ترکی کا نام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ترکی انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ ترکی اب ایک ملک کا نام ہے۔ تاریخی طور پر یہ لفظ قدیم فرانسیسی اور وسطی لاطینی سے ماخوذ ہے۔ اس کا پہلا استعمال درمیانی انگریزی میں ملتا ہے، پہلے Turkye، پھر Turkie اور اب Turky بنا۔ چاسر میں ایسے ہی مذکور ہے۔ [1][2] اپنے دور کی سسلطنت عثمانیہ کو ترکی یا سلطنت ترکی کہا جاتا تھا۔

اشتقاق[ترمیم]

انگریزی میں لفظ ترکی (درمیانی لاطینی) کا معنی ہےترکوں کی سرزمین۔ درمیانہ انگریزی میں ترکی چاسر کی کتاب [ دی بک آف ڈچز]] ((c. 1369))سے متعلق ہے ۔ اصطلاح ترکوں کی سرزمین کا استعمال 15ویں صدی عیسوی میں ڈگبی مسٹریز میں ملتا ہے۔ بعد کے زمانے میں 16ویں صدی کے ڈونبار شاعری اور فرانسس بیکن کے یہاں ملتا ہے۔ لفظ ترکی کا موجودہ انگریزی ہجے "Turkey" 1719ء سے استعمال میں ہے۔ [3] ترکی زبان کا لفظ ترکی یا Türkiye 1923ء میں اپنایا گیا۔ ایسا یورپ سے متاثر ہو کر کیا گیا تھا۔ [4]

سرکاری نام[ترمیم]

29 اکتوبر 1923ء کو جب ترکی نے اپنی جمہوریت کا اعلان کیا اسی موقع پر ریاست کا نام ترکی زبان میں Türkiye Cumhuriyeti رکھا گیا جس کے انگریزی معنی Republic of Turkey اور اردو میں جمہوریہ ترکی کہا جاتا ہے۔

ترکی مصادر[ترمیم]

لفظ Türk یا Türük کا ترکی زبان کے پہلے ماخذ میں وسط ایشیا کے قدیم ترک مخطوطات میں تقریباً 735 ء میں ملتا ہے۔ [5] لفظ ترک کا استعمال قومیت کے لیے پہلی بار چھٹی صدی میںگوکترک نے کیا۔ 585ء میں ایشبارا خاقان نے سوئی وین تی کو ایک خط لکھا جس میں خود کو انہوں نے ‘‘عظیم ترک خان‘‘ کہ کر متعارف کروایا ہے۔ [6][بہتر ماخذ درکار]

چینی مصادر[ترمیم]

لفظ ترک کے ابتدائی چینی مصادر میں "تائی لی"(鐵勒) یا "تو جوئی"(突厥) آتا ہے۔ یہ نام چینی لوگ نے ان لوگوں کو دیا تھا جو وسط ایشیا کے کوہ الطا میں رہتے تھے۔ یہ قریباً 177 قبل عیسوی کا واقعہ ہے۔ [1]

لاطینی اور یونانی مصادر[ترمیم]

یونانی زبان کا لفظ Tourkia لا استعمال بازنطینی سلطنت کے فہرست قیصر بازنطینی روم قسطنطائن ہفتم نے اپنی کتاب دی اڈمنسٹرانڈو یمپیریو میں کیا ہے۔ [7][8] حالانکہ انہوں نے لکھا ہے کہ ‘‘ترک سے ہمیشہ مغیار مراد لیے جاتے ہیں‘‘۔ [9] ایسے ہی وسط خذر، بحیرہ اسود اور بحیرہ قزوین کے کنارے ایک ترک ریاست تھی، اس کو بازنطینی مصادر میں Tourkia ( تورکیا) کہا جاتا تھا۔ [10] حالانکہ بعد میں بازنطینیوں نے اس اصطلاح کا استعمال سلجوقی سلطنت کے لیے کیا۔ 1071ء میں جنگ ملازکرد کے بعد کی صدیوں میں سلاجقہ روم کے زیر حکمرانی سلجوقی سلطنت کو ترک کہا جانے لگا تھا۔ عہد وسطی کے یونانی اور لاطینی میں لفظ ترک کا استعمال موجودہ دور کے ترکی کے جغرافیائی علاقہ کے لیے نہیں کیا جاتا تھا۔ اس کی بجائے اس علاقہ کے لیے لطٍ Tartary استعمال کرتے تھے اور اس سے خذر اور وسط ایشیا کی دیگر خانائیت مراد لیتے تھے یہاں تک کہ 14ویں صدی میں سلجوق خاندان اور سلطنت عثمانیہ کا عروج ہوا جب ترک نے اپنا دائرہ کار بڑھایا اور دنیا میں پہچانے گئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Harper, Douglas۔ "Turk"۔ Online Etymology Dictionary۔ اخذ شدہ بتاریخ 2006-12-07۔
  2. American Heritage Dictionary۔ "The American Heritage Dictionary of the English Language: Fourth Edition – "Turk""۔ bartleby.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2006-12-07۔
  3. سانچہ:Cite OED
  4. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ arlen نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  5. Scharlipp, Wolfgang (2000)۔ An Introduction to the Old Turkish Runic Inscriptions۔ Verlag auf dem Ruffel.، Engelschoff. ISBN 3-933847-00-1، 9783933847003.
  6. 卷099 列傳第八十七突厥鐵勒- 新亞研究所- 典籍資料庫 نسخہ محفوظہ 2014-02-21 در وے بیک مشین
  7. Romilly James Heald Jenkins۔ De Administrando Imperio by Constantine VII Porphyrogenitus۔ Corpus fontium historiae Byzantinae۔ Washington, D.C.: Dumbarton Oaks Center for Byzantine Studies۔ صفحہ 65۔ آئی ایس بی این 0-88402-021-5۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اگست 2013۔ According to Constantine Porphyrogenitus, writing in his De Administrando Imperio (ca. 950 AD) "Patzinakia, the Pecheneg realm، stretches west as far as the Siret River (or even the Eastern Carpathian Mountains)، and is four days distant from Tourkia (i.e. Hungary)۔"
  8. Günter Prinzing؛ Maciej Salamon۔ Byzanz und Ostmitteleuropa 950-1453: Beiträge zu einer table-ronde des XIX. International Congress of Byzantine Studies, Copenhagen 1996۔ Otto Harrassowitz Verlag۔ صفحہ 46۔ آئی ایس بی این 978-3-447-04146-1۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 فروری 2013۔
  9. Henry Hoyle Howorth۔ History of the Mongols from the 9th to the 19th Century: The So-called Tartars of Russia and Central Asia۔ Cosimo, Inc.۔ صفحہ 3۔ آئی ایس بی این 978-1-60520-134-4۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 جون 2013۔
  10. Özhan Öztürk۔ "Pontus: Antik Çağ'dan Günümüze Karadeniz'in Etnik ve Siyasi Tarihi"۔ Ankara: Genesis Yayınları۔ صفحہ 364۔ مورخہ 2012-09-15 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ ۔.۔ Greek term Tourkoi first used for the Khazars in 568 AD. In addition in "De Administrando Imperio" Hungarians call Tourkoi too once known as Sabiroi ۔.۔