ثابت بن اسلم بنانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ثابت بن اسلم بنانی
معلومات شخصیت

ثابت بن اسلم بنانیؒ تابعین میں سے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

ثابت نام، ابو محمد کنیت،نسبا قریش کی شاخ بنی سعد سے اوربصرہ کے صاحب علم وعمل تابعین میں تھے۔

فضل وکمال[ترمیم]

علمی اعتبار سے وہ بصرہ کے ممتاز علماء میں تھے،حافظ ذہبی انہیں امام وحجت اورابن عماد حنبلی علم وفضل اورعبادت میں سادات تابعین میں لکھتے ہیں۔ [1]

حدیث[ترمیم]

انس بن مالکؓ کے خاص اصحاب میں تھے،ان کی صحبت نے ان کو بڑا حافط حدیث بنادیا تھا،ان کی مرویات کی تعداد ابن مدائنی کے بیان کے مطابق ڈھائی سو تک پہنچتی ہے [2]صحابہ میں انہوں نے انسؓ بن مالکؓ، عبداللہ بنؓ عمر، عبداللہ بن زبیرؓ اورغیر صحابہ میں عبداللہ بن معقل عمرو بن ابوسلمہ، شعیب ،عبداللہ بن ریاح،عبدالرحمن بن ابی لیلی، مطرف بن عبداللہ،ابو رافع صائغ سے سماع حدیث کیا تھا (ایضاً) حمید الطویل،شعبہ،جریر بن ابی حازم،معمر،ہمام،ابوعوانہ،جعفر بن سلیمان،سلمان مغیرہ،داؤد بن ابی ہند،عطاء بن ابی رباح،عبداللہ بن عبید وغیرہ ان کے زمرۂ تلامذہ میں ہیں۔ [3]

زہد وورع[ترمیم]

ان کی شہرت ان کے علم سے زیادہ ان کے عمل اورزہد وورع اورعبادت وریاضت کی وجہ سے ہے،صحابہ تک ان کے مذہبی اوراخلاقی اوصاف کے معترف تھے،حضرت انسؓ فرماتے تھے کہ ہر شے کی ایک کنجی ہوتی ہے،ثابت خیر کی کنجی ہیں [4] بکر بن عبداللہ کہتے تھے کہ جسے دنیا کا سب سے بڑا عابد دیکھنا ہو وہ ثابت کو دیکھ لے،میں نے ان سے بڑا عابد نہیں دیکھا۔ [5]

سوزوگداز[ترمیم]

ان کا دل سوز وگداز کی آتش سوزاں تھا،گدازقلب سے ان کی آنکھیں ہر وقت اشکبار رہتی تھیں اوراس بے قراری کے ساتھ روتے تھے کہ معلوم ہوتا تھا پسلیاں الٹ جائیں گی ،شدتِ گریہ سے آنکھیں خراب ہوگئی تھیں اوران کے بے نور ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا،لوگوں نے اتنی اشکباری پر عرض معروض کیا تو فرمایا،آنکھوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ روتی رہیں اورعلاج کرنے سے انکار کردیا۔ [6]

عبادت وریاضت[ترمیم]

ان کی زندگی کا سب سے محبوب مشغلہ عبادت تھا، فرماتے تھے کہ کسی شخص میں خواہ ساری دنیا کی بھلائیاں کیوں نہ ہوں؛ لیکن جب تک وہ روزے نماز کا پابندنہیں ،اس وقت تک وہ عابد نہیں ہوسکتا، جس مسجد کی طرف سے گزرتے تھے،اس میں نماز ضرور پڑھتے تھے،تہجد کی نماز میں یہ پرموعظت آیۃ۔ أَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ [7] اے انسان! تو اس سے کفر کرتا ہے جس نے تجھ کو مٹی پھر نطفہ سے پیدا کیا۔ بار بار تاثر کے ساتھ پڑھتے تھے اورزار زار روتے تھے۔ [8] صائم الدھر تھے کبھی روزہ ناغہ نہ ہوتا تھا [9] ایک شبانہ ویوم میں پورا قرآن ختم کرتے تھے۔ [10]

موت کی یاد کا عمل پر اثر پڑتا ہے[ترمیم]

فرماتے تھے کہ جو شخص موت کو زیادہ یاد کرتا ہے،اس کے اعمال پر اس کا نمایاں اثر ہوتاہے۔ [11]

وفات[ترمیم]

۱۲۳ ھ میں وفات پائی،وفات کے وقت اسی سال سے اوپر عمر تھی۔ [12]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۱۱ ، شذرات الذہب :۱/۱۶۱)
  2. (تہذیب التہذیب :۲/۲)
  3. (تذکرۃ الحفاظ ایضاً)
  4. (ابن سعد،ق۲،ج ۷،ص:۳)
  5. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۱۲)
  6. (تذکرۃ الحفاظ ایضاً)
  7. (الکہف:۳۷)
  8. (ابن سعد،ج۷،ق۲،ص۳)
  9. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۱۲)
  10. (ابن سعد ایضاً)
  11. (ابن سعدایضاً،ج۷،ق۲،ص۳)
  12. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۱۲)