیوض الحرمین"، "قراہ العینین"، "ازالہ الخفا" اور "حجہ الله البالغہ" جیسی کتابوں میں تنقید کی۔ اپنے ایک خواب کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ پہلے دو خلفا کا نور رسول اللهؐ کے نور سے ملا ہوا ہے، وہی بات جو شیعہ قرآن کی آیت مباہلہ اور احادیث کی بنیاد پر حضرت علی کے لیے کہتے تھے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ رسول اللهؐ نے ان کو خواب میں آ کر بتایا کہ شیعہ گمراہ ہیں۔ شاہ ولی الله نے انگریزوں کے خلاف لڑنے والے بنگال،  اودھ  اور میسور کے حکمرانوں کی حمایت میں کوئی فتویٰ جاری نہ کیا۔ بنگال میں سراج الدولہ، اس کے بعد میر قاسم نے انگریزوں سے جنگ کی لیکن ان کا مسلک شیعہ ہونے کی وجہ سے انھیں شاہ ولی الله کی طرف سے وہ حمایت نہ ملی جو احمد شاہ ابدالی کو میسر رہی۔ یہی مسلہ اودھ کے نواب شجاع الدولہ کا تھا- شاہ صاحب کےبعد بھی میسور کے نواب حیدر علی اور ان کےبیٹے فتح علی ٹیپو بھی دہلی سے کسی قسم کی عسکری یا مذہبی حمایت سے محروم رہے۔

احمد شاہ ابدالی نے کل سات حملے کیے جن میں سے چوتھے اور پانچویں حملے میں دہلی پہنچا۔ دہلی پر 1757ء کے حملے میں افغانوں نے منظم انداز میں شہر کو لوٹا، شہر کے محلوں میں الگ الگ ٹولیاں بھیجی گئیں جنہوں نے نہ صرف گھروں کا سامان لوٹا بلکہ فرش اکھاڑ کر بھی تلاشی لی تاکہ کسی کا چھپایا گیا زیور باقی نہ رہ جائے۔بے شمار ہندو خواتین کی عصمت لوٹی گئی۔دو سال بعد شاہ ولی الله نے احمد شاہ ابدالی کو دوبارہ دعوت دی اور اس مرتبہ اس نے دہلی کے شیعہ بھی قتل کیے، شاہ ولی الله کے بیٹے کے بقول انہوں نے ایک سال پہلے اس کو بتایا تھا کہ اگلے سال دہلی میں ایک بھی شیعہ باقی نہیں بچے گا[2]۔ اس کی افواج نے لوٹ مار کا وہ بازار گرم کیا کہ ہندوستان کی رہی سہی طاقت بھی ختم ہو گئی۔ پنجابی زبان کے عظیم صوفی شاعر وارث شاہ نے احمد شاہ ابدالی کی لوٹ مار کے بارے میں کہا:۔

کھادا پیتا وادے دا

باقی احمد شاہے د ا

یعنی تمھارے دنیاوی مال و اسباب میں تمہاراحصہ وہی ہے جو تم استعمال کر لو ورنہ جو بچا کر رکھو گے وہ احمد شاہ ابدالی جیسے لٹیرے لے جائیں گے۔ اس دوران مغل بادشاہ عالمگیر دوم کو اس کے سنی وزیر امداد الملک نے قتل کر دیا اور ایک اور شہزادے شاہجہاں سوم کو مسند شاہی پر بٹھا دیا ۔ افغان بادشاہ احمد شاہ ابدالی نے دہلی میں امداد الملک کو مختار کل بنا یا نجیب الدولہ کودہلی اور اودھ کے درمیان روہیل کھنڈ میں افغانوں کی حکومت بنا دی۔

احمد شاہ ابدالی

مرہٹوں نے احمد شاہ ابدالی کے خلاف اودھ کے شیعہ نواب شجاع الدولہ کو اتحاد کی دعوت دی لیکن نواب نے احمد شاہ ابدالی سے اتحاد کرنے کو مصلحت کے قریب جانا۔ 1761ء میں اودھ کےشیعہ نواب شجاع الدولہ(صفدر جنگ کے بیٹے)، روہیل کھنڈ کے نجیب الدولہ اور احمد شاہ ابدالی کی مشترکہ افواج نے مرہٹوں کو پانی پت میں شکست دے کر شمال میں ان کی پیشقدمی ہمیشہ کے لیے روک دی۔نجیب الدولہ نے دہلی پر قبضہ کر لیا۔1762ء میں شاہ ولی اللہ انتقال فرما گئے۔1770ء میں نجیب الدولہ کے انتقال کے بعد مرہٹوں نے اس کے بیٹے ضابطہ خان کے قبضے سے دہلی آزاد کرایا اور شاہ عالم ثانی کے حوالے کیا ۔ 1772ء میں احمد شاہ ابدالی کا انتقال ہوا اور افغان سلطنت داخلی شورش کا شکار ہو گئی۔شاہ عالم ثانی نے شیعہ سردار نجف خان کو اپنا وزیر مقرر کیا۔ نجف خان نے سکھوں کے مقابلے میں دہلی کا کامیابی سے دفاع کیا۔ 1782ء میں نجف خان کا انتقال ہو گیا۔ 1787ء میں ضابطہ خان کے بیٹے غلام قادر روہیلہ نےدہلی پر حملہ کر کے دوبارہ قبضہ کر لیا۔ وہ ایک ذہنی مریض تھا، اس نے شاہ عالم ثانی کی آنکھوں میں سوئی مار کر اندھا کر دیا اور مغل شہزادیوں سے زنا باالجبر کرنے کے بعد ننگا کر کے کوڑے لگائے۔ کئی خوبصورت مغل شہزادیاں قید میں بھوکی رکھ کر ماری گئیں اور شہزادے اور ان کے بچے بری طرح پیٹے گئے[3]۔ مرہٹے دوبارہ شاہ عالم ثانی کی کمک کو پہنچے اور دو سال بعد دہلی دوبارہ شاہ عالم کے قبضے میں چلا گیا، غلام قادر روہیلہ کی آنکھیں بھی نکالی گئیں اور اس کو اذیت ناک طریقے سے مارا گیا ۔

تحفہ اثنا عشریہ کی تصنیف اور اس کے ابواب[ترمیم]

تحفہ اثناعشریہ

شاہ ولی الله کے بیٹوں میں سے شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ( 1746ء ۔ 1823ء) فرقہ وارانہ نفرت میں آگے تھے اور انہی منفی جذبات کی وجہ سے ان کو مستقل معدے میں جلن کی شکایت رہتی تھی[4]۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پچیس برس کی عمر ہی میں ان کو جذام ہو گیا اور نظر بھی کمزور ہو گئی تھی۔ مسلسل جسمانی اذیت اور اس زمانے کے حالات کا غصہ اپنے فتووں اور خطوط میں شیعوں پر نکالتے رہے۔ 1790ء میں شاہ عبد العزیز نے شیعہ اعتقادات کے خلاف "تحفۃ اثنا عشریۃ" نامی کتاب لکھی۔ یہ کتاب ایک افغان سنی عالم خواجہ نصر الله کابلی کی کتاب " صواقع موبقہ''" کی فارسی میں شرح تھی۔اس کتاب کا پہلا نسخہ شاہ عبد العزیز نے تقیہ سے کام لیتے ہوئے "حافظ غلام حلیم "کے قلمی نام سے شائع کیا، کیوں کہ انھیں شیعہ امرا سے انتقامی کارروائی کا خوف تھا۔ البتہ اگر شیعہ صاحبان حل و عقد کو اگر سنی علما کے خلاف تعصب سے کام لینا ہوتا تو اودھ میں وہ سنی علمائے فرنگی محل کی سرپرستی نہ کر رہے ہوتے۔ اس کتاب کی اشاعت کے خلاف کوئی کارروائی نہ کیے جانے کے بعد اگلی چاپ میں انہوں نے اپنا اصلی نام بھی ظاہر کر دیا۔اس کتاب میں شاہ عبد العزیز نے درج ذیل بارہ ابواب قائم کیے:۔

  1. در کیفیت حدوث مذہب تشیع و انشعاب آن بہ فِرَق مختلف

2. در مکائد شیعہ و طرق اضلال و تلبیس

3. در ذکر أسلاف شیعہ و علما و کتب ایشان

4. در احوال اخبار شیعہ و ذکر روات آنہا

5. در الہیات

6. در نبوّت و ایمان انبیا(ع)

7. در امامت

8. در معاد و بیان مخالفت شیعہ با ثقلین

9. در مسائل فقہیہ کہ شیعہ در آن خلاف ثقلین عمل کرده است.

10. در مطاعن خلفاء ثلاثہ و عایشہ و دیگر صحابہ

11. در خواص مذہب شیعہ مشتمل بر 3 فصل (اوہام، تعصبات، ہفوات)

12. در تولاّ و تبرّی (مشتمل بر مقدّمات عشره)

جوابات[ترمیم]

تفصیلی مضمون کے لیے عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار ملاحظہ کریں۔

شیعہ علما نے موقف اختیار کیا کہ شاہ عبد العزیز نے شیعہ مسلک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے علم مناظرہ اور نقل حدیث کے آداب و رسوم کی خلاف ورزی کی ہے۔ اکثر شیعہ علما نے اس کتاب کے ہر باب کا الگ الگ کتاب کی صورت میں رد کیا۔ آیت الله سید دلدار علی نقوی ؒ نے شیعہ عقیدہ توحید ، نبوت ، امامت و آخرت کے خلاف لکھے گئے ابواب پنجم ،ششم، ہفتم و ہشتم  کے رد میں "الصَّوارمُ الإلهیّات فی قَطْع شُبَهات عابدی العُزّی و اللّات" ، "حِسامُ الاسلام و سَهامُ المَلام" خاتِمَةُ الصَّوارم" ،"ذو الفقار"اور "اِحْیاءُ السُّنّة و اماتَةُ الْبِدْعَة بِطَعْنِ الأسِنَّة"  لکھیں۔ علامہ سید محمد قلی موسوی ؒنے تحفہ اثنا عشریہ کے پہلے، دوسرے، ساتویں، دسویں اور گیارہویں ابواب کا الگ الگ جواب دیا اور ان کتب کا مجموعہ  "الأجناد الإثنا عشريۃ المحمديۃ" کے عنوان سے شائع ہوا۔ مولانا خیر الدین محمد الہ آبادی ؒ نے باب چہارم کے جواب میں "هدایة العزیز " لکھی۔ ان کے علاوہ بھی کئی علما نے  تحفہ اثنا عشریہ کے ابواب کے رد میں کتب تصنیف کیں جن میں شیعہ مکتب فکر کا موقف واضح کیا گیا- البتہ بعض علما نے اس کے تمام ابواب کے جواب میں ایک ہی کتاب لکھی جن میں سے  علامہ سید محمّد کمال دہلوی ؒنے" نزھۃ اثنا عشریۃ"[5] اور مرزا محمد ہادی رسواؒ نے اردو میں "تحفۃ السنۃ " لکھیں۔ نزھہ  اثنا عشریہکی اشاعت تو تحفہ اثنا عشریہ کی پہلی اشاعت کے تین سال بعد ہی ہو گئی تھی اور اس وجہ سے ریاست جھاجھڑ کے سنی راجا نے علامہ سید محمّد کامل دہلویؒ کو بطور طبیب علاج کروانے کے بہانے سے بلوایا اور دھوکے سے زہر پلا کر قتل کر دیا۔ ان جوابات کی اشاعت کے نتیجے میں شاہ عبد العزیز کے شاگرد سید قمر الدین حسینی، جن کے لیے انہوں نے" اجالہ نافعہ "کے عنوان سے علم حدیث کا ایک رسالہ لکھا تھا، نے شیعہ مسلک اختیار کر لیا[6]۔ تحفہ اثنا عشریہ کی رد میں لکھی گئی کتب میں سب سے زیادہ شہرت جس کتاب کو نصیب  ہوئی وہ  آیت اللہ میر سید حامد حسینؒ  اور ان کی اولاد کی لکھی گئی  بیس جلدوں پر مشتمل   کتاب  "عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار" ہے[7]  جو تحفہ اثنا عشریہ کے ساتویں باب کے رد میں لکھی گئی تھی، یہ کتاب آج تک شیعہ عقیدہ امامت پر لکھی گئی جامع ترین کتاب ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد رحیم بخش: حیات ولی، اشاعت افضل المطابع، دہلی، صفحہ 339۔
  2. ملفوظات شاہ عبد العزیز، صفحہ 54، میرٹھ، 1314 ہجری، 1896-1897.
  3. خیر الدین محمد الہ آبادی،عبرت نامہ، 30-88
  4. دہلوی،محمد بیگ ،مرزا،دیباچہ فتاویٰ عزیزیہ، مطبع مجتبائی دہلی1391ھ، ص4
  5. "نزھہ اثنا عشریہ"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. علامہ عبد الحئی بن فخر الدین،"نزهة الخواطر وبهجة المسامع والنواظر"، جلد 7، شمارہ 713، "الشیخ قمر الدین دہلوی"- دار ابن حزم، بیروت، لبنان، 1999.
  7. "عبقات الانوار"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔