ثمامہ بن اُثال
| ثمامہ بن اُثال الحنفی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 580ء یمامہ، جزیرہ عرب |
| وفات | 11ھ / 632ء موتہ |
| خاندان | والد: اثال الحنفی |
| درستی - ترمیم | |
ثمامہ بن اُثال (وفات: 12ھ / 633ء) صحابی تھے۔ اسلام میں عمرہ کرنے والے پہلے مسلمان تھے اور وہ پہلے مسلمان تھے جو بلند آواز سے تلبیہ کہتے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی نصرت میں قریش پر پہلا اقتصادی محاصرہ نافذ کیا۔ وہ بنی حنیفہ کے سردار اور بنو بکر کے اشراف میں سے تھے۔[1][2]
نسب
[ترمیم]- ثمامہ بن اثال بن النعمان بن مسلمة بن عبيد بن ثعلبة بن يربوع بن ثعلبة بن الدؤل بن حنيفة بن لجيم بن صعب بن علي بن بكر بن وائل قاسط بن هنب بن افصى بن دعمی بن جديلہ بن اسد بن ربيعہ بن نزار بن معد بن عدنان۔[3][4]
اسلام
[ترمیم]غزوہ احزاب کے بعد محمد بن مسلمہ کی سرایا میں سے ایک سریہ بنی القرطا کی طرف روانہ ہوئی۔ واپسی میں انھوں نے ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر کے مدینہ لایا اور مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا کیونکہ صحابہ انھیں پہچانتے نہیں تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "أتحبون من أخذتم؟ هذا ثمامة بن أثال الحنفي، أحسنوا إساره" [5] آپ ﷺ نے ان کے لیے کھانے کا انتظام کیا، اپنی اونٹنی کا دودھ پلایا اور مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ پھر آپ نے انھیں آزاد کر دیا۔
ثمامہ قریب ہی نخلستان گئے، غسل کیا، مسجد نبوی میں واپس آئے اور اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے انھیں عمرہ کا طریقہ سکھایا۔
اولین معتمر
[ترمیم]انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے عمرے کی اجازت لی اور وہ پہلے مسلمان تھے جو بلند آواز سے تلبیہ کہتے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے، حالانکہ شہر اُس وقت کفار کے قبضے میں تھا۔ قریش نے ان کی آواز سنی تو پہلے حملہ کرنا چاہا، مگر ایک فرد نے کہا: "یہ ثمامہ بن اثال ہیں، یمامہ کے حکمران؛ اگر انھیں نقصان پہنچایا تو ان کی قوم ہماری رسد بند کر دے گی" قریش نے پوچھا: "کیا تم نے اپنا دین چھوڑ دیا؟" انھوں نے کہا: "میں نے بہترین دین یعنی محمد کے دین کی پیروی کی ہے"۔
اقتصادی محاصرہ
[ترمیم]عمرہ کے بعد ثمامہ نے قریش سے کہا: "خدا کی قسم، یمامہ کا ایک دانہ بھی تم تک نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ تم سب محمد پر ایمان لاؤ" انھوں نے اپنی قوم کو مکہ کی رسد روکنے کا حکم دیا، جس سے قحط اور مہنگائی شدید ہو گئی۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو خط لکھا کہ ثمامہ رسد بند کر چکے ہیں اور آپ صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں؛ لہٰذا انھیں رسد بحال کرنے کا حکم دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی اور ثمامہ نے رسد بحال کر دی۔
غزوات
[ترمیم]| نمبر | نام | تاریخ | مقام |
|---|---|---|---|
| 1 | غزوہ موتہ | 8ھ | موتہ |
| 2 | فتنۂ ارتداد کی جنگیں | 11–12ھ | بحرین |
وفات
[ترمیم]ثمامہ حروبِ ردہ کے بعد بحرین سے واپس یمامہ جاتے ہوئے 12ھ / 633ء میں شہید ہوئے۔ وہ ایک خمیصہ پہنے ہوئے تھے جو اصل میں الحطم بن ضبیعہ کی تھی۔ الحطم کے ساتھیوں نے گمان کیا کہ اسے ثمامہ نے قتل کیا ہے، حالانکہ انھوں نے وہ کپڑا مالِ غنیمت خرید کر پہنا تھا۔ اسی غلط فہمی میں انھوں نے ثمامہ کو قتل کر دیا۔[6][7]
صفات
[ترمیم]ثمامہ بن اثال حسین چہرے والے، لمبے قد کے، چوڑے شانے، دبلے بدن اور بلند آواز والے شخص تھے۔ عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ وہ خوبصورت، لمبے اور گوری رنگت والے تھے۔[8]
مراجع
[ترمیم]- ↑ خیر الدین زرکلی (2002)۔ الأعلام (PDF) (15 ایڈیشن)۔ بيروت: دار العلم للملايين۔ ج 2۔ ص 100۔ 2024-03-30 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا (PDF)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-19
- ↑ الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ابن عبد البر.
- ↑ ثمار القلوب في المضاف والمنسوب، الثعالبي.
- ↑ جمهرة أنساب العرب، ابن حزم، ص312.
- ↑ ابن هشام 2/638
- ↑ ابن اثير (1994)۔ أسد الغابة في معرفة الصحابة۔ بیروت: دار الکتب العلمیہ۔ ص 341
- ↑ خیر الدین زرکلی 2002، صفحہ 100
- ↑ أسد الغابة في معرفة الصحابة، ابن الأثير.
