ثابت بن قیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ثابت بن قیس غزوہ بدر میں شامل صحابی ان کی کنیت ابو محمدہے۔

نام ونسب[ترمیم]

ثابت نام،ابو محمد کنیت، خطیب رسول اللہ لقب، قبیلۂ خزرج سے ہیں ،سلسلۂ نسب یہ ہے، ثابت بن قیس بن شماس بن زہیر بن مالک بن امرء القیسؓ بن مالک اغر بن نعلبہ بن کعب بن خزرج ،والدہ کا نام معلوم نہیں ،اتنا معلوم ہے کہ خاندان طے سے تھیں۔

اسلام[ترمیم]

ہجرت سے قبل مسلمان ہوئے۔

غزوات میں شرکت[ترمیم]

غزوۂ بدر سمیت باقی غزوات کی شرکت پر تمام ائمہ فن کا اتفاق ہے۔ حضرت محمدﷺ مدینہ تشریف لائے تو خیر مقدم کے لیے تمام شہر امنڈ آیا تھا، اس موقع پر ثابت نے جو خطبہ دیا اس کا ایک فقرہ یہ تھا: نمنعك مما نمنع منہ أنفسنا وأولادنا فما لنا قال الجنة قالوا: رضينا[1] یعنی ہم آپ کی ہر اس چیز کی حفاظت کریں گے جس سے اپنی جان اور اولاد کی حفاظت کرتے ہیں،لیکن ہم کو اس کا معاوضہ کیا ملے گا، آنحضرتﷺ نے فرمایا "جنت" تو تمام مجمع پکار اٹھا کہ "ہم سب راضی ہیں" غزوہ مریسیع میں ام المومنین جویریہ اسیر ہوکر ثابت اوران کے ابن عم کے حصہ میں آئی تھیں، انہوں نے 9 اوقیہ سونے پر مکاتب بنایا، جویریہ نے آنحضرتﷺ سے مدد طلب کی، آپﷺ نے رقم مذکور ادا کرکے ان کو ہمیشہ کے لیے غلامی سے نجات دی اوراپنے عقد میں لے لیا۔

خطیب اسلام[ترمیم]

9ھ میں بنو تمیم کا وفد آیا اور بدویانہ طریقہ پر آنحضرتﷺ کے دروازے پر آکر آواز دی کہ باہر نکلو، آپﷺ باہر تشریف لائے تو بات چیت کے بعد عطار بن حاجب کو کھڑا کیا کہ تمیم کے رتبہ سے آنحضرتﷺ کو آگاہ کرے ،عطار اس قبیلہ کا مشہور خطیب تھا، اس کی تقریر ختم ہوئی تو آنحضرتﷺ نے ثابت کو حکم دیا کہ تم اس کا جواب دو، ثابتؓ نے اس فصاحت و بلاغت سے جواب دیا کہ اقرع بن حابس بول اٹھا کہ اپنے باپ کی قسم ان کا خطیب ہمارے خطیب سے بہتر ہے۔ اسی سال مسیلمہ کذاب، بنو حنیفہ کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ مدینہ آیا ،آنحضرتﷺ ثابت بن قیس کو لے کر اس کے پاس گئے،ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، مسیلمہ نے کہا کہ اگر اپنے بعد مجھ کو خلیفہ بنانے کا وعدہ کرو تو ابھی تمہاری اتباع کرتا ہوں، آنحضرتﷺ نے فرمایا: خلافت تو بڑی چیز ہے میں تجھ کو یہ چھڑی دینا بھی گوارا نہیں کر سکتا ،خدانے تیری نسبت جو فیصلہ کیا ہے وہ ہوکر رہی گا میں تیرے انجام کو خواب میں دیکھ چکا ہوں اور زیادہ گفتگو کی ضرورت ہو تو ثابت موجود ہیں ان سے پوچھ اب میں جاتا ہوں۔ جب وہ آیت نازل ہوئی جس میں مسلمانوں کو رسول اللہ کے سامنے اونچا بولنے سے منع کیا گیا ہے تو حضرت ثابت کو فکر دامن گیر ہوئی۔ وہ اپنے گھر میں سر جھکا کر بیٹھ رہے۔ لوگوں نے پوچھا تو فرمایا کہ مجھے اکثر رسول اللہ کے سامنے اونچی آواز میں بولنا پڑتا ہے۔ اس باعث مجھے ضرور جہنم میں جانا پڑے گا۔ رسول اللہ کو اس بات کاعلم ہوا تو آپ نے فرمایا۔’’خدا کی قسم ثابت جہنمی نہیں بلکہ میں اسے جنت کی بشارت دیتا ہوں۔

وفات[ترمیم]

12ھ میں مسیلمہ کذاب سے مقابلہ ہوا، ثابت اس میں شریک تھے مسلمانوں کو شکست ہوئی، تو انس نے آکر کہا چچا! آپ نے دیکھا وہ خوشبو مل رہے تھے،بولے کہ یہ لڑنے کا طریقہ نہیں ہے، لوگ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں اس طرح نہیں لڑتے تھے اس کے بعد اٹھے اور خندق کھود کر نہایت پامردی سے لڑے اور آخر شہادت حاصل کی۔ بدن پر زرہ نہایت عمدہ تھی ایک مسلمان نے اتارلی، ایک دوسرے مسلمان نے خواب میں دیکھا کہ ثابت ان سے کہہ رہے ہیں، فلاں مسلمان میری زرہ اتارلی ہے تم خالد سے کہو کہ اس سے وصول کر لیں اور مدینہ پہونچ کر ابوبکرسے کہنا کہ ثابت پر اتنا قرض تھا وہ اس زرہ سے ادا کریں، اورمیرا فلاں غلام آزاد کر دیں، خالدنے زرہ لے لی اور ابوبکرنے اس وصیت پر عمل کیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ،باب الثاء بعدھا الألف:1/131
  2. اسد الغابہ جلد 1 صفحہ 333حصہ اول دوم: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور