ترقی پسند تنقید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ترقی پسند تحریک کی تنقید شروع میں اتنہا پسندی کا رجحان زیادہ تھا۔ اس انتہا پسندی کے جوش میں انھوں نے میرتقی میر سے لے کر غالب تک بعض اچھے شعراءکو صرف اس جرم کی پاداش میں یکسر قلم زد کر دیا کہ انہوں نے طبقاتی کشمکش میں کسی طرح کا کردار ادا نہیں کیا۔ اکبر الہ آ بادی، حالی، سرسید، اقبال وغیرہ ان کے لیے ناقابلِ قبول قرار پائے۔ لیکن اس ابتدائی جارحیت کے بعد مجنوں گورکھپوری، احتشام حسین، عزیز احمد اور دیگر سلجھے ہوئے ناقدین نے اشتراکیت کے بارے میں اعتدال پسندی سے کام لیتے ہوئے عصری ادب میں نئی جہات دریافت کیں۔ یہی نہیں بلکہ ماضی کے شعراءپر نئے زاوے ے سے روشنی ڈال کر ان کی عظمت میں اضافہ کیا۔

انھوں نے پہلی مرتبہ مارکسی تنقید کی ابتداءکی۔ اس سلسلے میں جدلیاتی، مادیت، طبقاتی کشمکش اور انقلاب کو سامنے رکھ کر ادب کے مسائل پر غور کیا گیا۔ ذیل میں ہم فرداً فرداً ان نقادوں کی تنقید کا جائزہ لیں گے۔

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری[ترمیم]

ترقی پسند تنقید میں پہلا اور اہم نام ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کا ہے۔ مقالہ ”ادب اور زندگی “ جو اختر حسین رائے پوری نے 1935ءمیں لکھا اُسے مارکسی تنقید کا نقطہ آغاز قرار دیا گیا۔ اختر حسین رائے پوری کا خیال ہے کہ ادب اور انسانیت کے مقاصد ایک ہیں۔ ادب زندگی کا ایک شعبہ ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ مادی سرزمین میں جذبات ِ انسانی کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے روح القدس بننے اور عرش پر جا کر بیٹھنے کا دعویٰ کرے۔ ادب کا مقصد یہ ہونا چاہے ے کہ وہ ان جذبات کی ترجمانی کرے جو دنیا کو ترقی کی راہ دکھائیں اور ان جذبات پر نفرین کرے جو دنیا کو آگے بڑھنے نہیں دیتے۔ وہ لکھتے ہیں: ” ادب کا فرضِ اولین یہ ہے کہ دنیا سے، قوم، وطن، رنگ، نسل اور طبقہ مذہب کی تفریق کو متانے کی تلقین کرے اور اس جماعت کا ترجمان ہو جو نصب العین کو پیش نظر رکھ کر عملی اقدام کر رہی ہے۔“

وہ مارکسی تنقید کے اولین نقاد ہیں اور بہت کم لکھنے کے باوجود ان کی تاریخی حیثیت برقرار ہے۔

سید سجاد ظہیر[ترمیم]

سجاد ظہیر ترقی پسند تنقید ی تحریک کے بانیوں میں سے ہیں۔ انہوں نے ترقی پسند تحریک کو نظریاتی اساس مہیا کی اور پھر عمدہ وکالت سے اس تحریک کی سب سے نمایاں خدمات انجام دیں۔ تنقید کے موضوع پر انہوں نے باقاعدہ کوئی کتاب تو نہیں لکھی۔ لیکن ان کی کتاب ”روشنائی “ ترقی پسند تحریک کی تاریخ بھی ہے اور کسی حد تک تنقید بھی ہے۔ سجاد ظہیر اردو کے پہلے نقاد ہیں جن کے مضامین مارکسی تنقید کے آئینہ دار ہیں۔ سجاد ظہیر نے صرف چند مضامین لکھے ہیں، بقول عبادت بریلوی ان مضامین میں ایسی گہرائی ہے جس نے تنقیدی اعتبار سے ان کو بہت اہم بنا دیاہے۔

ڈاکٹر عبد الحلیم[ترمیم]

ڈاکٹر عبدالحلیم کا بھی وہی حال ہے جو سجاد ظہیر کا۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی سجاد ظہیر کی طرح صرف چند تنقیدی مضامین لکھے ہیں۔ اور ان مضامین میں مارکسی تنقید کا نظریہ پوری طرح پیش کیاہے۔ اس سلسلے میں ان کے مضامین ”ادبی تنقید کے بنیادی اصول“ اور ”اردو ادب کے رجحانات“ قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ مارکسی تنقید کی عملی شکل کے نمونے ان کے مضامین ” اردو ادب کے رجحانات “ اور ”ترقی پسند ادب کے بارے میں چند غلطیاں “ میں ملتے ہیں۔

مجنوں گورکھپوری[ترمیم]

مجنوں گورکھپوری کی تنقید نے رومانیت سے مارکسیت کی طرف آہستگی سے سفر کیا، کیونکہ ابتدا میں ان کے یہاں ایک عرصے تک تاثراتی تنقید کا انداز غالب رہا۔ مجنوں کی ابتدائی تنقید تحریریں جو ”تنقید حاشیے “ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہیں، تاثراتی تنقید کا انداز نمایاں ہے۔

بعد میں ان میں مارکسی تنقید کے اثرات غالب نظر آتے ہیں اور یہ ترقی پسند تحریک کا اثر ہے۔ چنانچہ ان کے دوسرے مجموعہ مضامین ” ادب اور زندگی “، ”مبادیاتِ تنقید “، "زندگی اور ادب کا بحرانی دور“ اور ”ادب اور ترقی “ میں انہوں نے اپنے قائم کردہ تنقید نظریات کی روشنی میں عملی تنقید کی ہے۔ وہ بھی دوسر ے ترقی پسند نقادوں کی طرح ادب کو زندگی کی کشمکش کا رجحان سمجھتے ہیں۔ لیکن مارکسی ہونے کے باوجود اُن کے ہاں ایک توازن کی کیفیت ملتی ہے اور اتنہا پسندی اُن کے ہاں پیدا نہیں ہوتی۔

سید احتشام حسین[ترمیم]

مارکسی نقادوں میں سید احتشام حسین سب سے موقر، معتبر اور معتدل نقاد تھے۔ انہوں نے نہ صرف مارکسی تنقید کو اساس بنایا بلکہ اسے زندگی کے طرز عمل کے طور پر قبول بھی کیا۔ تنقید ان کا خاص میدان ہے۔ اور ان کی تمام تر توجہ اسی فن کی طرف رہی ہے۔ سید احتشام حسین کے تنقید مضامین کے جو مجموعے شائع ہو چکے ہیں ان میں ”تنقید ی جائزے“ ”روایت اور بغاوت“ ”ادب اور سماج“ ” تنقید اور عملی تنقید “ ”ذوق، ادب اور شعور “ ”افکار و مسائل “ اور ”عکس اور آئینے “ شامل ہیں۔

اُن کے ان مضامین پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہو ں نے نہایت متنوع اور مختلف موضوعات پر قلم اُٹھایا ہے۔ انہوں نے تنقیدی نظریات و اصول کے علاوہ شاعری، ناول، افسانہ اور سوانح کی صنف پر توجہ دی اور کئی شعرا و ادبا پر مضامین لکھے جن میں پرانے لکھنے والے بھی شامل ہیں اور نئے لکھنے والے بھی۔ ان مختلف النوع مضامین سے ان کے مطالعے کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ممتاز حسین[ترمیم]

ممتاز حسین بھی مارکسی رجحان کے علمبردار ہیں۔ اگرچہ دوسرے مارکسی نقادوں میں چھوٹے ہیں تاہم ممتاز حسین نے بھی بہت کچھ لکھا اور ان کے مضامین کے تین مجموعے ”نقد حیات، نئی قدریں اور ادبی مشاغل “ شائع ہو چکے ہیں۔ ممتاز حسین کے بھی بعض مضامین میں اصولوں کی بحث ہے جبکہ کچھ علمی تنقید کے متعلق ہے۔ ان کے مضامین تنقید کا مارکسی نظریہ، بدلتی نفسیات، انفعالی رومانیت، آرٹ اور حقیقت اور نیا ادبی فن، وغیرہ میں اصولی اور نظریاتی بحثیں ہیں جبکہ ‘”نئی غزل کا موجد ۔۔ حالی “ ”اردو شاعری کا مزاج اور غالب“ ”سرسید کا تاریخی کارنامہ “ اقبال اور تصوف وغیرہ تنقید ی تجزئے ے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ممتاز حسین نے تنقید کے مارکسی نظرے ے کو بڑی خوبی سے پیش کیا ہے، ان کے ذہن میں اصول اور نظریات بہت واضح ہیں اور ان کے نقطہ نظر میں بڑی استواری ہے، لیکن ان کو پیش کرتے ہوئے وہ ایسی انتہا پسندی سے کام لیتے ہیں کہ ان کی تنقید میں ایک الجھائو پیدا ہو جاتا ہے اور ان کی تنقید ی باتوں کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔

ظہیر کاشمیر ی[ترمیم]

ترقی پسند نقادوں میں ایک نام ظہیر کاشمیری کا ہے۔ ظہیر کاشمیری نے ادب کو سماج کے طبقاتی نظام کے حوالے سے پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے دو اہم مضامین ”لینن اور لٹریچر “ اور ”مارکس کا نظریہ ادب “ نہ صرف ان کی نظریاتی اساس کو واضح کرتے ہیں بلکہ انہوں نے اس سانچے میں اردو شاعر ی اور نثر کے بیشتر سرمائے کو پرکھنے کی کوشش بھی کی۔ ظہیر کاشمیری کا تعلق چونکہ ٹریڈ یونین کے ساتھ رہا ہے اس لیے ان کے تنقید ی لہجے میں خطابت کا عنصر نمایاں ہے اور فیصلے میں تیقن اور قطعیت زیادہ ہے۔

ڈاکٹر عبادت بریلوی[ترمیم]

ڈاکٹر عبادت بریلوی شروع شروع میں مارکسی نظریہ تنقید سے متاثر تھے، لیکن ان کی مارکسیت جلد ہی ختم ہو گئی، اگرچہ ادب اور زندگی کے مابین گہرے تعلق کے وہ اب بھی قائل ہیں۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی نے ترقی پسند تنقید میں حقیقت نگاری کو ملحوظ نظررکھا اور مارکسزم کو اپنا عقیدہ بنائے بغیر اس سے ادب پارے کی تنقید اور تفسیر میں معاونت کی۔ تنقید میں ڈاکٹر عبادت بریلوی کا طریق عمل سائنسی، انداز منطقی اور اسلوب جمالیاتی ہے۔ عبادت بریلوی قاری پر یورش کرنے کی بجائے اسے ادب پارے کی افادیت اور داخلی حسن کی طرف متوجہ کراتے ہیں۔ عبادت بریلوی نے محدود موضوعات پر کام کرنے کی بجائے تنقید کو وسعت عطاکی اور اردو شاعری میں ہیئت کے تجربے، اردو شاعری کی جدید رجحانات، ادب کا افادی پہلو، جدید اردو شاعری میں عریانی، اردو افسانہ نگاری پر ایک نظر، وغیرہ مضامین میں سیر حاصل جائزے مرتب کیے۔ بلاشبہ ترقی پسند ادب کو جو قبول عام حاصل ہوا اس میں ڈاکٹر عبادت بریلوی کی عملی تنقید نے اہم کردار اداکیا۔

سید وقار عظیم[ترمیم]

سید وقار عظیم کی تنقید سماجی اور عمرانی تجزے ے پر استوار ہوئی۔ انہوں نے مارکسی نظریات کی بلاواسطہ تائید نہیں کی اور وہ ادب کی اعلیٰ قدروں کی صداقت کو بنیادی قدروں سے الگ شمار نہیں کرتے۔ تاہم انہوں نے ادب کی مقصدیت کو قبول کیا۔ وقار صاحب کی اہمیت اردو افسانوی ادب کے نقاد کی حیثیت سے عام طور پر مسلمہ ہے۔ انہوں نے افسانہ، ناول، داستان اور ڈراما کے فن سے متعلق اصولی اور نظریاتی مباحث پر بھی بہت کچھ لکھا اور ان اصناف کے مصنفین پر بھی توجہ دی۔ وقار صاحب کے تنقیدی اسلوب میں بڑی نرمی، دھیما پن اور توازن ہے، ساتھ ہی پختگی اور دل نشینی بھی ہے جو چونکا دینے والی بات کہنے کے شائق نہیں اور نہ ہی ان کی تنقید میں کوئی تیکھا پن یا شوخی ملتی ہے۔ سادگی، سلاست، آہستہ روی اور ذرا سی رنگینی ان کے انداز کی خصوصیات ہیں۔

ترقی پسند تحریک کے دیگر نقادوں میں ڈاکٹر محمد حسن،عابد منٹو، عزیزالحق، افتخار جالب، محمد علی صدیقی اور سعادت سعید قابلِ ذکر ہیں۔ ان نقادوں نے ترقی پسند تحریک کی یک طرفہ قصیدہ خوانی کرنے کی بجائے اس تحریک کے عیوب کا بھی تذکرہ کیااور ترقی پسند ادباءکی سطحیت پر کھلی تنقید بھی کی۔