تلک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تلک جہیز ہی کی ایک دوسری شکل ہے۔ تلک کا رواج سماج میں جہیز سے بہت بعد میں ہوا ہے۔ اس کو معاشرہ کے دولت مند افراد کے ذریعہ فروغ ملا ہے۔[1]

تلک[ترمیم]

فرہنگ آصفیہ تلک کی رسم کی تعریف کرتے ہوئے: وہ روپیہ جو شادی سے پہلے دلہن کا باپ داماد کے گھر بھیجتا ہے یہ دراصل ترکی میں ترلیک کا مخفف ہے۔[2]

تشریح[ترمیم]

وہ مقررہ روپیہ ہے جو لڑکی والے شادی کی تعین کے وقت لڑکے والے کو ساز و سامان کے علاوہ ادا کرتے ہیں،جس کی تفصیل یہ ہے کہ جب شادی کی بات چیت شروع ہوتی ہے تو لڑکے والے لڑکی کے والدین سے ساز و سامان (جہیز)کے علاوہ کچھ نقد روپیہ کی فرمائش کرتے ہیں اور اس میں لڑکے کی حیثیت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ لڑکا جس معیار کا حامل ہوتا ہے، اس کی قیمت کا تعین بھی اسی اعتبار سے کیا جاتا ہے۔ جیسے بھیڑ، بکری وغیرہ کی خرید و فروخت میں پاس و لحاظ رکھا جاتا ہے۔

جہیز اور تلک[ترمیم]

خالد سیف اللہ رحمانی اپنی کتاب میں جہیز و تلک کی رسم کے متعلق رقم طراز ہیں:

اسلام میں نکاح کی حیثیت ایک معاہدہ کی ہے جس میں مرد و عورت قریب قریب مساویانہ حیثیت کے مالک ہیں یعنی نکاح کی وجہ سے شوہر بیوی کا یا بیوی شوہر کی مالک نہیں ہوتی اور عورت اپنے خاندان سے مربوط رہتی ہے۔ والدین کے متروکہ میں تو اس کو لازمًا حصہ میراث ملتا ہے۔ بعض اوقات وہ بھائی بہنوں سے بھی حصہ پاتی ہے۔ ہندو مذہب میں نکاح کے بعد عورت کا رابطہ اپنے خاندان سے ختم ہوجاتا ہے۔ شاستر قانون کی رو سے وہ اپنے خاندان سے میراث کی حقدار نہیں رہتی۔ اسی لیے جب لڑکی کو گھر سے رخصت کیا جاتا تھا تو اسے کچھ دان دیکر رخصت کیا جاتا تھا۔

بد قسمتی سے مسلمانوں نے بھی بتدریج اس ہندووانہ رسم کو اپنا لیا اب مسلمانوں میں بھی جہیز کے لین دین اور پھر لین دین سے بڑھ کر جہیز کا مطالبہ اور اس سے بھی آگے گزر کر جہیز کے علاوہ تلک سرانی اور جوڑے کے نام سے لڑکوں کی طرف سے رقم کا مزید مطالبات کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات اور شریعت کے مزاج کے بالکل ہی برعکس ہے۔ اسلام نے تو اسکے برخلاف مہر اور دعوت ولیمہ کی ذمہداری شوہر پر رکھی یھی اور عورت کو نکاح میں ہر طرح کی مالی ذمہ داری سے دور رکھا تھا۔ فقہاء کے یہاں اس بات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا کہ مرد بھی عورت سے روپئے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اسلئے اس مسئلہ کا عام طور پر کتب فقہ میں تذکرہ نہیں ملتا۔ البتہ اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ لڑکی کا ولی اگر مہر کے علاوہ داماد سے مزید رقم کا طلبگار ہو تو یہ رشوت ہے اور یہ مطالبہ جائز نہیں۔ تاہم بعض فقہاء کے یہاں لڑکے اور اسکے اولیاء کی طرف سے مطالبہ کی صورت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اسلئے تلک اور جہیز کا مطالبہ رشوت ہے اسکا لینا تو حرام ہے ہی۔ شدید ضرورت کے بغیر دینا بھی جائز نہیں اور لے چکا ہو تو واپس کرنا واجب ہے۔

[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسلام، جہیز اور سماج ،ازصابر رہبر مصباحی
  2. فیروز اللغات،از فرہنگ آصفیہ
  3. (جدید فقہی مسائل، صفحہ :450،ازمولانا خالد سیف اللہ رحمانی)