تغلق تیمور خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تغلق تیمور خان (1312/13-1363) Tughlugh Timur چغتائی خانت کا منگول بادشاہ تھا۔ اپنے دوسرے کارناموں سے زیادہ اسلام قبول کرنے سے مشہور۔ [1] [2]

تغلق تیمور کا قبول اسلام[ترمیم]

واقعہ یہ ہے کہ شیخ جمال الدین ایرانی کہیں جا رہے تھے۔اتفاق سے ان ہی دنوں ایک تا تاری شہزادہ تغلق تیمور شکار کےلئے نکلا ہوا تھا۔ یہ شہزاد تاتاریوں کی چغتائی شاخ کا ولی عہد تھا‘ جو ایران پر حکومت کر رہی تھی۔ شیخ جمال الدین ایرانی چلتے ہوئے اس علاقے میں پہنچ گئے جہاں شہزادہ شکار کھیل رہا تھا۔ شہزادے کے سپاہیوں نے شکار گاہ میں ایک ایرانی کی موجودگی کو برا فال سمجھا اور ان کو پکڑ لیا۔ اس کے بعد وہ انہیں شہزادے کے پاس لئے گئے۔ شہزادہ انہیں دیکھ کر سخت برہم ہوا‘ غصے کی حالت میں اس کی زبان سے نکلا ” تم سے تو ایک کتا اچھا ہے“ شیخ جمال الدین ‘تاتاری کے اس نفرت انگیز سوال کو سن کر سنجیدہ انداز میں بولے ” اگر ہمیں سچا دین نہ ملا ہوتا تو یقینا ہم کتے سے بھی زیادہ برے ہوتے“۔ تاتاری اگرچہ وحشی تھے‘ مگر ان میں مردانگی کا جوہر موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ کا یہ جواب تغلق تیمور کےلئے جھنجھوڑنے والا ثابت ہوا۔ اس نے حکم دیا کہ جب میں شکار سے فارغ ہوجاﺅں تو انہیں میری خدمت میں حاضر کرو۔ شیخ جمال الدین جب حاضر کئے گئے تو وہ ان کو تنہائی میں لے گیا اور ان سے پوچھا کہ یہ دین کیا ہے؟ شیخ جمال الدین نے نڈر ہو کر اس کے سامنے اسلام کی تعلیمات پیش کیں۔ اس گفتگو نے تاتاری شہزادے کا دل ہلا دیا۔ بے دینی کی حالت میں مرنا اسے بڑا خطرناک معلوم ہونے لگا۔ وہ اس پر آمادہ ہو گیا کہ اسلام قبول کر لے ‘ تاہم ابھی وہ ولی عہد تھا‘ بادشاہ نہ تھا ۔

اس نے کہا ” اس وقت اگر میں اسلام قبول کرتا ہوں تو میں اپنی رعایا کو اسلام پر نہیں لا سکتا“۔ اس نے شیخ جمال الدین سے کہا۔ ” اچھا اس وقت تم جاﺅ‘ جب تم سنو کہ میری تاج پوشی ہوئی ہے اور میں تخت پر بیٹھ گیا ہوں تو اس وقت تم میرے پاس آنا“۔ شیخ جمال الدین اپنے گھر واپس آ گئے اور اس وقت کا انتظار کرنے لگے‘ جب تغلق تیمور کی تخت نشینی کی خبر انہیں معلوم ہو‘ مگر یہ وقت ان کی زندگی میں نہ آیا۔ یہاں تک کہ وہ مرض الموت میں مبتلا ہو گئے اس وقت انہوں نے اپنے بیٹے شیخ رشید الدین کو بلایا اور تاتاری شہزادے کا قصہ بتا کر کہا کہ ” دیکھو میں ایک مبارک گھڑی کا انتظار کر رہا تھا مگر اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا آنا میری زندگی میں مقدر نہیں ‘ اس لئے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ جب تم سنو کہ تغلق تیمور کی تاج پوشی ہوئی ہے تو تم وہاں جانا اور اسے میرا سلام کہنا اور بے خوفی کے ساتھ اس کو شکار گاہ کا واقعہ یاد دلانا جواس کے ساتھ پیش آیا تھا۔ شاید اللہ اسکا سینہ حق کےلئے کھول دے۔ اس کے بعد شیخ جمال الدین کا انتقال ہو گیا۔ باپ کی وصیت کے مطابق ان کے بیٹے شیخ رشید الدین تا تاری شہزاد ے کی تخت نشینی کا انتظار کرنے لگے‘ جلد ہی انہیں خبر ملی کہ تغلق تیمور تخت پر بیٹھ گیا ہے۔ اب وہ اپنے وطن سے روانہ ہوئے۔ منزل پر پہنچے تو دربانوں نے خیمے کے اندر جانے سے روک دیا۔ کیوں کہ ان کے پاس دربانوں کو بتانے کےلئے کوئی بات نہ تھی کہ وہ کیوں بادشاہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ا س کے بعد انہوں نے یہ کیا کہ خیمے کے قریب ایک درخت کے نیچے پڑاﺅ ڈال کر ٹھہر گئے۔ ایک روز وہ فجر کےلئے اٹھے۔ اول وقت تھا اور فضا میں ابھی سناٹا چھایا ہوا تھا۔ انہوںنے بلند آواز سے اذان دینا شروع کی۔ یہ آواز خیمے کے اس حصے تک پہنچ گئی جہاں شاہ تغلق تیمور سو رہا تھا۔ بادشاہ کو ایسے وقت میں یہ آواز بے معنی شور معلوم ہوئی۔ اس نے اپنے ملازموں سے کہا دیکھو یہ کون ہے‘ جو اس وقت ہمارے خیمے کے پاس شور کر رہا ہے اسے پکڑ کر ہمارے پاس حاضر کرو‘ چنانچہ شیخ رشید الدین فوراً بادشاہ کی خدمت میں حاضر کردیئے گئے۔ اب بادشاہ نے ان سے سوال و جواب شروع کیا کہ تم کون ہو اور کیوں ہمارے خیمے کے پاس شور کر رہے ہو؟ شیخ رشید الدین نے اپنے والد شیخ جمال الدین کی پوری کہانی سنائی اور کہا کہ آپ کے سوال کے جواب میں جب میرے والد نے کہا تھا کہ اگر ہمیں سچا دین نہ ملا ہوتا تو یقینا ہم کتے سے بھی زیادہ برے ہوتے‘ تو آپ نے کہا تھا کہ اس وقت میں کچھ نہیں کہتا مگر جب میری تخت نشینی ہو جائے تو تم میرے پاس آنا ‘ مگر اس کے انتظار میں میرے والد کا آخری وقت آ گیا‘ اب ان کی وصیت کے مطابق میں آپ کے پاس وہ بات یاد دلانے کےلئے حاضر ہوا ہوں۔ بادشاہ نے پورے قصے کو غور سے سنا‘ آخر میں اس نے کہا مجھے اپنا وعدہ یاد ہے اور میں انتظار میں تھا۔ ” اس کے بعد اس نے اپنے وزیر کو بلایا اور کہا کہ ” ایک راز میرے سینے میں تھا جسے آ ج اس درویش نے یاد دلایا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ میں اسلام قبول کر لوں‘ تمہاری کیا رائے ہے‘ وزیر نے کہا کہ ” میں بھی یہی راز اپنے سینے میں لئے ہوئے ہوں میں سمجھ چکا ہوں کہ سچا دین یہی ہے۔ “ اس کے بعد بادشاہ اور وزیر دونوں شیخ رشید الدین کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد بقیہ درباریوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ بادشاہ کے قبول اسلام کے بعد پہلے ہی دن ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد نے اسلام قبول کر لیا اور بالآخر ایران کی پوری تاتاری قوم نے ۔ [3]

کچھ فرق کے ساتھ بھی یہ کہانی ملٹی ہے۔ [4] [5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. The conversion of tugalaq Timur khan to islam,Mirza Haider, Tarikh e Rashidi, p 10 to 14 https://archive.org/details/tarikhirashidiof00hayd
  2. The preaching of Islam: a history of the propagation of the Muslim faith By Sir ٹامس ڈبلیو آرنلڈ, pg. 198
  3. تم سے کتا اچھا ہے (انتخاب: محمد اکرم کمبوہ) https://ubqari.org/article/ur/details/951
  4. دعوت اسلام آز آرنلڈ ص256 https://www.rekhta.org/ebooks/dawat-e-islam-thomas-walker-arnold-ebooks
  5. وسط ایشاء کے مغل حکمران،ص ۳۷ https://www.rekhta.org/ebooks/wast-e-asia-ke-mughal-hukmaran-ebooks