تلنگانہ تحریک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آندھرا پردیش پیلے رنگ میں اور تلنگانہ سفید رنگ میں دکھایا گیا ہے

تلنگانہ تحریک بھارت کی ایک تحریک جس کا مطالبہ تھا کہ ریاست آندھرا پردیش کو تقسیم کر کے تیلگو زبان بولنے والے علاقوں کو ایک الگ ریاست کی شکل دی جائے۔ چناں چہ طویل تحریک اور جد و جہد کے بعد 7 فروری 2014 کو یو پی اے حکومت نے قیام ریاست کا بل منظور کیا، اس کے بعد 17 فروری کو لوک سبھا اور 20 فروری کو راجیہ سبھا نے بھی بل منظور کیا، اس بل میں نئی ریاست تلنگانہ کا قیام بھی شامل تھا، بل میں مزید یہ کہا گیا تھا کہ حیدر آباد دکن تلنگانہ کا نیا دار الحکومت ہوگا اور آندھرا پردیش کا بھی دار الحکومت رہے جب تک آندھرا پردیش کا نیا دار الحکومت متعین نہیں کیا جاتا، تاہم زیادہ سے زیادہ حیدرآباد دس سال (یعنی 2 جون 2024ء) تک آندھرا پردیش کا دار الحکومت رہے گا۔ تلنگانہ تحریک کی وجہ سے 2 جون 2014ء کو تلنگانہ ریاست کا قیام عمل میں آیا۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. B. Muralidhar Reddy, Vinay Kumar۔ "Cabinet clears Telangana Bill"۔ The Hindu۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. "Lok Sabha passes Andhra Pradesh Reorganization Bill"۔ IANS۔ news.biharprabha.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 فروری 2014۔
  3. "Telangana state to be formally carved out on June 2"۔ IANS۔ news.biharprabha.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 مارچ 2014۔

مزید دیکھیے[ترمیم]