ترایان وؤیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ترایان وؤیا
Traian Vuia aircraft.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 17 اگست 1872  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 3 ستمبر 1950 (78 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بخارسٹ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش تیمیش کاؤنٹی  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Romania.svg رومانیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ایئروناٹیکل انجینئر،  انجینئر،  موجد،  وکیل،  پائلٹ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان رومانیانی زبان[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت ابتدائی اڑنے والی مشین

ترایان وؤیا (رومانی تلفظ: [traˈjan ˈvuja]; 17 اگست 1872ء – 3 ستمبر3, 1950ء) رومانیا کا ایک موجد اور ہوابازی کا سرخیل (پہل کار)، جس نے پہلا ٹریکٹر یک سطحی طیارہ بنایا اور اس کا تجربہ کیا۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے ہموار راستے پر اڑنے والی مشین کو پہلے کچھ فاصلے تک پہیوں پر دوڑایا۔[3] 18 مارچ، 1906ء کو اس کی مدد سے وہ 11 میٹر (36 فٹ) تک کودا اور اس کے بعد ازاں اس نے اس سے 24 میٹر (79 فٹ) تک کودنے کا دعوی کیا۔[4][5] اگرچہ وہ تسلسلی پرواز میں ناکام رہا، لیکن وؤیا کی ایجاد کا لوئی بلیریٹ کے یک سطحی طیارے کے نمونے پر اثر پڑا۔[6] بعد ازاں، وؤیا نے بھی ہیلی کاپٹروں کے نمونے بنائے۔

تعلیم و ابتدائی دور[ترمیم]

ترایان رومانی والدین سموں پوپسکو اور آنا وؤیا کے ہاں آسٹرو ہنگری سلطنت کے خطے بنات کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا، یہ علاقہ اب رومانیا میں شامل ہے۔ یہ مقام اب ترایان وؤیا کہلاتا ہے۔ ترایان نے لگوج، بنات کے ہائی اسکول 1892ء میں ترایان نے بوڈاپسٹ کی پولی ٹیکنیک یونیورسٹی میں میکانکس کے اسکول میں داخلہ لیا جہاں سے اس نے انجنئیرنگ کا ڈپلوما حاصل کیا۔ اس کے بعد اس نے بڈاپیسٹ، ہنگری کی قانون فیکلٹی میں شمولیت اختیار کی، وہاں سے اس نے 1903ء میں قانون میں پی ایچ ڈی کی سند لی، اس کا سندی مقالہ فوج اور صنعت، معائدے اور حکومت کا نظام کے موضوع پر تھا۔[7]

اس کے بعد یہ واپس آیا اور اس نے انسانی پرواز کے مسائل کا مطالعہ کیا اور اپنی پہلی اڑنے والی مشین بنام ایئر پلین کار تیار کی۔ اس نے اس نے اڑنے والی مشین بنانے کی کوش کی، لیکن مالی دشواریوں کی وجہ سے جولائی 1902ء میں پیرس جانے کا فیصلہ کیا اس امید سے کیا کہ کسی کو اس کے منصوبے سے دلچسپی ہوئی تو اس کی مالی معاونت کرے گا۔ اس نے کئی لوگوں سے بات کی، لیکن لوگوں کو اس بات کا یقین نہیں آیا کہ ہوا سے بھاری مشین پرواز کر سکتی ہے۔[8]

نگارخانہ[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ربط : https://d-nb.info/gnd/124201717  — اخذ شدہ بتاریخ: 1 جنوری 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 2 مئی 2020 — ناشر: Bibliographic Agency for Higher Education
  3. Chanute، Octave (اکتوبر 1907). "Pending European Experiments in Flying". The American aeronaut and aerostatist 1 (1): 13. doi:ڈی او ئي. http://babel.hathitrust.org/cgi/pt?id=hvd.hx3qbs;view=image;seq=19;page=root;size=100;orient=0. 
  4. Mola، Roger A (اگست 2009)، "The Birthplaces of Aviation. It didn't all happen at Kitty Hawk"، Air & Space Magazine  Check date values in: |date= (معاونت)
  5. Angelucci,E. and Matricardi, P.; "World Aircraft: Origins–World War 1"، Sampson Low (1977)۔
  6. Gibbs-Smith، Charles Harvard (1965). The world's first aeroplane flights (1903–1908) and earlier attempts to fly. Her Majesty's Stationery Office. صفحہ 31. 
  7. "Traia Vuia History"، Early Aviators، اخذ شدہ بتاریخ اکتوبر 14, 2010  Check date values in: |access-date= (معاونت)۔
  8. "Traian Vuia". Hargrave: The Pioneers. Centre for Telecommunications and Information Engineering, Monash University. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ جون 29, 2010. 

کتابیات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]