تقابلی نفسیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تقابلی نفسیات سے مراد غیر انسانی جانوروں کے برتاؤ اور ان کی دماغی کار کردگی کا سائنسی مطالعہ، بالخصوص وہ جو ارتقائی وراثیاتی تاریخ، ماحول کے ہم پلہ اہم تبدیلی اور برتاؤ کے نشو و نما ہونے سے متعلق ہو۔ اس ضمن کی تحقیق کئی مسائل پر روشنی ڈالتی ہے، کئی طریقۂ کار کو بروئے کار لاتی ہے اور کئی انواعِ حیات کے مسائل کو رجوع کرتی ہے جن میں کیڑے اور ارتقائی دور کے آغاز کی زندگی میں شامل ہیں۔[1][2]

تقابلی نفسیات کو کبھی کبھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس میں بین نوع حیات موازنوں پر زور دینے والی ہے، جس میں انسان اور جانور دونوں شامل ہیں۔ تاہم کچھ محققین یہ سمجھتے ہیں کہ راست موازنوں کو تقابلی نفسیات کی واحد توجہ نہیں سمجھا جانا چاہیے اور یہ کہ ایک واحد جاندار پر توجہ اس غرض کے لیے کہ اس کے برتاؤ کو سمجھا جا سکے بھی اتنا ہی قابل ترجیح ہے؛ اگر مزید اہمیت کا حامل نہ بھی سمجھا جائے۔ ڈونالڈ ڈروسبری نے کئی ماہرین نفسیات اور ان کی تعریفوں کا جائزہ لیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تقابلی نفسیات کا مرکز یہ ہے کہ عمومیت کے وہ اصول قائم کیے جائیں جو قرب و بعید کی توجیہ پر مرکوز ہیں۔[3]

تقابلی طریقے کا استعمال کرنے سے کسی کو یہ موقع حاصل ہوتا ہے کہ زیر مطالعہ برتاؤ کو چار مختلف جہات سے تجزیہ کر سکیں، جو ملحقہ سوچ سے متعلق ہیں، جنہیں نیکو ٹینبرگن نے پیس کیا ہے۔[4] اولًا کوئی یہ استفسار کر سکتا ہے کہ کوئی برتاؤ کسی نوع حیات میں کس قدر عام ہے۔ ثانیًا یہ پوچھا جا سکتا ہے یہ برتاؤ کسی نوع حیات کی تاحیات تولیدی کامیابی میں حد تک معاون ہے؟ حتمی برتاؤ پر مرکوز نظریات ان دو سوالات کا جواب فراہم کرتے ہیں۔

ثالثًا یہ ہے کہ وہ کیا طریقۂ کار جڑے ہیں جو برتاؤ سے جڑے ہیں (یعنی جسمانی اور ماحولیاتی اجزا جو برتاؤ کے ظاہر ہونے کے لیے ضروری اور اس کے لیے کافی ہیں)۔ رابعًا یہ کہ محقق برتاؤ کے بننے کے بارے میں سوال کرے (یعنی وہ کیا قدرتی، تدریسی، سماجی تجربے ہیں جن سے گزر کر کوئی فرد ایک مخصوص برتاؤ کا مظاہرہ کر سکتا ہے)؟ وہ نظریات جو اس قرب کی توجیہ سے جڑے ہیں ان ہی سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے ٹینبرگن کے چار سوالات دیکھیے۔

متعلقہ شعبہ جات مطالعہ[ترمیم]

نفسیات اور دیگر شعبہ جات جو تقابلی نفسیات سے اخذ کرتے ہیں یہ اس سے ملحقہ موقف رکھتے ہیں، زیر نظر کا بھی مطالعہ کرتے ہیں:

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Dewsbury, D. (1978). Comparative Animal Behavior. McGraw-Hill Book Company. New York, NY.
  2. Papini, M.R. (2003). Comparative Psychology. In Handbook of Research Methods in Experimental Psychology. Ed. Stephen F. Davis. Blackwell. Malden, MA.
  3. Dewsbury, D. (1984). Comparative Psychology in the Twentieth Century. Hutchinson Ross Publishing Company. Stroudsburg, PA.
  4. Tinbergen، N. (1963). "On aims and methods of ethology". Zeitschrift für Tierpsychologie 20: 410–33. doi:10.1111/j.1439-0310.1963.tb01161.x.