تلنگانہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تلنگانہ
తెలంగాణ
ریاست
بھارت کے نقشہ میں تلنگانہ کا مقام سرخ رنگ میں
بھارت کے نقشہ میں تلنگانہ کا مقام سرخ رنگ میں
ملک Flag of India.svg بھارت
ریاست تلنگانہ
رقبہ[1]
 • کل 114,840 کلو میٹر2 (44,340 مربع میل)
رقبہ درجہ 12 واں
آبادی (2011)
 • کل 35,286,757
 • کثافت 310/کلو میٹر2 (800/مربع میل)
زبانیں
 • دفتری تیلگو، اردو
منطقۂ وقت بھارتی معیاری وقت (UTC+05:30)
عظیم شہر حیدر آباد
ویب سائٹ http://www.tg.gov.in

تلنگانہ (تیلگو: తెలంగాణ)، بھارت کی ریاست آندھرا پردیش سے الگ کر کے اس کو 2 جون 2014 کو ریاست کا درجہ دیا گیا۔[2] یہ صوبہ بھارت کے حیدرآباد نامی راجواڈے کے تیلگو زبان بولنے والے علاقوں سے مل کر بنا ہے۔ 'تلنگانہ' لفظ کا مطلب ہے 'تیلگو بولنے والوں کی زمین'.

تلنگانہ کا دار الحکومت حیدرآباد، دکن ہے جو فی الحال ریاست آندھرا پردیش کا بھی دار الحکومت ہے۔

30 جولائی 2013 کو کانگریس پارٹی نے جمہوریہ بھارت کے 29 ویں ریاست کے طور پر آندھرا پردیش سے تلنگانہ ریاست بنانے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا تھا۔ نئی ریاست کی تعمیر کے لیے ایک وسیع دستور العمل مقرر کیا گیا تھا اور اس دستور العمل کے لیے 122 دن یا کم سے کم چار ماہ مختص کیے گئے تھے۔ سرکاری طور پر تقسیم ہونے سے بھارتی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کیا جانا لازمی ہوتا ہے۔ جس کی منظوری کے بعد اب اس کو ریاست کا درجہ مل گيا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ابھی جس علاقے کو تلنگانہ کہا جاتا ہے، اس میں آندھرا پردیش کے 23 اضلاع میں سے 10 اضلاع آتے ہیں۔ اس علاقے سے آندھرا پردیش کی 294 میں سے 119 اسمبلی نشستیں آتی ہیں۔ تلنگانہ کو 42 لوک سبھا سیٹوں میں سے 17 سیٹیں حاصل ہوئی ہے۔ تلنگانہ کو ایک الگ ریاست بنانے کی مانگ کی جاتی رہی ہے اور اس کے لیے تحریک بھی چلائی گئی۔

ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش بروز پیر 2 جون 2014 کو باضابطہ طور پر 2 حصوں میں منقسم ہو گئی جبکہ اس میں سے ملک کی 29 ویں ریاست تلنگانہ وجود میں آگئی۔ تلنگانہ کا قیام اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو ہندوستان کے مقامی وقت کے مطابق رات 12 بجے عمل میں آیا۔ تلنگانہ ریاست آندھرا پردیش کے دار الحکومت حیدرآباد کے آس پاس کے 10 اضلاع پر مشتمل ہے جبکہ حیدرآباد آئندہ دس برس کے لیے دونوں ریاستوں کا مشترکہ دار الحکومت رہے گا۔ ان 10 برسوں میں آندھرپردیش کو اپنا الگ دار الحکومت بنانا ہوگا۔ مقامی سیاسی جماعت تلنگانہ راشٹر سمیتی نے نئی ریاست کے قیام کے لیےگذشتہ 14 سال تک تحریک چلائی اور نئی ریاست میں اس کی پہلی حکومت ہو گی۔

جولائی 2016 میں مرکز میں کانگریس کی سربراہی میں حکمراں اتحاد نے آندھرا پردیش میں نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کی منظوری دی تھی اور اس کے بعد فروری 2017 میں ملک کے ایوان بالا نے تلنگانہ کے قیام کا بل منظور کیا تھا۔ اس فیصلے پر اس وقت آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ کرن کمار ریڈی احتجاجاً اپنے عہدہ سے مستعفی ہو گئے تھے۔

ہندوستان میں اس سے پہلے آخری بار 2012 میں تین نئی ریاستوں کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ان میں مدھیہ پردیش کے مشرقی علاقوں پر مشتمل چھتیس گڑھ کے نام سے نئی ریاست بنائی گئی۔ اترپردیش کے پہاڑی علاقوں پر مشتمل اتراکھنڈ ریاست اور ریاست بہار کے جنوبی علاقوں پر مشتمل جھار کھنڈ ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔

آندھرا پردیش کے شمالی حصے میں نو اضلاع بشمول حیدرآباد پر مشتمل تلنگانہ ریاست کے قیام کا مطالبہ 1956 میں اس وقت سے کیا جا رہا ہے جبکہ تلگو بولنے والے مختلف علاقوں کو ملا کر آندھرا پردیش کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔

تاریخی اعتبار سے تلنگانہ کا علاقہ نظام حیدرآباد کی آصف جاہی سلطنت کا حصہ تھا۔ 1948 کے دوران ہندوستان میں حیدرآباد کے انضمام کے بعد تلنگانہ کو کچھ برسوں تک ایک الگ ریاست کی حیثیت حاصل رہی۔ جب لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تشکیل جدید کے لیے فضل علی کمیشن قائم کیا گیا تو علاقہ کے عوام نے اپنے لیے ایک علاحدہ ریاست کے موقف کا مطالبہ کیا تھا لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا اور اس علاقہ کو ساحلی آندھرا کے ساتھ ملا کر آندھرا پردیش کا نام دیا گیا۔

ریاست اپنی تاریخ کے ایک بڑے حصے کے دوران ساحلی آندھرا کے زیادہ خوشحال اور با اثر طبقات کے کنٹرول میں رہی اور یہ شکایت عام رہی کہ انہوں نے غریب اور پسماندہ تلنگانہ عوام کے ساتھ معاشی سماجی اور دوسرے شعبوں میں انصاف نہیں کیا۔ چنانچہ وقفے وقفے سے تلنگانہ کو علاحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ سر اٹھاتا رہا۔ 70-1969 میں اس مسئلہ پر پرتشدد احتجاج شروع ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں تلنگانہ کے عوام نے احتجاج کی قیادت کرنے والی تلنگانہ پرجا سمیتی کو بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب کیا۔ لیکن انتخابات کے بعد اسی پارٹی نے قلا بازی کھائی اور خود کو کانگریس میں ضم کر لیا۔ اس دھوکا دہی سے تلنگانہ کے عوام اتنے بدظن ہوئے کہ اگلے دو تین دہایوں تک کسی نے بھی تلنگانہ ریاست کا نام نہیں لیا۔ 2001 کے دوران یہ مسئلہ اس وقت پھر شدت کے ساتھ اٹھا جبکہ تلگودیشم سے علاحدگی اختیار کرنے والے چندر شیکھر راو نے تلنگانہ راشٹرسمیتی کے نام سے اپنی الگ پارٹی بنائی اور تلنگانہ کے لیے اپنی مہم کا آغاز کیا۔ رفتہ رفتہ یہ جماعت اتنی طاقتور ہو گئی کہ 2004 کے انتخابات کے لیے کانگریس پارٹی کو اس علاقائی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا۔ اس موقع پر دونوں پارٹیوں کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ کانگریس پارٹی تلنگانہ کے مسئلہ کو علاقہ کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرے گی۔ اور اس معاہدہ کی دونوں پارٹیوں نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے تشریح کی۔ جہاں ٹی آر ایس کو امید تھی کہ یو پی اے کی حکومت جلد ہی آندھرا پردیش کو دو حصوں میں بانٹ کر انہیں تلنگانہ ریاست تحفے کے طور پر پیش کرے گی جبکہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ کی طرح ٹال مٹول کا رویہ اختیار کیا اور اب اس کا یہ کہنا ہے کہ محض ریاستوں کی تنظیم جدید کے ایک اور کمیشن کے قیام کے ذریعہ یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ جہاں تک دوسری پارٹیوں کے موقف کا سوال ہے۔ تلگودیشم، سی پی آئی اور سی پی آئی ایم آندھرا پردیش کے بٹوارے کے خلاف ہیں۔ مجلس اتحاد السلمین جو اس علاقے میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کرتی ہے وہ بھی علاحدہ تلنگانہ کے حق میں نہیں ہے۔ صرف بی جے پی نے ہی اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے اب تلنگانہ کی تائید کا اعلان کیا ہے۔ چنانچہ جہاں اب اس مسئلہ پر گڑبڑ اور تشدد کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ آگے چل کر ایک نیا سیاسی محاذ تشکیل پائے جس میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے علاوہ ایک تلگو اداکارہ وجے شانتی کی تلنگانہ تلی پارٹی بھی شامل ہو۔

اضلاع[ترمیم]

تلنگانہ ریاست کے 31 اضلاء ہیں۔ #۔ عادل آباد ضلعبھدرادری کوتاگوڈیم ضلعحیدر آباد ضلعجگتیال ضلعجنگاؤں ضلعجیاشنکر بھوپال پلی ضلعجوگولامبا گدوال ضلعکاماریڈی ضلعکریم نگر ضلعکھمم ضلعکومارم بھیم آصف آباد ضلعمحبوب آباد ضلعمحبوب نگر ضلعمنچیریال ضلعمیدک ضلعمیڈچل ضلعناگر کرنول ضلعنلگونڈا ضلعنرمل ضلعأ نظام آباد ضلعپیدا پلی ضلعراجنا سرسیلا ضلعرنگا ریڈی ضلعسنگاریڈی ضلعسدی پیٹ ضلعسوریا پیٹ ضلعوقارآباد ضلع۔وناپرتی ضلعورنگل رورل ضلعورنگل اربن ضلعیادادری بھوواناگری ضلع

اہم دریا[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]