تو ہے پھول میرے گلشن کا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تو ہے پھول میرے گلشن کا 1970 کی دہائی کا ایک مقبول پاکستانی گیت ہے۔ گیت کی مقبولیت کی ایک وجہ بچوں کو سلانے کے لیے لوری کے طور پر اس کا استعمال کیا جانا بھی تھا۔ گیت کے بول کچھ یوں ہیں۔

تو ہے پھول میرے گلشن کا
تو ہے چاند میرے آنگن کا
غم نہ کبھی تیرے پاس آئے
ٰعمر میری تجھے لگ جائے

تیرے بدلے میں جیون بھر
تیرا ہر اک دکھ جھیلوں
ٰمیں اپنی سب خوشیاں دے کر
تیرے سارے غم لے لوں
خوشیوں میں تو لہرائے
ٰعمر میری تجھے لگ جائے

تو ہے پھول میرے گلشن کا
تو ہے چاند میرے آنگن کا

تیری ِان آنکھوں کے دم سے
اس گھر میں اُجیارا ہے
میرے لیے تو اِس دنیا میں
جان سے بڑھ کے پیارا ہے
قدم قدم تو سُکھ پائے
ٰعمر میری تجھے لگ جائے

تو ہے پھول میرے گلشن کا
تو ہے چاند میرے آنگن کا

بیرونی روابط[ترمیم]