مندرجات کا رخ کریں

توجہ کی کمی و بیش فعالی عارضہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
توجہ کی کمی بیش فعالی عارضہ
دیگر نامتوجہ کی کمی و حد سے زیادہ سرگرمی کا عارضہ (ADHD)
سابقہ اصطلاحات: توجہ کی کمی کا عارضہ (ADD)، ہائپرکائنیٹک عارضہ[1]
اختصاص
علامات
مضاعفاتتعلیمی مشکلات، سماجی مسائل، حادثات، مادہ کے استعمال کا عارضہ، اضطراب اور افسردگی
عمومی حملۂ مرضعلامات عموماً 12 سال کی عمر سے پہلے ظاہر ہوتی ہیں۔
مدتعموماً دیرپا؛ علامات بالغی تک برقرار رہ سکتی ہیں۔
اسباببنیادی طور پر وراثت؛ اس کے علاوہ حمل اور پیدائش سے متعلق بعض حیاتیاتی و ماحولیاتی عوامل
خطرے کے عواملقبل از وقت پیدائش، کم پیدائشی وزن، حمل کے دوران تمباکو یا الکحل کا استعمال، سیسہ سے سامنا
تشخیصی طریقہطبی تاریخ، علامات اور معیاری تشخیصی معیار (DSM-5-TR یا ICD-11) کی بنیاد پر
تفریقی تشخیص
بچاؤمکمل طور پر ممکن نہیں
علاج
مُداوا
انذارمناسب علاج سے اکثر افراد میں علامات اور روزمرہ کارکردگی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
شرحتقریباً 5% بچے اور 2.5% بالغ؛ تشخیصی معیار کے مطابق شرح مختلف ہو سکتی ہے۔[2][3]

اے ڈی ایچ ڈی، ایک نیورو ڈیولپ منٹل [1][2]قسم کا ایک ذہنی عارضہ ہے۔   اس کی خصوصیت میں توجہ دینے میں دشواری ،، ضرورت سے زیادہ سرگرمی اور تائج کی پرواہ کیے بغیر کام کرنا شامل ہے جو کسی شخص کی عمر کے حساب سے مناسب [3] [4]نہ ہو۔   اے ڈی ایچ ڈی والے کچھ افراد میں جذبات کو کنٹرول کرنے میں دشواری یا ایگریکٹو فنکشن[4][5][6][7] کے مسائل بھی ہوتے ہیں۔     تشخیص کے لیے، علامات، کسی شخص میں بارہ سال کی عمر سے پہلے ظاہر ہونی چاہئیں , چھ ماہ سے زیادہ موجود رہیں اور کم از کم دو ترتیبات (جیسے اسکول، گھر یا تفریحی سرگرمیاں)[8][9]میں مسائل پیدا کریں۔   بچوں میں، توجہ کی کمی کے نتیجے میں اسکول کی کارکردگی خراب ہو سکتی ہے[3]۔  اس کے علاوہ اس کا دیگر دماغی امراض اور منشیات کےغلط استعمال [10]کے ساتھ بھی تعلق ہے۔ یہ عارضہ، جدید معاشرے میں یہ  خاص طور پر خرابی کا سبب بنتا ہے، ADHD والے بہت سے افراد ان کاموں پر بھرپور توجہ رکھ سکتے ہیں جو انھیں دلچسپ یا مفید لگتے ہیں (جسے ہائپر فوکس کہا جاتا ہے)۔  [11][12]

بچوں اور نوعمروں میں سب سے زیادہ زیرتحقیق اور تشخیص شدہ ذہنی خرابی ہونے کے باوجود زیادہ تر معاملات میں اس کی صحیح وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ [8] جینیاتی عوامل کا امکان تقریباً 75 فیصد ہے۔[9] حمل کے دوران نکوٹین کااطراف میں استعمال، ماحولیاتی خطرہ ہو سکتا ہے۔[10] اندازپرورش یا نظم و ضبط سے اس عارضہ کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔[11] DSM-IV معیار کی تشخیص کے مطابق یہ تقریباً 5–7فیصد بچوں کو متاثر کرتا ہے [7][12] اور ICD-10 کے معیار کے ذریعے یہ شرح 1–2فی صد بتائی جاتی ہے۔ [13] 2015 تک، اس سے عالمی سطح پر تقریباً 51.1 ملین افراد کے متاثر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ [14] شرحیں تمام ممالک کے درمیان یکساں ہیں اوراس کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہے کہ اس کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے۔ [15] ADHD کی تشخیص لڑکوں میں لڑکیوں کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہوتی ہے، [7] جبکہ لڑکیوں میں اس کی علامات مختلف ہونے کی وجہ سے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔[16][17][18] بچپن میں تشخیص ہونے والے تقریباً 30-50فی صد افراد میں جوانی میں بھی یہ علامات پائی جاتی ہیں تقریباً 2-5فیصد بالغوں میں یہ حالت موجود ہوتی ہے۔ [19][20][21] بالغوں میں ہائپر ایکٹیویٹی کی بجائے اندرونی بے چینی ہو سکتی ہے۔[22] وہ اکثر اس سے نبٹنے کی صلاحیتیں تلاشتے ہیں جو ان کی کچھ یا تمام خرابیوں کوبہترکرسکتی ہیں۔ [23] اس عارضہ کی حالت کو دیگر حالتوں سے علاحدہ طور پر شناخت کرنا اور اس کے ساتھ اعلیٰ سطح کی سرگرمیوں میں فرق کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ وہ معمول کے رویوں کی حدود میں ہوں۔ [24]

اے ڈی ایچ ڈی کے انتظام کی سفارشات ملکوں کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں اور عام طور پر ان میں مشاورت، طرز زندگی میں تبدیلیوں اور ادویات کا امتزاج شامل ہوتا ہے۔ [25] برطانوی گائیڈ لائن صرف شدید علامات والے بچوں میں پہلی ترجیح کے طور پر علاج کے لیے دوائیوں کی سفارش کرتی ہے اور اعتدال پسند علامات والی صورت میں اس وقت دوائیوں پر غور کیا جاتا ہے جب وہ یا تو قطعی طور پر مشاورت سے سے انکار کرتے ہیں یا اس کے ذریعے بہتر ہونے میں ناکام رہتے ہیں، جبکہ بالغوں کے علاج کے لیے دوائیں پہلی ترجیح ہیں۔ [26] کینیڈین اور امریکی رہنما خطوط پری اسکول کی عمر کے بچوں میں طرز عمل کے انتظام کو پہلی ترجیح کے طور پر تجویز کرتے ہیں جب کہ اس کے بعد دوائیں اور رویے کی تھراپی ایک ساتھ تجویز کی جاتی ہے۔ [27][28][29] محرکات کے ساتھ علاج کم از کم 14 ماہ کے لیے موثر ہوتاہے۔  کیونکہ ان کی طویل مدتی تاثیر واضح نہیں ہے اور ممکنہ طور پر اس کے سنگین ضمنی اثرات ہیں۔ [30][31][32][33][34][35][36]

طبی ادب نے 18 ویں صدی سے ہی اے ڈی ایچ ڈی جیسی علامات بیان کی ہیں۔ [37] اے ڈی ایچ ڈی، اس کی تشخیص اور اس کے علاج کو 1970 کی دہائی سے متنازع سمجھا جاتا رہا ہے۔ [38] تنازعات میں معالجین، اساتذہ، پالیسی ساز، والدین اور میڈیا شامل ہیں۔ مضوعاتاے ڈی ایچ ڈی کی وجوہات اور اس کے علاج میں محرک ادویات کا استعمال شامل ہے۔ [39] زیادہ تر صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے اے ڈی ایچ ڈی کو بچوں اور بڑوں میں ایک حقیقی عارضے کے طور پر قبول کرتے ہیں اور سائنسی برادری میں بحث بنیادی طور پر اس بات پر مرکوز ہوتی ہے کہ اس کی تشخیص اور علاج کیسے کیا جاتا ہے۔ [40][41][42] اس حالت کو سرکاری طور پر 1980 سے 1987 تک توجہ کے کمی کی خرابی ( ADD ) کے نام سے جانا جاتا تھا، جبکہ اس سے پہلے اسے بچپن کا ہائپرکائنٹک رد عمل کہا جاتا تھا۔ [43][44]

توجہ کی کمی و بیش فعالی کے عارضہ (Attention deficit hyperactivity disorder (ADHD)[1]) کے بارے میں موجودہ طبی فہم ایک صدی سے زیادہ عرصے پر محیط تحقیق، طبی مشاہدات اور تشخیصی تصورات کے ارتقا کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ بے توجہی، غیر معمولی بے قراری اور جلد بازی جیسی علامات کی توصیف انیسویں صدی کی بعض طبی تحریروں میں بھی ملتی ہے، لیکن اس زمانے میں انھیں ایک الگ طبی عارضے کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ مختلف معالجین ان رویوں کو اخلاقی کمزوری، ناقص نظم و ضبط، اعصابی کمزوری یا شخصیت کی خرابی جیسے تصورات کے تحت بیان کرتے تھے، جس کے باعث ان کی تشریح اور علاج میں نمایاں اختلاف پایا جاتا تھا۔[45][46] سنہ 1902ء میں برطانوی ماہرِ اطفال جارج فریڈرک اسٹل نے رائل کالج آف فزیشنز میں اپنے مشہور لیکچرز میں ایسے بچوں کی تفصیلی وضاحت کی جن میں توجہ برقرار رکھنے میں دشواری، غیر معمولی بے قراری، جلد بازی، جذباتی بے قابو پن اور اپنے رویے کو منظم رکھنے کی کمزوری پائی جاتی تھی، حالانکہ ان کی ذہانت عمومی حد کے اندر تھی۔ اگرچہ اسٹل نے ان علامات کو موجودہ معنوں میں اے ڈی ایچ ڈی قرار نہیں دیا، لیکن ان کے مشاہدات کو بعد ازاں اس عارضے کی طبی شناخت کی بنیادوں میں شمار کیا جانے لگا کیونکہ انھوں نے پہلی مرتبہ ان رویوں کو محض اخلاقی ناکامی کی بجائے ایک طبی مسئلے کے طور پر پیش کیا۔[45][47]

بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں دماغی سوزش (Encephalitis lethargica) سے صحت یاب ہونے والے بعض بچوں میں توجہ، خود پر قابو رکھنے اور رویے سے متعلق مسائل سامنے آئے، جس کے بعد بعض محققین نے ایسے رویوں کو دماغی نقصان سے منسلک کرنا شروع کیا۔ اگرچہ بعد کی تحقیق نے واضح کیا کہ زیادہ تر افراد میں اے ڈی ایچ ڈی کسی واضح دماغی چوٹ یا ساختی خرابی کا نتیجہ نہیں ہوتا، لیکن ان مشاہدات نے اس تصور کو تقویت دی کہ یہ عارضہ دماغی افعال سے وابستہ ہو سکتا ہے، نہ کہ صرف تربیت یا کردار کی کمزوری سے۔[46][48] بیسویں صدی کے وسط تک مختلف اصطلاحات استعمال ہوتی رہیں، جن میں Minimal Brain Damage اور بعد ازاں Minimal Brain Dysfunction نمایاں تھیں۔ ان اصطلاحات کا مقصد ایسے بچوں کی وضاحت کرنا تھا جن میں رویے اور سیکھنے کے مسائل تو موجود تھے لیکن دماغی نقصان کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ واضح ہوا کہ ان اصطلاحات میں سائنسی دقت کی کمی ہے، اس لیے انھیں رفتہ رفتہ ترک کر دیا گیا۔ اسی عرصے میں بعض ممالک میں Hyperkinetic Syndrome اور Hyperkinetic Reaction of Childhood جیسی اصطلاحات بھی رائج ہوئیں، جن میں بنیادی توجہ غیر معمولی جسمانی سرگرمی پر مرکوز تھی۔[46][49]

امریکی نفسیاتی انجمن کی Diagnostic and Statistical Manual of Mental Disorders (DSM) نے اس عارضے کے تصور کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کیا۔ 1968ء میں شائع ہونے والے DSM-II میں Hyperkinetic Reaction of Childhood کی اصطلاح استعمال کی گئی، جبکہ 1980ء میں DSM-III نے پہلی مرتبہ Attention Deficit Disorder (ADD) کی اصطلاح متعارف کرائی اور اس کی دو ذیلی اقسام بیان کیں، جن میں ایک بیش فعالی کے ساتھ اور دوسری اس کے بغیر تھی۔ 1987ء میں DSM-III-R نے موجودہ اصطلاح Attention-Deficit Hyperactivity Disorder (ADHD) اختیار کی، جسے بعد کے تمام ایڈیشنوں میں مزید تحقیق کی روشنی میں مسلسل بہتر بنایا گیا۔ DSM-5 اور DSM-5-TR نے علامات کی عمر، بالغوں میں تشخیص، پیشکشوں (Presentations) اور تشخیصی معیار کو مزید واضح کیا۔[49][50]

اسی دوران عالمی ادارۂ صحت کے International Classification of Diseases (ICD) میں بھی اس عارضے کی درجہ بندی ارتقا پزیر رہی۔ ابتدائی ایڈیشنوں میں زیادہ زور بیش فعالی پر دیا جاتا تھا، لیکن ICD-11 نے اسے ایک عصبی نشوونمایی عارضے کے طور پر بیان کرتے ہوئے توجہ کی کمی، بیش فعالی اور جلد بازی پر مشتمل مختلف طبی پیشکشوں کو تسلیم کیا، جس سے ICD اور DSM کے تشخیصی تصورات پہلے کی نسبت زیادہ قریب آ گئے۔[51]

اکیسویں صدی میں جینیات، اعصابی تصویربرداری، نفسیات، وبائیات اور ادویاتی تحقیق میں ہونے والی پیش رفت نے اے ڈی ایچ ڈی کے بارے میں طبی فہم میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔ موجودہ سائنسی اتفاقِ رائے کے مطابق یہ ایک پیچیدہ عصبی نشوونمایی عارضہ ہے جس میں موروثی عوامل نمایاں کردار ادا کرتے ہیں اور دماغی نشو و نما، اجرائی افعال، توجہ کے نظام اور خود پر قابو رکھنے سے متعلق متعدد اعصابی نیٹ ورک شامل ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر جدید طبی رہنما اصول اس عارضے کو ناقص تربیت، ارادے کی کمزوری یا صرف سماجی عوامل کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے ایک حقیقی طبی حالت تصور کرتے ہیں جس کی تشخیص اور علاج کے لیے شواہد پر مبنی طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ہے۔[3][48][52]

علامات

[ترمیم]
DSM-5-TR اور ICD-11 کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی کی بنیادی علامات
عارضہ DSM-5-TR ICD-11
توجہ کی کمی

بچوں میں درج ذیل میں سے کم از کم چھ اور بالغوں میں پانچ یا اس سے زیادہ علامات کا کم از کم چھ ماہ تک موجود رہنا، بشرطیکہ ان کی بہتر وضاحت کسی دوسرے ذہنی یا جسمانی عارضے سے نہ ہو۔

  • معمولی غلطیاں کرنا یا تفصیلات پر توجہ نہ دینا
  • کسی کام یا کھیل میں توجہ برقرار رکھنے میں دشواری
  • بات کرتے وقت سننے میں بے توجہی ظاہر کرنا
  • ہدایات پر عمل نہ کرنا یا کام مکمل نہ کرنا
  • کاموں اور سرگرمیوں کو منظم کرنے میں دشواری
  • ایسے کاموں سے گریز جن میں طویل ذہنی توجہ درکار ہو
  • ضروری اشیاء بار بار گم کر دینا
  • بیرونی محرکات یا اپنے خیالات سے آسانی سے توجہ ہٹ جانا
  • روزمرہ سرگرمیوں کو بھول جانا

ایسی متعدد علامات جو تعلیم، ملازمت یا سماجی زندگی کو متاثر کریں، مثلاً:

  • مسلسل توجہ برقرار رکھنے میں دشواری، خصوصاً ایسے کاموں میں جو دلچسپ نہ ہوں یا مسلسل کوشش طلب ہوں
  • معمولی غلطیاں کرنا یا کام ادھورا چھوڑ دینا
  • آسانی سے توجہ ہٹ جانا یا گفتگو کے دوران ذہنی طور پر کھو جانا
  • روزمرہ زندگی میں بھول جانا، اشیاء گم کرنا اور غیر منظم رہنا

فرد میں بیش فعالی اور جلد بازی کی علامات بھی موجود ہو سکتی ہیں، لیکن توجہ کی کمی غالب ہوتی ہے۔

بیش فعالی اور جلد بازی

بچوں میں درج ذیل میں سے کم از کم چھ اور بالغوں میں پانچ یا اس سے زیادہ علامات:

  • ہاتھ پاؤں ہلاتے رہنا یا نشست پر بے چینی ظاہر کرنا
  • ایسی صورت حال میں اپنی نشست چھوڑ دینا جہاں بیٹھنا متوقع ہو
  • نامناسب مواقع پر دوڑنا یا چڑھنا (بالغوں میں شدید بے چینی کی صورت میں)
  • خاموشی سے کھیلنے یا سرگرمی میں حصہ لینے میں دشواری
  • ہر وقت متحرک یا ہر وقت حرکت میں محسوس ہونا
  • ضرورت سے زیادہ بات کرنا
  • سوال مکمل ہونے سے پہلے جواب دینا
  • اپنی باری کا انتظار نہ کر پانا
  • دوسروں کی گفتگو یا سرگرمی میں مداخلت کرنا

ایسی متعدد علامات جو روزمرہ کارکردگی کو متاثر کریں، مثلاً:

  • شدید جسمانی بے چینی یا ایک جگہ بیٹھنے میں دشواری
  • ضرورت سے زیادہ گفتگو کرنا
  • دوسروں کی بات کاٹ دینا یا جواب جلدی دینا
  • اپنی باری کا انتظار نہ کر پانا
  • نتائج پر مناسب غور کیے بغیر فوری فیصلے کرنا یا جلد بازی سے عمل کرنا

فرد میں توجہ کی کمی کی علامات بھی موجود ہو سکتی ہیں، لیکن بیش فعالی اور جلد بازی نمایاں ہوتی ہے۔

مشترکہ عارضے

توجہ کی کمی اور بیش فعالی/جلد بازی دونوں کے تشخیصی معیار پورے ہوں۔

توجہ کی کمی اور بیش فعالی/جلد بازی دونوں کی علامات نمایاں ہوں اور کوئی ایک دوسرے پر واضح طور پر غالب نہ ہو۔

اے ڈی ایچ ڈی کی علامات عموماً بچپن میں ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں اور مختلف افراد میں ان کی شدت اور نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ بنیادی علامات میں توجہ برقرار رکھنے میں دشواری، بیش فعالی اور جلد بازی (Impulsivity) شامل ہیں۔ یہ علامات عمر، جنس، ماحول اور انفرادی خصوصیات کے مطابق مختلف انداز میں ظاہر ہو سکتی ہیں اور ہر فرد میں تینوں اقسام کی علامات یکساں طور پر موجود ہونا ضروری نہیں۔[49][51][3]

DSM-5-TR کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی کی تین طبی پیشکشیں (Presentations) تسلیم کی جاتی ہیں: بنیادی طور پر توجہ کی کمی والی پیشکش، بنیادی طور پر بیش فعالی اور جلد بازی والی پیشکش اور مشترکہ پیشکش، جس میں دونوں اقسام کی علامات نمایاں ہوتی ہیں۔ یہ پیشکشیں وقت کے ساتھ تبدیل بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے انھیں مستقل ذیلی اقسام کی بجائے موجودہ علامات کی عکاسی سمجھا جاتا ہے۔[49][51]

علامات اس حد تک شدید ہونی چاہئیں کہ وہ تعلیمی، پیشہ ورانہ یا سماجی زندگی میں واضح رکاوٹ پیدا کریں۔ صرف کبھی کبھار بے توجہی یا بے چینی کو اے ڈی ایچ ڈی نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ ایسے رویے صحت مند افراد میں بھی وقتی طور پر ظاہر ہو سکتے ہیں۔ تشخیص اسی صورت میں کی جاتی ہے جب علامات عمر کے لحاظ سے غیر معمولی ہوں، طویل عرصے تک برقرار رہیں اور ایک سے زیادہ ماحول، مثلاً گھر، اسکول یا کام کی جگہ پر نمایاں ہوں۔[49][53][3]

توجہ کی کمی

[ترمیم]

توجہ کی کمی کی علامات میں کام پر مسلسل توجہ برقرار رکھنے میں دشواری، معمولی محرکات سے آسانی سے توجہ ہٹ جانا، ہدایات پر مکمل عمل نہ کر پانا، کاموں اور روزمرہ سرگرمیوں کو منظم کرنے میں مشکل، ایسی سرگرمیوں سے گریز جن میں طویل ذہنی توجہ درکار ہو، ضروری اشیاء کا بار بار گم کر دینا، روزمرہ ذمہ داریوں کو بھول جانا اور معمولی غلطیاں کرنا شامل ہیں۔ یہ علامات اسکول، ملازمت، گھریلو ذمہ داریوں اور سماجی تعلقات پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔[49][51]

بچوں میں توجہ کی کمی عموماً تعلیمی کارکردگی، ہوم ورک مکمل کرنے اور کلاس روم میں ہدایات پر عمل کرنے میں دشواری کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، جبکہ بالغ افراد میں وقت کے انتظام، منصوبہ بندی، کام مکمل کرنے، مالی معاملات سنبھالنے اور متعدد ذمہ داریوں کو یکجا رکھنے میں مشکلات زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔[49][3]

بیش فعالی اور جلد بازی

[ترمیم]

بیش فعالی کی علامات میں مسلسل بے چینی، ایک ہی جگہ بیٹھنے میں دشواری، غیر ضروری جسمانی حرکت، ضرورت سے زیادہ بات کرنا، خاموش سرگرمیوں میں حصہ لینے میں مشکل اور ہر وقت متحرک رہنے کا احساس شامل ہو سکتا ہے۔ جلد بازی کی علامات میں دوسروں کی بات کاٹ دینا، سوال مکمل ہونے سے پہلے جواب دینا، اپنی باری کا انتظار نہ کر پانا اور نتائج پر غور کیے بغیر فیصلے کرنا شامل ہیں۔[49][51]

کم عمر بچوں میں بیش فعالی زیادہ واضح ہوتی ہے، لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ ظاہری جسمانی سرگرمی اکثر کم ہو جاتی ہے۔ اس کے باوجود بہت سے نوجوانوں اور بالغوں میں اندرونی بے چینی، سکون سے نہ بیٹھ پانے کا احساس، جلد بازی اور خود پر قابو رکھنے میں دشواری برقرار رہ سکتی ہے، جو پیشہ ورانہ، تعلیمی اور سماجی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔[49][3][48]

جذباتی بے ضابطگی

[ترمیم]

اگرچہ جذباتی بے ضابطگی (Emotional dysregulation) اے ڈی ایچ ڈی کے باضابطہ تشخیصی معیار کا حصہ نہیں، لیکن بہت سے بچوں، نوجوانوں اور بالغوں میں یہ ایک نمایاں طبی خصوصیت کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ متاثرہ افراد معمولی مایوسی یا تنقید پر شدید جذباتی ردِ عمل ظاہر کر سکتے ہیں، غصہ جلد آ سکتا ہے، مزاج میں تیزی سے تبدیلی آ سکتی ہے اور جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ یہ مشکلات خاندانی تعلقات، دوستیوں، تعلیمی کارکردگی اور ملازمت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔[3][48]

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ جذباتی بے ضابطگی اکثر اے ڈی ایچ ڈی میں پائے جانے والے اجرائی افعال (Executive functions) اور خود پر قابو رکھنے کی کمزوری سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگرچہ ہر مریض میں یہ علامات موجود نہیں ہوتیں، لیکن موجودہ شواہد کے مطابق یہ مسئلہ بہت سے افراد میں بیماری کے مجموعی بوجھ اور معیارِ زندگی پر نمایاں اثر ڈالتا ہے۔[3][54]

بالغ افراد

[ترمیم]

اگرچہ اے ڈی ایچ ڈی کو طویل عرصے تک بنیادی طور پر بچوں کا عارضہ سمجھا جاتا رہا، لیکن اب یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ بہت سے افراد میں اس کی علامات بالغی تک برقرار رہتی ہیں۔ بالغوں میں ظاہری بیش فعالی نسبتاً کم ہو سکتی ہے، لیکن بے توجہی، جلد بازی، اندرونی بے چینی، وقت کے انتظام، منصوبہ بندی، تنظیم، مالی معاملات اور روزمرہ ذمہ داریوں کو نبھانے میں مشکلات اکثر برقرار رہتی ہیں۔[49][3]

بالغ افراد میں اے ڈی ایچ ڈی ازدواجی زندگی، ملازمت، اعلیٰ تعلیم، ڈرائیونگ، مالی استحکام اور سماجی تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے۔ بہت سے افراد کی تشخیص بچپن میں نہیں ہو پاتی اور ان میں بیماری کی شناخت بالغ عمر میں ہوتی ہے، خصوصاً جب تعلیمی یا پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔[49][53][48]

ذہانت

[ترمیم]
ذہانتی آزمائشوں میں مختلف ذیلی آزمائشوں کے باہمی تعلق کی مثال۔ اے ڈی ایچ ڈی میں عملی یادداشت اور عمل کاری کی رفتار نسبتاً زیادہ متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ عمومی ذہانت معمول کے مطابق برقرار رہ سکتی ہے۔

اے ڈی ایچ ڈی کی موجودگی بعض ذہانتی آزمائشوں (IQ tests) کے نتائج کی تشریح کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ متعدد معیاری آزمائشیں مختلف ذیلی آزمائشوں (Subtests) کے درمیان باہمی تعلق اور عمومی ذہانت (g factor) سے ان کے تعلق کو مدنظر رکھتی ہیں۔ اے ڈی ایچ ڈی کے حامل افراد میں خصوصاً عملی یادداشت (Working memory) اور عمل کاری کی رفتار (Processing speed) سے متعلق ذیلی آزمائشوں میں نسبتاً کم کارکردگی دیکھی جا سکتی ہے، حالانکہ ان کی عمومی ذہانت معمول کے مطابق یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے ماہرین نفسیات صرف مجموعی IQ اسکور پر انحصار کرنے کی بجائے تمام ذیلی آزمائشوں کا جامع تجزیہ کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ذخیرۂ الفاظ (Vocabulary) یا عمومی استدلال سے متعلق ذیلی آزمائشوں کو بھی اہمیت دیتے ہیں تاکہ فرد کی حقیقی ذہنی صلاحیت کا زیادہ درست اندازہ لگایا جا سکے۔[49][48]

اے ڈی ایچ ڈی اور ذہانت (IQ) کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا۔ یہ عارضہ کم، اوسط یا زیادہ ذہانت رکھنے والے افراد میں یکساں طور پر پایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ بعض متاثرہ افراد کی تعلیمی کارکردگی کمزور ہو سکتی ہے، لیکن اس کی وجہ عموماً توجہ برقرار رکھنے، منصوبہ بندی، تنظیم اور کام مکمل کرنے میں دشواری ہوتی ہے، نہ کہ ذہانت میں کمی۔[3][49]

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مناسب تشخیص، تعلیمی معاونت اور مؤثر علاج کے ذریعے اے ڈی ایچ ڈی کے حامل افراد اپنی ذہنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تعلیمی، پیشہ ورانہ اور سماجی میدانوں میں نمایاں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔[53][48]

اختلافات بر اساس جنس

[ترمیم]

اے ڈی ایچ ڈی کی علامات لڑکوں اور لڑکیوں میں مختلف انداز سے ظاہر ہو سکتی ہیں۔ لڑکوں میں عموماً بیش فعالی اور جلد بازی زیادہ نمایاں ہوتی ہے، جبکہ لڑکیوں میں بے توجہی نسبتاً زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے لڑکیوں میں تشخیص میں تاخیر یا بیماری کی شناخت نہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ ان کی علامات کم نمایاں یا کم خلل انگیز ہو سکتی ہیں۔[3][49]

بالغ خواتین میں بھی اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص نسبتاً کم ہوتی رہی ہے، حالانکہ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ عارضہ دونوں جنسوں میں پایا جاتا ہے۔ تشخیص کے وقت علامات کی نوعیت، عمر اور سماجی عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ بیماری کی بروقت شناخت اور مناسب علاج ممکن ہو سکے۔[3][53]

اسباب

[ترمیم]
The left prefrontal cortex, shown here in blue, is often affected in ADHD.

اے ڈی ایچ ڈی کی وجوہات مکمل طور پر معلوم نہیں، تاہم موجودہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ عصبی نشوونمایی عارضہ ہے جس کی تشکیل میں جینیاتی، حیاتیاتی اور ماحولیاتی عوامل باہم مل کر کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی ایک سبب کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، بلکہ مختلف خطرے کے عوامل مختلف افراد میں مختلف حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔[3][49]

جڑواں بچوں، خاندانوں اور گود لینے سے متعلق مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ اے ڈی ایچ ڈی میں موروثیت کا کردار نمایاں ہے۔ ایسے افراد جن کے والدین یا بہن بھائی اس عارضے کا شکار ہوں، ان میں اس کے پیدا ہونے کا امکان عام آبادی کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم اب تک کوئی ایک مخصوص جین دریافت نہیں ہوا جو اکیلے اس بیماری کا سبب بنتا ہو؛ اس کی بجائے متعدد جینیاتی تغیرات معمولی معمولی اثرات کے ساتھ مجموعی طور پر خطرہ بڑھاتے ہیں۔[55][3]

حمل اور پیدائش کے دوران بعض عوامل بھی خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں، جن میں قبل از وقت پیدائش، کم پیدائشی وزن، حمل کے دوران تمباکو نوشی یا الکحل کا استعمال، بعض زہریلے مادوں سے سامنا اور شدید قبل از پیدائش پیچیدگیاں شامل ہیں۔ تاہم ان عوامل کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کو لازماً اے ڈی ایچ ڈی ہوگا اور نہ یہ عوامل ہر مریض میں موجود ہوتے ہیں۔[3][52]

بعض ماحولیاتی عوامل، جیسے ابتدائی زندگی میں سیسہ (Lead) سے زیادہ سامنا، انتہائی کم عمری میں شدید نفسیاتی دباؤ یا بعض نایاب طبی پیچیدگیاں، بھی خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں، لیکن موجودہ شواہد کے مطابق یہ عوامل بیماری کی بنیادی وجہ نہیں سمجھے جاتے۔ اسی طرح عام والدین کی تربیت، معمول کی غذائیں، چینی کا استعمال یا ویکسین کو اے ڈی ایچ ڈی کا سبب ثابت نہیں کیا گیا۔[3][53]

موجودہ سائنسی اتفاقِ رائے کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی والدین کی ناقص تربیت، بچے کی سستی، اخلاقی کمزوری یا ارادے کی کمی کا نتیجہ نہیں ہے۔ اگرچہ خاندانی اور سماجی ماحول علامات کی شدت، روزمرہ کارکردگی اور علاج کے نتائج کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن یہ عوامل خود اس عارضے کی بنیادی وجہ نہیں سمجھے جاتے۔[3][48]

اگرچہ اے ڈی ایچ ڈی کی بنیادی علامات میں توجہ کی کمی، بیش فعالی اور جلد بازی شامل ہیں، لیکن اس عارضے کے ساتھ وابستہ کئی دیگر خصوصیات بھی پائی جا سکتی ہیں جو اگرچہ باضابطہ تشخیصی معیار کا حصہ نہیں، تاہم بہت سے افراد کی روزمرہ زندگی پر نمایاں اثر ڈالتی ہیں۔ ان میں ہائپر فوکس (Hyperfocus) شامل ہے، جس میں بعض افراد کسی پسندیدہ یا انتہائی دلچسپ سرگرمی پر اس قدر گہری توجہ مرکوز کر لیتے ہیں کہ انھیں وقت گزرنے، ارد گرد کے ماحول یا دیگر ذمہ داریوں کا احساس نہیں رہتا، جبکہ غیر دلچسپ کاموں پر توجہ برقرار رکھنا ان کے لیے بدستور مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح ذہنی آوارگی (Mind wandering) بھی عام دیکھی جاتی ہے، جس میں توجہ بار بار غیر ارادی طور پر موجودہ کام سے ہٹ کر اندرونی خیالات یا تصوراتی سوچ کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، جس سے مطالعہ، کام، گفتگو اور دیگر ذہنی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اے ڈی ایچ ڈی رکھنے والے افراد کو سماجی تعلقات، دوستی، ازدواجی زندگی، ملازمت، وقت کے انتظام اور مالی ذمہ داریوں میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں، کیونکہ جلد بازی، جذباتی بے ضابطگی اور تنظیمی کمزوریاں باہمی روابط اور روزمرہ فیصلوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ علاج نہ ہونے کی صورت میں ٹریفک حادثات، مادہ کے استعمال کے عوارض، تعلیمی ناکامی، بے روزگاری، قانونی مسائل اور خودکشی کے خیالات یا کوششوں کا خطرہ نسبتاً بڑھ سکتا ہے، تاہم بروقت تشخیص، مناسب ادویات، نفسیاتی معاونت، تعلیمی سہولیات اور خاندانی تعاون کے ذریعے ان خطرات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اس عارضے کی زیادہ یا کم تشخیص (Overdiagnosis یا Underdiagnosis)، خصوصاً بالغ افراد اور خواتین میں، موضوعِ بحث رہتی ہے، لیکن موجودہ بین الاقوامی سائنسی اتفاقِ رائے کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی ایک حقیقی عصبی نشوونمایی عارضہ ہے جس کی تشخیص مستند طبی معیار اور جامع طبی جائزے کی بنیاد پر کی جانی چاہیے، نہ کہ صرف انفرادی علامات یا ایک ہی تشخیصی آزمائش کی بنیاد پر۔[3][48][53][49]

مرضیاتی عمل

[ترمیم]

اے ڈی ایچ ڈی کا مرضیاتی عمل (Pathophysiology) مکمل طور پر واضح نہیں، لیکن موجودہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دماغ کے متعدد باہم مربوط اعصابی نیٹ ورکس کی نشو و نما اور فعالیت میں معمولی مگر اہم تبدیلیوں سے وابستہ ہے۔ یہ تبدیلیاں خاص طور پر توجہ برقرار رکھنے، اجرائی افعال، خود پر قابو رکھنے، منصوبہ بندی، محرکات کے انتخاب اور انعامی نظام (Reward system) سے متعلق دماغی سرکٹس کو متاثر کرتی ہیں۔[3][48]

اعصابی تصویربرداری (Neuroimaging) سے معلوم ہوا ہے کہ اے ڈی ایچ ڈی میں پیشانی قشر (Prefrontal cortex)، قاعدی عقدے (Basal ganglia)، مخیخ (Cerebellum) اور ان سے منسلک اعصابی نیٹ ورکس کی ساخت اور فعالیت میں معمولی فرق پایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ تبدیلیاں ہر مریض میں یکساں نہیں ہوتیں اور ان کی بنیاد پر انفرادی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔[3][49]

تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ڈوپامین اور نورایپی نیفرین (Norepinephrine) جیسے اعصابی پیام رساں مادے (Neurotransmitters) توجہ، خود پر قابو رکھنے اور اجرائی افعال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہی نظاموں پر اثر انداز ہونے والی محرک ادویات (Stimulants) اور بعض غیر محرک ادویات (Non-stimulants) علامات میں بہتری پیدا کر سکتی ہیں، جس سے ان اعصابی راستوں کی اہمیت کی مزید تائید ہوتی ہے۔[3][56][48]

اگرچہ متعدد حیاتیاتی عوامل کی نشان دہی کی جا چکی ہے، لیکن اب تک کوئی واحد حیاتیاتی نشانگر (Biomarker) دریافت نہیں ہوا جس کی بنیاد پر اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص کی جا سکے۔ اسی لیے موجودہ طبی رہنما اصولوں کے مطابق تشخیص بنیادی طور پر طبی تاریخ، علامات، جسمانی و ذہنی معائنے اور معیاری تشخیصی معیار پر مبنی ہوتی ہے، نہ کہ دماغی اسکین، خون کے ٹیسٹ یا جینیاتی جانچ پر۔[49][53][3]

تشخیص

[ترمیم]
علامات جو دیگر عوارض سے مشابہ ہو سکتی ہیں
افسردگی اضطرابی عارضہ دو قطبی عارضہ
  • ناامیدی یا مایوسی
  • کم خود اعتمادی یا اداسی
  • دلچسپی اور لطف میں کمی
  • تھکن یا توانائی میں کمی
  • نیند کے مسائل
  • توجہ برقرار رکھنے میں دشواری
  • بھوک میں تبدیلی
  • چڑچڑاپن یا غصہ
  • دباؤ برداشت کرنے کی کم صلاحیت
  • موت یا خودکشی کے خیالات
  • غیر واضح جسمانی درد
  • مستقل اضطراب
  • چڑچڑاپن
  • خوف یا گھبراہٹ کے شدید احساسات
  • حد سے زیادہ چوکنا رہنا
  • توجہ برقرار رکھنے میں دشواری
  • جلد تھک جانا
  • دباؤ برداشت کرنے کی کم صلاحیت

انمادی کیفیت (Mania)

  • غیر معمولی خوشی یا حد سے زیادہ جوش
  • بیش فعالی
  • خیالات کا تیزی سے بدلنا
  • جارحانہ رویہ
  • ضرورت سے زیادہ گفتگو
  • عظمت کے وہم (Grandiose delusions)
  • نیند کی ضرورت میں کمی
  • نامناسب سماجی رویہ
  • توجہ برقرار رکھنے میں دشواری

افسردہ کیفیت (Depression)

  • وہی علامات جو افسردگی میں پائی جاتی ہیں۔

اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص بنیادی طور پر طبی معائنے اور علامات کے جامع جائزے پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کے لیے کوئی واحد خون کا ٹیسٹ، دماغی اسکین یا حیاتیاتی نشانگر (Biomarker) موجود نہیں جو اس عارضے کی تصدیق کر سکے۔ تشخیص کے دوران مریض کی موجودہ علامات، نشو و نما، طبی اور نفسیاتی تاریخ، خاندانی پس منظر، تعلیمی یا پیشہ ورانہ کارکردگی اور مختلف ماحول، جیسے گھر، اسکول یا کام کی جگہ، میں علامات کے اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔[49][51][53]

تشخیص کے لیے علامات کا عمر کے لحاظ سے غیر معمولی ہونا، کم از کم چھ ماہ تک برقرار رہنا، بچپن میں ان کا آغاز ہونا اور روزمرہ زندگی کے دو یا زیادہ ماحول میں واضح خرابی پیدا کرنا ضروری ہے۔ علامات کی شدت اس حد تک ہونی چاہیے کہ وہ تعلیمی، سماجی یا پیشہ ورانہ کارکردگی کو نمایاں طور پر متاثر کریں اور ان کی بہتر وضاحت کسی دوسرے ذہنی، اعصابی یا جسمانی عارضے سے نہ ہو۔[49][51]

تشخیص کے عمل میں والدین، اساتذہ، شریکِ حیات یا دیگر قریبی افراد سے حاصل کردہ معلومات بھی اہم ہو سکتی ہیں، کیونکہ مختلف ماحول میں علامات کی نوعیت اور شدت ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہے۔ معیاری سوالنامے اور درجہ بندی کے پیمانے (Rating scales) تشخیص میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن انھیں طبی معائنے کا متبادل نہیں سمجھا جاتا۔[53][3]

تشخیص کرتے وقت ان بیماریوں کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے جن کی علامات اے ڈی ایچ ڈی سے مشابہ ہو سکتی ہیں یا جو اس کے ساتھ بیک وقت موجود ہوں، مثلاً اضطرابی عوارض، افسردگی، اٹزم اسپیکٹرم عارضہ، تعلمی عوارض، نیند کی خرابیاں، دو قطبی عارضہ، تائرواڈ کی بعض بیماریاں اور بعض ادویات یا منشیات کے اثرات۔ درست تشخیص کے لیے ان تمام امکانات کا مناسب جائزہ لینا ضروری ہے۔[49][53][3]

بالغ افراد میں تشخیص نسبتاً زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے کیونکہ بچپن کی علامات ہمیشہ واضح طور پر یاد نہیں رہتیں اور بیش فعالی کی ظاہری علامات عمر کے ساتھ کم ہو سکتی ہیں۔ اس لیے بالغوں کی تشخیص میں موجودہ علامات کے ساتھ بچپن کی قابلِ اعتماد معلومات، تعلیمی یا طبی ریکارڈ اور ممکنہ طور پر خاندان کے افراد یا دیگر ذرائع سے حاصل شدہ شواہد کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔[49][53]

ہم رکاب عوارض

[ترمیم]

اے ڈی ایچ ڈی کے شکار افراد میں دیگر ذہنی، عصبی نشوونمایی اور جسمانی عوارض عام آبادی کی نسبت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ ان ہم رکاب عوارض (Comorbidities) کی موجودگی علامات کی شدت، روزمرہ کارکردگی، علاج کے انتخاب اور طویل مدتی نتائج کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے تشخیص کے وقت ان کا باقاعدہ جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔[3][49]

ذہنی صحت سے متعلق ہم رکاب عوارض میں اضطرابی عوارض، افسردگی، مخالفانہ نافرمانی عارضہ (Oppositional defiant disorder)، سلوکی عارضہ (Conduct disorder)، دو قطبی عارضہ اور مادہ کے استعمال کا عارضہ شامل ہیں۔ ان میں سے بعض عوارض بچپن میں نمایاں ہوتے ہیں، جبکہ بعض کی تشخیص نوجوانی یا بالغی میں زیادہ ہوتی ہے۔[3][57]

اے ڈی ایچ ڈی اکثر دیگر عصبی نشوونمایی عوارض کے ساتھ بھی پایا جاتا ہے، جن میں اٹزم اسپیکٹرم عارضہ، مخصوص تعلمی عوارض، زبان اور گفتار کی بعض خرابیاں، نشوونمائی ہم آہنگی عارضہ (Developmental coordination disorder) اور ٹک عوارض شامل ہیں۔ ان عوارض کی بروقت شناخت علاج اور تعلیمی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔[49][3]

جسمانی ہم رکاب عوارض میں نیند کی خرابیاں نسبتاً عام ہیں، جبکہ بعض افراد میں موٹاپا، مرگی، دمہ اور دیگر دائمی طبی مسائل بھی عام آبادی کی نسبت زیادہ پائے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ ان تعلقات کی وجوہات مکمل طور پر واضح نہیں، لیکن متعدد حیاتیاتی اور ماحولیاتی عوامل ان میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔[3][54]

بالغ افراد میں ہم رکاب عوارض کی موجودگی تشخیص کو زیادہ پیچیدہ بنا سکتی ہے، کیونکہ اضطراب، افسردگی یا مادہ کے استعمال کی علامات بعض اوقات اے ڈی ایچ ڈی کی علامات سے مشابہ ہوتی ہیں یا انھیں چھپا دیتی ہیں۔ اسی لیے موجودہ طبی رہنما اصول جامع تشخیص اور تمام ممکنہ ہم رکاب عوارض کے منظم جائزے پر زور دیتے ہیں تاکہ مناسب علاج کا انتخاب کیا جا سکے۔[53][57][3]

علاج

[ترمیم]

اے ڈی ایچ ڈی کا علاج علامات کی شدت، عمر، ہم رکاب عوارض، مریض کی ضروریات اور روزمرہ زندگی پر بیماری کے اثرات کے مطابق انفرادی طور پر طے کیا جاتا ہے۔ موجودہ طبی رہنما اصولوں کے مطابق علاج میں مریض اور اہلِ خانہ کی تعلیم، تعلیمی یا پیشہ ورانہ معاونت، رویہ جاتی مداخلتیں، نفسیاتی معاونت اور ضرورت پڑنے پر ادویات کا امتزاج شامل ہو سکتا ہے۔[53][3][49]

بچوں میں علاج کے دوران والدین اور اساتذہ کو بیماری، علامات اور مؤثر حکمتِ عملیوں کے بارے میں آگاہ کرنا اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسکول میں مناسب سہولیات، تعلیمی معاونت، منظم معمولات، واضح ہدایات اور مثبت رویوں کی حوصلہ افزائی علامات کے بہتر انتظام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔[53][58]

رویہ جاتی علاج (Behavior therapy)، والدین کی تربیت (Parent training) اور بعض نفسیاتی مداخلتیں خصوصاً کم عمر بچوں میں مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ بڑے بچوں، نوجوانوں اور بالغوں میں علمی رویہ جاتی علاج (Cognitive behavioral therapy) بعض افراد کو وقت کے انتظام، تنظیم، منصوبہ بندی اور روزمرہ مسائل سے نمٹنے میں اضافی مدد فراہم کر سکتا ہے، تاہم یہ ادویات کا مکمل متبادل نہیں سمجھا جاتا۔[53][3]

محرک ادویات (Stimulants)، جیسے میتھائل فینیڈیٹ اور ایمفیٹامین پر مشتمل ادویات، اے ڈی ایچ ڈی کے علاج کے لیے سب سے مؤثر ادویات سمجھی جاتی ہیں اور متعدد مطالعات میں علامات میں نمایاں بہتری دکھا چکی ہیں۔ جب محرک ادویات مؤثر نہ ہوں، مناسب نہ ہوں یا برداشت نہ کی جا سکیں تو ایٹوموکسیٹین، گوانفاسین یا دیگر غیر محرک ادویات بعض مریضوں میں مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔[53][54][3]

ادویات کے ممکنہ مضر اثرات میں بھوک میں کمی، وزن میں کمی، نیند کے مسائل، سر درد، پیٹ کی تکلیف اور دل کی دھڑکن یا بلڈ پریشر میں معمولی تبدیلی شامل ہو سکتی ہے، اس لیے علاج کے دوران باقاعدہ طبی نگرانی کی جاتی ہے۔ زیادہ تر افراد میں مناسب خوراک کے انتخاب اور فالو اپ کے ذریعے ان اثرات کا مؤثر انتظام کیا جا سکتا ہے۔[53][58][3]

غذا، وٹامنز، معدنی سپلیمنٹس، متبادل علاج یا دیگر غیر روایتی طریقوں کے بارے میں شواہد محدود یا غیر مستقل ہیں، اس لیے موجودہ بین الاقوامی رہنما اصول انھیں معمول کے علاج کے متبادل کے طور پر تجویز نہیں کرتے۔[53][3]

تشخیصی کیفیت

[ترمیم]

اے ڈی ایچ ڈی کی طویل مدتی کیفیت (Prognosis) افراد کے درمیان مختلف ہو سکتی ہے۔ بعض بچوں میں عمر کے ساتھ بیش فعالی کی علامات کم ہو جاتی ہیں، جبکہ بے توجہی، جلد بازی اور اجرائی افعال سے متعلق مشکلات نوجوانی اور بالغی تک برقرار رہ سکتی ہیں۔ بہت سے افراد مناسب علاج، تعلیمی معاونت اور سماجی حمایت کے ذریعے معمول کی تعلیم، ملازمت اور خاندانی زندگی گزارنے کے قابل ہوتے ہیں۔[3][49]

اگر بیماری کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج نہ کیا جائے تو یہ تعلیمی کارکردگی، ملازمت، سماجی تعلقات، ذہنی صحت اور معیارِ زندگی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ بعض افراد میں اسکول چھوڑنے، بے روزگاری، حادثات، مالی مشکلات، قانونی مسائل اور مادہ کے استعمال کے خطرات بھی نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں، اگرچہ مناسب علاج سے ان خطرات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔[3][48][53]

موجودہ شواہد کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی ایک قابلِ علاج مگر عموماً دیرپا عصبی نشوونمایی عارضہ ہے۔ علاج کا مقصد بیماری کو "ختم" کرنا نہیں بلکہ علامات میں کمی، روزمرہ کارکردگی میں بہتری، ہم رکاب عوارض کے مناسب علاج اور مریض کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔[53][3]

وبائیات

[ترمیم]

اے ڈی ایچ ڈی دنیا بھر میں بچوں اور بالغوں میں پائے جانے والے عام ترین عصبی نشوونمایی عوارض میں سے ایک ہے۔ مختلف مطالعات میں اس کی شرحِ وقوع آبادی، تشخیصی معیار اور تحقیق کے طریقۂ کار کے مطابق مختلف رہی ہے، تاہم عالمی سطح پر اندازاً تقریباً 5 فیصد بچوں اور 2.5 فیصد بالغوں میں یہ عارضہ پایا جاتا ہے۔[2][3]

ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ اے ڈی ایچ ڈی زیادہ تر لڑکوں میں پایا جاتا ہے، لیکن حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لڑکیوں اور خواتین میں بھی یہ عارضہ عام ہے، اگرچہ ان میں علامات کی نوعیت مختلف ہونے کی وجہ سے تشخیص نسبتاً کم ہو سکتی ہے۔[3][49]

دنیا کے مختلف ممالک، ثقافتوں اور نسلی گروہوں میں اے ڈی ایچ ڈی کی موجودگی ثابت ہو چکی ہے۔ اگرچہ تشخیص کی شرح صحت کے نظام، آگاہی، تشخیصی سہولیات اور استعمال ہونے والے معیار کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ عارضہ کسی خاص ملک، ثقافت یا سماجی طبقے تک محدود نہیں ہے۔[2][3]

معاشرہ اور ثقافت

[ترمیم]

اے ڈی ایچ ڈی کے بارے میں عوامی آگاہی میں گذشتہ چند دہائیوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود اس عارضے کے بارے میں متعدد غلط فہمیاں اب بھی موجود ہیں۔ بعض افراد اسے ناقص تربیت، سستی، ارادے کی کمزوری یا نظم و ضبط کی کمی کا نتیجہ سمجھتے ہیں، حالانکہ موجودہ سائنسی شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ ایک حقیقی عصبی نشوونمایی عارضہ ہے جس کی واضح حیاتیاتی بنیاد موجود ہے۔[3][49]

اے ڈی ایچ ڈی کے شکار افراد کو اسکول، کام کی جگہ اور معاشرے میں بدنامی (Stigma)، غلط فہمیوں اور امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے باعث بعض افراد تشخیص یا علاج حاصل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ مناسب آگاہی، بروقت تشخیص اور شواہد پر مبنی علاج ایسے افراد کے معیارِ زندگی، تعلیمی کامیابی اور سماجی شمولیت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔[53][3]

بعض ممالک میں اے ڈی ایچ ڈی کے حامل طلبہ اور ملازمین کو تعلیمی یا پیشہ ورانہ سہولیات (Accommodations) فراہم کی جاتی ہیں، جن میں امتحانات کے لیے اضافی وقت، نسبتاً پرسکون ماحول، منظم تدریسی معاونت یا کام کی نوعیت کے مطابق مناسب انتظامات شامل ہو سکتے ہیں۔ ایسی سہولیات کا مقصد فرد کی معذوری کا ازالہ کرنا نہیں بلکہ مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔[53][58]

تحقیق

[ترمیم]

موجودہ تحقیق اے ڈی ایچ ڈی کی جینیاتی بنیاد، دماغی نشو و نما، اعصابی نیٹ ورکس، ماحولیاتی خطرے کے عوامل، تشخیصی طریقوں اور نئے علاج پر مرکوز ہے۔ جینومی مطالعات سے متعدد جینیاتی تغیرات کی نشان دہی ہوئی ہے جو بیماری کے خطرے میں معمولی اضافہ کرتے ہیں، لیکن اب تک کوئی ایک ایسا جین دریافت نہیں ہوا جو اکیلے اس عارضے کا سبب بنتا ہو۔[55][3]

تاریخ

[ترمیم]
اے ڈی ایچ ڈی کے تشخیصی معیار، شرحِ تشخیص اور علاج کے ارتقا کی زمانی ترتیب

اعصابی تصویربرداری، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تشخیصی آلات اور نئے ادویاتی طریقۂ علاج پر بھی تحقیق جاری ہے، تاہم موجودہ طبی رہنما اصولوں کے مطابق ان میں سے کوئی بھی طریقہ معمول کی طبی تشخیص کا متبادل نہیں ہے۔ مستقبل کی تحقیق کا مقصد بیماری کے حیاتیاتی عمل کو بہتر طور پر سمجھنا، زیادہ مؤثر اور محفوظ علاج تیار کرنا اور مختلف عمر کے افراد کے لیے انفرادی نوعیت کی علاجی حکمتِ عملیاں وضع کرنا ہے۔[3][49]

اگرچہ اے ڈی ایچ ڈی کی علامات سے مشابہ رویوں کا ذکر اٹھارہویں صدی کے طبی ادب میں بھی ملتا ہے، لیکن اس عارضے کے بارے میں سائنسی فہم وقت کے ساتھ بتدریج ارتقا پزیر ہوئی۔ 1798ء میں اسکاٹ لینڈ کے معالج الیگزینڈر کرائٹن (Sir Alexander Crichton) نے اپنی کتاب An Inquiry into the Nature and Origin of Mental Derangement میں بعض بچوں میں ذہنی بے قراری (Mental restlessness)، توجہ برقرار رکھنے میں دشواری اور بے چینی جیسی علامات بیان کیں، جنھیں بعد میں اے ڈی ایچ ڈی سے مشابہ قرار دیا گیا۔ تاہم اس عارضے کی پہلی واضح طبی وضاحت عام طور پر برطانوی ماہرِ اطفال جارج فریڈرک اسٹل سے منسوب کی جاتی ہے، جنھوں نے 1902ء میں رائل کالج آف فزیشنز، لندن میں اپنے مشہور لیکچرز کے دوران ایسے بچوں کی تفصیل بیان کی جن میں خود پر قابو رکھنے، توجہ برقرار رکھنے اور رویے کو منظم کرنے میں نمایاں مشکلات موجود تھیں۔[45][59][46]

اس عارضے کی تشخیصی اصطلاحات بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہیں۔ 1930ء کی دہائی میں Minimal Brain Damage کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی، جسے بعد میں Minimal Brain Dysfunction سے بدل دیا گیا۔ تشخیصی و شماریاتی دستیِ ذہنی عوارض (DSM-I) میں 1952ء کے دوران بھی اسی تصور کو استعمال کیا گیا، جبکہ DSM-II (1968ء) میں اس عارضے کو Hyperkinetic Reaction of Childhood کا نام دیا گیا۔ 1980ء میں شائع ہونے والے DSM-III نے پہلی مرتبہ Attention Deficit Disorder (ADD) کی اصطلاح متعارف کرائی، جسے بیش فعالی کے ساتھ یا اس کے بغیر دو صورتوں میں تقسیم کیا گیا۔ 1987ء میں DSM-III-R نے موجودہ اصطلاح Attention-Deficit Hyperactivity Disorder (ADHD) اختیار کی، جبکہ DSM-IV (1994ء) نے اسے تین ذیلی پیشکشوں—بنیادی طور پر توجہ کی کمی، بنیادی طور پر بیش فعالی و جلد بازی اور مشترکہ پیشکش—میں تقسیم کیا۔ یہی بنیادی درجہ بندی بعد میں DSM-5 (2013ء) اور DSM-5-TR (2022ء) میں بھی برقرار رکھی گئی، اگرچہ Subtypes کی جگہ Presentations کی اصطلاح استعمال کی گئی۔[49][50]

1970ء کی دہائی سے اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص اور علاج مختلف سائنسی اور سماجی مباحث کا موضوع رہے ہیں۔ ان مباحث میں یہ سوالات شامل رہے کہ آیا یہ کیفیت انسانی رویوں کے معمول کے تنوع کا حصہ ہے یا ایک الگ طبی عارضہ، اس کی موروثیت کی نوعیت کیا ہے، بچوں میں محرک ادویات کے استعمال کی حدود کیا ہونی چاہئیں، تشخیص کا بہترین طریقۂ کار کون سا ہے اور آیا بعض علاقوں میں اس کی ضرورت سے زیادہ یا کم تشخیص کی جا رہی ہے۔ 2009ء میں برطانیہ کے قومی ادارہ برائے صحت و نگہداشت میں عمدگی (NICE) نے واضح کیا کہ موجودہ تشخیصی معیار اور علاجی سفارشات دستیاب سائنسی شواہد اور غالب علمی اتفاقِ رائے پر مبنی ہیں۔[53][3]

1990ء کی دہائی میں اعصابی تصویربرداری (Neuroimaging) کی ترقی کے بعد ہونے والی تحقیقات نے اس نظریے کو مزید تقویت دی کہ اے ڈی ایچ ڈی دماغ کے بالخصوص پیشانی حصے (Frontal lobes) اور متعلقہ اعصابی نیٹ ورکس کی فعالیت میں فرق سے وابستہ ہے۔ اسی عرصے میں جینیاتی مطالعات نے اس عارضے کی مضبوط موروثی بنیاد کی بھی تصدیق کی اور یہ تسلیم کیا جانے لگا کہ اے ڈی ایچ ڈی ایک دیرپا عصبی نشوونمایی عارضہ ہے جو بہت سے افراد میں بچپن سے بالغی تک برقرار رہتا ہے۔ 1994ء میں لاہے (Lahey) اور ان کے رفقا کی تحقیق کی بنیاد پر اس کی موجودہ طبی پیشکشوں کی درجہ بندی وضع کی گئی، جبکہ 2021ء میں دنیا بھر کے ماہرین نے World Federation of ADHD International Consensus Statement شائع کیا، جس میں اے ڈی ایچ ڈی سے متعلق 208 شواہد پر مبنی سائنسی نتائج پیش کیے گئے۔[55][3][48]

اے ڈی ایچ ڈی کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی تاریخ بھی تقریباً ایک صدی پر محیط ہے۔ 1934ء میں بینزیڈرین (Benzedrine) ریاستہائے متحدہ میں منظور ہونے والی پہلی ایمفیٹامین دوا تھی، جبکہ 1937ء میں ماہرِ نفسیات چارلس بریڈلی نے پہلی مرتبہ بچوں میں رویے کے مسائل کے علاج کے لیے بینزیڈرین استعمال کی اور مشاہدہ کیا کہ اس سے نہ صرف رویے بلکہ تعلیمی کارکردگی میں بھی بہتری آتی ہے۔ بعد ازاں 1950ء کی دہائی میں میتھائل فینیڈیٹ متعارف کرایا گیا اور 1970ء کی دہائی میں ڈیکسٹروایمفیٹامین کا استعمال شروع ہوا۔ یہ ادویات آج بھی مناسب طبی نگرانی کے تحت اے ڈی ایچ ڈی کے علاج میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔[60][48]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 Stephen V. Faraone؛ Mark A. Bellgrove؛ Isabell Brikell؛ Samuele Cortese؛ Catharina A. Hartman؛ Chris Hollis؛ Jeffrey H. Newcorn؛ Alexandra Philipsen؛ Guilherme V. Polanczyk؛ Katya Rubia؛ Margaret H. Sibley؛ Jan K. Buitelaar (22 فروری 2024)۔ "Attention-deficit/hyperactivity disorder"۔ Nature Reviews Disease Primers۔ ج 10 شمارہ 1: 11۔ DOI:10.1038/s41572-024-00495-0۔ PMID:38388701
  2. 1 2 3 Guilherme V. Polanczyk؛ Erik G. Willcutt؛ Giovanni A. Salum؛ Christian Kieling؛ Luis Augusto Rohde (2015)۔ "ADHD prevalence estimates across three decades: an updated systematic review and meta-regression analysis"۔ International Journal of Epidemiology۔ ج 43 شمارہ 2: 434–442۔ DOI:10.1093/ije/dyt261۔ PMID:24464188
  3. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 Stephen V. Faraone؛ Philip Asherson؛ Tobias Banaschewski؛ Joseph Biederman؛ Jan K. Buitelaar؛ David Coghill؛ دیگر (2021)۔ "The World Federation of ADHD International Consensus Statement: 208 Evidence-based Conclusions about the Disorder"۔ Neuroscience & Biobehavioral Reviews۔ ج 128: 789–818۔ DOI:10.1016/j.neubiorev.2021.01.022۔ PMID:33549739
  4. SV Faraone، AL Rostain، J Blader، B Busch، AC Childress، DF Connor، JH Newcorn (فروری 2019)۔ "Practitioner Review: Emotional dysregulation in attention-deficit/hyperactivity disorder - implications for clinical recognition and intervention"۔ Journal of Child Psychology and Psychiatry, and Allied Disciplines۔ ج 60 شمارہ 2: 133–150۔ DOI:10.1111/jcpp.12899۔ PMID:29624671۔ 2021-08-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-08-08
  5. RB Tenenbaum، ED Musser، S Morris، AR Ward، JS Raiker، EK Coles، WE Pelham (اپریل 2019)۔ "Response Inhibition, Response Execution, and Emotion Regulation among Children with Attention-Deficit/Hyperactivity Disorder"۔ Journal of Abnormal Child Psychology۔ ج 47 شمارہ 4: 589–603۔ DOI:10.1007/s10802-018-0466-y۔ PMC:6377355۔ PMID:30112596
  6. F Lenzi، S Cortese، J Harris، G Masi (جنوری 2018)۔ "Pharmacotherapy of emotional dysregulation in adults with ADHD: A systematic review and meta-analysis"۔ Neuroscience and Biobehavioral Reviews۔ ج 84: 359–367۔ DOI:10.1016/j.neubiorev.2017.08.010۔ PMID:28837827۔ 2020-07-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-07-31
  7. 1 2 3 American Psychiatric Association (2013)۔ Diagnostic and Statistical Manual of Mental Disorders (5th ایڈیشن)۔ Arlington: American Psychiatric Publishing۔ ص 59–65۔ ISBN:978-0-89042-555-8
  8. NIMH (2013)۔ "Attention Deficit Hyperactivity Disorder (Easy-to-Read)"۔ National Institute of Mental Health۔ 2016-04-14 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-04-17
  9. Demontis, Ditte (2019)
  10. Tiesler, Carla M. T.; Heinrich, Joachim (21 September 2014)
  11. "Does Bad Parenting Cause ADHD?"۔ WebMD۔ 2020-07-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-07-31
  12. Willcutt EG (July 2012)
  13. Philip Cowen؛ Paul Harrison؛ Tom Burns (2012)۔ "Drugs and other physical treatments"۔ Shorter Oxford Textbook of Psychiatry (6th ایڈیشن)۔ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس۔ ص 546۔ ISBN:978-0-19-960561-3 بذریعہ Google Books
  14. GBD 2015 Disease and Injury Incidence and Prevalence Collaborators (اکتوبر 2016)۔ "Global, regional, and national incidence, prevalence, and years lived with disability for 310 diseases and injuries, 1990–2015: a systematic analysis for the Global Burden of Disease Study 2015"۔ Lancet۔ ج 388 شمارہ 10053: 1545–1602۔ DOI:10.1016/S0140-6736(16)31678-6۔ PMC:5055577۔ PMID:27733282 {{حوالہ رسالہ}}: |مصنف= باسم عام (معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: عددی نام: مصنفین کی فہرست (link)
  15. SV Faraone (2011)۔ "Ch. 25: Epidemiology of Attention Deficit Hyperactivity Disorder"۔ Textbook of Psychiatric Epidemiology (3rd ایڈیشن)۔ John Wiley & Sons۔ ص 450۔ ISBN:9780470977408۔ 2020-12-22 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-07-31
  16. Crawford, Nicole (February 2003)
  17. Emond V, Joyal C, Poissant H (April 2009)
  18. Singh I (December 2008)
  19. Kooij SJ, Bejerot S, Blackwell A, Caci H, Casas-Brugué M, Carpentier PJ, Edvinsson D, Fayyad J, Foeken K, Fitzgerald M, Gaillac V, Ginsberg Y, Henry C, Krause J, Lensing MB, Manor I, Niederhofer H, Nunes-Filipe C, Ohlmeier MD, Oswald P, Pallanti S, Pehlivanidis A, Ramos-Quiroga JA, Rastam M, Ryffel-Rawak D, Stes S, Asherson P (September 2010).
  20. Bálint S, Czobor P, Mészáros A, Simon V, Bitter I (2008)
  21. Ginsberg Y, Quintero J, Anand E, Casillas M, Upadhyaya HP (2014)
  22. National Collaborating Centre for Mental Health (UK) (2009)۔ Attention deficit hyperactivity disorder : diagnosis and management of ADHD in children, young people, and adults۔ National Collaborating Centre for Mental Health (Great Britain), National Institute for Health and Clinical Excellence (Great Britain), British Psychological Society., Royal College of Psychiatrists.۔ Leicester: British Psychological Society۔ ص 17۔ ISBN:9781854334718۔ OCLC:244314955۔ PMID:22420012
  23. .Gentile JP, Atiq R, Gillig PM (August 2006)
  24. Mina K. Dulcan؛ MaryBeth Lake (2011)۔ "Axis I Disorders Usually First Diagnosed in Infancy, Childhood or Adolescence: Attention-Deficit and Disruptive Behavior Disorders"۔ Concise Guide to Child and Adolescent Psychiatry (4th illustrated ایڈیشن)۔ American Psychiatric Publishing۔ ص 34۔ ISBN:978-1-58562-416-4 بذریعہ Google Books
  25. "Attention Deficit Hyperactivity Disorder"۔ National Institute of Mental Health۔ مارچ 2016۔ 2016-07-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-03-05
  26. National Collaborating Centre for Mental Health (2009)۔ "Pharmacological Treatment"۔ Attention Deficit Hyperactivity Disorder: Diagnosis and Management of ADHD in Children, Young People and Adults۔ NICE Clinical Guidelines۔ Leicester: British Psychological Society۔ ج 72۔ ص 303–307۔ ISBN:978-1-85433-471-8۔ 2016-01-13 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا بذریعہ NCBI Bookshelf
  27. "Canadian ADHD Practice Guidelines" (PDF)۔ Canadian ADHD Alliance۔ 2021-01-21 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا (PDF)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-02-04
  28. "Attention-Deficit / Hyperactivity Disorder (ADHD): Recommendations"۔ Centers for Disease Control and Prevention۔ 24 جون 2015۔ 2015-07-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-07-13
  29. Wolraich, ML; Hagan JF, Jr; Allan, C; Chan, E; Davison, D; Earls, M; Evans, SW; Flinn, SK; Froehlich, T; Frost, J; Holbrook, JR; Lehmann, CU; Lessin, HR; Okechukwu, K; Pierce, KL; Winner, JD; Zurhellen, W; SUBCOMMITTEE ON CHILDREN AND .ADOLESCENTS WITH ATTENTION-DEFICIT/HYPERACTIVE, DISORDER
  30. Storebø OJ, Pedersen N, Ramstad E, Kielsholm ML, Nielsen SS, Krogh HB, Moreira-Maia CR, Magnusson FL, Holmskov M, Gerner T, Skoog M, Rosendal S, Groth C, Gillies D, Buch Rasmussen K, Gauci D, Zwi M, Kirubakaran R, Håkonsen SJ, Aagaard L, Simonsen E, Gluud C (May 2018).
  31. "NIMH " The Multimodal Treatment of Attention Deficit Hyperactivity Disorder Study (MTA):Questions and Answers"۔ NIMH " Home۔ 2021-01-30 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-01۔ Why were the MTA medication treatments more effective than community treatments that also usually included medication? Answer: There were substantial differences in quality and intensity between the study-provided medication treatments and those provided in the community care group.
  32. National Collaborating Centre for Mental Health (2009)۔ Attention Deficit Hyperactivity Disorder: Diagnosis and Management of ADHD in Children, Young People and Adults۔ NICE Clinical Guidelines۔ Leicester: British Psychological Society۔ ج 72۔ ISBN:978-1-85433-471-8۔ 2016-01-13 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا بذریعہ NCBI Bookshelf
  33. Huang YS, Tsai MH (July 2011)
  34. Arnold LE, Hodgkins P, Caci H, Kahle J, Young S (February 2015)
  35. Parker J, Wales G, Chalhoub N, Harpin V (September 2013)
  36. .Wigal SB (2009)
  37. Lange KW, Reichl S, Lange KM, Tucha L, Tucha O (December 2010)
  38. VN Parrillo (2008)۔ Encyclopedia of Social Problems۔ SAGE۔ ص 63۔ ISBN:9781412941655۔ 2020-01-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-05-02
  39. .Mayes R, Bagwell C, Erkulwater J (2008)
  40. .Sim MG, Hulse G, Khong E (August 2004)
  41. LB Silver (2004)۔ Attention-deficit/hyperactivity disorder (3rd ایڈیشن)۔ American Psychiatric Publishing۔ ص 4–7۔ ISBN:978-1-58562-131-6
  42. .Schonwald A, Lechner E (April 2006)
  43. Lawrence G. Weiss (2005)۔ WISC-IV clinical use and interpretation scientist-practitioner perspectives (1st ایڈیشن)۔ Amsterdam: Elsevier Academic Press۔ ص 237۔ ISBN:978-0-12-564931-5۔ 2021-01-16 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-07-31
  44. "ADHD: The Diagnostic Criteria"
  45. 1 2 3 George Frederic Still (1902)۔ "Some Abnormal Psychical Conditions in Children"۔ The Lancet۔ ج 159 شمارہ 4102: 1008–1012۔ DOI:10.1016/S0140-6736(01)80422-4
  46. 1 2 3 4 Klaus W. Lange؛ Sabine Reichl؛ Konstanze M. Lange؛ Lara Tucha؛ Oliver Tucha (2010)۔ "The history of attention deficit hyperactivity disorder"۔ Attention Deficit and Hyperactivity Disorders۔ ج 2 شمارہ 4: 241–255۔ DOI:10.1007/s12402-010-0045-8۔ PMID:21258430
  47. Russell A. Barkley (2006)۔ "The Relevance of the Still Lectures to Attention-Deficit/Hyperactivity Disorder: A Commentary"۔ Journal of Attention Disorders۔ ج 10 شمارہ 2: 137–140۔ DOI:10.1177/1087054706288114۔ PMID:17085624
  48. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 Russell A. Barkley (2023)۔ Barkley's Attention-Deficit Hyperactivity Disorder: A Handbook for Diagnosis and Treatment (5th ایڈیشن)۔ New York: The Guilford Press۔ ISBN:978-1-4625-5495-2 {{حوالہ کتاب}}: تأكد من صحة |isbn= القيمة: checksum (معاونت)
  49. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 American Psychiatric Association (2022)۔ Diagnostic and Statistical Manual of Mental Disorders (5th Text Revision (DSM-5-TR) ایڈیشن)۔ Washington, DC: American Psychiatric Association Publishing۔ DOI:10.1176/appi.books.9780890425787۔ ISBN:978-0-89042-576-3
  50. 1 2 "Highlights of Changes from DSM-IV-TR to DSM-5"۔ American Psychiatric Association۔ American Psychiatric Association۔ 2023-04-01 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-07-28
  51. 1 2 3 4 5 6 7 "ICD-11 for Mortality and Morbidity Statistics: Attention deficit hyperactivity disorder"۔ World Health Organization۔ World Health Organization۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-07-28{{حوالہ ویب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: url-status (link)
  52. 1 2 Anita Thapar؛ Miriam Cooper (2016)۔ "Attention deficit hyperactivity disorder"۔ The Lancet۔ ج 387 شمارہ 10024: 1240–1250۔ DOI:10.1016/S0140-6736(15)00238-X۔ PMID:26386541
  53. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 "Attention deficit hyperactivity disorder: diagnosis and management (NG87)"۔ National Institute for Health and Care Excellence۔ NICE۔ 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-07-28{{حوالہ ویب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: url-status (link)
  54. 1 2 3 Samuele Cortese؛ Nancy Adamo؛ Cristiana Del Giovane (2021)۔ "Comparative efficacy and tolerability of pharmacological interventions for attention-deficit hyperactivity disorder in children, adolescents, and adults: a systematic review and network meta-analysis"۔ The Lancet Psychiatry۔ ج 8 شمارہ 9: 727–742۔ DOI:10.1016/S2215-0366(21)00312-0۔ PMID:34329808 {{حوالہ رسالہ}}: الوسيط |مصنفین کی نمائش=6 غير صالح (معاونت)
  55. 1 2 3 Ditte Demontis؛ Raymond K. Walters؛ Joanna Martin (2019)۔ "Discovery of the first genome-wide significant risk loci for attention deficit/hyperactivity disorder"۔ Nature Genetics۔ ج 51 شمارہ 1: 63–75۔ DOI:10.1038/s41588-018-0269-7۔ PMID:30478444 {{حوالہ رسالہ}}: الوسيط |مصنفین کی نمائش=6 غير صالح (معاونت)
  56. Samuele Cortese؛ Nancy Adamo (2016)۔ "Association Between ADHD and Obesity: A Systematic Review and Meta-Analysis"۔ American Journal of Psychiatry۔ ج 173 شمارہ 1: 34–43۔ DOI:10.1176/appi.ajp.2015.15020266۔ PMID:26315982 {{حوالہ رسالہ}}: الوسيط |مصنفین کی نمائش=6 غير صالح (معاونت)
  57. 1 2 Martin A. Katzman؛ Timothy S. Bilkey؛ Pratap R. Chokka؛ Albert Fallu؛ Louis J. Klassen (2017)۔ "Adult ADHD and comorbid disorders: clinical implications of a dimensional approach"۔ BMC Psychiatry۔ ج 17 شمارہ 1: 302۔ DOI:10.1186/s12888-017-1463-3۔ PMID:28854967{{حوالہ رسالہ}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: غیر نشان زد مفت ڈی او آئی (link)
  58. 1 2 3 Mark L. Wolraich؛ Joseph F. Hagan؛ Carol Allan (2019)۔ "Clinical Practice Guideline for the Diagnosis, Evaluation, and Treatment of Attention-Deficit/Hyperactivity Disorder in Children and Adolescents"۔ Pediatrics۔ ج 144 شمارہ 4: e20192528۔ DOI:10.1542/peds.2019-2528۔ PMID:31570648 {{حوالہ رسالہ}}: الوسيط |مصنفین کی نمائش=6 غير صالح (معاونت)
  59. Alexander Crichton (1798)۔ An Inquiry into the Nature and Origin of Mental Derangement۔ London: T. Cadell Jr. and W. Davies
  60. Charles Bradley (1937)۔ "The behavior of children receiving Benzedrine"۔ American Journal of Psychiatry۔ ج 94 شمارہ 3: 577–585۔ DOI:10.1176/ajp.94.3.577

مزید پڑھیے

[ترمیم]

بیرونی روابط

[ترمیم]