تلنگانہ میں سیاحت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تلنگانہ کا شعبہ سیاحت : TelanganaTourism Sector: سیاحت بہت سے مواقع فراہم کرنے والی ایک صنعت ہے جو ریاست کی سماجی اور معاشی ترقی میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ تلنگانہ ریاست میں بھی کئی سیاحتی مراکز ہیں۔ جہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔ حید رآباد ملک کے ان چند بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے جو سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے۔ دنیا بھر میں مشہور چارمینار یہیں واقع ہے۔ اور حیدرآباد کو دنیاکے 20بہترین شہروں میں سے دوسرا درجہ حاصل ہواہے۔ ریاست تلنگانہ کا سیاحتی محکمہ تلنگانہ اسٹیٹ ٹورازم ڈپارٹمنٹ ایک سرکاری ادارہ ہے جو تلنگانہ میں سیاحت کو فروغ دیتا ہے۔ تلنگانہ میں سیاحت کے بہت امکانات ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں موجود کچھ اہم سیاحتی مقامات کا ذیل میں ذکر کیا جا رہا ہے۔ تلنگانہ کے تاریخی تفریحی مقامات

چارمینار ‘حیدرآباد - یہ حیدرآباد میں واقع مشہور تاریخی مقام اور مسجد ہے۔ اور اب عالمی سطح پر مقبول نمائیندہ نشانی بن گئی ہے۔ چارمینار کو ہندوستان کی سب سے زیادہ تسلیم شدہ عمارت میں گنا جا رہا ہے۔ قلعہ گولکنڈہ ‘حیدرآباد - قطب شاہی سلاطین کی چھوڑی ہوئی یہ یادگار‘قلعہ گولکنڈہ ہے جو حیدرآباد میں واقع ہے۔ اور ہندوستان کے چند مشہور قلعوں میں سے ایک ہے۔ گنبدان قطب شاہی‘ حیدرآباد قطب شاہی خاندان کے مزارات پر مشتمل گنبدان قطب شاہی دکنی فن تعمیر کا شاہکار ہیں۔ جس کے بلند و بالا مینار‘گنبد اور اندر ہمہ رخی راستے ہیں۔ کاکتیہ کلاتھورانم ‘ورنگل یہ ورنگل کی کاکتیہ سلطنت کی تاریخی نشانی ہے۔ پتھر میں تراشیدہ بہت بڑا مجسمہ ہے۔ جسے جلالی کمان بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تلنگانہ کے سرکاری نشان کا حصہ ہے۔ تلنگانہ کے چند اہم مذہبی سیاحتی مقامات

یادگیر گٹہ- ضلع نلگنڈہ یہ بھگوان لکشمی نرسمہا مندر کے لیے مشہور ہے۔ ریاستی حکومت اسے عالمی سطح کے مقبول مندر کے طور پر ترقی دے رہی ہے۔ دیول ہزار ستون ‘ورنگل کاکتیہ راجاؤں کی جانب سے ورنگل کے ہنمکنڈہ مقام پر بنایا گیا یہ جنوبی ہندوستان کا قدیم ترین مندر ہے جس کے ہزار ستون ہیں۔ رامپا مندر‘ورنگل کاکتیہ راجاؤں کی جانب سے بنایا گیا یہ بھگوان شیوا کا قدیم ترین مندر ہے۔ سیتارام چندرا سوامی مندر بھدراچلم بھدراچلم کھمم میں دریائے گوداوری کے کنارے واقع یہ بھگوان رام کا مندر ہے۔ سری راجا راجیشورا سوامی مندر‘ویملواڑہ کریم نگر ضلع میں واقع یہ بھگوان شیوا کا مندر ہے اور ہندؤوں کی یاترا کا مقام ہے۔ گیان سرسوتی مندر باسر عادل آباد سرسوتی دیوی کا یہ ایک مشہور مندر ہے اور یہ دریائے گوداوری کے کنارے باسر عادل آباد میں واقع ہے۔ کالیشورا‘مکٹیشوراسوامی مندر‘ ضلع کریم نگر یہ مندر اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ ایک ہی پلیٹ فارم پر بھگوان شیوا کے دو لنگ موجود ہیں۔ ان لنگوں کے نام بھگوان شیوا اور یاما ہیں۔ کنڈا گٹو مندر ‘ یہ بھگوان ہنومان کا تین سو سال قدیم مندر ہے۔ برلا مندر ‘ حیدرآباد یہ 280 فٹ بلند نوبت پہاڑ پر واقع مندر ہے۔ یہ مندر برلا خاندان نے تعمیر کرایا۔ میدک چرچ‘میدک یہ ریاست تلنگانہ کا سب سے بڑا چرچ ہے۔ اور 1947ء سے ڈیوک آف میدک جنوبی ہند کے بڑے چرچ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ میدک کے پادریوں کا یہ چرچ ایشیا کا سب سے بڑا اور ویٹیکن کے بعد دنیا کا سب سے بڑا چرچ ہے۔ مکہ مسجد ‘حیدرآباد یہ ہندوستان کی قدیم ترین مسجد ہے جو حیدرآباد میں چارمینار کے قریب واقع ہے۔ قطب شاہی سلطنت کے پانچویں فرماں روا نے یہ مسجد تعمیر کی۔ مسجد کی مرکزی کمان بنانے کے لیے مکہ معظمہ سے مٹی اور اینٹیں لائی گئیں۔ چنانچہ اس مسجد کا نام مکہ مسجد پڑا۔ کچھ ایسے مقامات جہاں کچھ فنون اور دست کاری مشہور ہو رہی ہے ان میں ساریوں کے لیے پوچم پلی ضلع نلگنڈہ‘ دست کاری اور مصوری کے لیے نرمل‘ دھات پر نقش و نگار بنانے کے لیے پیمبرتھی ضلع ورنگل مصوری اور دستکاری نمائیش کے لیے شلپارامم حیدرآباد اور لپٹی ہوئی مصوری کے لیے چیریال ورنگل مشہور ہیں۔ دیگر اہم سیاحتی مقامات: کنتلا آبشار: ضلع عادل آباد میں واقعہ کنتلا آبشار ہیں جو 148 بلندی سے گرتے ہیں اور یہ ریاست کا سب سے بڑا آبشار ہے۔ سالار جنگ میوزیم: یہ ہندوستان کا تیسرا بڑا میوزیم ہے۔ یہ حیدرآبادی نظام آصف سابع کے وزیر اعظم نواب میر یوسف علی خان سالارجنگ سوم کے فرد واحد کی جمع کردہ نوادرات پر مشتمل ہے۔ نہرو زوالوجیکل پارک: حیدرآباد میں واقع اس چڑیا گھر میں تقریباً 100سے زائد اقسام کے پرندے‘جانوراور رینگنے والے جانور ہیں۔ یہ چڑیا گھر تلنگانہ کے محکمہ جنگلات کا جانب سے چلایا جاتا ہے۔