تورو دت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تورو دت
(بنگالی میں: তরু দত্ত ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Toru Dutt portrait.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 4 مارچ 1856[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کولکاتا[3]،  بنگال پریزیڈنسی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 اگست 1877 (21 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کولکاتا،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سل  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد گووند چندر دت  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان دت خاندان  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کیمبرج  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعرہ[3]،  ناول نگار[3]،  مترجم[3]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[4]،  فرانسیسی،  بنگلہ،  سنسکرت  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

تورو دت (انگریزی: Toru Dutt، بنگالی=তরু দত্ত)، (پیدائش: 4 مارچ، 1856ء - وفات: 30 اگست، 1877ء) برطانوی راج میں انگریزی اور فرانسیسی زبان کی ہندوستانی شاعرہ، ناول نگار اور مترجم تھیں۔ انہوں نے ہندوستانی ادب کو انگریزی زبان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا تعلق بنگال سے تھا۔ ہندو گھرانے میں پیدا ہونے کے بعد خاندان سمیت عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ فرانس اور انگلستان کے سفر اختیار کیے جہان انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ اپنی تخلیقیات سے انگریزی ادب پر گہرے نقش چھوڑے۔ وہ ہندوستان کی پہلی ناول نگار ہیں جنہوں فرانسیسی زبان میں ناول تحریر کیا۔

حالات زندگی[ترمیم]

تورو دت 4 مارچ 1856 کو بنگال کے ایک ہندو خاندان میں ییدا ہوئیں۔ والد گووند چند دت کو سنسکرت اور قدیم ہندو تہذیب میں تعلیم و تربیت سے دلچسپی تھی۔تورو دت جب 6 سال کی تھیں کہ ان کا سارا خاندان عیسائی ہو گیا۔ تورو دت اور ان کا خاندان 1868ء میں یورپ کے سفر پر روانہ ہوئے۔ 1870ء میں فرانس کے بعد اس خاندان کے لوگ انگلستان چلے گئے۔ فرانس میں تورو اور اس کی بہن آرو نے اسکول میں داخلہ لیا تھا، لیکن اسکول چھوڑ کر گھر پر ہی فراانسیسی زبان سیکھی۔ 1871ء میں نیونہم کالج، جامعہ کیمبرج میں داخل ہوئیں، وہاں انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ وہ ستمبر 1873ء میں ہندوستان واپس آگئیں۔ جو کارنامے انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے وہ علمی نقطہ نظر سے ایک فن کارانہ اور قیمتی ذخریرہ ہیں۔ اگر انہیں زیادہ عمر ملی ہوتی تو دنیا کو ہندوستانی پرانوں اور کہانیوں سے کافی واقفیت ہو جاتی۔ انہوں نے جو تراجم کیے ان سے ہندوستان کی عزت بڑھی۔ ادب کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دے کر سنسکرت زبان سے سیتا، لکشمی دھرو تیرملا کی کہانیوں کو انگرزی زبان میں متعارف کرایا۔ انہوں نے فرانسیسی زبان میں ایک ناول بھی لکھا تھا جو ان کے وفات کے بعد فرانس سے شائع ہوا۔[5]

جیون برکش (The Tree of Life)، کنول اور The Casrive فرانسیسی زبان میں ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ انہوں نے مسیح کی تعلیمات کے عنوان پر نظمیں لکھیں۔ وہ ایک عیسائی خاتون تھیں جنہوں نے سماج کی خدمت مختلف طریقوں سے انجام دی اور مادرِ وطن کا نام نام بھی روشن کیا۔[5]

وفات[ترمیم]

تورو دت 30 اگست، 1877ء کو بنگال کے شہر کلکتہ میں انتقال کر گئیں۔ ان کی تدفین کلکتہ کے مانکتلا کرسچن قبرستان میں ہوئی۔[5]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb10801082z — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6107g7q — بنام: Toru Dutt — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب عنوان : The Feminist Companion to Literature in English — صفحہ: 320
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb10801082z — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. ^ ا ب پ جامع اردو انسائکلوپیڈیا (جلد 1، ادب)، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 2000ء، ص 181