مندرجات کا رخ کریں

تیی (ملکہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
تیی (ملکہ)

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1398 ق مء   ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اخمیم   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1338 ق مء   ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طيبہ   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مقبرہ 35   ویکی ڈیٹا پر  (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت قدیم مصر   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات آمون حوتپ سوم   ویکی ڈیٹا پر  (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد چھوٹی عورت ،  سات آمون ،  است (آمون حوتپ سوم کی بیٹی) ،  حنوت تانب ،  نیبیتہ ،  تحتموس(شہزادہ) ،  ریان بن ولید ،  سمنخ کارع ،  بکت آتون   ویکی ڈیٹا پر  (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد یویا   ویکی ڈیٹا پر  (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ تویا (ملکہ)   ویکی ڈیٹا پر  (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
خاندان مصر کی اٹھارویں سلطنت   ویکی ڈیٹا پر  (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ ہمسر ملکہ   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

تیی (تقریباً 1398 ق.م – 1338 ق.م)، جسے تای، تایہ یا تی بھی لکھا جاتا ہے، قدیم مصر کی ایک عظیم شاہی زوجہ تھیں۔ وہ فرعون آمون حوتپ سوم کی بیوی اور فرعون اخناتون کی والدہ تھیں، جبکہ فرعون توت عنخ آمون کی دادی تھیں۔ 2010 میں ڈی این اے تجزیے کے ذریعے یہ تصدیق کی گئی کہ وہ ممی جسے “لیڈی ایلڈر (Great Lady)” کہا جاتا ہے، غالباً تیہ ہی تھیں۔ یہ ممی 1898 میں آمون حوتپ دوم کے مقبرے سے دریافت ہوئی تھی۔ [1]

خاندان

[ترمیم]

تیی کے والد یویا ایک امیر زمین دار تھے جو کسی شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے اور بالائی مصر کے شہر اخمیم سے تھے۔ وہ ایک پجاری، مقدس بیلوں کے نگران اور رتھ فوج کے کماندار بھی رہے۔ تیہ کی والدہ تویا مختلف مذہبی عہدوں پر فائز تھیں، جن میں دیوی حتحور کی گلوکارہ اور آمون و من کے فنکاروں کی سربراہ شامل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی حد تک شاہی یا اعلیٰ مذہبی طبقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ [2] [3] کچھ ماہرینِ مصریات کا خیال ہے کہ یویا غیر مصری النسل ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کی ممی کی جسمانی خصوصیات اور ان کے نام کی مختلف تحریری صورتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ نام اصل میں مصری نہ تھا۔ اسی بنیاد پر بعض محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ تیہ کی مضبوط سیاسی شخصیت ممکن ہے ان کے غیر روایتی پس منظر اور مختلف ثقافتی اثرات کا نتیجہ ہو۔[4]

تیہ کا ایک بھائی آنن (Aanen) تھا جو آمون کا دوسرا پجاری/کاہن تھا۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ بادشاہ آیی (Ay)، جو توت عنخ آمون کے بعد تخت پر آیا، تیہ کا بھائی تھا، اگرچہ اس کا کوئی واضح تاریخی ثبوت موجود نہیں۔ یہ قیاس اس لیے کیا جاتا ہے کہ آی بھی اخمیم سے تعلق رکھتا تھا اور یویا کے کچھ عہدے اس نے شاہی دربار میں استعمال کیے۔ ملکہ تیی نے فرعون آمون حوتپ سوم سے اس کے دورِ حکومت کے دوسرے سال میں شادی کی۔ یہ بادشاہ ایک ثانوی بیوی (موت امویا) سے پیدا ہوا تھا اور اسے اپنی حکومت کو مضبوط بنانے کے لیے زیادہ مستحکم شاہی نسب کی ضرورت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت اس کی عمر تقریباً 6 سے 12 سال کے درمیان تھی جب اسے تخت پر بٹھایا گیا۔[3][5] اس شادی سے کم از کم سات اور ممکن ہے اس سے بھی زیادہ بچے پیدا ہوئے۔

  1. سات آمون: بڑی بیٹی، جسے اپنے والد کے دورِ حکومت کے تقریباً 30ویں سال میں “عظیم شاہی زوجہ” کے منصب پر فائز کیا گیا۔
  2. اسِت: اسے بھی بعد میں “عظیم شاہی زوجہ” کا درجہ دیا گیا۔
  3. حنوت تا نب: یقینی طور پر معلوم نہیں کہ اسے بھی ملکہ کا درجہ ملا یا نہیں، تاہم اس کا نام کم از کم ایک بار خرطوش (بادشاہی نام کے دائرے) میں آیا ہے۔
  4. نبت آح: بعض اوقات اسے بعد میں “باکت آتون” کے نام سے پہچانا جاتا ہے، خاص طور پر اپنے بھائی اخناتون کے دور میں۔
  5. ولی عہد تحتموس: ولی عہد اور بتاح دیوتا کا اعلیٰ پجاری تھا، جو اپنے والد کی زندگی میں ہی وفات پا گیا۔
  6. امنحتپ چہارم / اخناتون: اپنے والد کے بعد تخت پر بیٹھا اور ملکہ نفرتیتی سے شادی کی۔ ان کی بیٹی عنخ اسن آمون تھی، جس نے بعد میں توت عنخ آمون سے شادی کی۔
  7. سمنخ کارع: روایتی طور پر اسے اخناتون کا جانشین سمجھا جاتا ہے، لیکن بعض محققین (جیسے ایڈن ڈاڈسن) کے مطابق یہ ممکن ہے کہ وہ اخناتون کے ساتھ شریکِ حکومت ہو اور اس کا مستقل دورِ حکومت نہ رہا ہو۔ بعض نظریات کے مطابق اسے مقبرہ KV55 کی ممی سے بھی جوڑا جاتا ہے اور اس صورت میں اسے توت عنخ آمون کا باپ بھی سمجھا جاتا ہے۔[6]
  8. KV55 کی “نوجوان خاتون”: آمون حوتپ سوم اور تیی کی بیٹی، جو توت عنخ آمون کی والدہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ KV55 ممی کی بہن اور زوجہ تھی۔
  9. بکت آتون: بعض اوقات اسے ملکہ تیی کی بیٹی سمجھا جاتا ہے اور اس نظریے کی بنیاد ایک ایسی تختی ہے جس میں اسے ملکہ تیی کے ساتھ اخناتون اور نفرتیتی کے ہمراہ دکھایا گیا ہے۔[7]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Bart, Anneke. "Ancient Egypt." http://euler.slu.edu/~bart/egyptianhtml/kings%20and%20Queens/amenhotepiii.htm آرکائیو شدہ 2016-09-24 بذریعہ وے بیک مشین
  2. Bart, Anneke. "Ancient Egypt." آرکائیو شدہ 2016-09-24 بذریعہ وے بیک مشین
  3. 1 2 Tyldesley 2006, p. 116.
  4. O'Connor & Cline 1998, p. 5.
  5. Shaw, Ian. The Oxford history of Ancient Egypt. Oxford University Press: London, 2003. p.253
  6. Aidan Dodson, "Amarna Sunset: Nefertiti, Tutankhamun, Ay, Horemhab and the Egyptian Counter-reformation" (Cairo: AUC Press, 2010), pp.27-29
  7. Tyldesley 2006, p. 115.