توما ایکویناس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مقدس توما ایکویناس
Carlo Crivelli 007.jpg
توما کی پندرہویں صدی کی مصوری
معلم کلیسیا
پیدائش 1225ء
روکاسیکا، مملکت صقلیہ
وفات 7 مارچ 1274ء (عمر 48–49)
فیسانوا، پاپائی ریاستیں
محترم در کاتھولک کلیسیا
انگلیکان کمیونین
لوتھریت
قداست 18 جولائی 1323ء, آوینیو، پاپائی ریاستیں بدست پوپ جان بیست و دوم
مزار جاکوبنز کلیسا،
تولوز، فرانس
تہوار 28 جنوری (7 مارچ، 1969ء تک)
منسوب خصوصیات خلاصۂ الٰہیات
سرپرستی معلمین؛ ضد طوفان؛ ضد آسمانی بجلی؛ عُذَر خُواہان؛ ایکوینو، اطالیہ؛ بیلکاسترو، اطالیہ؛ کتب فروش؛ کیتھولک درس گاہیں، اسکول، اور جامعات؛ عفت؛ فالیرنا، اطالیہ؛ آموزش؛ پنسل سازان; فلسفی؛ ناشرین؛ فضلا؛ طالب علم؛ جامعہ سینٹ۔ توما؛ سانتو توماس، باتانگاس؛ الٰہیات دان۔[1]
معلم کلیسیا،بزرگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سابقہ شرف دہندہ (P511) ویکی ڈیٹا پر
توما ایکویناس
(لاطینی میں: Thomas Aquinas خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
توما ایکویناس کی چودہویں صدی کی مصوری۔
توما ایکویناس کی چودہویں صدی کی مصوری۔
  -->
توما ایکویناس کی چودہویں صدی کی مصوری۔

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (اطالوی میں: Tommaso d'Aquino خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش سنہ 1225  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
روکاسیکا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 7 مارچ 1274 (48–49 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
فوسانوا ایبے[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن تولوز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Bandiera del Regno di Sicilia 4.svg مملکت صقلیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد لینڈلفے ڈی ایکوینو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی مونٹی کاسینو
جامعہ ناپولی
جامعہ پیرس
استاد البرٹس میگنس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
قابل ذکر طلبا ہینری بیٹ،ریمیگیو ڈئی گرولامی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فلسفی،مصنف،الٰہیات دان،پروفیسر،کاتھولک پریسٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان لاطینی زبان،اطالوی زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ پیرس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں خلاصۂ الٰہیات،سما کونٹرا جینٹائلز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر موسیٰ بن میمون،یعقوب ابن اسحاق الکندی،ابن رشد،البرٹس میگنس،ابن سینا،آگسٹین،افلاطون،ارسطو،پولس،ابو حامد غزالی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر

توما ایکویناس ایک مسیحی فلسفی، مقدس (سینٹ) اور عالم دین تھے۔ جزیرہ صقلیہ میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے بہترین استادوں سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔ شہنشاہ فریڈرک ثانی کے دربار میں ملازمت کی۔ لیکن 1243ء میں درویشی اختیار کر لی۔ آپ نے اپنی مذہبی فلسفیانہ تصانیف میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ فطرت پرستی اور عقل پرستی کو مسیحی عقائد سے بہ آسانی ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے۔


متکلمین کا بادشاہ کہلانے والے اطالوی فلسفی اور ماہرِ الٰہیات مقدس توما ایکویناس کی تصنیفات نے اُسے علم الکلام میں ایک اہم ترین شخصیت بنا دیا اور رومن کاتھولک ماہرِ الٰہیات کے درمیان بلند مقام دلوایا۔ وہ ایکینو کے قریب Roccasecca کے مقام پر اعلٰی گھرانے میں پیدا ہوا۔ اور مونٹ کاسینو کی بینیڈکٹی خانقاہ اور نیپلز یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ گریجوایشن کرنے پہلے ہی 1243ء میں ڈومینیکی سلسلے میں شامل ہو گیا۔ تھامس کے مذہبی رجحانات پر معترض ماں نے اُسے دو سال خاندانی قلعے میں بند رکھا مگر اُسے منتخب کردہ راہ سے باز رکھنے میں کامیاب نہ ہوئی۔ 1245ء میں ماں کی قید سے رہائی پانے کے بعد ایکویناس اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے پیرس گیا وہاں جرمن متکلم فلسفی البرٹس میگنس کے پاس پڑھنے کے بعد اُس کے ساتھ ہی کولون چلا گیا (1248ء)۔ ایکویناس بھاری بھر کم اور کم سخن تھا، لہٰذا طلبہ اُسے ”گنگا بیل“ کہنے لگے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ البرٹس میگنس نے پیش گوئی کی تھی کہ ”اس بیل کے ٹکرانے کی آواز ایک دن ساری دنیا میں گونجے گی۔“

تقریباً 1250ء میں ایکویناس پادری بنا اور 1252ء میں پیرس یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کر دیا۔ اُس کی اولین تحریریں دو سال بعد سامنے آئیں جو لیکچرز پر مبنی تھیں۔ اُس کی پہلی اہم کتاب ”Writings on the books of Sentences“ (1256ء) کلیسیا کے ساکرامنٹوں سے متعلق ایک مؤثر تصنیف کی شرحات پر مشتمل تھی جو اطالوی ماہرِ الٰہیات پیٹر لومبارڈ نے لکھی۔

1256ء میں ایکویناس کو الٰہیات میں ڈاکٹریٹ ڈگری ملی اور پیرس یونیورسٹی میں فلسفے کا پروفیسر تعینات ہوا۔ پوپ الیگزینڈر چہارم نے 1259ء میں اُسے روم بلایا جہاں وہ پاپائی دربار میں بطور مشیر اور خطیب کام کرتا رہا۔ 1268ء میں پیرس آنے پر ایکویناس فوراً فرانسیسی فلسفی Siger de Brabant اور ابن رشد کے دیگر پیروکاروں کے ساتھ علمی جھگڑے میں پڑ گیا۔ ارسطوئی تعلیمات کی قوت، صراحت اور معتبریت نے تجربی علم کا اعتماد بحال کیا اور ابن رشد پسندوں کے فلسفیانہ مکتبہ کو جنم دیا۔ ابن رشد کے پیروکاروں نے زور دیا کہ فلسفہ مکاشفہ سے جدا ہے۔

ابن رشد کے مسلک نے رومن کاتھولک عقیدے کی بالادستی کو خطرے سے دو چار کیا اور راسخ العقیدہ مفکرین کو بھی خطرے کی گھنٹیاں سنائی دینے لگیں۔ ابن رشد پسندوں کی پیش کردہ ارسطو کی تفسیر کو نظر انداز کرنا ناممکن تھا۔ اُس کی تعلیمات کو ملعون قرار دینے سے کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ اُس سے نمٹنا ضروری تھا۔ البرٹس میگنس اور دیگر محققین نے ابن رشد ازم سے نمٹنے کی کوشش کی مگر انہیں بہت کم کامیابی ہوئی۔ ایکویناس شاندار انداز میں کامیاب رہا۔


مقدس توما ایکویناس نے بہت کچھ لکھا تقریباً 80 تصنیفات اس سے منسوب کی جاتی ہیں۔ دو کتابیں Suma Contra Genitiles اور خلاصۂ الٰہیات (Suma Theologica) خاص طور پر اثر انگیز ثابت ہوئیں۔ اِن کا مقصد دانشور مسلمانوں کو مسیحی عقیدے کی سچائی پر قائل کرنا تھا۔ Suma Theologica کے تین حصے ہیں: خدا، اخلاقی زندگی اور مسیح۔ وہ آخری حصہ مکمل کیے بغیر ہی 1274ء میں دنیا سے چلا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سینٹ توما ایکویناس – کیتھولک ویب سائٹ
  2. http://www.jstor.org/stable/j.ctt28522k
  3. اے۔سی براؤن، جوناتھن (2014)۔ مسکوئٹنگ محمد: دی چیلنج اینڈ چوئسز آف انٹرپریٹنگ دی پروفیٹس لیگیسی۔ ون ورلڈ بپلکیش۔ صفحہ 12۔ آئی ایس بی این 978-1-78074-420-9۔ "Thomas Aquinas admitted relying heavily on Averroes to understand Aristotle."