توحید باری تعالٰی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

توحید کے معنی ہیں کہ خالق ومالک کائنات کو ایک جاننا۔ اللہ تعالٰی کی وحدانیت کو عموماً سمجھانے کی خاطر تین اجزاء میں تقسیم کیا جاتا ہے؛

توحید[ترمیم]

یعنی خدا ایک اور اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ دلیل: انتھائی سادہ دلیل (Argument) جو پیش کی جاسکتی ہے وہ قرآن میں بیان ہوئی ہے۔ اگر سادہ الفاظ میں سمجھنا ہو تو ہم کہ سکتے ہیں: اگر دو یا زیادہ خدا ہوتے تو انکی رائے میں کبھی نہ کبھی ضرور اختلاف ہوتا اور دنیا کے نظام میں خلل واقع ہوجاتا لیکن دنیا کے نظام میں خلل نہ ہونا اور ایک ہی قسم کے نظم کا نظر آنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کا مالک ایک ہی اور وہ خداوند متعال کی ذات اقدس ہے۔

اللہ تعالٰی کو ذات میں واحد جاننا[ترمیم]

قال تعالى: لقد كفر الذين قالوا إن الله ثالث ثلاثة بے شک انہوں نے کفر کر دیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تین کا تیسرا ہے (القرآن)

اللہ تعالٰی کو صفات میں یکتا جاننا[ترمیم]

قل لا يعلم من في السماوات والأرض الغيب إلا الله وما يشعرون ايّان يبعثون (سورة النمل)

آپ کہہ دیجیئے کہ آسمان وزمین والوں میں سے کوئی غیب جاننے والا نہیں سوائے الله کے اور ان کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ دوبارہ کب زندہ کیے جائیں گے۔

اللہ تعالٰی کو صفات کے تقاضوں میں یکتا جاننا[ترمیم]

وأن المساجد لله فلا تدعوا مع الله أحدا (سورة جن آية ١٨)