ترکی چین تعلقات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چین ترکی تعلقات
نقشہ مقام People's Republic of China اور Turkey

چین

ترکی

چین ترکی تعلقات (انگریزی: Chinese–Turkish relations) دو ممالک یعنی چین اور ترکی کے مابین قائم ہونے والے سفارتی و خارجہ تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1934ء میں قائم ہوئے جبکہ ترکی نے عوامی جمہوریہ چین کو 5 اگست 1971ء کو باقاعدہ طور پر ایک آزاد جمہوری ملک کی حیثیت سے تسلیم کر لیا۔ ترکی نے ایک چین حکمت عملی کو اختیار کرتے ہوئے چین کو تسلیم کیا تھا اور بعد ازاں چین میں اپنا سفیر بھیج کر سفارتی تعلقات قائم کیے۔ ترکی میں چینی سفارت خانے کا قیام عمل میں آیا اور ترکی کے دو سفارت کار چین (ایک شنگھائی میں اور دوسرا ہانگ کانگ میں) میں تعینات کیے گئے۔[1][2]

تاریخ[ترمیم]

سولہویں صدی میں چین میں عثمانی سیاحوں کی آمد کا پتا چلتا ہے۔ سلطنت منگ کے دور میں یہ چینی سیاحوں کی سلطنت عثمانیہ کے مقبوضات میں ہونے کا ثبوت بھی ملتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت کا کاروبار سیاحوں کی آمدورفت سے جاری ہوا تھا۔ سلطنت منگ کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ دربار منگ میں عثمانی سیاح بطور سفیر کے آتے رہے ہیں۔ تقریباً 1524ء میں ایسا ہی ایک عثمانی سیاح بطور سفیر کے بیجنگ میں دربار منگ میں حاضر ہوا تھا۔ دوسری چین جاپان جنگ میں چینی مسلمان کا ایک وفد استنبول میں خلیفہ کے دربار میں حاضر ہوا تھا۔جس کا مقصد چین کو عسکری مدد فراہم کرنا تھی تاکہ وہ جاپان کے خلاف محاذِ جنگ میں ڈٹا رہے۔

کوریائی جنگ[ترمیم]

1950ء میں اقوام متحدہ نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل، قراردار 83 منظور کی جس کے مطابق کوریا میں عسکری طاقت پہنچانے کا عزم کیا گیا تھا۔ یہ عزم کوریا کی جنگ میں چین کےساتھ تھا۔[3]

چینی وزیر اعظم کا دورۂ ترکی[ترمیم]

28 نومبر 2008ء کو چینی وزیر اعظم جیا چینگ لین نے ترکی کا دورہ کیا جس کا مقصد چین کی جانب سے ترک عوام سے خیرسگالی کا پیغام دینا تھا۔جیا چینگ لین نے استنبول میں ترک صدر عبداللہ گل سے اور ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان سے ملاقات کی اور ترک چین اقتصادی و سماجی مفادات فورم کی بنیاد رکھی۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Turkey eyes stronger regional, global role with closer China ties - Global Times"۔ www.globaltimes.cn۔
  2. "Xi congratulates Erdogan on re-election as Turkish president - Xinhua | English.news.cn"۔ www.xinhuanet.com۔
  3. LEI، Wan (February 2010). "The Chinese Islamic "Goodwill Mission to the Middle East" During the Anti-Japanese War". DÎVÂN DİSİPLİNLERARASI ÇALIŞMALAR DERGİSİ cilt 15 (sayı 29): 156, 157, 158. https://www.academia.edu/4427135/The_Chinese_Islamic_Goodwill_Mission_to_the_Middle_East_-_Japonyaya_Karsi_Savasta_Cinli_Muslumanlarin_Orta_Dogu_iyi_Niyet_Heyeti_-_Wan_LEI۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 June 2014. 
  4. "Top Chinese Advisor in Istanbul to Attend Business Forum"۔ Cihan News Agency۔ 28 نومبر 2009۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2009۔