تخیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہندو مذہب میں بھگوان کا درجہ رکھنے والے شری کرشن اور عیسی علیہ السلام کی ایک مصور کے تخیل پر مبنی تصویر

سب سے مقدم اور ضروری چیز جو کسی شاعر، مصنف یا کسی تخلیقی کام کے کرنے والے کو کو کسی دوسرے شخص سے الگ کر دیتی ہے وہ قوتِ متخیلہ یا تخیل (انگریزی: Imagination) ہے۔ یہ قوت جس قدر کسی میں اعلیٰ درجہ کی ہو گی، اسی قدر اس کی تخلیق اعلیٰ درجہ کی ہو گی اور جس قدر یہ ادنیٰ درجہ کی ہو گی اسی قدر اس کی نگارش ادنیٰ درجہ کی ہو گی۔ یہ وہ مَلَکہ ہے جس کو شاعر ماں کے پیٹ سے اپنے ساتھ لے کر نکلتا ہے اور جو اکتساب سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر شاعر کی ذات میں یہ ملکہ موجود ہے اور باقی شرطوں میں جو کہ کمال شاعری کے لیے ضروری ہیں کچھ کمی ہے تو اس کمی کا تدارک اس ملکہ سے کر سکتا ہے لیکن اگر یہ ملکہ فطری کسی میں موجود نہیں ہے تو اور ضروری شرطوں کا کتنا ہی بڑا مجموعہ اس کے قبضہ میں ہو وہ شاعر بننے میں مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو شاعر یا مصنف کو وقت اور زمانہ کی قید سے آزاد کرتی ہے اور ماضی اور مستقبل اس کے لیے زمانہ حال میں کھینچ لاتی ہے۔

ادبی سرگرمیوں کے علاوہ تخیل دیگر میدانوں میں بھی کافی ضروری ہے۔ مثلًا ایک مصور کو تصویر بنانے کے لیے یا پھر ایک معمار کو اپنی امکانی تعمیر کا نقشہ کھینچنے سے پہلے کسی سوچ کا وجود میں لانا۔

تخیل کی اقسام[ترمیم]

تخیل کی تعریف کرتے ہوئے کولرج نے اسے دو خاص حصوں میں تقسیم کیا ہے جو بنیادی (Primary Imagination)اور ثانوی (Secondary Imagination) تخیل سے موسوم ہے۔ بنیادی تخیل کو وہ تمام انسانی ادراک اور زندہ قوت کا محرک سمجھتا ہے۔ بنیادی تخیل حقیقت کا محض ادراک ہے، جبکہ ثانوی تخیل بنیادی تخیل کی توسیع ہے۔ دونوں کا عمل ایک ہے یعنی اشیا کا ادراک کرنا، لیکن طریقۂ عمل مختلف ہے۔ دونوں میں درجے اور دائرۂ عمل کا فرق ہے۔ ثانوی تخیل بنیادی تخیل کی صدائے بازگشت ہے۔ اس کی بنیاد تعمیرِ نو/رد تشکیل پر ہے، مگر اس کے عمل میں شعوری ارادے (Conscious Will) کو دخل ہوتا ہے۔ شعور فکر کی اعلیٰ ترین منزل ہے جو اشیا کی شناخت میں زمان و مکان سے آزاد اور فاعل و مفعول کا اتحاد ہے۔ اشیا کی شناخت حدود ہی میں ممکن ہے۔ تخیل ان حدود میں اتحاد پیدا کرتا ہے۔ ثانوی تخیل منطقی اور وۂائرہ جدانی شعور کی ملی جلی کیفیت میں آگے بڑھتا ہے۔ آگے چل کر بعض اوقات وہ راستہ بھٹک جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ خود کو دریافت کرتا ہے۔ خود کو دہرانے کا یہ عمل بیّن اور سادہ نہیں ہوتا۔ یہاں پیچیدگی در آتی ہے اور شعور کے ساتھ غیر شعوری عناصر بھی کام کرنے لگتے ہیں۔ کسی شے کی دریافت کا یہ تخیلی تجربہ (Imaginative Experience) ادبی تخلیق کو نئی شکل عطا کرتا ہے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]