تکارام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سنت تکارام
संत तुकाराम
Tukaram by Raja Ravi Varma.jpg
سنت تکارام، راجہ روی ورما کی مصوری
مذہب ہندومت
فرقہ ہندومت کا ورکاری-ویشنویت
سلسلہ کنبی
وجہ شہرت ابھنگ نذری شاعری،
بھکتی تحریک کے مراٹھی شاعر-سنت [1]
ذاتی تفصیل
پیدائش 1577ء یا 1608ء[2][3]
دیہو، نزد پونے[3]
مہاراشٹر، بھارت
وفات 1649ء یا 1650ء[3][4]
ادبی کام تکارام گاتھا

سنت تُکا رام (1577ء یا 1608ء – 1650ء) سترہویں صدی کے ایک مہان سنت شاعر تھے جو بھارت میں لمبے عرصے تک چلی بھگتی تحریک کے ایک اہم رکن تھے۔

سنت تکارام کی پیدائش اور موت کے سال بیسویں صدی کے درمیان میں کے آپس میں جھگڑے اور کھوج کا موضوع ہیں۔[5][6]تکارام مولہوبا کی پیدئش 1577ء یا 1608ء میں ہوئی تھی اور انہوں نے اپنی زیادہ تر زندگی پونے کے قریب دیہو قصبے میں گزاری۔ کمار،[7] منشی،[8] کنچید اور پرسسنیسا،[9] ان کو کنبی مراٹھا یا کاشت کار یا وانی ذات کا مانتے ہیں۔ ایک بھارتی روایت کے مطابق، تکارام کا اصل ان کی پہچان کے لیے نہیں استعمال کیا جاتا۔ ان کا اصل نام تکارام بولہوبا آمبیلے ہے۔ بھارت کی ایک اور روایت کے مطابق سنت کے طور پر عزت رکھنے والے شخص کے لیے اس کے نام کے ساتھ "سنت" (مراٹھی: संत) جوڑ دیا جاتا ہے۔ تکارام مہاراج کو عامَ طور پر مہاراشٹر میں سنت تکارام (مراٹھی: संत तुकाराम) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جنوبی بھارتی لوگ ان کو بھگت تکارام کے طور پر بھی جانتے ہیں۔ ان کو تکوبا یا تکوبارایا بھی کہا جاتا ہے۔[10] تکارام کو گاتھا کا اعزاز حاصل ہے جو 4500 ابھنگوں کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے ابھنگ کی شکل میں بھگود گیتا کا مراٹھی زبان میں ترجمہ کیا۔[11] ان کا انتقال 1649ء یا 1650ء میں ہوا لیکن لوگوں کا عام طور سے عقیدہ تھا کہ ان کا انتقال نہیں ہوا بلکہ ان کی نیکی اور پاکیزگی کی وجہ سے خود وشنو دیوتا نے انھیں اٹھا کر سورگ میں پہنچا دیا۔[12]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Mohan Lal (1993)، Encyclopedia of Indian Literature: Sasay to Zorgot, Sahitya Akademi, South Asia Books, ISBN 978-9993154228، pages 4403-4404
  2. RD Ranade (1994)، Tukaram, State University of New York Press, ISBN 978-0791420928، pages 3-7
  3. ^ ا ب پ SG Tulpule (1992)، Devotional Literature in South Asia (Editor: RS McGregor)، Cambridge University Press, ISBN 978-0521413114، page 148
  4. RD Ranade (1994)، Tukaram, State University of New York Press, ISBN 978-0791420928، pages 1-2
  5. RD Ranade (1994)، Tukaram, State University of New York Press, ISBN 978-0-7914-2092-8, pages 1-7
  6. Richard M. Eaton (2005)، A Social History of the Deccan, 1300–1761: Eight Indian Lives, Cambirdge University Press, ISBN 978-0-521-71627-7, pages 129-130
  7. Raj Kumar۔ Essays on medieval India۔ Discovery Publishing House۔ صفحات 204–۔ آئی ایس بی این 978-81-7141-683-7۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 فروری 2012۔
  8. Kanaiyalal Maneklal Munshi۔ Indian inheritance۔ Bharatiya Vidya Bhavan۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 فروری 2012۔
  9. Charles Augustus Kincaid؛ Dattātraya Baḷavanta Pārasanīsa۔ A history of the Maratha people۔ H. Milford, Oxford university press۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 فروری 2012۔
  10. Maxine Bernsten (1988)، The Experience of Hinduism: Essays on Religion in Maharashtra, State University of New York Press, ISBN 978-0-88706-662-7, pages 248-249
  11. Saints of India By Swami Mukundananda page 101
  12. تکارام اردو انسائکلوپیڈیا۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 اکتوبر 2017ء