مندرجات کا رخ کریں

تمغۂ بسالت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(تمغائے بسالت سے رجوع مکرر)
Tamgha-i-Basalat
تمغہِ بسالت
تمغۂ بسالت کا سیدھا رخ
قسمآپریشنل گیلنٹری ایوارڈ
عطا برائے"بہادری، ہمت اور عقیدت کے کام"
میزبانحکومت پاکستان
Post-nominalsTBt
کیفیتفی الحال نوازا گیا
تاسیس16 مارچ 1957 منجانب صدر پاکستان
تمغۂ بسالت کا ربن بار
سبقت
اگلا (برتر)
ستارہ بسالت
اگلا (کمتر)
امتیازی سند

تمغۂ بسالت پاکستان کی مسلح افواج کا ایک اہم عسکری اعزاز ہے، جو بہادری، شجاعت، غیر معمولی جرات مندی اور فرض شناسی کا ثبوت دینے والے فوجی اہلکاروں کو دیا جاتا ہے۔ یہ تمغا صدرِ پاکستان کی جانب سے اُن افراد کو عطا کیا جاتا ہے جنھوں نے جنگی یا غیر جنگی حالات میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر قوم، وطن اور فوجی ذمہ داریوں کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ تمغۂ بسالت پاکستان کے اُن اعلیٰ ترین اعزازات میں شمار ہوتا ہے جنہیں مسلح افواج کے سپاہی، جونیئر کمیشنڈ افسران اور کمیشنڈ افسران اپنی غیر معمولی کارکردگی کی بنیاد پر حاصل کرتے ہیں۔[1]

تاریخی پس منظر

[ترمیم]

تمغۂ بسالت کا آغاز پاکستان کی عسکری تاریخ کے ابتدائی دور میں ہوا۔ اس ایوارڈ کا مقصد فوج کے اُن سپاہیوں اور افسران کو سراہنا تھا جو میدانِ جنگ میں بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ میں یہ تمغا اُن افراد کے لیے اعزازِ فخر سمجھا جاتا ہے جنھوں نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے جان کے خطرے کے باوجود قوم کی حفاظت کو مقدم رکھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس اعزاز کی اہمیت اور بڑھ گئی اور متعدد فوجی آپریشنز کے دوران اسے بڑے پیمانے پر دیا جاتا رہا ہے۔[2]

معیارِ عطا

[ترمیم]

تمغۂ بسالت اُن فوجی اہلکاروں کو دیا جاتا ہے جنھوں نے: کسی جنگی مہم یا فوجی آپریشن میں نمایاں بہادری دکھائی ہو، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جرات مندانہ کردار ادا کیا ہو، کسی ہنگامی یا جان لیوا صورت حال میں دوسروں کی جان بچانے کے لیے غیر معمولی ہمت دکھائی ہو، مشکل حالات میں قائدانہ اہلیت، فرض شناسی اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہو۔

ایوارڈ کے لیے سفارشات متعلقہ یونٹوں کی جانب سے تیار کی جاتی ہیں، جنہیں بعد ازاں اعلیٰ فوجی حکام کی سفارش کے ساتھ صدرِ پاکستان کے دفتر بھجوایا جاتا ہے۔ منظور ہونے کی صورت میں اعزاز یومِ پاکستان (23 مارچ) یا یومِ آزادی (14 اگست) کی تقاریب میں دیا جاتا ہے۔[3]

اعزاز کی صورت

[ترمیم]

تمغۂ بسالت ایک تمغا اور ربن پر مشتمل ہوتا ہے۔ تمغے پر قومی علامت اور عسکری شجاعت کی نمائندگی کرنے والی نقش نگاری موجود ہوتی ہے۔ ربن عام طور پر سرخ اور ہرے رنگ پر مشتمل ہوتا ہے، جو جرات، قربانی اور پاکستان کے قومی رنگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

نمایاں حاصل کنندگان

[ترمیم]

پاکستان کی تاریخ میں کئی معروف فوجی افسران اور جوانوں کو تمغۂ بسالت سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز اکثر دہشت گردی کے خلاف جنگ، لائن آف کنٹرول پر محاذی خدمات اور اندرونی سلامتی کی کارروائیوں میں بہادری دکھانے والے اہلکاروں کو دیا جاتا ہے۔ متعدد شہداء کو بھی یہ اعزاز بعد از وفات (Posthumous) دیا گیا ہے، تاکہ ان کی قربانیوں کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا جا سکے۔[4]

اہمیت

[ترمیم]

تمغۂ بسالت نہ صرف ایک فوجی اعزاز ہے بلکہ پاکستانی معاشرے میں اس کا درجہ بہت بلند سمجھا جاتا ہے۔ اسے حاصل کرنے والا فرد "قومی ہیرو" کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ اعزاز نوجوانوں میں حب الوطنی اور جذبۂ قربانی کی روایت کو مضبوط بناتا ہے اور مسلح افواج میں مورال بڑھانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Government of Pakistan, Decorations & Awards, Ministry of Defence.
  2. Pakistan Army Official Publications on Gallantry Awards.
  3. Inter-Services Public Relations (ISPR), Gallantry Awards Criteria.
  4. Dawn News, “Gallantry Awards in Pakistan Army”, 2019.