تنویر المقباس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مضامین بسلسلہ
تفسیر قرآن
Mosque02.svg
زیادہ مشہور
سنی تفاسیر
شیعہ تفاسیر
معتزلی تفاسیر
دیگر تفاسیر
اصطلاحات
اسباب نزول

عربی تفسیر "تنویر المقباس"کا پورا نام "تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس" ہے اصل عربی تفسیر کے مصنف ابو الطاہر محمد بن یعقوب بن محمد بن بن ابراہیم نجد الدین الشیرازی الشافعی ہیں۔ اور یہ تفسیر تفسیر قرآن سے متعلق عبد اللہ ابن عباس کی روایات کا مجموعہ ہے جس کواردو میں مجد الدين أبو طاہر محمد بن يعقوب فیروزآبادى (المتوفى: 817ھ)نے تفسیر ابن عباس کے نام سے اکٹھاکیا بعض لوگ اسے فیروز آبادی کے نام سے منسوب کرتے ہیں اس کے حوالے سے اسلاف کی آراء مختلف فیہ ہیں۔ اس کی اسناد کے متعلق بھی گفتگو کی خاصی گنجائش ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی متعدد روایات صحاح ستہ و دیگر کتب حدیث مثلا: مسند احمد بن حنبل، مسند ابی داود الطیالسی، مسند الشافعی، مسند الحمیدی، معجم طبرانی، المنتقی لابن جارود، سنن دارمی، سنن الدارقطنی میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کے اقوال و آثار بھی ہیں۔ لغتِ عرب، تاریخ عرب، ایام العرب سے استشہاد و استناد بھی ہے۔ ابن عباس کی روایات سے مزین ہیں۔ ان تمام شواہد اور قرائن کی موجودگی میں اس مجموعہ روایات ابن عباس سے بے اعتنائی، قرینِ انصاف نہیں۔ پھر یہ تفسیر ایک طویل عرصے سے ہزاروں کی تعداد میں دنیا کے مختلف حصوں میں زیور طبع سے آراستہ ہو رہی ہے اور اہل علم اس سے استفادہ بھی کرتے رہے ہیں۔ اور ہمارے پاس ابن عباس جیسے مفسر اعظم کی تفسیری آراء کا اس کے علاوہ کوئی اور مجموعہ نہیں ہے۔ اس تفسیر کا ایک قلمی نسخہ پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں موجود ہے۔ یہ تفسیر 1314ھ کو امام سیوطی کی تفسیر در منثور کے حواشی پر مصر سے شائع ہوئی اور مستقل طور پر 1316ھ کو مصر سے چھپی اور برصغیر میں کئی مرتبہ شائع ہوئی، 1285ھ کو شاہ ولی اللہ کے ترجمہ قرآن کے ساتھ اور پھر شاہ رفیع الدین کے اردو ترجمہ کے حاشیہ پر بھی شائع ہوئی۔ اردو ترجمہ پہلی بار 1926ء میں آگرہ سے شائع ہوا اور 1970ء میں مولانا عابد الرحمن صدیقی کے ترجمہ کو کلام کمپنی کراچی نے شائع کیا۔[1]

تنویر المقباس کی سند[ترمیم]

تنویر المقباس کی سند یوں ہے "از کلبی از ابی صالح از ابن عباس"۔ اس کتاب میں ہر قسم کی روایات موجود ہیں۔ حضرت ابن عباس کی صحیح تفسیری روایات وہ ہیں جو مستند کتب احادیث میں اسانید صحیحہ سے منقول ہیں۔ حضرت ابن عباس کی جس روایت میں محمد بن سائب کلبی اور محمد بن مروان السدی دونوں موجود ہوں وہ غایت درجہ کی ضعیف روایت ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تنوير المقباس من تفسیر ابن عباس ناشر: دار الكتب العلمیہ - لبنان
  2. تبیان القرآن، جلد اول، مقدمہ تفسیر