ترقی پسند شاعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فیض احمد فیض[ترمیم]

فیض احمد فیض ترقی پسند تحریک کے سب سے بڑے مقبول اور ممتاز شاعر تھے۔ انہوں نے اپنے اندر رومانی آواز کوزندہ رکھا۔ چنانچہ ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ عاشقی فیض کی عبادت ہے اور ترقی پسندی ان کا فرض ہے۔ جب فرض غالب آجاتا ہے تو ان کے سامنے ایک دیوار کھڑی ہو جاتی ہے، لیکن فیض جب عشق کی عبادت کرتے ہیں تو اس میں دونوں جہاں ہار کے بھی مطمئن نہیں ہوتے۔ فیض کی اکثر نظموں میں آفاقیت پائی جاتی ہے۔ وہ صرف اپنے گردو پیش یا اپنے ملک ہی بدحالی پر نوحہ کناں نہیں بلکہ انہیں پوری دنیا کے مظلوموں سے گہری ہمدردی ہے۔ آجائو افریقہ، ایرانی طلبہ کے نام اور آخری رات جیسی نظمیں ان کی شعری آفاقیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

دراصل وہ رومانیت اور حقیقت کے سنگم پر کھڑے ہیں۔ اور یہی ان کی عظمت کا راز ہے۔ اُن کے ہاں وطن کی محبت ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اُن کی نظم ”صبح آزادی اور نثار میں تیری گلیوں کے اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کے جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے

علی سردار جعفری[ترمیم]

علی سردار جعفری مارکسی فلسفے کے دلدادہ ہیں اور ان کی شاعری اسی نظریے کے گرد گھومتی ہے۔ وہ انقلاب کی باتیں نہایت جوش و خروش سے کرتے ہیں۔ وہ ادیب کو انقلابی سپاہی بننے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ اس نظریے کے قائل ہیں حق مانگے سے نہیں ملتا بلکہ چھین کر لیا جاتا ہے۔ سامراجی لڑائی، انقلاب روس، جشن بغاوت، سیلاب چین ان کی باغیانہ سوچ میں لپٹی ہوئی نظمیں ہیں۔ ان کے ہاں سرمایہ دار اور تاجر کے مقابلہ میں مزدور اور کسان کو وقعت حاصل ہے۔ ان کا خیا ل ہے کہ انقلاب قلم سے نہیں بلکہ بندوق سے لایا جاسکتا ہے۔

میرے ہاتھ سے میرا قلم چھین لو
اور مجھے ایک بندوق دے دو

جاں نثار اختر[ترمیم]

جاں نثا ر اختر کی شاعری میں رومانیت بھی ہے اور ترقی پسندی بھی ہے۔ ان کی محبوبہ ان کا ترقی پسند نظریہ ہے، جو کبھی آزادی وطن کے گرد اور کبھی اشتراکیت کے گر د گھومتا ہے۔ امن نامہ، مراجعت ،خاموش آواز اور کوسا گیت سنو گی انجم، ان کی مشہور نظمیں ہیں جن کے پس منظر میں اشتراکی نظریہ کار فرما ہے۔ ان کی غزلوں میں تلخی کی بجائے شیرینی اور دھیما پن موجو دہے۔

ساحر لدھیانوی[ترمیم]

ساحر لدھیانوی نے نثا خوان تقدیس مشرق، چکلے، تاج محل اور مادام جیسی نظمیں لکھ کر ترقی پسندوں میں اپنی ساکھ قائم کی۔ انہوں نے سماجی برائیوں کی نشان دہی کی اور شاعر ی کو نظریاتی تبلیغ کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے سماج کے پسماندہ افلاس زدہ طبقے کی نمائندگی کی۔ ان کا انقلابی رنگ نظموں ہی میں نہیں بلکہ گیتوں میں بھی جھلکتا ہے۔ یہ محلو ں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

مخدوم محی الدین[ترمیم]

مخدوم محی الدین کی شاعری میں وفور عش، نظری محبوبہ، نعرہ انقلاب اور جذبہ بغاوت کی فراوانی ہے۔ وہ فیض کی شاعری سے متاثر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مفلس لوگ محنت کرکے پیسے والے لوگوں کو سرمایہ دار بناتے ہیں اور سرمایہ دار انہیں جو کچھ دیتے ہیں اجرت سمجھ کر نہیں بلکہ بھیک سمجھ کر دیتے ہیں۔

بھیک کے نور میں مانگے کے اجالے میں مگن
یہی ملبوس عروسی ہے، یہی ان کا کفن

اسرار الحق مجاز[ترمیم]

اسرار الحق مجاز نے اپنی غزل میں بھی انقلابی اور ترقی پسند انہ نظریہ کی اشاعت اور نظم میں بھی۔ ان کی شاعری میں داخلیت بھی ہے اور خارجیت بھی، رومانیت بھی اور ترقی پسندیت بھی۔ ان کی ترقی پسند انہ نظموں میں انقلاب، آوارہ، مجھے جانا ہے اک روز، سرمایہ دار ی قابل ذکر ہیں۔ مجاز انقلاب کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ فی لفور بپا ہو جائے۔

تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
جو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر

ظہیر کاشمیری[ترمیم]

ترقی پسندوں میں ظہیر کاشمیری ایک پرجوش انقلابی ہیں۔ ان کے شعری لہجہ میں جوش و خروش، گھن گرج اور نعرہ بازی کا سا چلن ہے۔ ان کی سوچ میں یاسیت نہیں بلکہ رجائیت کا غلبہ ہے۔ وہ خود ترقی پسندوں کو چراغ آخر شب قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

ہمیں ہے علم کہ ہم ہیں چراغ آخر شب
ہمارے بعد اندھیر نہیں اجالا ہے

احمد ندیم قاسمی[ترمیم]

احمد ندیم قاسمی نہایت محتاط رویہ کے ترقی پسند ادیب اور شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں توازن اور اعتدال کی کیفیت ملتی ہے۔ ان کی شاعری میں رومانیت بھی پائی جاتی ہے۔ اور ترقی پسندی بھی۔ بقول وزیر آغا انہوں نے خود کو ہر زمانے کی تازہ کروٹوں سے اخذو اکتساب کی طرف مائل کیا۔ اور یہ پہلو انہیں دوسرے ترقی پسند شعراءسے ممتاز کرتا ہے۔

جہاں پھولوں کی خوشبو بک رہی ہو
مجھے ایسے چمن سے دور لے جاؤ
جہاں انساں کو سجدہ روا ہے
مجھے ایسے وطن سے دور لے جاؤ

اس کے علاوہ جگر مراد آبادی، جوش ملیح آبادی، کیفی اعظمی، محمد صفدر میر، قمر رئیس، قتیل شفائی وغیرہ جیسے شاعروں کی ایک طویل فہرست ہے جو ترقی پسند نظریات سے متاثر ہو کر شاعری کرتے رہے۔