تقی الدین سبکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تقی الدین سبکی
معلومات شخصیت
پیدائش 18 اپریل 1284[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مصر  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 14 جون 1355 (71 سال)[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت و جماعت
فقہی مسلک شافعی
اولاد تاج الدین السبکی  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ ابو حیان الغرناطی  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص تاج الدین السبکی  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

تقی الدین سبکی اپنے زمانے کے مشہور فقیہ، محدث، حافظ، مفسر اور ادیب تھے۔ تاج الدین سبکی اور بہاء الدین سبکی کے والد ہیں۔ ان کا تعلق سبک کے ایک مشہور فاضل خاندان سے تھا۔ جس کے اکثر افراد قضاء و افتاء تک پہنچے۔ ان کی ولادت اپریل 1284ء میں ہوئی۔ ان کی تعلیم قاہرہ میں ہوئی اور دمشق و قاہرہ میں مفتی و قاضی کے عہدہ پر ممتاز رہے۔ ان کا انتقال 16 جون 1355ء کو مصر میں ہوا۔[4]

نسب[ترمیم]

ابو الحسن علی بن عبد الکافی بن علی بن تمام بن یوسف بن موسیٰ بن تمام بن حامد بن یحییٰ بن عمر بن عثمان بن علی بن مسوار بن سوار ابن لیم سبکی، خزرجی، انصاری۔

سوانح[ترمیم]

شیخ تقی الدین سبکی آغاز صفر 683ھ / 18 اپریل 1284ء کو سبک الاحد (سبک العبید) نامی گاؤں میں پیدا ہوئے، یہ موجودہ محافظہ منوفیہ کا حصہ ہے۔ لڑکپن میں انہوں نے اپنے والد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی؛ اپنے ابو کے ہمراہ وہ قاہرہ آ گئے جہاں انہوں نے اپنے والد شیخ عبد الکافی سبکی کی سربراہی میں وقت کے اکابرین سے تعلیم پائی۔ ان کے والد قضا میں شیخ الاسلام ابن دقیق العید کے نائب تھے۔

تصنیفات[ترمیم]

  • شفاء السقام في زيارة خير الأنام.
  • السيف الصقيل في الرد على ابن زفيل (ابن القيم).
  • الدرة المضية في الرد على ابن تيمية.
  • الاعتبار ببقاء الجنة والنار في الرد على ابن تيمية وابن القيم القائلين بفناء النار.
  • نقد الاجتماع والافتراق في مسائل الأيمان والطلاق.
  • النظر المحقق في الحلف بالطلاق المعلق.
  • رفع الشقاق في مسألة الطلاق
  • السيف المسلول على من سب الرسول.
  • إبراز الحكم من حديث رفع القلم.
  • أحكام كل ما عليه تدل.
  • الإبهاج في شرح المنهاج على منهاج الوصول إلى علم الأصول للقاضي ناصر الدين البيضاوي.
  • المجموع شرح المهذب، والابتهاج في شرح المنهاج للإمام محيي الدين النووي.
  • غيرة الإيمان الجلي لأبي بكر وعمر وعثمان وعلي.
  • سبب الانكفاف عن إقراء الكشاف.
  • ثلاثيات مسند الدارمي.
  • بيان الأدلة في إثبات الأهلة.
  • الاعتصام بالواحد الأحد من إقامة الجمعتين في البلد.
  • أجوبة أهل مصر حول "تهذيب الكمال" للحافظ المزي.
  • تعدد الجمعة وهل فيه متسع.
  • تقييد التراجيح في صلاة التراويح.
  • ضوء المصابيح في صلاة التراويح
  • فتاوى السبكي.
  • فتوى أهل الإسكندرية.
  • فتوى العراقية.
  • الرسالة العلائية.
  • إحياء النفوس في حكمة وضع الدروس.
  • كشف القناع في إفادة لو الامتناع.
  • التحبير المذهب في تحرير المذهب.
  • القول المُوعَب في القول الموجَب.
  • لمعة الإشراق في أمثلة الاشتقاق.
  • مُنية المباحث في حكم دين الوارث.
  • الرياض الأنيقة في قسم الحديقة.[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6hf1zzg — بنام: Taqi al-Din al-Subki — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. ^ ا ب بنام: 1284-1355 ʻAlī ibn ʻAbd al-Kāfī al-Subkī — ایس ای ایل آئی بی آر: https://libris.kb.se/auth/222341 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/130733 — بنام: Taqī al-Dīn ʻAlī ibn ʻAbd al-Kāfī Subkī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام نوریہ رضویہ پبلیکیشنز لاہور
  5. تقي الدين السبكي - موقع ذاكرة الأزهر.