ترکہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ترکہ: وہ مال وجائداد جو مرنے والا دوسرے کے حق سے خالی چھوڑکرمرجائے۔[1] میت کے ترکہ (یعنی اس کے چھوڑے ہوئے مال واسباب) کے ساتھ چار حق متعلق ہوتے ہیں جس کی ترتیب یہ ہے کہ

  1. پہلے تو میت کی تجہیز و تکفین کی جائے یعنی اسے غسل دیا جائے پھر کفن دیا جائے اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھوا کر قبرستان لے جایا جائے اور پھر قبر میں دفن کیا جائے ان چیزوں میں جو کچھ خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہ اس کے ترکہ میں سے اس طرح خرچ کیا جائے کہ نہ تو تنگی کی جائے اور نہ اسراف کیا جائے۔
  2. اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کوئی قرض و مطالبہ ہو تو اس کی ادائیگی کی جائے۔ پھر قرض و مطالبہ کی ادائیگی کے بعد
  3. جو مال واسباب بچے اس میں سے تہائی حصہ میں وصیت جاری کی جائے بشرطیکہ اس نے وصیت کی ہو ان تین مرحلوں کے بعد
  4. اس کا بقیہ تمام مال واسباب اس کے وارثوں کے درمیان تقسیم کیا جائے [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الموسوعۃ الفقہیۃ،ج11،ص206
  2. مشکوۃ شریف:جلد سوم:حدیث نمبر 260