تمیم داری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تميم الداری
تميم بن اوس بن خارجہ بن سود
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 661[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن بيت جبرين فلسطين میں
لقب ابو رقيہ
عملی زندگی
نسب الداری اللخمی

حضرت تمیم داری ؓ صحابی رسول تھے۔اسلام لانے کا بعد سے جتنے غزوات پیش آئے سب میں شریک ہوئے ۔

نام ونسب[ترمیم]

تمیم نام، ابورقیہ کنیت، داری نسبت ہے، پورا سلسلہ نسب یہ ہے، تمیم بن اوس بن حارجہ ابن سور بن خزیم بن ذراع بن عدی بن الدار بن ہانی بن حبیب بن تمارہ بن لخم بن عدی بن عمر بن سباء۔ (حافظ ابن عبد نے داری کی نسبت کی یہ وجہ بتائی ہے کہ لخم کی ایک شاخ دار ہے اور یہ نسبت اسی کی طرف ہے؛ مگریہ توجیہ صحیح نہیں ہے؛ بلکہ صحیح یہ ہے کہ ان کے اجداد میں ایک شحص کا نام دار ہے جیسا کہ سلسلہ نسب میں مذکور ہے، یہ نسبت اسی کی طرف ہے، اس کی تائید سمعانی کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ فاما النسبۃ ای الجد فمنہم ابورقیہ الداری [2] ابن ہشام نے عمرو وسباء کے درمیان دوایک نام اور بڑھائے ہیں شام کے رہنے والے تھے، قبیلہ لخم سے (لخم وجذام یمن کے رہنے والے تھے جوشام میں آکر اقامت پزیر ہو گئے تھے [3] بھی تعلق تھااور مذہباً عیسائی تھے۔ (لخم وجذام یمن کے رہنے والے تھے جوشام میں آکر اقامت پزیر ہو گئے تھے [4]

اسلام[ترمیم]

سنہ9ھ میں ا پنے بھائی نعیم کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور مشرف باسلام ہوئے۔ [5]

غزوات[ترمیم]

اسلام لانے کا بعد سے جتنے غزوات پیش آئے سب میں شریک ہوئے [6] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفاف کے لیے شام میں قریۃ عینوں کے ایک حصہ آپ کودے دیا تھا اور اس کی تحریری سند بھی لکھ دی تھی؛ مگردیارِ محبوب کی محبت نے وطن کی محبت فراموش کردی؛ چنانچہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے ثلاثہ کے زمانے تک آپ مدینہ ہی میں رہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ملی فتنہ وفساد شروع ہوا توآپ بادلِ ناخواست مدینہ چھوڑ کراپنے وطن شام چلے گئے۔ [7] (اسد الغابہ کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ آپ مستقل طور پرشام ہی میں رہتے تھے مگرابن سعد کا بیان زیادہ صحیح ہے کہ اسلام لانے کے بعد مدینہ ہی میں قیام پزیر ہو گئے تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد مستقل طور سے شام واپس چلے گئے)۔ آپ جب شام سے مدینہ آئے توآپ کے ساتھ کچھ قندیلیں اور تھوڑا سا تیل بھی لیتے آئے، مدینہ پہنچ کرقندیلوں میں تیل ڈال کرمسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں لٹکادیں اور جب شام ہوئی توانھوں نے انھیں جلادیا، اس سے پہلے مسجد میں روشنی نہیں ہوتی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور مسجد کوروشن پایا تودریافت فرمایا کہ مسجد میں روشنی کس نے کی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کا نام بتایا، آپ بیحد خوش ہوئے ان کودعائیں دیں اور فرمایا اگرمیری کوئی لڑکی ہوتی تومیں تمیم رضی اللہ عنہ سے اس کا نکاح کردیتا، اتفاق سے اسی وقت نوفل بن حارث موجود تھے؛ انھوں نے اپنی بیوہ صاحبزادی ام المغیرہ کوپیش کیا (پہلے ان کا نکاح براء یاابوالبراء سے ہوا تھا) آپ نے اسی مجلس میں ام المغیرہ سے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کا نکاح کر دیا۔ [8]

وفات[ترمیم]

مدینہ سے واپسی کے بعدگوشہ نشینی اختیار کرلی اور آخر عمرتک زاہدانہ اور درویشانہ زندگی بسر کی (ارباب طبقات میں آپ کا سنہ وفات نہیں ہے؛ البتہ تہذیب التہذیب میں ہے کہ آپ کی قبر پرکچھ ایسے نشانات پائے گئے جس سے معلوم ہوتا ہےکہ آپ کیا وفات سنہ40ھ میں ہوئی [9] سنہ40ھ میں داعی اجل کولبیک کہا اور بیت جبرون میں مدفون ہوئے۔ [10]

اولاد[ترمیم]

آپ کے کوئی اولادِ نرینہ نہ تھی، صرف ایک صاحبزادی رقیہ تھیں، جن کی نسبت سے آپ کی کنیت ابورقیہ ہے۔

علم وفضل[ترمیم]

اسلام سے پہلے آپ کا شمار علمائے نصاریٰ میں تھا، قبول اسلام کے بعد علمی ذوق قرآن مجید کی جانب منتقل ہو گیا اور اس سے پوری واقفیت پیدا کی، قتادہ کا قول ہے کہ: كان من علما أهل الكتابين۔ [11] بعض لوگوں [12] نے آپ کا شمار ان صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں کیا ہے، جنھوں نے عہد نبوی میں قرآن جمع کیا تھا۔

تراویح کی امامت[ترمیم]

فتح الباری میں ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح باجماعت قائم کی تومردوں کا امام ابی بن کعب کو اور عورتوں کا امام تمیم داری رضی اللہ عنہ کومقرر کیا [13] بعض روایتوں میں تمیم داری کا بجائے سلمان بن حثمہ کا نام ہے، ائمہ حدیث نے اس کی یہ توجیہ کی ہے کہ دونوں آدمی مختلف اوقات میں اس خدمت پرمتعین ہوئے)۔

ایک روایت[ترمیم]

آپ کا سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک واقعہ مسلم میں موجود ہے (محدثین نے اسی روایت سے روایۃ الکبار عن الصغار ایک مستقل اصول روایت بنالیا ہے اور یہی اس کی پہلی مثال ہے) روایت کیا ہے، اس کے علاوہ بہت سے کبار صحابہ اور تابعین نے بھی آپ سے روایتیں کی ہیں، مثلاً عبد اللہ بن عمر، ابن عباس، ابوہریرہ، انس بن مالک، زراہ بن عوفی، وروح بن زنباع، عبد اللہ ابن موہب، عطاء بن یزید اللیش، شہر بن جوشب، عبدالرحمن بن غنم(محدثین نے اسی روایت سے روایۃ الکبار عن الصغار ایک مستقل اصول روایت بنالیا ہے اور یہی اس کی پہلی مثال ہے)، سلیم بن عامر، شرجیل بن مسلم، قبیتہ بن ذویب(مسلم شریف، ذکرجاسہ)، کثیر بن مرہ، ازہر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہم اجمعین وغیرہ[14] چونکہ آپ متاخر الاسلام تھے اس لیے آپ کی روایتوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں ہے، مسند میں 12/احادیث آپ کی سند سے درج ہیں۔ [15]

اتباعِ سنت اور مواظبت عمل[ترمیم]

آپ کواتباع سنت کا بڑا لحاظ تھا اور جس سنت پرایک مرتبہ عمل شروع کردیتے، اس پرہمیشہ مواظبت کرتے؛ چنانچہ معمول تھا کہ نمازِ عصر کے بعد دورکعت نماز نفل ادا فرماتے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دستور تھا کہ جن لوگوں کونمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد نفل پڑھتے دیکھتے انھیں منع فرماتے اور بعض اوقات سزا بھی دیتے، ایک مرتبہ تمیم داری سے بھی اس کے متعلق فرمایا توآپ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کودرشت لہجہ میں جواب دیا کہ: لَاأَدَعُهُمَا صَلَّيْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَخَيْرٌ مِنْكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ [16] ترجمہ: میں ان دورکعتوں کوہرگز نہیں چھوڑوں گا میں نے تویہ دورکعتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہیں جوتم سے بہتر ہیں۔ یہ سن کرحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھرکوئی باز پرس نہیں کی اور فرمایا کہ اگرتمام لوگ تمہاری ہی طرح ہوجائیں تومجھے کوئی پروا نہیں۔

حصولِ ثواب کے لیے کام[ترمیم]

ایک مرتبہ روح بن زنباع آپ کی خدمت میں گئے تودیکھا کہ گھوڑے کے لیے جَوصاف کر رہے ہیں اور گھر کے تمام لوگ آپ کے گرد بیٹھے ہوئے ہیں، روح نے عرض کیا: کیا ان لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جواس کام کوکرسکے، آپ نے فرمایا یہ ٹھیک ہے؛ لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ: مَامِنْ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يُنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا ثُمَّ يُعَلِّقُهُ عَلَيْهِ إِلَّاكُتِبَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ۔ [17] ترجمہ:جب کوئی مسلمان اپنے گھوڑے کے لیے دانہ صاف کرتا ہے اور پھراس کوکھلاتا ہے توہردانہ کے بدلے اسے ایک نیکی ملتی ہے۔ اس لیے میں خود اپنے ہاتھ سے کام کرتا ہوں؛ تاکہ ثواب سے محروم نہ رہ جاؤں۔

عبادت[ترمیم]

آپ کا شمار اُن صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں تھا جوزہد وتقویٰ، عبادت وریاضت میں ضرب المثل تھے مشکل ہی سے کبھی آپ کی نمازِ تہجد ناغہ ہوتی، تہجد میں بسااوقات ایک آیت اتنی بار دہراتے کہ پوری رات ختم ہوجاتی، ایک مرتبہ آپ تہجد میں جب اس آیت أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ۔ [18] ترجمہ:جولوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کوان کے برابر رکھیں گے؛ جنھوں نے ایمان وعملِ صالح کواختیار کیا کہ ان سب کا مرنا جینا برابر ہوجائے۔ پرپہنچے تواسی کورات بھردہراتے رہے؛ یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ [19] محمد بن سیرین بیان فرماتے ہیں کہ کبھی کبھی ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کردیتے تھے۔ [20] انھوں نے ایک بہت قیمتی جوڑا خریدا تھا جس روز ان کوشب قدر کی توقع ہوتی تھی اسے اس روز پہنتے تھے۔ [21]

ریا سے پرہیز[ترمیم]

بایں ہمہ اپنی عبادت کولوگوں پرظاہر نہیں ہونے دیتے تھے، ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ آپ رات میں کتنی نمازیں پڑھتے ہیں، آپ اس سوال پر بہت نارض ہوئے اور فرمایا کہ ایک رکعت نماز جسے میں رات کی تنہائی میں پڑھوں، وہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں رات بھر نماز پڑھوں اور صبح کوسب سے بیان کرتا پھروں۔ [22]

مسجد میں روشنی کی ابتدا[ترمیم]

یہ آپ کا بہت بڑا شرف ہے کہ آپ نے مسجد میں روشنی کی سنتِ حسنہ جاری کی، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے مسجد میں چراغ جلانے اور روشنی کرنے کی ابتدا کی۔ [23]

ایک کرامت[ترمیم]

حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ایک مرتبہ مقام حرہ میں آگ لگی، حضرت عمررضی اللہ عنہ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے واقعہ بیان کیا، حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ وہاں گئے اور بے خطرآگ میں گھس گئے اور اسے بجھاکر صحیح وسالم واپس چلے آئے، حضرت عمررضی اللہ عنہ آپ کوخیراہل المدینہ (مدینہ کے سب سے اچھے اور نیک آدمی) فرمای کرتے تھے۔ [24]

حلیہ ولباس[ترمیم]

خوش پوش، خوش وضع اور خوبصورت آدمی تھے۔ [25]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.jstor.org/stable/25818214?seq=1
  2. (سمعانی:219، ذکرداری))
  3. (سمعانی، ذکرداری:219))
  4. (سمعانی، ذکرداری:219))
  5. (اصابہ، استیعاب، ابن سعد)
  6. (ابن سعد، اسدالغابہ)
  7. (ابن سعد:2/113)
  8. (اسدالغابہ:5/145)
  9. (تہذیب:1/512))
  10. (اصابہ میں جبرین ہے اور تہذیب میں جیرون، میں نے تہذیب ہی کے بیان کواختیار کیا، تہذیب:513۔ سمعانی:1/219)
  11. (تہذیب التہذیب:1/449، شاملہ، موقع يعسوب)
  12. (ابن سعد:2/713)
  13. (فتح الباری:1/219،
  14. (تہذیب التہذیب:511)؛
  15. (یہ تین نام استیعاب میں درج ہیں)
  16. (مسنداحمدبن حنبل، حَدِيثُ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ،حدیث نمبر:16985، شاملہ، الناشر: مؤسسة قرطبة،القاهرة)
  17. (مسنداحمدبن حنبل، حَدِيثُ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ،حدیث نمبر:16996، شاملہ، الناشر: مؤسسة قرطبة،القاهرة)
  18. (الجاثیۃ:21)
  19. (اصابہ۔ الغابہ۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے)
  20. (تہذیب التہذیب، ذکرتمیم)
  21. (صفوۃ الصفوۃ:1/310)
  22. (صفوۃ الصفوۃ:1/310)
  23. (ابن ماجہ، باب المساجد:56)
  24. (اصابہ:3/497)
  25. (اسدالغابہ:1/215)